No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
آیان اپنے آفس سے نکلا اور پارکنگ سائیڈ پے ایا ان چارو کی عادت تھی یہ کبھی اپنے ساتھ گارڈز نہیں رکھتے تھے ۔۔۔
ابھی وہ اپنی گاڑی انلاک کر ہی رہا تھا کے کسی نے اچانک اس کے چہرے پے رومال رکھا ۔۔۔
اچانک ہونے والے اس حملے سے وہ سمبھال نہ پایا اور بےسود ہو کے پیچھے والے پے گر گیا ۔۔۔۔
گاڑی میں ڈالو اسے اس آدمی نے اپنے ساتھ کھڑے گارڈز کی طرف دیکھ کے کہا اور خود کسی کو کال ملانے کے لئے ایک سائیڈ پے چلا گیا ۔۔۔
ہیلو میم کام ہوگیا اگے کیا کرنا ہے ۔۔۔
ہم گڈ اب اسے ادے پے لے اؤ جلدی دوسری طرف سے نسواری آواز سنائی دی ۔۔۔
اوکے میم وہ کہتے ساتھ اپنی گاڑی کی طرف گیا اور زن سے گاڑی لے اڑا ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
رات کا ایک بج رہا تھا , سب خواب وخرگوش کے مزے کے رہے تھے ۔۔۔۔۔
مگر کاظمی مینشن کے اوپر کے فلور سے تین ساۓ چھپکے چھپکے نیچے اتر رہے تھے اور یہ ساۓ کوئی اور نہیں عبیرا امبر اور زری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے یار ابھی تو سونے دیتی مجھے پہلے ہی آج یونی میں ایک نمونہ مل گیا تھا اس نے دماغ خراب کر رکھ دیا ۔۔ امبر نے منہ بنا کر کہا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی بیئر اس سے چاہتی کیا ہے ۔۔۔۔
چپ کر کے چلو پہلے ہی کافی دیر ہوگی ہے جلدی چلو کرو ۔ عبیرہ نے سرگوشی کی
بیئر باہر دونوں گارڈ بیٹھے ہیں کیا کریں ؟؟ زری نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ جھنجلائی
یہ تو روز سوجاتے ہیں آج کیوں نہیں سوۓ ؟؟ بیئر نے امبر کی طرف دیکھ کے سرگوشی کی ۔۔۔
انہیں الہام ہوگیا تھا کہ ہم رات کو گھر سے بھاگنے والے ہیں حد ہے مجھے کیا پتا کیوں جاگ رہے ہیں تم لوگوں کے گارڈز ہیں میرے کون سا چاچے مامے کے بیٹے ہیں ۔ امبر نے دانت پیس کے اپنا غصہ نکالا مگر وہاں پروا کیسے تھی ۔۔۔۔
اچھا اچھا ایک آٸیڈیا آیا ہے ہم ایک کام کرتے ہیں سٹور روم کی کھڑکی پیچھے گارڈن میں کھلتی ہے وہاں سے کود جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیئر نے کہا تو امبر کو جھٹکا لگا جب کے زری کو اس کا آئیڈیا سہی لگا تھا ۔۔۔۔۔
چڑیل کی نانی مرواے گی کیا ,تمہیں تو اپنی جان نہیں پیاری مگر مجھ ہے اگر چھلانگ لگاتے ہوئے ہڈی ٹوٹ گٸ تو ؟؟ ابھی تو میں کنواری ہوں کیا بنے گا میرے بعد میرے فیوچر ہبی کا
امبر نے بیئر کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا تمہیں اور ویسے بھی چڑیلیں اتنی جلدی نہیں مرتی اور اگر پکڑے بھی گۓ تو ایڈوینچر ہی ہوگا ویسے بھی ہم سے زیادہ تو تمہیں یہ سب کام پسند ہیں ۔۔۔بیئر نے کمرے میں گھستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ رحم کرنا میں ابھی تک کنواری ہوں ۔۔۔امبر نے کھڑکی سے جھانک کر آسمان کی طرف دیکھ کرکہا
اب کود بھی جاٶ نہیں تو میں دھکا دے دونگی اور انفارمیشن کے لیے بتا دوں ہم دونوں بھی شدید کنواریاں ہی ہیں ۔۔۔۔۔زری نے چڑتے ہوۓ کہا تو اس نے منہ بنا کے چھلانگ لگادی اور اس کے پیچھے ہی ان دونوں نے بھی چھلانگ لگائی
رات کے دو بج رہے تھے اور گارڈ بیچارہ گہری نیند میں سو رہا تھا
درام
اچانک کسی کے کودنے کی آواز پر وہ ہربڑا کے اٹھا
کون ہے اس نے نیند سے جاگتے ہی ادھر ادھر دیکھ کے پوچھا
افففف چڑیل صحیح طریقے سے کودنا بھی نہیں آتا تمہیں بیئر نے دانت پیس کے امبر کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
یار بیئر میں کونسا روز روز کودتی ہوں اور ایک تو پہلے ہی یہاں سے کود کے میری ٹانگ ٹوٹ گٸ ہے میرے خیال سے اب مجھے آرام کی سخت ضرورت ہے تم دونوں جاؤ میں جا کے آرام کرتی ہوں ۔ امبر نے منہ بنا کے کہا اور اٹھ کے اندر جانے لگی
کس نے کہا تھا کہ گملے پر کودو اور یہ بہانے کسی اور کے سامنے بنانا جا کے سب جانتے ہیں ہم ۔ بیئر نے اسکی شکل دیکھ کر ہنسی روکتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
بیئر ایک سیکریٹ تو بتاٶ تم کتنی بار یہاں سے بھاگ چکی ہو ؟؟ زری نے بھنویں اچکا کر پوچھا تھا ۔۔۔۔۔۔
آج تک گنا نہیں ویسے مزہ بہت اتا ہے نہیں یقین تو امبر سے پوچھ لو ۔ بیئر نے کہا تو وہ دونوں ہنسے دی۔۔۔
کون ہے ؟؟؟؟ جب پاس سے گارڈ کی آواز سنائی دی
وہ تینوں ایک طرف اندهرے میں جلدی سے غایب ہو گئی ۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو کرسی پر باندہا پیا , ہلنے کی کوشش کی تو رسیوں سے بندھے ہونے کی وجہ سے ناکام رہا ۔۔۔۔۔۔
آیان نے کمرے کا جاٸزہ لیا تو ایک بہت ہی خوبصورت سا کمرہ تھا جس میں سنگل بیڈ کے ساتھ ایک الماری اور چند ضرورت کی چیزیں موجود تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ یہاں کیوں ہے حالانکہ اسکی تو کسی سے دشمنی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک قدموں کی چاپ آٸی تو وہ دروازے کی سمت متوجہ ہوا اور دروازہ کھول کر کوٸی اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔
🌺🌺🌺🌺
افففففف یہ آیان آخر گیا کہاں آج کسی بھی حال میں مجھے وہ چاہئے سمجھے تم لوگ اگر وہ مجھے آج نہ ملا تو میں تم سب کی جان لے لوں گی جاؤ جا کے ڈھونڈ کے لاؤ اسے ۔۔۔ زمل اپنے سامنے کھڑے گارڈز پے چیخ رہی تھی ۔۔
بیٹا غصّے سے نہیں ہوش سے کام لو تمہیں ایان کو اپنا بنا ہے اگر تم ایسے ہی اپنے غصے کو ہوا دیتی رہی تو تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آے گا ۔۔کاظمی صاحب نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔
ڈیڈ میں سمجھ گئی ہوں آپ کی بات بس آپ دیکھتے جائے میں اسے پوری دنیا کے سامنے کیسے ذلیل کرتی ہوں اسے تھک ہار کے میرے پاس ہی انا ہوگا بس ایک بار وہ مجھے مل جائے ۔۔۔
زمل کی بات پے دونوں باپ بیٹی کا مکروہ قہقا گونجا
🌺🌺🌺
دروازہ کھول کر دو سایے اندر داخل ہوئے دونوں نے اپنے چہرے کو کوور کر رکھا تھا ۔۔۔
ہاۓ مسٹر ایان کیسا فیل کر رہے ہیں آپ امید کرتے ہیں آپ کو ہمارا یہ غریب خانہ پسند ایا ہوگا
ان میں سے ایک سایے نے ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
اوہ آپ کے تو ہاتھ بندھے ہوۓ ہیں سوری ہم آپ کو ابھی نہیں کھول سکتے کیا بھروسہ آپ بھاگ جائے اتنی مشکل سے تو آپ کو اٹھایا ہے ۔۔۔ دوسرے سایے نے بھاری آواز میں کہا
آپ اتنے چپ کیوں ہیں کہی آپ کے منہ میں دہی تو نہیں جم گئی ۔۔ امبر نے اسکے گرد گول چکر لگا کر گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا اور وہ جو ضبط سے اس کی کارواٸی دیکھ رہا تھا آخر پھٹ پڑا
ہو کون تم اور مجھے کڈنیپ کیوں کیا ہے ؟ میں تو تمہیں جانتا بھی نہیں ہوں پھر مجھے یہاں کیوں لیا گیا ہے جواب دو مجھے ۔۔ایان نے غصہ سے چیختے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
ظاہر ہے شادی کروانی ہے آخر کب تک یوں کنوراے رہو گے اب ایسا کرو سکون سے سو جاؤ اور ہم معصوموں کو بھی سونے دو صبح آپ کی شادی کی تیاریاں بھی تو کرنی ہیں ۔۔۔۔زری نے جمائی روکتے ہوئے کہا کرنا تو نہیں چاہتی تھی مگر عبیرہ میڈم کے ارڈر تھا فالو کرنا پڑا ۔۔۔۔۔
واٹ دا ہیل میری شادی دماغ ٹھیک ہے تمہارا اور یہ مجھے جلدی کھولو مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ایان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان دونوں کا ہشر کر دے
ارے میرے بھائی ایک تو میں نے ترس کھا کر آپ کو یہاں لانے کا مقصد بتایا اوپر سے آپ ہم پے غصہ کر رہے ہیں اب آپ ہم پر ترس کھا لو اور سونے دو اگر صبح ہم لیٹ ہو گئے تو آپ کے نکاح کی جگہ مولوی صاحب ہمارا جنازہ پڑھا کے چلے جائے گے زری نے منہ بنا کے کہا اور اس کے ہاتھ کھول دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امبر ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر چلی گئی جہاں وہ دونوں سونے والی تھی یہ کمرہ بھی اسی کمرے میں موجود تھا ۔۔۔
عجیب مخلوق ہے یہ جان نا پہچان ۔۔۔۔ان کے جاتے ہی ایان نے اس روم کو گھورتے ہوئے کہا اور دروازے کی طرف بڑھا اور اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے تیس منٹ میں وہ پورا کمرہ چھان چکا تھا مگر یہاں سے نکلنے کا کوٸی اور راستہ نہیں ملا , تھک ہار کے آخر وہ بیڈ پر گرا اور نیند کی وادی میں اتر گیا ۔۔۔
🌺🌺🌺
صبح اسکی آنکھ کھلی تو خود کو دوبارہ رسیوں سے بندھا پیا
کیا مصیبت ہے ؟؟ مجھے دوبارہ کیوں باندھ دیا ۔وہ جھنجلا کر چیخا تھا ۔۔۔۔۔
ارے بھاٸی آپ کی شادی ہے آج ہماری لیڈر سے بس شادی ہوجاۓ تو آپ جہاں چاہو چلے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں کرنی کسی سے شادی عجیب زبردستی ہے کھولو مجھے جانا ہے یہاں سے ۔۔وہ جھنجلاہٹ کا شکار ہوا تھا ۔۔
کسے شادی نہیں کرنی ؟؟ اچانک دروازہ کھول کر بیئر اندر داخل ہوئی ایان نے آواز کی سمیات میں دیکھا تو اس کے چودہ طبقے روشن ہوئے ۔۔۔۔
تت تم یہاں کیا کررہی ہو ؟؟ ايان کا تو حیرت کی زیادتی سے منہ ہی کھول گیا تھا
مسٹر ایان آپ کو مجھ سے شادی کرنی ہی پڑے گی ورنہ اسکی ساری کی ساری گولیاں میں آپ کے اس معصوم بھائی کی کنپٹی میں اتار دونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیئر نے زری کو اشارہ کیا جب وہ روحان کو لے آئ اس کے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
بیئر نے پسٹل روحان کی کنپٹی پر رکھتے ہوۓ کہا اور وہ تو اس لڑکی ہمت پے عش عش کر اٹھا تھا ۔۔۔۔۔
پلز بھائی مان جائے نہ کیوں مجھے معصوم کو ان کے ہاتھوں سے مروانا ہے ابھی تو میں نے کچھ دیکھا بھی نہیں ۔۔۔
روحان نے مظلوموں والی بوتھی بنا کے کہا اس کی اوور ایکٹ پے تو زری کا دل کیا اسے دو لاگے ۔۔۔۔
پاگل ہو تم چھوڑو میرے بھائی کو ۔۔ايان نے دانت پیس کے کہا ۔۔۔
پاگل ہی سمجھ لو اگر آپ نے مولوی صاحب کے سامنے ہاں نہیں کی تو میرے ایک اشارے پے آپ کے اس بھائی کی جان چلی جائے گی ۔۔ سکون سے جواب دے کے سامنے پڑے صوفے پے بیٹھ گئی ۔۔۔
بھائی پلز ہاں کر دینا میری زندگی آپ کے ہاتھوں میں ہیں ۔۔روحان نے منہ بنا کے کہا
ايان بےبسی سے لب بیجھ گیا ۔۔۔۔
بیئر مولوی صاحب آگۓ ہیں ۔۔۔۔امبر نے کمرے میں آ کے کہا تو وہ کمرے سے نکل گئی ۔۔۔
سوری بھائی مگر مجھے یہ ہی ٹھیک لگا روحان نے ایان سے نظرے چورا کے سوچا
تھوڑی دیر میں عبیرہ کے ساتھ دو اور آدمی اندر داخل ہوئے ساتھ ہی زری ۔بھی تھی جب کے امبر کی گن کا رخ روحان کی طرف تھا ۔۔۔۔
ایان افندی ولد جہانزیب آفندی آپکا نکاح عبیرا شاہ ولد فاروق شاہ سے بمعاوضہ پانچ کڑوڑ حق مہر کے ہونا طے پایا ہے , کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟؟
مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا تھا ۔۔
وہ بس منہ کھول کے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے ایک بار بھی اس کی رضامندی جانے کی کوشش نہیں کی اس نے تو مولوی کی آواز سنی ہی نہیں تھی اگر سن لیتا تو شاید خوشی سے پاگل ہو جاتا ۔۔۔۔۔
اسکی حالت دیکھ کر بیئر نے بہت مشکل سے ہنسی روکی ہوئی تھی
بیٹا قبول ہے ؟؟ مولوی صاحب نے پھر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں کرنی ایسے شادی ۔۔۔۔۔۔۔ایان نے بھی ضدی لہجے میں کہا ۔۔۔۔
چلا دو گولی ویسے بھی بھائی سے پیار نہیں ہے انہیں عبیرہ نے امبر کی طرف دیکھ کے کہا جس نے فورن گن لوڈ کی ۔۔۔
بھائی صاحب پہلے ہی بندھے ہوۓ ہو اب مرنے کا ارادہ ہے کیا آپ کے ساتھ ساتھ مجھ معصوم کی جان بھی جائے گی پلز کچھ خیال کریں جلدی سے قبول ہے بولیں اور اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی آزاد کردو دیکھ نہیں رہے کتنے خطرناک ہیں یہ سب ۔۔۔۔۔۔روحان نے التجاٸیہ انداز میں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب آپ شروع کریں روحان نے کہا تو وہ پھر سے شروع ہوۓ تھے
ايان افندی ولد جہانزیب آفندی آپکا نکاح عبیرا شاہ ولد فاروق شاہ سے بمعاوضہ پانچ کڑوڑ حق مہر کے ہونا طے پایا ہے , کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟؟
بولو قبول ہے ورنہ ایک منٹ بھی دیر نہیں کرو گی گولی چلانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
عبیرا نے روحان کے پاؤں کے پاس گولی چلائی جس سے روحان ایک دم اچھلا تھا ايان کی تو روح فنا ہوئی تھی اسے یہ تھا کے شاید یہ لڑکی صرف ڈرا رہی ہے ۔۔۔۔
بولو ہاں یا نا ۔۔۔ بیئر کی سخت آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔۔۔
اس بار تو ايان صاحب بےبس تھے خود سے زیادہ اسے روحان کی فکر تھی
قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبول ہے ۔۔۔قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آیان نے ایک جھٹکے سے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
مبارک ہووووووووووو ہم جیت گئے یسسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امبر اور زری ایک ساتھ خوشی سے اچھلی
بیئر نے مسکراہٹ دبا کر اسکو رسیوں سے آزاد کیا تھا ۔۔۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی مس عبیرا ؟؟ آیان کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا اس لیے اسے گھورتے ہوئے پوچھا
کیا کہا میں نے ایک تو اتنی پیاری لڑکی سے شادی ہوگٸ ہے اوپر سے نخرے دیکھو مسٹر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیئر نے ایک ادا سے کہا تو وہ جھٹکے سے کمرے سے نکلا
ارے ارے شوہر جی مجھے تو ساتھ لے جاٸیں اب آپ کے علاوہ میرا ہے ہی کون اس دنیا بھری میں ۔۔۔۔۔۔۔ بیئر نے پیچھے سے ہانک لگاٸی مگر وہ ان سنا کرکے نکل گیا وہ اکیلا رہنا چاہتا تھا فلحال ۔۔۔۔۔۔۔
مشن میرج واز سکسس فل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیئر نے ان سب کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا تو وہ نفی مں سر ہلا گئے
یہ تاریخ میں لکھے جانے والا ایک انوکھا نکاح تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو ایک لڑکی نے زبردستی بندوق کی نوک پر ایک لڑکے سے کیا روحان نے ہنستے ہوئے کہا
سو تو ہے آخر عبیرا شاہ کا نکاح تھا مذاق تھوڑی ہے وہ ایک ادا سے بولی اور باہر کی طرف چل دی ۔۔۔۔
وہ تینوں خوش تھی لیکن یہ نہیں جانتی تھی ان کا یہ قدم ان سب کی زندگی میں کون سا طوفان لانے والا ہے ۔۔۔
جاری ۔۔۔۔۔۔
