Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

اففف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا اگلے ایک گھنٹے میں میٹنگ شروع ہونے والی ہے اور یہاں سے کوئی ٹیکسی بھی نہیں مل رہی ۔۔۔ایان گاڑی چیک کرتا ہوا سخت جنھجھلاہت سے بڑبڑایا
بےشک وہ اتنی بڑی کمپنی کا مالک تھا مگر گاڑی آج بھی وہ اپنے بابا جان کی لے کے گھومتا تھا یہی وجہ تھی کے اس کی گاڑی پرانہ ماڈل ہونے کی وجہ سے کہی بھی بند ہو جاتی لیکن اس سب کے بعد بھی اس نے کبھی چینج نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔
گاڑی چیک کرنے کے بعد اس نے ہاتھ جھاڑے ادھر ادھر دیکھا کیوں کے گاڑی کے سہی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا فلحال ۔۔۔۔
وہ اس وقت کسی بستی کے پاس موجود تھا آپس پاس بہت سی دکانیں اور سبزی ٹھیلے لگے تھے اس نے قوفیت سے سب دیکھا اور اپنا موبائل نکال کے اس پے جھکا ۔۔۔۔
کیا کہا آج آفس میں لنچ باکس نہیں چاہئے ؟؟؟؟
آپ کے باپ کا راج ہے کیا جو آج نہیں چاہئے اب جو میں نے اتنا سامان لیا ہے اس کے پیسے کیا آپ کے پھوپا جی بھرے گے اگر لنچ نہیں بھی چاہئے تب بھی میں پیسے وصول کروں گی سمجھےتم اور سمجھا دینا اپنے باس ک ۔۔۔ ۔۔۔۔
بیئر جو اپنے دونوں ہاتھوں میں سبزی کے بڑے بڑے ٹھلے اٹھاے آ رہی تھی ایان کے ایک دم پلٹنے پے اس کے ساتھ ٹکرائی اور اس کے ساتھ میں پکڑے بیس کلو الو اور ٹماٹر پیاز سب زمین بوس ہوا ۔۔۔
ایان بھی اس اچانک ہونے والی ٹکر پے گھبرا گیا اور اس کا موبائل اس سے تھوڑا دور جا کے گرا گرنے کی وجہ سے اس کے موبائل کی سکرین ذرا سی ٹوٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
پھلے تو دونوں نے بےیقینی سے اپنے اپنے سامان کو دیکھا پھر ایک دم بےیقینی کی جگہ غصے نے لے لی ۔۔۔۔
لڑکی تم دیکھ کے نہیں چل سکتی میرا اتنا نقصان کر دیا ۔۔۔ ايان نے دانت پیس کے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اب آپ جیسا کالا بلا راستہ کاٹے گا تو یہی سب ہوگا نا اور آپ کا کیا نقصان ہوا ہاں نقصان تو میرا ہوا ہے یہ الو دیکھ رہے ہیں دو گھنٹے بحث کرنے کے بعد دس روپے کلو ملے تھے اور یہ ٹماٹر پورے بیس روپے کلو لیے تھے اور یہ۔۔۔۔۔
بسسسس یہ اپنی سبزی منڈی کہی اور جا کے لگاؤ میرے پاس فالتو وقت نہیں تمہاری باتیں سنے کا اور ویسے بھی میرے پاس زندگی میں اور بھی بہت سے امپورٹنٹ کام ہے اس لیے جسٹ لیو۔۔۔۔۔وہ اسے گھورتا ہوا سرد مہری سے بولا ۔۔۔۔
اوو ہیلو مجھے بھی کوئی شوق نہیں آپ جیسے سڑو کے منہ لگنے کا آپ ہوں گے کامے اپنے گھر میں اس وقت نا میرے پاس بھی بہت کام ہے سمجھے آپ اور جتنا میرا نقصان کیا ہے نا آرام سے پیسے نکالو نہیں تو میرا نام ساری زندگی یاد رکھو گے سمجھے ۔۔۔۔وہ انگلی اٹھا کے دہمکی دینے والے انداز میں بولی ۔۔۔۔۔
کتنے پیسے ہوئے تمہارے ۔۔۔
ایان نے دانت پیس کے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
پانچ ہزار وہ بھی منہ بنا کے بولی ۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔اس نے کہتے ساتھ دس ہزار نکال کے اس کے سامنے کیے ۔۔۔۔
پورے دس ہے دوبارہ کبھی اپنی شکل نا دیکھنا مجھے وہ دس ہزار اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں بولا ۔۔۔۔۔
بیئر نے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور جانے لگئی ۔۔۔
اوو ہیلو میرا فون اٹھا کے دو ایان ۔ نے روبدار آواز میں آرڈر دیا ۔۔۔۔
کیااا؟ ؟ اب آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے مطلب حد ہی آپ جھوکو گے اپنا موبائل اٹھاؤ کے تو کیا آپ کی ناک کاٹ جائے گی یا آپ کی ڑیڑ کی ہڈی میں سریا ڈالا ہوا ہے جو آپ جھک نہیں سکتے ۔۔۔۔
میں نے جھکنا نہیں سکھا ۔۔ايان نے اسے گھورتے ہوئے اکڑ کے کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے زیادہ ڈائلوگ مارنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ وہ کہتے ساتھ جھوکی اور اس کا موبائل اٹھایا جس کی سکرین پھلے ہی تھوڑی ڈیمج ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ايان نے سامنے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اگے کیا مطلب صاف تھا وہ موبائل رکھے اور دفع ہو جائے ۔۔۔۔۔
اوو ہیلو یہ ٹھرڈ کلاس کی ایکٹنگ کہی اور جا کے کرنا پکڑو اپنا فون اس نے کہتے ساتھ پہینکنے والی انداز میں موبائل اس کی طرف اچھالا ۔۔۔اس سے پہلے کے ایان کنچ کرنا موبائل ایک بار ہر سے زمین پے گرا اور اب تو پکا اس کا موبائل جام اے شہادت پی چکا تھا ۔۔۔
ايان نے بےیقینی سے اپنے موبائل کی طرف دیکھا ۔۔۔
تم۔۔۔۔ وہ دانت پیس کے بولنے لگا تھا جب وہ بولی ۔۔۔
اوو سوری وہ کیا ہے نا کے میرا دھیان نہیں رہا آپ ایسا کریں یہ پانچ ہزار رکھ لیں اسے سہی کروا لینا ۔۔۔ وہ جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پے سجا کے بولی اور وہاں جانے لگی تھوڑا اگے جا کے وہ پلٹی ۔۔۔۔
ہیلو باس اگے سے خیال رکھنا نا میں ہیروئن ہو نا آپ ہیرو جو ٹکرانے کے بعد ہر جگہ رومنٹک سونگ سنائی دیں گے میرا اتنا نقصان کرنے کے بعد تو آپ میرے اول دشمن ہیں اور دشمنوں کی شکل دیکھنے کا شوق کس کو ہوتا ہے ۔۔۔۔ وہ اپنی سیا آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بولی اور وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
پیچھے وہ دانت پیس کے رہ گیا ۔۔ .
🌺🌺🌺🌺🌺
یہ منظر بیچ روڈ کا تھا جہاں بہت سے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر اپنے کام میں لگی تھی ۔۔۔۔۔
اپن کو دیکھ کے سیٹی کس نے بجائی ۔۔ اس نے سامنے کھڑے چار لڑکوں کی طرف دیکھ کے سوال کیا وہ لڑکے نیے تھے اس لیے اسے جانتے نہیں تھے ۔۔۔۔
بالوں کا دہلا سا بمب بناے جس سے کچھ آوارہ لیتے اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔
وہ بھی بلا کی حسین تھی کوئی بھی ایک نظر دیکھ لیتا تو ضرور دیوانہ ہوتا
ہلکے بلیو شید کی آنکھیں جس میں ہر وقت ایک جنون رہتا عنابی لب گال پے پڑتا ڈمپل اسے اور حسین بناتا تھا ۔۔۔
بلیک پینٹ کے ساتھ بلیک ہی کرتہ پہنے وہ چہرے پے بلا کی سختی لئے سامنے والوں کو گھور رہی تھی ۔۔۔
امبر شاہ جو کے اپنی دنیا میں رہنے والی لڑکی تھی لیکن جب کوئی اس سے پنگا لے وہاں اس کی خیر نہیں ۔۔۔۔
ایک ام سی بستی میں رہنے والی ۔ ام سی لڑکی جس نے بچپن سے ہی صرف محرومیاں ہی دیکھی تھی ۔۔۔۔
میں نے بجائی تھی تجھے دیکھ کے سیٹی اففففف کیا مال۔۔۔۔۔۔
باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی دم توڑ گئے کیوں کے منہ پے پڑنے والے مکا کافی زور کا تھا ۔۔۔
یو۔۔۔۔ اس نے جب سامنے دیکھا تو باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیوں کے سامنے ہی امبر کے ساتھ دو لڑکیاں اور کھڑی تھی ۔۔۔
ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے جس سے یقینان وہ ان سب کی خدمت کرنے والی تھی ۔۔۔
اب بولو کیا بول رہا تھا تو اپن نے سنا نہیں تھا وہ کیا ہے نا اپن کے کان پور میں ہڑتال ہے ۔۔۔ امبر نے اپنے کان پے ہاتھ رکھ کے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
دیکھو لڑک۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا
باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے تھے جب تینوں نے انہیں مارنا شروع کیا ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ ان سب کی اچھی خاصی خدمات کر چکی تھی ۔۔۔
بچے نیو لگتے ہو یہاں اگے سے یاد رکھنا ہمارے راستے میں انے والوں کو ہم معافی نہیں دیتے ۔۔
عبیرہ کاظمی نام ہے میرا دھیان میں بیٹھا لو عبیرا اس کے پاس بیٹھے ہوئے بولی اس کے انداز میں کچھ تو تھا ایسا جس نے سامنے موجود لڑکے کو کانپنے پے مجبور کر دیا ۔۔۔
ان تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی۔
وہ لڑکے وہاں سے بھاگ گئے تھے ۔۔۔۔
یار کہاں تھی تم دونوں کب سے انتظار کر رہی ہوں تمہارا ۔۔۔ امبر نے دونوں کو ہگ کرتے ہوئے کہا کچھ دیر پہلے والی بولی وہ صرف تب استعمال کرتی تھی جب سامنے والے کو اس کی اوقات یاد کروانی ہو ۔۔۔
پوری بستی میں وہ بیوٹی کوئینز کے نام سے جانی جاتی تھی ۔۔۔۔
کہی نہیں جانی بس اس چھپکلی کی وجہ سے دیر ہوگی انے میں عبیرہ نے اپنے سامنے کھڑی زری کو دیکھ کے کہا جو اس اپنے لیے چھپکلی سن کے سکتے میں تھی ۔۔۔۔
ت ۔۔تم نے مجھے چھپکلی کہا میں تمہیں کہاں سے چھپکلی لگتی ہوں ۔۔۔زری کی حیرت میں ڈوبی آواز آئ ۔۔۔
اچھا چھپکلی۔۔۔ میرا مطلب زری چھوڑو یار اور تم سیدھی طرح بتاؤ کہاں تھ ۔۔۔ امبر نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔کہی نہیں یار ایک نمونہ مل گیا تھا راستے میں میرا اتنا نقصان کر گیا وہ ایک آنکھ دبا کے بولی ۔۔۔۔
ضرور تم نے اسے لوٹ لیا ہوگا پھر تو زری نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا کوئی شک ہے کیا ۔۔۔بیئر نے آنکھ دبا کے کہا
اچھا چھوڑو یہ سب
چلو اب میں نے تم دونوں کو لیے کھانا بنایا ہے ساتھ میں کھاتے ہیں ۔۔۔
امبر نے دونوں کو دیکھ کے کہا وہ جتنا سیریس مزاج تھی باقی دو اتنی ہی شرارتی زندگی کے ہر موڑ پے ایک دوسرے کا ساتھ دیتی آئ تھی ۔۔۔۔
شکر ہے کسی کو خیال ایا میری بھوک کا بیئر نے معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جب وہ دونوں مسکرا دی ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
سورج غروب ہونے کو تھا آسمان اندھیرے سے پہلے خوبصورت آتشی رنگوں سے سجا دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔آسمان پر کہیں کہیں سفید بادلوں کی ٹولیاں اٹھکیلیاں کرتی دلفریب لگتی تھی۔۔۔۔۔۔
اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے پرندے آسمان پر ایک لمبی اڑان بھرتے یہاں سے وہاں اڑتے خوشی سے جھومتے چہچہاتے نظر آتے تھے۔انکی میٹھی آواز فضا میں گونجتی خوبصورت دھنیں بکھیر رہی تھی جو دل کو موہ لینے کا ہنر رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہی مغرب سے پہلے آفندی کنسٹرکشن کمپنی کی شیئر ہولڈرز کی میٹنگ طے پائی تھی۔میٹنگ سے پندرہ منٹ پہلے روحان اور رومان آفس پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔
رومان رف حلیئے میں سیدھا آفس پہنچا تھا۔۔۔
آیان اور روحان ۔میٹنگ روم کی طرف چلے گئے تھے ۔۔۔۔
رومی کہاں ہہے آیان نے روحان کی طرف دیکھ کے سوال کیا ۔۔وہ برو بھائی کپڑے بدلنے گئے ہیں
“ہممم وکے آیان نے بس یہی کہا ۔۔۔۔۔۔
رومان آفس میں ایا اور ایک سکون کا سانس لیا
“اس کے آفس میں اسکی واڈروب ہمیشہ تیار رہتی ہے تھی نہ صرف اس کی بلکے ادیان اور روحان کی بھی بےشک وہ پولیس والا تھا لکن پھر بھی آیان نے اس کے کیبن پوری طرح سے تیار رکھے تھے رومان نے مسکراتے ہوئے سامنے دیکھا
اور اپنے کپڑے لے کے واش روم چلا گیا ۔۔۔
کچھ دیر میں باہر ایا اور شیشے کے سامنے کھڑا ہو کے اپنے بال بانے لگا
گہری براؤن رنگ کی آنکھیں جن کے پاس ایک چھوٹا سا تل تھا کالے سیا بال جو ہمیشہ اس کی پیشانی پی بکھرے رہتے عنابی لب جن پے ہر وقت مسکراہٹ رہتی غصہ کرنا تو اس نے کبھی سکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔
سرخ و سفید رنگت پے اسے كالین شیب بھی جچ رہی تھی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سب لوگ میٹنگ روم بیٹھ چکے تھے اور ان سب کے بیٹھتے ہی رومان میٹنگ روم میں داخل ہوا اور مسکراتے ہوئے اونچی آواز میں سب کو سلام کیا۔۔۔۔۔
رومان کے بیٹھتے ہی ادیان نے پریزینٹیشن دینا شروع کی۔۔۔
کیوں کے ايان چاہتا تھا یہ پروجیکٹ ادیان کو ملے ۔۔۔۔کمرے میں اندھیرہ تھا صرف پروجیکٹر کی روشنی میں سامنے چلتے ہوئے منظر نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
ادیان پر اعتماد سا پریزینٹیشن دے رہا تھا اسکے بولنے کے انداز میں ٹھہرائو تھا جس سے سب کو اسکی بات آسانی سے سمجھ آ رہی تھی وہ ایک ایک پوائنٹ اچھے سے ایکسپلین کر رہا تھا۔۔۔۔
پریزینٹیشن ختم ہونے کے بعد ادیان سب سے انکی رائے مانگنے لگا کہ یہ پروجیکٹ سب کو کیسا لگا “مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہ پروجیکٹ نہیں کرنا چاہئے ایک تو یہ بہت زیادہ کوسٹلی ہے اور دوسرا اس میں رسک بھی بہت زیادہ ہے” سمیر صاحب جو ادیان کی کمپنی کے ٹیونٹی پرسنٹ پاٹنر تھے انہیں نے پروجیکٹ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔۔۔۔
“رسک زیادہ ہے تو پروفٹ بھی تو زیادہ ہے اگر ہمارا یہ پروجیکٹ کامیاب ہو گیا تو ہم سب کو پچاس پرسنٹ پروفٹ ہو گا اور یہ ہماری کمپنی کی سب سے بڑی اچیومنٹ ہوگی اس پروجیکٹ کی وجہ سے اس سال ہمارا شمار پاکستان کی ٹاپ فائیو کمپنیز میں ہو گا” ادیان نے اس پروجیکٹ کے فوائد بتاے ۔۔۔۔۔
“اگر پروجیکٹ کامیاب ہوا تو نا اور نا ہوا تو ہمیں اس سال کا سب سے بڑا لوس ہو گا ہم ٹاپ فائیو میں جانے کے بجائے ٹاپ ٹین کی رینج سے بھی باہر نکل جائیں گیں” سمیر صاحب نے پھر سے پروجیکٹ نہ کرنے کے خلاف جواز دیا۔۔۔۔
ادیان کچھ بولتا اس سے پہلے ايان کی آواز وہاں گونجی ” اگر صرف ایک مسٹر سمیر کو ہی مسلہ ہے تو وہ اپنی پاٹنرشیپ ختم کر سکتے ہیں ادیان کی کمپنی پے اس پروجیکٹ کے لیے پیسے میں لگاؤ گا اور اگر کسی اور کو بھی مسلہ ہے تو وہ ابھی مسٹر سمیر کے ساتھ جا سکتا ہے “۔۔۔۔۔
ادیان اس کی بات سے متفق ہوتے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا انداز سے کافی برہم لگ رہا تھا کیونکہ سب نیگٹیو سائیڈ دیکھ رہے تھے کسی کو فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔
بلکل ہم سب ایک ساتھ ہیں زندگی کے ہر موڑ پے رومان اور روحان نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔۔۔
ہم تیار ہیں مسٹر سمیر کو چھوڑ کے باقی سب نے بھی حامی بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
تم اس پروجیکٹ کو شروع کرو اور مجھے پورا یقین ہے یہ واقعی اس سال کا سب سے بڑا اور کامیاب پروجیکٹ ہو گا اور ہماری کمپنی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہو گا” ايان نے پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے ادیان کو دیکھا ۔۔۔
“فیصلہ ہو گیا ہے ہم یہ پروجیکٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ ادیان خوش اور پرجوش دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔
“So meeting is over now and we will meet again with the success of this protect
(پس میٹنگ ختم ہوتی ہے اور اب ہم سب دوبارہ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے ساتھ ملے گیں )”
ادیان مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا اسے واقعی لگ رہا تھا کہ وہ بہت مضبوط ہے ایسے ہی تو نہیں کہتے کہ اتفاق میں برکت ہے اس کے بھائی زندگی کے ہر موڑ پے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
اے حسن کی ملکہ ، پریوں کی شہزادی میں تمہارے خوابوں کا شہزادہ ہوں اپنے نرم و مالائم ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو میں تمہیں لنے ایا ہوں ہم اس دنیا سے بہت دور چلے جائے گے جہاں صرف تم اور میں ہوں گے ۔۔۔۔
افففف ماہی میں تمہیں کیا بتاؤ کتنا حسین خواب تھا جہاں میرے خوابوں کا شہزادہ خود مجھے اپنی ملکہ بنانے کے لیے لینے ایا تھا پر وہ روکا ہی نہیں چلا گیا مجھے چھوڑ کے اس ظالم دنیا میں ۔۔۔
کمینہ انسان کبھی ہاتھ ہی نہیں اتا جس دن ہاتھ لگا اس کی ہڈیوں کا قیمہ بنا دوں ۔۔۔
آہہہہہ۔ زری اپنی آنکھیں ملتی ہوئی بول رہی تھی اور روز کی طرح جناب آج بھی بیڈ سے گر گئی تھی اور اب بیٹھی منہ کے زویہ بیگاڑ رہی تھی اور ماہی کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے کیا عجیب مخلوق تھی ۔۔۔۔۔
پاگل انسان سارا دن تو تم ناول پڑھتی ہو اور اگر کبھی ان کی جان چھوڑ ہی دو تو ڈرامہ دیکھ لیتی ہو یہ سب تو ہونا ہی ہے ۔۔ماہی نے اسے گھور کے کہا ۔۔
زری نے منہ کا زاویہ پھر بیگاڑا ۔۔۔
اچھا اچھا اب اٹھو اور نماز پڑھ لو ویسے تمہارا شہزادہ مجھے مسلمان معلوم ہوتا ہے جو ٹھیک نماز کے وقت تمہیں اٹھا کے زمین پے پیٹ دیتا ہے ہاہا ہاہا ہاہا ہاہا ماہی نے قہقا لگتے ہوئے کہا اور خود نماز پڑھنے لگی ۔۔۔
زری بھی کراتے ہوئے واش روم کی طرف چل دی ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔