Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 32
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 32
Tara Ka Chanda by Dua Fatima
تارا کمرے میں اکیلی صوفے پر بیٹھی تھی۔ وہ بے دھیانی سے اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی جو اس شخص کی طرح ہی ڈھیٹ تھی۔ اس کی لاکھ کوشش کے باوجود نہیں اتری تھی۔ وہ بالاج کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھی یہ بات اسے بہت بری لگ رہی تھی۔ لاشعوری طور پر وہ خود کو بالاج کی جوابدہ سمجھنے لگی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر بالاج یہ انگوٹھی اس کی انگلی میں دیکھ کر کوئی سوال کرتا تو وہ کیا جواب دے گی۔ وہ اب اسے اتارنے کا کوئی ٹیکنیکل طریقہ سوچ رہی تھی تبھی اس کی نظر انگوٹھی کے ڈیزائن پر پڑی تو وہ چونکی تھی۔ بھنویں سکیڑ کر اس نے غور سے دیکھا تو ٹھٹک گئی۔ وہ عجیب سا ڈیزائن انگلش ورڈ بی اور ایس سے مل کر بنا تھا۔ بی اور ایس کو ملا کر سٹائلش سا لکھا گیا تھا۔ ویسے دیکھنے سے سمجھ نہیں آتا تھا لیکن اب تارا نے غور کیا تھا تو وہ جان گئی تھی۔
“بی ایس…… باذل شاہ۔”وہ بڑبڑائی تھی۔
“تو میرا اندازہ درست تھا۔”وہ غصے سے بولی اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ کچن میں ایک ملازمہ موجود تھی۔
“سنو۔ “وہ نرم لہجے میں بولی۔
“جی بی بی۔”ملازمہ جلدی سے کے قریب آئی اس سے پہلے کہ وہ غصے میں آ جاتی۔
“یہ انگوٹھی اتارنی ہے لیکن اتر نہیں رہی۔ تمہارے پاس کوئی طریقہ ہے اتارنے کا؟”اس نے کہا تو ملازمہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“تیل یا صابن وغیرہ لگا کر اتاریں شاید اتر جائے۔”
“اوکے۔ “وہ جلدی سے اس طریقے پر عمل کرنے لگی۔ لیکن وہ پھر بھی نہیں اتری۔
“اب کیا کروں ۔”اس نے اکتا کر گہری سانس بھری۔
“رہنے دیں بی بی اتار کیوں رہی ہیں۔ اتنی پیاری تو ہے ۔”ملازمہ نے کہا تو تارا نے اسے گھورا۔
“جتنا مشورہ مانگا جائے اتنا ہی دیا کرو۔ “وہ سخت لہجے میں بولی تو ملازمہ بے چاری اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
“جاؤ چھری گرم کر کے لاؤ۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولتی تھی۔ رنگ سونے کی تھی ۔ گرم چھری سے اسے پگھلایا جا سکتا تھا لیکن اس طرح اس کی انگلی پر زخم لگنے کا بھی خطرہ تھا۔
“لیکن بی بی…..”ملازمہ نے ڈرتے ہوئے کہا تو تارا کے ایک دفعہ ہی نظر اٹھانے سے وہ چولہے کی طرف بڑھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ چھری گرم کر لائی تو تارا نے اس کے گرم لوہے سے انگوٹھی کو کاٹنا شروع کر دیا۔ سونا آہستہ آہستہ پگھل کر انگلی کے درمیان میں سے الگ ہونے لگا تھا۔ تارا پرجوش ہو کر تیزی سے چھری رنگ پر رکھ کر دبانے لگی۔ پاس کھڑی ملازمہ اس سر پھری لڑکی کو دیکھنے لگی جسے ایکسائیٹمنٹ میں یہ بھی نہیں پتہ چل رہا تھا کہ وہ اپنی انگلی پر زخم لگانے والی ہے۔ بالآخر رنگ پوری طرح کٹ گئی اور گرم چھری یکدم اس کی انگلی میں چبھ گئی۔ ایک گہرا کٹ لگا تھا جس سے خون بہنے لگا تھا جلن کا درد الگ تھا ۔ تارا ذرا سا چیخی تھی اور ساتھ ہی انگوٹھی بھی کھینچ کر اتار چکی تھی۔ بالاج کچن کے سامنے سے گزر رہا تھا تارا کی چیخ سن کر پریشان ہوتا تیزی سے کچن میں داخل ہوا۔
“کیا ہوا تارا؟”اس کی نظر تارا کی زخمی انگلی پر پڑی تو اس نے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“یہ کیسے ہوا؟”اس کے چہرے پر حد سے زیادہ پریشانی چھائی ہوئی تھی لیکن تارا نے دھیان دیے بنا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
“وہ بی بی جی گرم چھری سے انگوٹھی کاٹ رہی تھیں تو……”ملازمہ ابھی بتا رہی تھی کہ تارا کی گھوری نے اسے چپ کروا دیا۔ بالاج کی نظر ٹیبل پر رکھی انگوٹھی پر پڑی تھی جو درمیان سے کٹی ہوئی تھی۔ تارا نے جلدی سے وہ انگوٹھی مٹھی میں چھپا لی تھی۔
“یہ تو بہت گہرا زخم ہے۔ چلو میرے ساتھ ہاسپٹل۔”وہ تارا کو کچن سے باہر لے جانے لگا۔ تارا کو اس کی یہ فکر بھی حکم سے کم نہیں لگ رہی تھی۔
“مجھے نہیں جانا۔خود ہی ٹھیک ہو جائے گا زخم۔ تمہیں میری پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔”وہ اٹل لہجے میں بولی تھی۔
“کیا بچوں جیسی ضد کر رہی ہو تارا۔ زخم بگڑ گیا تو مسلہ ہو جائے گا۔ “
“میرے ساتھ ہی ہو گا نا۔ تمہیں کیا ہے “وہ ڈھیٹ لہجے میں بولی۔
“تارا….پلیز چلو۔”اس نے اب منت کی تھی اور اسے کلائی سے پکڑ کر باہر لے جانے لگا۔ تارا نے ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑوائی۔
“ایک دفعہ کہہ دیا نا نہیں تو نہیں۔”وہ سخت لہجے میں اسے بہت کچھ باور کروا کر جا چکی تھی۔ بالاج دکھی دل کے ساتھ اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو بالاج کمرے میں آیا تو اس کا رویہ پہلے کی طرح نہیں تھا۔ اس نے تارا کو نظر انداز کر کے اپنی ناراضگی کا بھرپور اظہار کیا تھا۔ تارا کو بھی اس کی خاموشی سے الجھن کوئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ بالاج اس سے ناراض ہے لیکن منانا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ سو ان کے درمیان خاموشی ہی رہی تھی۔ اگلی صبح طانیہ بیگم نے اسے بالاج کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا حکم دیا تھا۔ اب وہ جتنا بھی انکار کرتی شادی کی شاپنگ تو ضروری تھی۔ سکندر صاحب نے بھی جب حکمیہ لہجے میں اسے شاپنگ پر جانے کو کہا تو وہ مان گئی تھی۔ بالاج کچھ نہیں بولا تھا اس معاملے میں۔ وہ چپ چاپ تارا کو لے کر شاپنگ مال آ گیا تھا۔ تارا کے دل میں پھر سے اس اجنبی کا ڈر آن سمایا تھا۔ وہ کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ تبھی ایک جگہ اس کی نگاہ ٹھٹکی تھی۔ اسے ایک شاپ میں باذل شاہ نظر آیا تھا۔ اس نے تھوک نگلا تھا۔ اسے پورا یقین تھا وہ اسی کے پیچھے آیا تھا۔ وہ نامحسوس انداز میں تھوڑی بالاج کے پاس ہو گئی تھی۔ بالاج کافی دیر سے اس کی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اب اس کا یوں ٹھٹک کر رک جانا اور اس کے ساتھ لگ جانا بالاج کو ناراضگی بھلا گیا تھا۔ اس نے تارا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے قید کر لیا تھا۔ تارا نے گڑبڑا کر اسے دیکھا۔ کیا وہ اس کی نظروں کے تعاقب میں باذل جو دیکھ چکا تھا۔ تارا نے غور سے بالاج کو دیکھتے ہوئے سوچا تھا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ اس کے رکنے کی وجہ نہیں جان سکا۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی ہی تھی۔ بالاج بازل کو دیکھ چکا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
“کیا ہوا؟ تھک گئی ہو کیا؟”اس نے نرمی سے ہوچھا۔
“ن…. نہیں تو ۔ چلو۔”وہ وہاں سے جلد از جلد ہٹنا چاہتی تھی۔ بالاج اس کا ہاتھ چھوڑے بنا اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔ تارا کو تحفظ کا احساس ہوا تھا۔
تارا کی ساری شاپنگ بالاج نے خود ہی کی تھی۔ تارا نے سارا وقت اجنبی سے ڈرتے بے دھیانی میں ہی گزارا تھا۔
“یہ کیسا رہے گا؟”اب وہ بوتیک پر تھے ۔ بالاج نے اس کیلیے وائٹ اور گولڈن لہنگا پسند کیا تھا۔ تارا کو بے اختیار وہ لمحہ یاد آیا تھا جب اسفر اسے شادی کی شاپنگ پر لے کر گیا تھا۔ اب پھر سے وہی سب کچھ دوہرایا جا رہا تھا۔ پچھلی دفعہ تو اسے یہ خوشی راس نہیں آئی تھی اور پتہ نہیں اب بھی راس آنی تھی کہ نہیں۔ اس کا رونے کو دل کرنے لگا تھا لیکن وہ خود کو سنبھال گئی۔
“ٹھیک ہے۔ “
“چیک کر لو ۔”وہ چاہتا تھا ایک دفعہ یہ لہنگا پہن کر اسے دکھائے۔
“نہیں گھر ہی چیک کر لوں گی۔ اگر ٹھیک نہ ہوا تو تم واپس کر دینا۔”وہ بڑے نارمل انداز میں بات کر رہی تھی۔ بالاج خوش ہوا تھا کہ وہ حقیقت کو تسلیم کر رہی تھی۔
“اوکے جناب۔ “اس کے انداز سے لگ رہا تھا وہ ناراض نہیں تھا۔ تارا کے دل نے چپکے سے شکر ادا کیا تھا۔ منانا بھی نہیں پڑا تھا اور وہ راضی ہو گیا تھا۔ اس نے تارا کیلیے ایک سرخ لہنگا بھی خریدا جو تارا نے اوکے کر دیا۔ پھر وہ شاپ سے نکلے تو بالاج نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ اب ڈر کم ہو گیا تھا تو تارا کا دھیان بالاج کی طرف ہی تھا۔ اس کے ہاتھ پکڑنے پر تارا کے دل نے بیٹ مس کی تھی۔ وہ منہ بنا کر رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے انویٹیشن کارڈز سب خاندان والوں میں تقسیم کر دیے گئے تھے۔ ان میں عرفہ بیگم کے میکے والے بھی تھے اور طانیہ بیگم کے چار بھائی تھے جن کی فیملیز کو مدعو کیا گیا تھا سوائے زارا کے۔ لوگوں کو جب پتہ چلا کہ تارا کی شادی بالاج سے ہو رہی ہے تو وہ حیران ہوئے تھے۔ سب کے خیال میں وہ طلاق یافتہ تھی تو اب کس نے اس سے شادی کرنی تھی۔ لیکن سکندر صاحب نے تارا کی شادی بالاج سے کرنے کا فیصلہ کر کے ان لوگوں کو جواب دے دیا تھا۔ اب کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہونا شروع ہو گیا تھا کہ بالاج کی شادی اس سے بڑی عمر کی لڑکی سے کیوں کی جا رہی ہے۔ خاندان میں اور بھی تو اتنی لڑکیاں تھیں جن کے ماں باپ کی نظریں بالاج پر تھیں۔ انہیں اس خبر پر کچھ زیادہ ہی مروڑ اٹھ رہے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ گھر آ کر طانیہ بیگم کو باتیں سنائی تھیں۔ تارا نے بھی ان کے طعنے سنے تھے ۔ وہ بمشکل آنسو روک پائی تھی۔ کتنا منع کیا تھا اس نے کہ بالاج سے اس کی شادی مت کریں ۔ اب یہ تو ہونا ہی تھا۔
سکندر صاحب کے کچھ سیکنڈ کزنز اور بزنس فرینڈز بھی انوائٹ کیے گئے تھے۔ باذل شاہ کو بھی یہ خبر ہو چکی تھی کہ تارا کی شادی سکندر صاحب اپنے بیٹے سے کر رہے ہیں۔ اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہو گئے تھے۔ وہ کسی بھی صورت میں تارا کو پانا چاہتا تھا۔ وہ آج تک جیتتا آیا تھا اب تارا سے دستبردار ہونا اس کی انا کو گوارا نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مہندی کا فنکشن تھا جو عمران ہاؤس کے لان میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔ تارا اور ہانیہ پیلے رنگ کے جوڑے میں ملبوس ہر اک کی نگاہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔ بالاج اور میکال کالے کرتے اور سفید شلوار پہنے ماحول پر چھا سے گئے تھے۔ میکال کی مہندی کی رسم بھی ہانیہ کے ساتھ ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حسن صاحب کی بیوی اور کچھ دوسرے رشتے دار بھی مہندی پر آئے ہوئے تھے۔ پانچ چھ سو کے قریب لوگ اس تقریب کا حصہ تھے۔
وہ چاروں سٹیج پر لگے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ ہانیہ اور تارا درمیان میں تھیں ۔ میکال اور بالاج ان کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ بالاج کا دھیان تارا کی طرف تھا اور تارا سر جھکائے احساس کمتری کا شکار ہو رہی تھی۔ اس نے بہت سی عورتوں کی نظروں میں اپنے لیے استہزاء دیکھا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دوسری شادی نہیں کر رہی کوئی گناہ کر رہی ہے۔
“تارا تم ٹھیک ہو؟”بالاج نے چہرہ ذرا سا اس کی طرف موڑ کر پوچھا۔ وہ حیران ہوئی تھی۔ وہ جب بھی بے چین ہوتی بالاج کو کیسے پتہ چل جاتا تھا۔
“کچھ نہیں ہوا۔”وہ دلگرفتی سے بولی تھی حالانکہ وہ اپنا لہجہ سخت بنانا چاہ رہی تھی۔
پہلے بڑی عمر کے لوگوں نے مہندی کی رسم کی تھی۔ پھر ینگ پارٹی انہیں چھیڑنے لگی۔ ماحول کافی خوشگوار تھا لیکن کچھ لوگوں کو یہ خوشی زہر لگ رہی تھی۔ سائقہ اور رمشہ دونوں بالاج کو چاہتی تھیں اب تارا کو اس کی دلہن بنتے دیکھ کر انہیں بہت صدمہ لگا تھا۔ رمشہ بالاج کے ماموں کی بیٹی تھی جبکہ سائقہ سکندر صاحب کے کسی سیکنڈ کزن کی بیٹی تھی۔ دونوں کی دوستی بھی تھی اور درپردہ دشمنی بھی۔ جس کی وجہ بالاج ہی تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے مقابلہ ہی کرتی رہ گئیں اور تارا میڈم نہ نہ کر کے بھی ان پر نمبر لے گئی۔ اب وہ جب تک اپنا غصہ تارا پر نکال نہ لیتیں اس وقت تک انہیں سکون نہیں ملنا تھا۔
بالاج کے فون پر کال آئی تو وہ اٹھ کر سٹیج سے اتر گیا۔ اس کے جاتے ہی وہ دونوں تارا کے پاس آ گئیں۔
“دوسری شادی مبارک ہو۔”رمشا نے پہلا طعنہ مارا۔ تارا کچھ پل کیلیے ساکت ہوئی تھی۔ اس نے سپاٹ نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔ پاس بیٹھی ہانیہ نے غصے سے انہیں گھورا۔
“شکریہ۔”اسکے جواب پر وہ دونوں حیران ہوئی تھیں۔ وہ طعنے کے لیے انہیں شکریہ کہہ رہی تھی۔
“ویسے تم خوش نہیں لگتی اس شادی سے۔ “سائقہ نے اندازہ لگایا۔ تارا کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔
“ارے خوش کیوں نہیں ہو گی۔ دوسری دفعہ شادی ہو رہی ہے اور وہ بھی اتنے خوبصورت لڑکے سے۔ ایک ہمیں دیکھ لو۔ ہماری پہلی ہی نہیں ہو رہی۔”رمشہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگی۔ تارا کا دل ان کی باتیں سن کر اذیت سے بھر گیا تھا۔ ہانیہ بھی بے چینی سے پہلو بدلنے لگی تھی۔
“ویسے پہلے شوہر نے طلاق کیوں دی تمہیں؟”سائقہ نے پوچھا۔تارا مٹھیاں بھینچ گئی تھی۔ اس کا چہرہ تاریک ہونے لگا تھا۔
“میں نے سنا ہے کسی لڑکے کے ساتھ چکر تھا اس کا۔” رمشہ نے کہا تو آہستہ آواز میں تھا لیکن تارا کو آسانی سے سنائی دے گیا تھا۔
“انف لیڈیز۔ دوسروں پر باتیں کرنے سے پہلے اپنا گریبان جھانک لیں اور پلیز یہ اپنی بھڑاس کہیں اور جا کر نکالیں۔ “ہانیہ نے اونچی آواز میں غصے سے کہا تو ارد گرد کے کئی لوگ ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ وہ دونوں شرمندہ ہوتی جلدی سے سٹیج پر سے اتر گئیں۔ ہانیہ نے دائیں بائیں دیکھا تو تارا اور میکال اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
“کیا ہوا؟….. میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا؟”اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔ میکال تو کھل کے مسکرایا تھا۔ تارا بھی سب بھول کر ذرا سی مسکرا دی تھی۔ لیکن بہت سے لوگ اسے وقتاً فوقتاً یہ یاد دلاتے رہے تھے کہ وہ طلاق یافتہ ہے۔ دوسری شادی کر رہی ہے اور وہ بھی اپنے سے چھوٹے لڑکے سے۔ تارا کا دل بھر آیا تھا۔ وہ ڈھیر سارا رونا چاہتی تھی۔ ابھی فنکشن ختم نہیں ہوا تھا لیکن وہ پہلے ہی معذرت کرتی سٹیج سے اٹھ کر بیک گارڈن میں آ گئی تھی۔ بالاج جو سٹیج پر آنے ہی والا تھا تارا کو جاتے دیکھ کر اس کے پیچھے گیا تھا۔
وہ ایک درخت کے پاس کھڑی دوسری طرف رخ کیے رو رہی تھی۔ بالاج اس کے رونے کی شدت محسوس کر کے حیران و پریشان سا اس کے قریب آیا۔
“تارا؟…… کیوں رو رہی ہو؟”وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔ تارا نے چونک کر اسے دیکھا پھر یکلخت اس کی آنکھوں میں غصہ آیا۔ وہ سوچے سمجھے بنا اس کے سینے اور کندھوں پر تھپڑ مارنے لگی۔
“یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا۔ کتنے لوگوں کی باتیں سننی پڑ رہی ہیں مجھے۔ میں نے کتنا کہا تھا مجھ سے شادی مت کرو لیکن تم نے بھی میری بات نہیں مانی۔”وہ اسے مارتے مارتے پھر رو پڑی۔
“کس نے کہا ہے تمہیں ۔ مجھے اس کا نام بتاؤ۔”بالاج نے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔
“اب میں سب کے نام یاد رکھتی پھروں۔ اور تم کس کس کے منہ بند کرواؤ گے۔ ہاں۔”وہ بھڑکی۔
“سب کے منہ بند کروا سکتا ہوں میں۔”وہ بولا تو تارا استہزائیہ ہنسی۔
“بات وہ کرو جس پر عمل کر سکو۔”اس نے نصیحت کی۔ بالاج نے ابرو اچکا کر سر اثبات میں ہلایا اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی کلائی تھام کر کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
“بالاج…… کیا کر رہے ہو…..”وہ اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی جا رہی تھی اور اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش بھی کر رہی تھی لیکن بالاج کی گرفت مضبوط تھی۔
لوگوں نے اچنبھے سے انہیں سٹیج پر جاتے دیکھا تھا۔ بالاج نے سٹیج پر آ کر بھی اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔
“اٹینشن پلیز۔ “وہ اونچی آواز میں سب سے مخاطب ہوا تھا۔ سب پہلے ہی ان دوں کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔ تارا تو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ کیا کرنے جا رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
“آپ لوگوں میں سے کس کس کو ہماری شادی پر اعتراض ہے؟”کسی کو اندازہ نہیں تھا وہ سیدھے سیدھے یہ پوچھ لے گا۔ سب کو چپ لگ گئی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ سب کو ہی اس شادی پر اعتراض تھا۔ آدھے سے زیادہ لوگ ان کی خوشی میں خوش تھے۔ کچھ ان پر رشک کر رہے تھے اور کچھ کا جلنا تو لازمی تھا۔ اب دنیا میں تو ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی۔ بالاج کو ان برے لوگوں سے نمٹنا آتا تھا۔
“یہ لڑکا کیا کر رہا ہے؟”طانیہ بیگم جو سکندر صاحب کے ساتھ کھڑی کسی مہمان سے باتیں کر رہی تھیں بالاج کے عجیب سے سوال پر وہ غصے میں آ گئیں۔
“دیکھتے ہیں کیا کرتا ہے؟”سکندر صاحب پرسکون تھے۔ طانیہ بیگم نے تعجب سے انہیں دیکھا تھا۔ باقی سب دلچسپی سے تارا اور بالاج کو دیکھ رہے تھے۔
“مطلب کوئی بھی نہیں۔”وہ سب پر نظر دوڑاتا خوشگوار حیرت سے بولا تھا۔ رمشہ اور سائقہ تو کھسیا کر رہ گئی تھیں۔ باقی عورتوں کا بھی وہی حال تھا جنہوں نے تارا کو باتیں سنائی تھیں۔ تارا، ہانیہ اور میکال ، بالاج کی جرات پر حیران ہو رہے تھے۔
“پھر میری بیوی ویسے ہی اپنے قیمتی آنسو بہا رہی تھی۔”وہ ایک نظر تارا پر ڈال کر بولا تو تارا کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔ اور سامنے کھڑے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ وہ اسے ابھی سے اپنی بیوی کیوں کہہ رہا تھا۔ ان کے نکاح کی بات ابھی کچھ ہی لوگوں کو پتہ چلا تھی۔
“حیران مت ہوں۔ ہمارا نکاح ہو چکا ہے ۔ میں نے کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنی مرضی سے تارا کو اپنایا ہے۔ مجھے نہ تو اس کے ماضی سے کوئی مسلہ ہے اور نہ اس کے دو سال بڑے ہونے سے۔ اور امید کرتا ہوں آپ سب کو بھی اس بات سے مسلہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ میری زندگی ہے۔ میں جیسے چاہے کروں۔ کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا۔”اس نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنا موقف بیان کیا تھا۔ تارا تو اس کا یہ روپ دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھی۔ اس نے تو چاند کو ہمیشہ ڈرپوک اور بزدل سمجھا تھا۔ وہ اس کیلیے سب لوگوں سے لڑ سکے گا یہ اسے اندازہ نہیں تھا۔ کیا وہ اس کیلیے اتنی اہم تھی۔ تارا نے ایک انوکھا سا سرور شدت سے محسوس کیا تھا۔
“ارے یار تو تو چھا گیا ہے۔ قسم سے دل خوش کر دیا۔”بالاج کے ایک کزن نے ستائش بھرے لہجے میں کہا تھا۔ باقی نوجوان لڑکوں نے بھی ہوٹنگ کر کے اسے داد دی تھی۔ لڑکیاں تو رشک کے احساس سے نکلتی تو کچھ کہتی نا۔ وہ تو تارا کی قسمت پر حیران ہو رہی تھیں۔
“ویسے یار یہ کہیں محبت وغیرہ کا چکر تو نہیں؟”ایک لڑکے نے شرارتی لہجے میں پوچھا۔ بالاج ہنس دیا۔ تارا کے دل نے بیٹ مس کی تھی ۔
“میں تو ایک معصوم سا بچہ ہوں۔ مجھے کیا پتہ محبت کیا ہوتی ہے “اس نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔ سب اس کی بات پر ہنسنے لگے تھے۔ تارا اس عجیب سی سچویشن سے نکلنے کا حل سوچنے لگی تھی۔
“ہو سکتا ہے تمہیں پتہ نہ ہو لیکن تمہیں تارا سے محبت ہو۔”ایک لڑکی بولی تھی۔وہ بالاج کی آنکھوں میں تارا کیلیے محبت کو پہچان گئی تھی لیکن تارا نہیں جان پائی تھی۔
“ہو سکتا ہے۔”بالاج نے کچھ دیر سوچ کر کہا تو تارا نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔ بالاج نامحسوس انداز میں تارا کے قریب ہوا۔
“میری بے عزتی مت کروانا ۔ بعد میں جتنا مرضی مار لینا۔ ابھی ایک اچھی سی سمائل دو تاکہ سب کو پتہ چلے ہم دونوں ایک ساتھ خوش ہیں۔”وہ تارا کے کان کے قریب سرگوشی میں بولا تھا۔ تارا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ ڈرامہ کر رہا تھا یا سچ بول رہا تھا۔ اس کے سچے لہجے کو تارا نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا تھا۔
“ارے ارے ہمیں بھی بتاؤ کیا سرگوشیاں ہو رہی ہیں؟”ایک کزن نے کہا تو تارا خفت کے مارے سرخ ہی ہو گئی تھی۔
“کیوں بتاؤں؟”بالاج نے اپنے اس کزن کو گھورا۔
“اچھا ہم سب کے سامنے بھابھی کی شان میں دو چار رومینٹک لائنز ہی کہہ دو۔”اس کا ایک دوست بولا تھا۔ تارا گڑبڑائی تھی
“مجھے نہیں کرنا آتا۔”وہ شرمانے کی ناکام ایکٹنگ کرنے لگا ۔ سب لوگ پھر سے ہنسے تھے۔
“چلو پھر کوئی گانا ہی گا دو۔”ایک نے فرمائش کی۔
“ویل ….. گانے کی کوشش کر سکتا ہوں تھوڑی بہت۔ “اس نے سر ہلا کر تارا کو دیکھا۔ تارا جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر پیچھے صوفے پر آ گئی تھی۔
“بالاج نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔”تارا ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی بولی تھی۔ میکال ہنس پڑا تھا۔
“بالکل غلط۔ بالاج نے سب کے سامنے آپ کو اتنی عزت اور مان دیا ہے۔ “ہانیہ نے اعتراض کیا ۔ اس کی بات تارا کے دل کو لگی تھی۔
انہوں نے ڈی جے کو بھی بلوایا ہوا تھا جو سٹیج کے ساتھ ہی میوزیکل انسٹرومنٹس سے فضا میں مدھر سریں بکھیر رہا تھا۔بالاج اس سے گٹار پکڑ کر تارا کے ساتھ آ بیٹھا تھا۔تارا حیران ہوئی تھی کیا اسے گٹار چلانا آتا تھا۔ سب لوگ اسے سننے کو منتظر تھے۔ کچھ لمحوں بعد اس کی انگلیاں گٹار کی تاروں سے کھیلنے لگی تھیں۔
تجھ سے ہی تو ملی ہے راحت
تُو ہی تو میری ہے چاہت
تجھ سے ہی تو جڑی زندگی
وہ کچھ پل کیلیے رکا تھا اور تارا کی طرف ایک نظر ڈالی۔ تارا کی تیز دھڑکنیں بھی رکی تھیں۔ اس کی اتنی بھاری گھمبیر آواز تارا نے پہلی دفعہ سنی تھی۔ وہ اتنا اچھا گا لیتا تھا یہ بھی تارا کو اب پتہ چلا تھا۔
تیری یادیں ہیں کچھ ادھوری
سانس آدھی ہے کچھ ہے پوری
آنکھوں میں کیسی ہے یہ نمی
اس کا ہر لفظ تارا کے دل میں اتر رہا تھا۔ اسے نجانے کیوں ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ یہ سب سچ میں اسے ہی کہہ رہا ہے ۔
میرا من کہنے لگا
پاس آ کے نہ تو دور جا
چھونے دے ہونٹ تیرے
ذرا سانسوں میں اپنی بسا
اب کی بار تو تارا بلش کر اٹھی تھی۔ بالاج کی طرف تو وہ دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ تھا تو گانا لیکن اس کی لئریکس نے تارا کے دل کی دنیا ہلا دی تھی۔ بالاج جو بات تارا سے نہیں کہہ سکتا تھا اس نے گانے کے ذریعے کہہ دی تھی۔
سب نے تالیوں اور ہوٹنگ کے ذریعے بالاج کو داد دی تھی۔ پھر میکال کو بھی گانے کیلیے اکسایا گیا۔ اس نے ایک انگلش گانا “آئی وانٹ یو” گایا تھا۔ اس کی آواز بہت خوبصورت تھی ۔ ہانیہ تو اس کی آواز کی فین ہو گئی تھی۔ وہاں موجود کئی لڑکیاں میکال کی پرسنیلٹی سے بھی بہت متاثر ہوئی تھی۔ ہانیہ کو تو خود پر غرور ہونے لگا تھا۔ اسے تو اپنی کزنوں کو جلانے کا بہت مزا آ رہا تھا۔
وہ خوبصورت محفل رات دیر تک چلتی رہی تھی۔ بارہ بجے کے قریب سب نے بالاج اور تارا کی جان بخشی کی تھی لیکن انہیں ایک کمرے میں جانے نہیں دیا تھا۔ اب رخصتی کے بعد ہی بالاج جو تارا ملکی تھی۔ بالاج کو تو یہ رسم نہایت بری لگی تھی۔
