Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

اففف یار ایسے بھی ابھی خراب ہونا تھا اب میں امبر کو کیا بتاؤ پہلے ہی بیچاری اتنی پریشان تھی ۔۔۔
عبیرہ اپنی سکوٹی کا جائزہ لتے ہوئے خود سے بڑبڑا رہی تھی آج سنڈے تھا اور وہ آج امبر کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔
راستے میں اس کی سکوٹی نے بےوفائی کر دی اور اوپر سے ماشاءالله عبیرہ میڈم نے ذرا سی بھی زحمت نہیں کی اسے سائیڈ پے کرنے کی روڈ کے بیچ کھڑا کر اس کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
افففف یہ کون پاگل ہے جو روڈ کے بیچ میں کھڑا ہے پتا نہیں کیا ہوتا جا رہا ہے آج کل کے لوگوں کو رولز تو فولّو کرنے نہ ہوئے ایان جو فول سپیڈ میں آ رہا تھا دور سے ہی روڈ کے بیچ میں کھڑی بائیک کو دیکھ کے شدید غصے میں دانت پیس کے بولا ۔۔۔
اس کے لاکھ ہارن دینے پر بھی جب بائیک والے پے کوئی خاص اثر نہ پڑا تو اس نے بائیک سے کچھ دور ایک دم بریک لگائی جس کی وجہ سے اس کی گاڑی بیلنس نہ رکھ سکی اور پوری گھوم گئی ۔۔۔۔گاڑی کے روکتے ہی وہ تن فن کرتا گاڑی سے نکلا اور بائیک والے کے سر پے پوھنچا ۔۔۔۔
مرنے کا زیادہ شوک ہے تو کہی اور جا کے مارو نہ میری گاڑی کے سامنے انا لازمی ہے پتا نہیں کس کا منہ دیکھ لیا تھا صبح صبح ۔۔۔۔۔
عبیرہ جو اپنی سکوٹی کا جائزہ لینے میں بزی تھی اپنے پاس سے انے والی مردانہ گھمبیر آواز پے پلٹی جیسے وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی اب ۔۔۔
تممممممم یہاں مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہئے تھا تم ہی ہو سکتیہو عقل نام کی چیز ہے یا نہیں تم میں روڈ کے بیچ میں کون پاگل کھڑا ہوتا ہے ابھی مر جاتی میری گاڑی کے نیچے آ کے ۔۔۔ایان تو اسے دیکھتے ہی شروع ہو چکا تھا جب کے سامنے والی ابھی بھی سکون سے اپنے بازو سینے پے باندھ کے کھڑی تھی ۔۔۔
مجھے مرنا ہوگا تو اپنے سٹائل سے مارو گی نہ آپ کی اس کبار کی طرف تو دیکھو گی بھی نہیں اور یہ روڈ کیا آپ نے بنوایا ہے نہیں نا تو صبح صبح اتنا گلہ کیوں پھاڑ رہے ہیں دن تو میرا خراب ہوا جس نے آپ کی یہ سڑے کریلے جیسی بوتھی دیکھ لی ۔۔ اور کیا ہے نہ جب اللہ تعالیٰ . عقل بانٹ رہے تھے تو آپ اس لائن میں سب سے اگے تھے میں تو یہ سوچ کے واپس چلی گئی کے آپ کے پاس آ جائے یہی کافی ہے ۔۔۔۔
عبیرہ نے بھی سکون سے اس کا منہ توڑا ایک شیر تھا تو دوسرا سوا شیر ۔۔۔
تم اپنی یہ کباڑ سائیڈ پے کرو مجھے دیر ہو رہی ہے ايان نے اس کی باتوں کو نظر انداز کر کے اپنی آنکھوں پے گلاسس لگتے ہوئے اپنے مخصوص سٹائل میں کہا ۔۔
میری چمپا کے بارے میں کچھ نا کہنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے آپ ۔اس نے انگلی اٹھا کے دہمکی دینے والے انداز میں کہا ۔۔۔
واٹ کیا عجیب پاگل لڑکی ہو چیزو کے بھی نام رکھے ہیں میں تمہارے پاس تھوڑی دیر اور کھڑا رہا تو ضرور پاگل ہو جاؤ گا سائیڈ پے کرو ایسے مجھے جانا ہے ۔۔ایان نے اسے گھورتے ہوئے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
کیوں کروں پہلے میں کھڑی تھی یہاں جب تک میری چمپا ٹھیک نہیں ہوتی میں نہیں ہلو گی یہاں سے وہ بھی انتہا کی ڈھیت تھی ۔۔۔۔
تممممم میرے ہاتھوں مر جاؤ گی کسی دن ایان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
آنہہہہ ہاتھ تو لگاؤ آے بڑے مر جاؤ گی میرے ہاتھوں ۔۔ وہ بھی منہ بنا کے اسی کے انداز میں بولی اور واپس اپنی سکوٹی کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔
ایان نے گھور کے اپنے سامنے کھڑی ڈھیت ہڈی کو دیکھا جو اس کا ضبط آزمانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتی تھی ۔۔۔۔۔
ہٹو میں دیکھتا ہوں آخر تنگ آ کے ایان نے ہی ہار مانتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
آپ دیکھیں گے کبھی خود کو دیکھا ہے شیشے میں ؟؟؟ عبیرہ نے اسے گھور کے دیکھتے ہوئے پوچھا آج بھی صرف اس کی آنکھیں ہی نظر آ رہی تھی جو سیا کالی تھی ۔۔
ايان آج کھو سا گیا تھا ان آنکھوں میں کچھ تو تھا جو اسے اپنی طرف کھنچ رہا تھا ۔۔۔
اس نے جلدی سے خود کو سمبھالا اور سکوٹی کو چیک کرنے لگا پانچ منٹ لگے تھے اسے سکوٹی ٹھیک کرنے میں ۔۔۔
لو ہو گئی ٹھ۔۔۔۔۔
وہ سکوٹی ٹھیک کرنے کے بعد اسے سائیڈ پے کرتا ہوا بول رہا تھا
ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب اس کی نظر اپنی گاڑی پے پڑی جو عبیرہ میڈم لے کے جانے لگی تھی ۔۔۔
تم میری گاڑی سے نکالو باہر ايان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
ہسبنڈ جی اگر مجھے جلدی نہ ہوتی تو میں ضرور آپ کی بات مانتی مگر ابھی مجھے جانا ہوگا آپ کا کیا ہے یہ فون گھومیا نہیں کے یہاں لائن لگ جائے گی چلیں چلیں جلدی کریں فون کر کے اپنے لیے کچھ اور منگوا لیں اور ہاں میری چمپا کا اچھے سے خیال رکھنا میں شام کو لینے اؤ گی بائے ۔۔۔
وہ اپنی آنکھیں پٹپٹاٹے ہوئے بولی اور گاڑی زن سے لے اڑی ايان بیچارہ پیج و تاب کھا کے رہ گیا ۔۔۔۔
چھوڑو گا نہیں میں تمہیں۔۔۔۔وہ دانت پیس کے چیخا تھا بیچارے کی زندگی عذاب بنا دی تھی اس لڑکی نے ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کیا بات ہے امبر سب ٹھیک تو ہے اور کیا کہا وکیل صاحب نے اس بار ہم کیس جیتے گے یا نہیں ۔۔۔
عبیرہ نے سر پکڑ کے بیٹھی امبر کے پاس اتے ہی پوچھا زری بھی منہ بنا کے بیٹھی تھی ۔۔
کیا ہوا بتاؤ بھی تم دونوں ایسے کیوں بیٹھی ہو عبیرہ نے جھنجھلا کے پوچھا ۔۔۔
آج ان کے کیس کی پیشی تھی جہاں امبر رہتی تھی وہ جگہ شبیر شیخ کی نظروں میں آ گئی تھی جیسے اپنے نام کروانے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی مگر امبر نے یہ معملہ کوٹ میں گھسیٹ لیا۔ ۔۔
کیا جانا ہے تم نے ہاں تمہیں کیا لگتا یہ وکیل یہ کوٹ ہمارے حق میں کوئی فیصلہ کریں گے نہیں عبیرہ بی بی یہ سب صرف ایک ہی زبان جانتے ہیں اور وہ ہے پیسے کی زبان یہ بستی دیکھ رہی ہو تم یہاں رہنے والے لوگوں کو کیڑے سمجھا جاتا ہے امیروں کا قانون کہاں سنے گا ہم غریبوں کی فریاد کو جب کوئی بچا بھوک سے تڑپتا ہے نہ تو یہاں یہاں درد ہوتی ہے مجھے ۔۔امبر نے اپنے دل کے مقام پے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا لہجے میں تلخی تھی اس کی آواز میں امیروں کے لیے نفرت تھی شدید نفرت لیکن آنکھ سے ایک آنسوں تک نہیں بہا شاید ہی کبھی وہ روی ہو ۔۔۔۔
میری جان ہوا کیا بتاؤ تو سہی زری تم بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔ عبیرہ نے اگے بھر کے اسے کندھے سے پکڑ کے پوچھا جس کی آواز میں چھپا درد و کرب عبیرہ جیسی لڑکی کو بھی رولا دیتا تھا مگر سامنے کھڑی لڑکی بےحس بن چکی تھی جس کی آنکھ سے ایک آنسوں تک نہیں نکلا تھا کبھی ۔۔۔
یار وہ۔۔۔۔
مبارک ہو ہم ہار گئے کوئی بھی لائر ہمارا کیس لڑنے کو تیار نہیں ان کا کہنا ہے کے کیس ویسے بھی ہم ہار ہی جائے گے تو اس سے اچھا ہے ہم کوئی اپیل درج ہی نہ کرواے چپ کر کے اپنی بستی خالی کر دیں ویسے بھی یہ زمین ہم جیسے کیڑوں کے لیے نہیں ہے ۔۔۔
بتاتے ہوئے امبر نے اپنی آنکھیں بند کی شدید ضبط سے۔۔۔
اور تم جانتی ہو یہاں کی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟؟
امبر نے اپنی آنکھیں کھول کے بیئر کی آنکھوں میں دیکھ کے پوچھا ۔۔
ک ۔۔کیا ہوتا ہے ۔۔۔ بیئر کو کسی انجانے خوف نے آ گہرا تھا ۔۔۔
انہیں جسم فروشی کے لیے دوسرے شہروں میں بیچ دیا جاتا ہے اور یہاں موجود یہ ننی ننی جانے جنہیں ہر روز ڈرگز کا عدی بنایا جا رہا ہے یہ سب جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے اس ملک کا قانون ۔۔۔ امبر نے اپنی شولا باز آنکھیں بیئر کی آنکھوں میں گاڑ کے کہا وہی بیئر دو قدم پیچھے ہوئی تھی اسے تو علم تک نہیں تھا اس کی یہ دوست اتنی تکلیف میں ہے
بیئر نے اپنی بھیگی پلکے اٹھا کے سامنے دیکھا جہاں وہ اب ہر چیز فرموش کیے کتاب میں جھکی تھی ۔۔۔۔
عبیرہ نے اگے بھر کے اسے اپنے گلے سے لگا لیا وہ چاہتی تھی کے یہ ایک بار رو لے تکے اس کا دل ہلکا ہو جائے مگر سامنے کھڑی لڑکی نے بھی نہ رونے کی قسم اٹھائی تھی ۔۔۔
زندگی کے ہر موڑ پے ہم تینوں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے یہ تمہاری اکیلی کی جنگ نہیں ہے اس جنگ میں تم قدم قدم پے ہمیں اپنے ساتھ پاؤ گی زری نے اس کے ہاتھ پکڑ کے کہا ۔۔۔
بلکل ساتھ مرے گے ساتھ جئے گے اب دوستی کی ہے تو آخری دم تک ساتھ دے گے عبیرہ نے اسے بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
افففف تم یہ اپنی چیپکوں والی ہرقتیں تو گھر چھوڑ کے ایا کرو ۔۔
امبر نے دانت پیس کے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا
عبیرہ نے منہ بنا کے اسے دیکھا جب امبر نے مسکرا کے اسے اپنے ساتھ لگا لیا عبیرہ بھی پرسکون تھی ۔۔۔
یار تم دونوں کا ہوگیا ہو تو کوئی مجھ معصوم سے بھی پوچھ لو کچھ ۔۔ زری نے امبر کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ۔۔۔
کیوں بھائی تمہیں کیا ہوا عبیرہ نے آئ برو اچھکا کے اسے پوچھا
یار آج شام کو ۔۔۔۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔۔۔۔
ایک منٹ ۔ہیلو جی بھائی بس آ رہی ہوں ۔۔۔
زری کچھ کہتی اس سے پہلے ہی اس کا فون بجا اور وہ دونوں سے اجازت لے کے وہاں سے جلدی میں نکلی ۔۔۔۔۔
چل یار میں بھی چلتی ہوں اس کھڑوس باس کی گاڑی واپس کر کے اپنی چمپا لینی ہے ۔۔ عبیرہ نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ بھی وہاں سے افندی منیشن کے لیے نکلی ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
کیا اس لڑکی نے اپنی کپلین واپس لے رہی ہے یا نہیں ۔۔۔ کمرے میں کاظمی صاحب کی سرد آواز گونجی ۔۔
اس وقت اس کمرے میں کاظمی صاحب سبیر شیخ اور ایس پی موجود تھے ۔۔ اور کاظمی صاحب اپنے سامنے سر جھکا کے کھڑے وکیل کی طرف دیکھ کے سرد آواز میں چیخ رہے تھے ۔۔۔۔
یہ تینوں کے ۔زی گینگ کے ممبر تھے ۔۔
سر وہ لڑکی ہار مانے کو تیار ہی نہیں ہے میں نے بہت سمجھیا مگر وہ لڑکی کسی بھی صورت میں اپنا کیس واپس نہیں لے رہی وکیل نے اپنا حلق تر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
کافی ڈھیت ہڈی ہے سالی (گالی ) اب اسے اپنی زبان میں سمجھنا پڑے گا ،۔۔ شبیر شیخ نے اپنی گندی سی شکل کو اور بیگاڑ کے کہا ۔۔۔
سن ایس پی شام سے پہلے ان کی بستی میں آگ لگاوا دے ایک بھی گھر نہیں بچنا چاہئے پیار کی بات تو سمجھ نہیں آئ ان لوگوں کو اب ذرا اپنا طریقہ استعمال کر کے دیکھ لتے ہے کاظمی نے اپنے چہرے پے مکرور مسکراہٹ سجا کے کہا ۔۔۔
ارے ارے دھیان سے ۔وہاں ہمارا مال بھی ہے انہیں کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔ شبیر شیخ نے آنکھ کا کونہ دبا کے کہا جب کمرے میں ان سب کا قہقا گونجا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
بیٹھا ہمیں تو بس آپ کی بہن چاہئے میرے بیٹا تو اسے نہ جانے کب سے اپنے دل میں بسا کے بیٹھا ہے ۔۔۔
میسز نعیم نے اپنے سامنے بیٹھے ایان افندی کی طرف دیکھ کے کہا وہ لوگ کچھ دیر پہلے ہی وہاں آے تھے ۔۔۔
ان کے سامنے ہی ایان اپنی روبدار شخصیت سمیت بیٹھا تھا اس کی لفٹ سائیڈ پے ادیان بیٹھا اور اس کے ساتھ ہی روحان اپنا غصہ ضبط کیے بیٹھا تھا جب کے رومان وہاں نہیں تھا ۔۔۔
ماہی بھی ایک سائیڈ پے بیٹھی کب سے زری کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
انٹی آپ کچھ لیں نا ۔۔ماہی نے پیار سے اپنے سامنے بیٹھی عمر دراز عورت کو کہا ۔۔۔
ساتھ ہی مسٹر نعیم بھی بیٹھے تھے ۔۔۔
بیٹا کافی دیر ہو گئی ہے اب آپ زری کو بولا دیں ۔۔۔
جی انٹی وہ آ گئی ۔ میسز نعیم کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی ماہی کی نظر زری پے پڑی جو وہی آ رہی تھی ۔۔۔
ماشاءالله بہت پیاری بچی ہے آپ کی میسز نعیم نے اسے پاس بیٹھا کے کہا زری نے ایک غلط نظر اٹھا کے بھی اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا اور یہی بات صائم کے غصے کو ہوا دے رہی تھی ۔۔۔۔
روحان اپنے سامنے بیٹھے شخص کی نظروں میں ہوس اچھی طرح محسوس کر چکا تھا وہ بس ضبط کی انتہا پے تھا صرف ايان کی وجہ سے وہ خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔