No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
ارے واہ کیا بات ہے یہاں تو میرے بغیر ہی کیس لڑا جا رہا ہے اور مسٹر تم پچھلے جنم میں ناجومی تھے کیا ؟؟؟؟؟
امبر کچھ کہتی کوٹ میں ایک اور نسواری آواز گونجی جب سب نے آواز کی سمت میں دیکھا جج نے بھی حیران ہو کے دیکھا ایسا کون آ گیا تھا جس کے بیغر کیس نہیں لڑا جا سکتا ۔۔۔۔
امبر نے جب سامنے اسے دیکھا ان سب کے لبوں پے مسکراہٹ در آئ جب کے زمل اور کاظمی صاحب کا رنگ بانگ سے اڑا تھا کیوں کے سامنے اور کوئی نہیں عبیرہ ايان افندی تھی جس سے کوئی بھی باتوں میں نہیں جیت سکتا تھا ۔۔۔
اب آپ کون ہیں محترمہ ؟؟؟ جج صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔۔۔
ارے وہ بھی بتا دیتی ہوں پہلے آپ بتاے نہ پچھلے جنم میں ناجومی تھے کیا ؟؟؟ وہ مظبوط قدم اٹھتی ہوئی فیاض احمد کے سامنے آ کے بولی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔ فیاض احمد نے اسے دیکھتے ہوئے ناسمجھی سے کہا جب کے جج بھی حیران تھا اسے بھی بات سمجھ میں نہیں آئ تھی ۔۔۔
تو بھائی کس بیس پے یہ کہہ سکتے ہو کے سارا قصور اس بگڑبلے کا ہے اور یہ چالاکو ماسی بےقصور ہے کیا آپ اس وقت وہاں موجود تھے جس دن ان کا ریپ ہوا ؟؟؟؟
کیا آپ نے ریپ ہوتے دیکھا تھا ؟؟؟؟ اس نے ریپ پے زور دیتے ہوئے دانت پیسے تھے
وہ بارے سکون سے سامنے والے کا سکون برباد کر چکی تھی۔۔۔
یوراونر یہ لڑکی کوٹ کا قیمتی وقت برباد کر رہی ہے
فیاض احمد خود کو سمبھال کے فورن بولا ۔۔۔
ہاں ایک تم لوگوں کا وقت ہی تو قیمتی ہے میں تو یہاں چنے بیچنے آئ ہوں لینے ہیں تو بتاؤ حد ہوگی یار کیس کی چشمڈد گوا ہوں میرے بغیر کیس کیسے لڑا جائے گا ۔۔۔۔
وہ کہتے ساتھ سامنے موجود ٹیبل پے سج کے بیٹھ گئی ۔۔۔
جج نے دانت پیس کے اسے دیکھا کیا عجیب لڑکی تھی کسی چیز کا کوئی ڈر نہیں .
آپ کو جو کہنا ہے آپ ۔۔۔۔
میں نے جو کہنا وہ تو میں کہہ ہی دوں گی روک تو مجھے میرا باپ بھی نہیں سکتا پہلے ذرا میں اپنے اس بگڑبلے کی خبر لے لوں پھر آپ سے بات کرتی ہوں ۔۔۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے جج کو چپ کروا کے کہا اور خود ایان کی طرف دیکھا جو اسے اپنے سامنے دیکھتے ہی کھل اٹھا تھا اسے ڈر صرف اس بات کا تھا کے کہی عبیرہ بھی اسے غلط نہ سمجھ لے لیکن ابھی اسے سامنے دیکھ اس کی خوشی کا کوئی تھکانہ نہیں تھا ۔۔ ۔۔۔۔
میں جج ہوں۔۔۔ جج نے دانت پیس کے کہا انہیں اپنا آپ نظر انداز ہونا بلکل بھی گوارا نہیں گزارا تھا ۔۔۔
ہاں تو میں نے کب کہا آپ گالیوں میں نالیاں صاف کرتے پکڑے گئے ہیں سن لیتی ہوں آپ کی بھی پہلے ذرا میں اپنے شوہر جی کی خبر لیں لوں ۔۔
پھر آتی ہوں آپ کی طرف بھی ۔
ویسے کیا بتاؤ آپ کو پہلے دن سے میں اس بندے کو اس چڑیل سے بچاتی آئ ہوں مگر یہ ڈین پھر بھی میرے اس معصوم شوہر کو چپک ہی گئی ۔۔۔ اس نے اپنی پیشانی پے ہاتھ مرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
یوراونر یہ محترمہ عدالت کے رولز ٹو۔۔۔۔
اوو بھائی رول کی بات تو نہ ہی کرو شکر کرو میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ورنہ یہی کھڑے تمہیں رولز سکھا دیتی آے بڑے رولز والے شرم تو آتی نہیں ہے جھوٹ بولتے ہوئے اور کچھ نہیں تو بندہ الزام لگانے سے پہلے مجرم کی بوتھی ہی دیکھ لیتا ہے ۔۔
اب آپ ہی بتاے جج صاحب اس بندے کو دیکھ کے لگتا ہے کے یہ ریپ کر سکتا ہے اور اگر کرنا بھی ہوا تو اپنے اسٹینڈر دیکھ کے کرے گا نہ ریپ کے لیے یہ میک۔ اپ کی دکان ہی ملنی تھی انہیں ۔۔۔وہ ہاتھ نچا نچا کے بول رہی تھی اور فیاض احمد کی بولتی تو ویسے بھی بند کروا چکی تھی ۔۔۔۔
امبر کو بھی آج ضرورت سے زیادہ ہنسی آ رہی تھی وہ جانتی تھی اس کی دوست سے جتنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی کہے وہ اے کے تھی انتہا کی سخت مزاج گینگسٹر اور کہی عبیرہ ایان افندی جو کبھی بھی چپ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔
محترمہ آپ ایسا کریں آپ میری جگہ پے آ کے بیٹھ جائے ویسے بھی آپ کے ہوتے ہوئے میری کیا ضرورت ۔۔ جج صاحب نے تپ کے دانت پیس کے اس کے زیادہ بولنے پے طنز کیا ۔۔۔۔
ارے نہیں جج صاحب آپ کی جگہ پے میں کیسے بیٹھ سکتی ہوں میں یہی ٹھیک ہوں آپ اپنی جگہ پے ہی بیٹھے یہاں ہوا آ رہی ہے جب گرمی لگی تو آ جاؤ گی آپ بس ایک آدھی کولڈ ڈرنک منگوا دیں بہت تیز چمپا کو چلا کے لائی ہوں اب تھکن محسوس ہو رہی ہیں ۔۔۔
وہ فائل سے خود کو ہوا دیتے ہوئے ڈھیٹ پن دکھاتی ہوئی سکون سے بولی ۔۔۔
جج کا تو منہ ہی کھول گیا تھا اور کوٹ میں دبی دبی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی ۔۔
آپ کو یہ کہاں سے ملی تھی ۔۔جج صاحب نے ايان کی طرف دیکھ کے بےبسی سے پوچھا ۔۔۔
ارے جج صاحب میں نے خود انہیں ڈھونڈا یہ بیچارے تو اپنے کام میں بزی رہنے والے مصروف ترین انسان تھے ۔۔۔ وہ اپنی پوری بتیسی دیکھا کے بولی ۔۔۔۔
اچھااااا اب ہم کیس کی طرف آے . جج نے اچھا پے خاصہ زور دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہاں تو خود ہی کب سے لگے ہو میں نے تو کہ رہی ہوں جلدی کام ختم کرو مجھے اور بھی کام ہیں ۔۔وہ ناک منہ چڑھا کے بولی ۔۔۔۔
جج نے نا میں سر ہلا کے امبر کی طرف دیکھا جو سکون سے بیٹھی تھی ۔۔۔
آپ اپنی دلیل پیش کریں ۔۔
جج صاحب کی کہنے پے وہ اٹھ کے زمل کے پاس گئی ۔۔۔۔
جی تو مس زمل کیا آپ بتا سکتی ہیں آپ کا ریپ کس دن ہوا ۔۔۔
امبر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
ی ۔۔یہ کیسا سوال ہے ۔زمل کی زبان لڑکھڑائی تھی لیکن جلد ہی خود کو سمبھال کے بولی ۔۔۔
مس زمل آپ سے جو پوچھا گیا آپ اس کا جواب دیں امبر نے اس بار سختی سے کہا ۔۔۔۔
پانچ تاریخ رات 10 11 بجے زمل نے خود کو سمبھال کے صاف الفاظ میں جھوٹ بولا ۔۔۔
10 یا 11 بجے ؟؟؟ امبر نے آئ برو اچھکا کے پوچھا ۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے جج صاحب مس امبر میری بیٹی کی عزت اچھل رہی ہیں وہ کس اذیت سے اپنی آپ بیتی سنا سکتی ہیں یہ خود بھی ایک عورت ہے یہ ایسے کیسے میری بیٹی۔۔۔۔۔۔
یوراونر مسٹر کاظمی میرے کام میں خلل ڈال رہے ہیں میری آپ سے گزارش ہے کے مجھے میرا کام کرنے دیا جائے ۔۔۔ امبر نے جج صاحب کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
آپ بیٹھ جائے اپنی جگہ پے جج نے کاظمی کی طرف دیکھ کے کہا جب وہ دانت پیس کے بیٹھ گیا ۔۔۔
ہاں تو مس زمل آپ نے جواب نہیں دیا عدالت منتظر ہے آپ کے جواب کی ۔۔۔امبر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔۔
پانچ تاریخ رات 10 بجے کے قریب یہ انسان میرے پرسنل فلیٹ میں ایا یہ نشے کی حالت میں تھا اور پھر صبح پانچ بجے تک اس نے اپنی درندگی کا نشانہ ۔۔۔۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا ہاہا اوو بہن ہوش میں تو تم نہیں لگتی مجھے زمل کی بات کو عبیرہ نے ہنستے ہوئے بیچ میں کاٹ دیا ۔۔۔
جج جو اسے چپ دیکھ کے تھوڑا سیریس ہوا تھا ایک بار پھر دانت پیس کے رہ گیا ۔۔۔
جج صاحب یہ محترمہ عدالت کی توہین کر رہی ہیں بار بار فیاض احمد نے عبیرہ کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا جج صاحب ان سے پوچھے کیا ان کے موعكیل کی بات میں ذرا بھی سچائی ہے ؟؟؟؟
عبیرہ نے ہنستے ہوئے طنز کیا جب فیاض احمد نے اپنی پیشانی صاف کی ۔۔۔۔
اب تو گئی یہ زمل دیکھ لینا میری بیئر کو کوئی نہیں ہارا سکتا ۔۔زری نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
بلکل جی آپ لوگوں سے جتنا بھی کون چاہتا ہے روحان نے اسے اپنی نظروں کے حصار میں رکھ کے کہا ۔۔۔
زری نے سٹاپ کے اسے دیکھا ۔۔۔
آپ کیا کہنا چاہتی ہیں مس عبیرہ ۔۔جج صاحب نے ناسمجھی سے اسے دیکھ کے پوچھا ۔۔۔
جب وہ ایک جھکے میں ٹیبل سے اتری اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے زمل کے سامنے آئ ۔۔۔۔
یوراونر جس دن کی بات یہ کر رہی ہیں اس دن تو پوری رات مسٹر ايان افندی میری قید میں تھے میرا مطلب کے انہیں میں نے کڈنیپ کر رکھا تھا ۔۔۔اس نے جج صاحب کے سر پے ایک اور دہماکہ کیا ۔۔۔
کڈنیپ ۔۔لیکن کیوں ۔۔۔
جج نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
نکاح کرنے کے کیا تھا اور کیا ان سے اپنے گھر کی صفائی کروانی تھی ۔۔۔
وہ اپنی بتیسی دیکھاتے ہوئے ڈھائی سے بولی ۔۔۔
یہی زمل کے پسینے چوتھے تھے ۔۔۔
ی ۔یہ جھوٹ ہے جج صاحب زمل نے فورن کہا ۔۔۔
اوو اچھا تو یہ کیا ہے پھر ۔۔۔ اس نے سکون سے ایک ویڈیو چلائی جس میں ایان کو ایک کمرے میں باندھ کے رکھا گیا تھا اور صبح اس کا نکاح ہوا ۔۔۔۔
جج صاحب تو جتنا حیران ہوتے کم تھا لڑکی تھی یا پٹاخہ ۔۔۔
آپ کو اب جو میں دیکھاو گی اس کے بعد آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی ۔۔۔ امبر نے مسکراتے ہوئے کہا اور عبیرہ کی طرف دیکھا ۔۔
عبیرہ نے اپنا موبائل اسے دے دیا ۔
امبر نے اگے ہو کے وہ موبائل لپ تاپ کے ساتھ کنٹیکٹ کیا اور پھر ویڈیو چلا دی جو میٹنگ والے دن عبیرہ نے بنائی تھی باظاہر اس نے یہی شو کیا تھا کے اسے کوئی فرق نہیں پڑھتا مگر تھی تو وہ ایک گنگسٹر ہی ایسے کیسے جانے دیتی اسے ۔۔۔
یہ رہے ثبوت آپ کے سامنے اور یہ ریپوٹ جو مس زمل نے سب کے سامنے پیش کی یہ جھوٹی ہے یہ بات ثابت ہوئی امبر نے طنزیہ مسکراہٹ دونوں باپ بیٹی کی طرف اچھل کے کہا
جج صاحب نے ثبوت دیکھنے کے بعد عبیرہ کی طرف دیکھا جو اب بھی سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔
جب ثبوت تھے آپ کے پاس تو اتنا بول کے میرا دماغ کیوں خراب کیا ۔۔جج نے آئ برو اٹھا کے پوچھا ۔۔
چیک کر رہی تھی آپ کے پاس ہے بھی یا نہیں دماغ ۔وہ پھر سے بتیسی دیکھا کے بولی ۔۔۔۔
جج نے نفی میں سر ہلا دیا
مخالف وکیل کچھ بولنا چاہتے تھے مگر جج نے خاموش کرتے ہوئے کہا ۔۔
تمام ثبوتوں اور گواہوں کو متنظر رکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پے پوھنچی ہے کے ایان افندی بے گناہ ہے۔۔
اور زمل کاظمی کو دو سال کی سزا سناتی ہے عدالت کا وقت برباد کرنے اور جھوٹا مقدمہ درج کروانے کی صورت میں عدالت ان پے ساتھ لاکھ جارمانہ لاگتی ہے جو مسٹر کاظمی کو کل تک جمع کروانا ہوگا خلاف ورزی کی صورت میں انہیں بھی اریسٹ کیا جائے گا ۔۔۔
عدالت کا آرڈر ہے کے فورن زمل کو گرفتار کر لیا جائے ۔۔۔
عبیرہ نے مسکرا کے امبر کی طرف دیکھا
ایسی کوئی لڑائی نہیں تھی جو یہ ہار جائے ان کے پاس سب سے بڑی طاقت تھیاور وہ تھی دوستی کی طاقت ۔۔۔
جاری
