No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
کمپنی میں بیٹھے لگ بھگ تیس سے پینتیس لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے
کے کب کوئی بلاوہ آئے اور ہم انٹرویو دینے اندر جائیں ۔۔۔
کیوں کے کمپنی میں بیٹھا ہر شخص انٹرویو دینے کے لیۓ بےتاب تھا اور بےتاب ہونا بھی بنتا تھا کیوں پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی تھی جس کا مالک ایان آفندی آج خود انٹرویو لینے بیٹھا تھا
اس کمپنی میں سلیکشن بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی اکسپیرینس فل بندہ بھی یہاں سے ریجکٹ ہو کر جاتا ۔۔۔۔
وہ بھی آج اس کمپنی میں انٹرویو کے لیے آئ تھی اور کب سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
مس عبیرہ آپ کا نمبر ہے آپ اندر جا سکتی ہیں ابھی وہ قوفیت سے آس پاس کا نظارہ ہی کر رہی تھی کے ایک لڑکی نے اس کے پاس آ کے کہا ۔۔۔
عبیرہ مضبوط قدم اٹھتی ہوئی باس کے کیبن کی طرف چل دی جہاں اس وقت انٹرویو لینے کے لیے ادیان موجود تھا ايان کو ضروری کام کی وجہ سے جانا پڑا تھا ۔۔۔۔
اس نے دروازہ ناک کیا اور اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوئی جہاں سامنے ہی باس کی کرسی پے بیٹھا ادیان افندی پورے محول پے چاہا ہوا تھا ۔۔۔۔
ادیان نے ایک نظر اٹھا کے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو بلیک حجاب میں چہرہ چھپائے اپنی سیا آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ اپنے سامنے رکھی فائل پے جھکا۔ ۔۔۔
عبیرہ بیزاریت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی وہ انتظار میں تھی سامنے والا کب اس سے کوئی سوال کرے ۔۔۔۔
تو مس عبیرہ آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔ ادیان نے کچھ دیر بعد اپنے سامنے رکھی فائل بند کر کے پوچھا ۔۔۔۔
کبھی سوچا نہیں۔۔۔ کندھے اچکا کے شان بےنیازی سے جواب دیا ۔۔۔۔
ادیان نے تھوڑی دیر کے لیے اسے غور سے دیکھا اور پھر کچھ سوچ کے مسکرا دیا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے مس عبیرہ آپ یہ اگریمنٹ سائن کر دیں دو سال تک آپ یہ جاب نہیں چھوڑ سکتی نا ہی آپ کی جگہ کوئی اور آ۔۔۔۔۔۔۔
جی ٹھیک ۔ مجھے منظور ہیں وہ اس کی بات بیچ میں کاٹ کے بولی اور جلدی سے سائن کر دیے ۔۔۔۔
اوکے آپ جا سکتی ہیں اب کل سے آپ جوائن کر سکتی ہیں ۔۔ادیان نے فائل لتے ہوئے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
عبیرہ اثبات میں سر ہلا کے اٹھ کے چلی گئی ۔۔۔۔
تو مل ہی گئی ایان افندی کے ٹکر کی لڑکی سوری برو مگر اب مجھے یہ کرنا پڑے گا ۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے انٹرکم اٹھایا ۔ اور انٹرویو کینسل کرنے کا کہہ کے دوبارہ فائل پے جھکا ۔۔۔
🌺🌺🌺🌺🌺
سنو !!!!
کبھی خشک پتوں کی چرچراہٹ سنی ہے
کھولا ہے کبھی دیمک لگے دروازے کو
دیکھا ہےکبھی تپتے صحرا میں آنے والا طوفان
سنی ہے کبھی رات کے گہرے اندھیروں میں
کسی گیدڑ کی آواز
سنو !!!!!!
اُن پتوں کی سنسناہٹ جیسے
دروازے کی چرچراہٹ جیسے
تپتے صحرا میں طوفان جیسے
گہرے اندھیروں میں گیدڑ کی آواز جیسے
تمہاری یاد میرے اندر کہیں شور کرتی ہے
میرا سانس لینا مخا ل کرتی ہے
سنو !!!!
تم اتنا بھی نہ یاد آیا کرو
کچھ تو رحم کرو اب مجھ پر
کے میرے احساسات مجمند ہو چُکے ہیں
میرے آنکھوں میں سارے خواب بکھر چُکے ہیں
کے اب تیری یاد مجھ کو مار ڈالے گی
سنو!!!!!
کے اب میرا جینا آسان کر دو
کے اب نا یاد آیا کرو مجھ کو
کے اب نا یاد آیا کرو مجھ کو
تم جس نے مجھے جینا سکھایا تھا،
جس نے وعدہ کیا تھا کے تم آخری سانس تک میرے ساتھ نبھاؤ گی، پر تم بھی تو “زندگی” جیسی بےوفا نکلی۔ ۔۔۔۔۔
زندگی سے محبت کرنا سکھا کر زندگی ہی چھین لی تم نے۔ ۔۔۔
بچھڑنے کے عذاب سے اگر ایسے ہی مارنا تھا، تو تم نے پیار کا پیدل سفر اتنا کیوں کروایا۔۔۔؟؟
کیوں خوشیوں کے خوبصورت خواب دکھا کر تم نے میری آنکھوں کو صحراؤں جیسی ویرانی عطا کی۔۔۔؟؟
پیار دے کر کسی کا کسی کا بھروسہ چھیننا بڑا جرم ہوتا ہے۔
ایسے اگر بچھڑ کر ہی مجھے مارنا تھا، تو پھر میرا ہر ٹوٹا ہوا احساس نہ سمیٹتی تم۔ تم نے تو زندگی سے محبت کرنا سکھا کر زندگی کی چھین لی۔
کسی کو زندگی کے خواب دیکھا کر موت کی جانب دھکیل دینا قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ تم نے یہ گناہ کیا ہے۔ اور بار بار یہ گناہ کیا ہے۔۔
میرے ٹوٹے قہقہوں کو سمیٹ کر مجھے ہنسنا سکھایا تم نے ۔۔ زندگی بن کر مجھے جینا سکھایا تم نے ۔۔
مجھے زندگی کی طرف لانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تم نے ۔۔۔۔💔💔
کتنا عذاب ہوتا ہے اس شخص سے بچھڑنا، جس کے بغیر جینے کا تصور کرنا بھی گناہ لگنے لگے۔ جسکے بغیر جینا موت برابر لگنے لگے۔
میں اس سکرات والی کیفیت سے ہر روز گزرتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے زندگی پل صراط کے درد جیسی ہو گئی ہے۔ جس پر اپنے گناہوں کا بوجھ لیکر ننگے پاؤں چلنا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے یہ میں جانتا ہوں۔
اذیت کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم مرنا چاہیں تو ہمیں اپنی سانسیں ختم کرنے کا بھی اختیار نہ ہو۔ اور زندگی ہمیں بھیک میں چند لمحے جینے کے لئے دے کر یہ کہہ دے کہ ابھی تمہاری سزا مکمل ختم نہیں ہوئی۔۔۔💔💔
ابھی تمہیں اور جینا ہے اور اسے اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں ہاتھوں سے قبر میں اتارنہ ہے جسے تم اپنی زندگی کہتے تھے۔
اذیت کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ زندگی کا ہر راستہ اس کی طرف جاتا ہو، جس سے ہمیں بےپناہ محبت ہو، اور وہ ہی لڑکی ہمیں ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہ کرے، ہم سے منہ موڑ کے ایسی جگہ چلی جائے جہاں سے واپس انا نہ ممکن ہو مرنے سے پہلے ہی مرنا اسے ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔💔💔💔
ایک باغی آنسوں ٹوٹ کے ڈیری پے گرا آج پھر وہی تکلیف وہی اذیت اسے مار رہی تھی اس نے قرب سے اپنی آنکھیں بند کی اور اٹھ کے اپنے بیڈ تک ایا ۔۔۔۔
آج پھر یہ رات ایان پے نہ جانے کتنے ظلم لے کے آئ تھی تکلیف تھی کے کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی وہ بیڈ پے لیٹا دور کہی ماضی میں کھو گیا تھا ۔۔۔
“ماضی “
بابا ہم کہاں جا رہے ہیں اور آپ نے مجھے ایسے کپڑے کیوں پہنائے ہیں ؟؟؟؟؟ بارہ سالہ ايان وائٹ شلوار قمیض پہنے اپنے باپ سے سوال کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ شروع سے ہی کم گوہ تھا بہت کم لوگ تھے جن سے وہ بات کرتا تھا ۔۔۔۔۔
شاہزیب صاحب نے محبت سے اپنے خوبصورت بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پے دنیا جہاں کی معصومیت تھی ۔۔۔۔
بیٹا آج ہم آپ کی پرنسز کو ہمیشہ کے لیے آپ کے نام کرنے والے ہیں اور آج آپ کی پرنسز کی برتھڈے ہے نہ تو اس لیے یہ آپ دونوں کا گفٹ ہوگا ۔۔۔ شاہزیب صاحب نے ایان کی چھوٹی سی ناک دبا کے کہا ۔۔۔۔
سچی بابا آپ سچ میں میری پرنسز کو میرا کر دیں گے ۔۔ ايان کی خوشی کا کوئی ٹیکانا نہیں تھا ۔۔۔
بلکل مگر آپ بھی مجھ سے وعدہ کریں آپ کبھی بھی اپنی پرنسز کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے” شاہزیب صاحب نے اپنا ہاتھ اگے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
پکا وعدہ بابا جانی ہم کبھی بھی انھیں اکیلا نہیں چھوڑے گے ۔۔۔ ايان نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ ان کی ہاتھلی پے رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
چلو میرا بچا دیر ہو رہی ہے شاہزیب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسے اپنے ساتھ لیے باہر چلے گئے ۔۔۔۔۔
وہ ايان کو لے کے نیچے آے جہاں اس وقت سب موجود تھے ۔۔۔
اور سامنے ہی وہ بلیو آنکھوں والی ڈول وائٹ فراک میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔
سب کی موجودگی میں ایان کا نکاح عبیرہ سے ہوا اسے یہ تو نہیں پتا تھا کے یہاں کیا ہو رہا ہے بس جیسے جیسے اس کے بابا نے کہا وہ کرتی رہی وہ بس اتنا ہی جانتی تھی کے اب پرنس صرف اپنی پرنسز کا ہے
🌺🌺🌺🌺
حال
سب تیار ہے نہ اے کے نے باقی دونوں کی طرف دیکھ کے کہا ۔۔۔
یس باس سب تیار ہے اب بس ایکشن کا انتظار ہے ۔۔زی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہمممممم لیکن آج چوری نہیں کریں گے ہم ۔۔۔۔اے کے نے دونوں کی طرف دیکھ کے سکون سے جواب دیا ۔۔۔
لیکن کیوں ۔۔۔
دونوں نے حیرانی سے سوال کیا ۔۔۔
کیوں کے ہیرے آج نہیں آ رہے وہاں نکلی ہیرے رکھ کے ہمارے لیے جال بچھا گیا ہے . .
یہ سب تمہیں کیسے پتا ۔۔۔ریبل نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
ہاہا ہاہا ہاہا ایس پی کو بیوقوف بنانا کون سا مشکل کام ہے اے کے نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
اور اپنا فون نکلا
🌺🌺🌺🌺
رومان آج پھر بلیک ڈریگنز کو پکڑنے کے لیے خوار ہو رہا تھا ۔۔۔
افففف کہاں رہ گے یہ ڈریگنز ابھی تک آے کیوں نہیں خود کو تو الوں کی طرح پوری رات جاگنے کی عادت ہے بیچ میں مجھ غریب کا قیمہ ضرور بناتے ہے۔۔۔
بندہ پوچھے چوری ہی کرنی ہے تو بھائی دن میں کر لو ایسی کون سی آفت آئ ہے جو رات کو کی مرنا ہے وہ سخت بیزار لگ رہا تھا ۔۔۔
اوپر سے وہ موٹا بھی خود تو گھر جا کے سو مر گیا ہوگا مجھ معصوم کو یہاں چھوڑ گیا ۔۔۔
رومان بیٹا کوئی عزت نہیں تیری ۔۔وہ منہ بنا کے کب سے خود سے ہی لگا ہوا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا ۔۔۔۔
ٹرن ٹرن ٹرن ۔۔
اس نے منہ بنا کے کال اٹینڈ کی ۔۔۔
ہاں بولو کیا مسلہ ہے اب۔۔۔
وہ بغیر دیکھے شروع ہونے والا تھا جب سامنے والے نے اس کی بات کاٹی۔۔۔۔۔
چچ چچ چچ بہت افسوس ہوا یہ دیکھ کر کے آج پھر تمہیں ڈیوٹی پے لگا کے خود ایس پی اپنے گھر چلا گیا ۔۔۔
ہاں بھائی کیا سناؤ تمہیں اپنی درد بھری کہانی وہ منہ بنا کے بولا یہ جانے بغیر کے دوسری سائیڈ ہے کون ۔۔۔
لیکن ہم بےحس نہیں ہے اس لیے سوچا تمہیں بتا دے آج ہم چوری نہیں کرنے والے سامنے والے نے سکون سے اس کا سکون گرق کیا ۔۔
کیاااااااااا کیوں وجہ ۔۔۔میرا مطلب اب کیوں نہیں کرنی اسے تو چار سو چالیس وٹ کا جھٹکا لگ گیا تھا ۔۔۔
ویسے ہی آج موڈ نہیں دوسری سائیڈ سے سکون سے جواب ایا ۔۔۔
یہ بات تم لوگ مجھ پہلے بھی بتا سکتے تھے پوری رات میں یہاں کجل ہوتا رہا ہوں تمہیں ابھی بتانا یاد ایا صبح کے پانچ بج رہے ہے رومان نے ،صدمے سے کہا ۔۔۔
دوسری سائیڈ پے نہ چاہتے ہوئے بھی ریبل کے لب مسکرا دیے ۔۔۔۔
اور اس نے مسکراتے ہوئے کال بند کر دی ۔۔۔
رومان کا تو غم و صدمے سے برا حال تھا ۔۔۔۔
جاری ۔۔۔۔
