Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 37
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 37
Tara Ka Chand by Dua Fatima
تارا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بال برش کر رہی تھی جب بالاج شاور لے کر واشروم سے نکلا تھا۔ اس نے آج پہلی دفعہ اسے یوں اپنے سامنے بال کھولے کنگھی کرتے دیکھا تھا۔ اب اپنے دل پر قابو پانا اس کیلیے مشکل ہو گیا تھا۔ وہ انجام کا سوچے بنا تارا کی جانب بڑھا تھا اور پیچھے سے اسے اپنے بازوؤں کی گرفت میں لیتے ہوئے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا دی تھی۔ تارا جہاں تھی وہیں ساکت سی رہ گئی تھی۔ دل کی دھڑکنیں تھمی تھیں۔ وہ سانس روکے بے یقینی اور حیرت سے آئینے میں بالاج کو دیکھ رہی تھی جو اسے کسی قیمتی اثاثے کی طرح اپنے دل سے لگائے سکون سے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔ کچھ لمحے تو وہ بالاج کے سحر میں مبتلا رہی پھر یکدم ہوش میں آ کر اس نے بوکھلاتے خود کو چھڑوایا۔ بالاج ایک قدم پیچھے ہٹا تو وہ مڑی اور سخت غصے کے عالم میں اسے خونخوار نظروں سے دیکھا تھا۔ بالاج نچلا لب دبائے اس کے فیس ایکسپریشنز دیکھ رہا تھا۔
“تم…..تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ….. میرے قریب آنے کی….. میں نے کہا تھا نا تمہیں مجھ سے دور رہنا…..”وہ اسے مارنے لگی تو بس کرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بالاج بڑے مزے سے مار کھاتا پیچھے ہٹ رہا تھا۔ یہاں تک کہ پیچھے بیڈ آ گیا۔ تارا نے اس کے سینے پر دھپ رسید کی۔ بالاج نے پیچھے بیڈ پر گرتے ہوئے تارا کی کمر میں بھی بازو حمائل کر لیا تھا ۔ وہ بھی اس کے اوپر گری تھی اور ایک دفعہ پھر فریز ہوئی تھی۔ وہ پوری طرح اس کی گرفت میں قید ہو چکی تھی اور اس کا چہرہ بالاج کے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ ان کی سانسیں ایک دوسر ے سے الجھ رہی تھی۔ بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ بالاج تو اس کی نظر میں معصوم سا بچہ تھا جسے رومینس کی تو الف ب بھی نہیں آتی تھی۔ تو پھر آج اسے کیا ہو گیا تھا۔ وہ آنکھوں کو پورا کھولے دنگ سی اسے دیکھنے لگی تھی۔ جبکہ بالاج سرخ خمار آلود نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ تارا کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ وہ سٹپٹا کر خود کو چھڑوانے لگی۔
“بالاج….. چھوڑو مجھے۔”وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی تھی۔
“چھڑوا لو۔”وہ چیلنجنگ انداز میں کہتا کروٹ لے کر اس پر جھکا تھا۔ تارا کا تو دماغ گھومنے لگا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو۔
“یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے۔”وہ بمشکل ہمت کر کے غرائی۔
“غلط بھی تو نہیں کر رہا۔ تم بیوی ہو میری۔ تمہیں چھونے کا حق ہے مجھے۔ “یہ تو بالکل بھی وہ معصوم سا چاند نہیں تھا۔ جو اس کی ہر بات مانتا تھا اور اسے ایک نظر سے زیادہ دیکھ نہیں پاتا تھا۔ وہ اتنا کیسے بدل سکتا تھا۔ تارا نے ذرا سا نفی میں سر ہلایا۔
“لیکن میں نے تمہیں ابھی اجازت نہیں دی۔”اس نے جتایا۔
“اگر تمہاری اجازت پر ہی رہا تو پھر میرے بچے ویٹنگ لائن میں ہی کھڑے رہیں گے اس دنیا میں آنے کیلیے۔”اس کے بے باک الفاظ پر تارا کے گال تیزی سے سرخ ہوئے تھے اور یہ منظر دیکھ کر بالاج بہت محظوظ ہوا تھا۔ وہ جو ہر وقت اس پر رعب جماتی تھی اس سے شرماتی ہوئی کتنی پیاری لگتی تھی۔ بالاج کا دل سرشار سا ہو گیا تھا۔ وہ بے خودی کے عالم میں اس کے لبوں پر جھکا تھا۔اسے سب کچھ بھول چکا تھا۔ صرف تارا یاد تھی ۔ اپنے ہونٹوں پر اس کا لمس محسوس کر کے تارا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔ دل رک سا گیا تھا۔ وہ کچھ لمحے تو ہل بھی نہیں سکی تھی پھر جب بالاج کی جنونیت بڑھی تو وہ حواس باختہ سی مزاحمت کرنے لگی۔ پوری قوت لگا کر اس نے بالاج کو دھکا دیا تھا۔ اور اگلے ہی پل ایک زور دار طمانچے نے بالاج کو ہوش میں لا پٹخا تھا۔ تارا اسے تھپڑ مار کر وہاں رکی نہیں تھی بلکہ بیڈ سے اتر کر اس سے نظریں ملائے بغیر کمرے سے باہر بھاگی تھی۔ اب وہاں رک کر اس نے اپنی شامت تھوڑی بلوانی تھی۔
“افففف۔ بالاج تھوڑا صبر نہیں ہوا۔ کیا ضرورت تھی اتنی جلدی کرنے کی۔”وہ آنکھیں بھینچ کر خود کو کوستا تارا کے پیچھے آیا۔
“تارا رکو۔”وہ لاؤنج کے دروازے سے باہر نکل کر لان میں جا رہی تھی۔ بالاج نے اسے بے اختیار روکا تھا لیکن وہ نہیں رکی۔ اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا اور دل رک رک کر چل رہا تھا۔ وہ بالاج کے اس عمل پر حیران ضرور تھی لیکن اس سے نفرت نہیں کر پا رہی تھی۔ اگر انا کا مسلہ نہ ہوتا تو وہ اپنا آپ بالاج کے حوالے کر دیتی لیکن ابھی وہ اس کیلیے تیار نہیں تھی۔ اسے بالاج پر بہت غصہ آیا تھا تبھی اسے تھپڑ مار دیا لیکن بالاج کا کچھ پتہ نہیں تھا پھر وہ اس کے ساتھ کیا کرتا اور اب بالاج کو اپنے پیچھے آتے دیکھ کر وہ مزید خوفزدہ ہو چکی تھی۔ وہ لان میں سے گزر کر گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی جب اچانک اس کے سامنے کوئی آ گیا۔ وہ ٹھٹک کر رکی تھی۔ گیٹ کی دیوار پر لگے گلوب کی روشنی میں باذل شاہ کا چہرہ اسے واضح نظر آ گیا تھا تھا۔اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ تارا کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی تھی اور بالاج کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔ ڈر کے مارے اس کی ہچکی نکل گئی تھی۔ آگے کنواں پیچھے کھائی والا حساب بن چکا تھا اس بے چاری کے ساتھ۔
بالاج نے تارا کو کندھوں سے تھام کر اپنے پیچھے کر دیا تھا اور اس دوران اس کی سرد نگاہیں باذل پر ہی جمی تھیں ۔ وہ بھی نفرت سے اسے گھور رہا تھا۔
“تم نے تارا سے شادی کر کے اچھا نہیں کیا۔ اب اس کا انجام بھگتنے کیلیے تیار ہو جاؤ۔”باذل نے چبا چبا کر کہا۔
“میں تیار ہوں۔”وہ لاپرواہی سے بولا جبکہ تارا کو اب بالاج کی جان کی فکر لگ گئی تھی۔ وہ کانپتے ہوئے بالاج کا بازو تھام گئی۔ باذل نے پسٹل نکال کر اس پر تان لی۔
“ن…. نہیں پلیز۔ بالاج کو کچھ مت کہنا۔”تارا تیزی سے بالاج کے سامنے آئی تھی۔ بالاج گہری سانس بھر کے رہ گیا تھا۔
“تو پھر اسے کہو تمہیں طلاق دے دے۔ میں اسے نہیں ماروں گا۔”باذل نے شرط بتائی۔ تارا کو یہ کام بہت مشکل لگا تھا لیکن بالاج کی زندگی کیلیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اس نے بالاج کی طرف ملتجی نگاہوں سے دیکھا تو بالاج غصے میں آ گیا۔
“لگتا ہے پچھلا سبق بھول گئے ہو۔”بالاج نے تارا کو اپنے سامنے سے ہٹا کر ایک سائیڈ پر کیا۔ تارا کو لگا اب باذل بالاج کو گولی مار دے گا۔ وہ کانپتے دل کے ساتھ اللّٰہ سے مدد مانگنے لگی تھی ۔
“بھولا تو نہیں ہوں لیکن آج تمہیں بھی سبق سکھائے بنا جاؤں گا نہیں۔” باذل نے دانت کچکچاتے تھے۔ وہ اسے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے لوگوں کو اشارہ کیا تو وہ بالاج کی طرف بڑھے۔ ان کے پاس پسٹلز نہیں تھیں صرف باذل کے پاس تھی۔
“دیکھو پلیز…… ایسے مت کرو۔ بالاج!”تارا گڑگڑائی۔
“ایک منٹ۔”بالاج نے ہاتھ اٹھا کر کہا تو باذل کے ساتھی رک گئے۔ اس نے چہرہ موڑ کر تارا کو دیکھا جو خوف سے سفید پڑ چکا تھا۔ باذل نے بھی ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔ اسے لگا وہ تارا کو طلاق دینے کیلیے مان گیا ہے۔
“چوز…. ون آر ٹو؟”تارا کو اس کی بات کی ذرا بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔ اس مشکل وقت میں پتہ نہیں اسے کونسی پہیلی سوجھ رہی تھی۔
“جلدی کرو۔ “
“کیا؟”تارا نے جھنجھلا کر پوچھا۔
“آپشن چوز کرو۔ ون آر ٹو۔”
“کیوں؟”
“پہلا یا دوسرا؟”اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔ تارا خوفزدہ ہو گئی۔
“د…دوسرا۔”وہ ہکلائی۔
“سو….. تو اب تم میرا دوسرا روپ دیکھو گی۔”وہ ذرا سا مسکرایا تھا ۔ تارا کو اس کی زہنی حالت پر شک ہوا۔ وہ کیا کرنے والا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ بالاج اس سے نظریں ہٹا کر سامنے کھڑے باذل کی طرف بڑھا اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ایک ہاتھ سے پسٹل کی نال تھامی اور دوسرا ہاتھ اکڑا کر بازل کی کلائی پر وار کیا۔اسی اثنا میں گولی چل گئی تھی لیکن بالاج پسٹل کا رخ دوسری طرف موڑ چکا تھا۔ باذل کے ہاتھ میں اتنا سخت درد ہوا کہ وہ کراہ کر رہ گیا۔ پسٹل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بالاج کے پاس جا چکی تھی۔ اس نے پسٹل کی میگزین نکال کر پسٹل اور میگزین دور پھینک دیں۔ تارا کو تو آج جھٹکوں پر جھٹکے ہی لگ رہے تھے۔ اب یہ کونسا روپ تھا بالاج کا۔ ابھی تو اس کا ایک اور روپ بھی کھلنا تھا ۔ جس نے اسے حیران نہیں بلکہ خوفزدہ کر دینا تھا۔
باذل کے آدمیوں کے قریب آنے تک وہ ایک کک باذل کے گھٹنے پر اور دوسری پیٹ میں مار کر اسے گرا چکا تھا اور اسی پل تارا کو یہ ادراک ہوا تھا کہ باذل شاہ وہ اجنبی نہیں تھا جو اسے خوفزدہ کرتا تھا۔ وہ مار کھانے والوں میں سے تو بالکل بھی نہیں تھا۔ تو پھر وہ کون تھا۔ یہ سوال تارا کے ذہن میں ابھرا تھا اور اگلے پل ہی اسے اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا۔ وہ بالاج کا فائٹنگ سٹائل دیکھ کر چونک اٹھی تھی۔ بالاج بالکل اسی اجنبی کی طرح فائٹنگ کر رہا تھا۔ وہ سن سی رہ گئی تھی۔ اس کی آنکھیں خوف سے پتھرا گئی تھیں ۔
بالاج نے دائیں والے شخص کا اپنی طرف آتا مکا پکڑا اور بائیں والے کی پنڈلی پر بائیں پاؤں سے ایک کک مارتے ہوئے دائیں والے کے گھٹنے پر بھی اسی پاؤں سے ضرب لگائی۔ وہ دونوں لڑکھڑا کر ایک ساتھ نیچے گرے تھے۔ تبھی سامنے سے ایک شخص آیا جس نے بڑی زور سے بالاج کے چہرے پر وار کیا تھا لیکن وہ آگے کو جھک گیا اور واپس سیدھے ہوتے ہوئے اس شخص کو کندھے پر اٹھا کر کسی ریسلر کی طرح نیچے دے پٹخا۔ اور خود بھی اس کے ساتھ گرتے ہوئے اس کے پیٹ میں کہنی ماری۔ ایک شخص نے اسے پاؤں سے کک مارنی چاہی ۔ وہ تیزی سے زمین پر پلٹی کھاتا سائیڈ پر ہو کر اٹھا اور دوسرے شخص کو گھوم کر ٹانگ ماری۔ وہ شخص اپنے ساتھ اسے بھی لے کر گر پڑا جس نے بالاج کو کک مارنی چاہی تھی۔ ایک آخری شخص رہ گیا تھا جس نے بالاج کے سامنے آتے ہی یکے بعد دیگرے دونوں ہاتھوں سے اسے مکے مارے۔ اس نے مقابل کا دائیاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ میں جکڑا اور بائیاں بائیں ہاتھ میں پکڑ کر پلٹتے ہوئے اسے پہلے اپنے کندھے پر لادا اور پھر زور سے اپنے سامنے زمین پر دے پٹخا۔ کچھ ہی دیر میں وہ سب زمین پر لوٹ پوٹ ہوتے کراہ رہے تھے۔ اور ہیرو صاحب سب کے درمیان فاتح بن کر کھڑے تھے۔ یقیناً تارا اسے اتنا پاور فل دیکھ کر خوش ہوئی ہو گی۔ اس نے داد طلب نظروں سے تارا کو دیکھا لیکن اس کی نظروں میں عجیب سا خوف دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا تھا۔ اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ کیا وہ اس کا راز جان گئی تھی۔
“ڈیم اٹ۔”وہ جھنجھلایا۔ یہ تو ایک نا ایک دن ہونا ہی تھا۔ اچھا تھا ابھی ہو گیا۔ وہ گہری سانس کھینچتے ہوئے تارا کی طرف بڑھا لیکن تارا ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی اور پلٹ کر اندر بھاگ گئی ۔
“تمہیں تو بعد میں سیٹ کروں گا۔”وہ لب بھینچ کر سوچتا ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور سب کو ایک ایک وار کر کے بے ہوش کرنے لگا۔
“کیوں سکھا لیا سبق مجھے؟”وہ باذل سے استہزائیہ لہجے میں پوچھنے لگا تھا۔ باذل درد کے باعث اسے کچھ نہ کہہ سکا تھا۔ بالاج نے اسے بھی بے ہوش کر دیا اور اندر آ کر اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ تارا وہاں نہیں تھی۔ وہ شاید اپنے کمرے میں تھی۔ اس نے فون اٹھا کر کسی کو کال ملائی تھی۔
“یار کچھ لوگوں کو ٹھکانے لگانا ہے۔ جلدی سے گھر آؤ۔”اس نے کہہ کر فون بند کیا اور دوسرے کمرے کی طرف بڑھا لیکن تارا اندر سے لاک لگا چکی تھی۔
“تارا دروازہ کھولو۔ “وہ حکمیہ لہجے میں بولا لیکن کمرے میں موجود تارا کی ہمت نہیں ہوئی تھی اسکا سامنا کرنے کی۔ وہ اکتا کر گہری سانس لیتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہنی!”میکال نے زور سے ہانیہ کو پکارا۔ ہانیہ جو صوفے پر پاؤں اوپر کیے بیٹھی کسی انگلش ناول میں غرق تھی ہڑبڑا کر ہوش میں آئی۔
“ہوں….. مجھے بلایا؟”وہ پلکیں جھپکتے ہوئے پوچھنے لگی۔ میکال کو اس پر تپ چڑھا۔ وہ جب بھی اس کی بجائے کہیں اور معروف ہوتی تو اسے بہت برا لگتا تھا ۔ ہانیہ بھی آجکل اسے جان بوجھ کر تنگ کر رہی تھی۔
“نہیں ان دیواروں کو بلا رہا ہوں۔ تمہارے علاوہ اور کوئی ہے جسے بلاؤں گا؟”وہ جل کر بولا۔ ہانیہ نے ہنسی روکی۔
“ویسے دیواروں کو بھی بلا سکتے ہیں۔ میں نے سنا ہے ان کے کان ہوتے ہیں۔”
“تم ایسے نہیں سدھرو گی۔”وہ لیپ ٹاپ رکھے کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔
“ارے میں تو مذاق کر رہی تھی۔ آپ بھی نا۔ سیریس ہی ہو جاتے ہیں۔ چلیں بتائیں کیا مسلہ ہے۔”وہ بھی اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے چاپلوسی کرنے لگی۔
“تم میرے پاس نہیں آتی۔ یہی مسلہ ہے۔”وہ اس کے قریب آیا تو وہ پیچھے ہٹی۔
“میں جب بھی آپ کے پاس آتی ہوں آپ کو رومینس کے علاوہ اور کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ “وہ ڈرتے ہوئے منہ بنا کر بولی تو میکال ہنسا۔
“ارے وہ تو میرا پیار ہے نا۔ تم ہو ہی اتنی پیاری تمہیں دیکھ کر میرا دل کرتا ہے……. کیا بتاؤں یار ۔چلو رہنے دو۔ زبانی نے عملی طور پر بتاؤں گا۔”وہ شرارت سے بولا تھا۔ ہانیہ تیز ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی خفت مٹانے کیلیے اسے غصے سے دیکھنے لگی۔
“ویسے کیا خیال ہے اب بتا دینا چاہیے مجھے۔ کافی وقت ہو گیا ہے ہمیں ایک ساتھ رہتے ہوئے۔ تم مجھے اچھی طرح سے جان چکی ہو۔”وہ سنجیدگی سے بولتا اس کے قریب آیا تو ہانیہ نے تھوک نگلتے ہوئے پیچھے ہٹی۔
“دیکھیں میکال مجھے غصہ مت دلائیں۔ ورنہ میں بہت ماروں گی آپ کو۔”اس کی معصوم سی دھمکی پر میکال نے نچلا لب دبا کر مسکراہٹ روکی۔
“تمہارے ہاتھ کی تو مار بھی میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہو گی۔ “وہ شوخ ہوا۔
“اممم ۔ میں آپ کو نائٹ ڈریس نکال کر دیتی ہوں آپ شاور لے لیں۔”وہ بات بدل کر مڑی اور وارڈروب کھول کر میکال کیلیے ٹراؤزر اور شرٹ نکالنے لگی۔ میکال بھی اس کے پیچھے آ چکا تھا۔ اس نے وارڈروب بند کی تو میکال اس کے ارد گرد وارڈروب پر دونوں ہاتھ جما گیا تھا۔ ہانیہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر گئی۔
“مسز کیا ہو گیا۔ اب میری طرف مڑو گی یا نہیں۔”وہ بولا تو ہانیہ ایسے ہی آنکھیں بند کیے اس کی طرف مڑی تھی۔ اس وقت اس کی اتنی کیوٹ شکل لگ رہی تھی کہ میکال کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مزید تنگ کرتا ہانیہ اس نے بازو کے نیچے سے نکل کر بھاگ گئی ۔ میکال نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔
“یہ کپڑے رکھے ہیں۔ اب مجھے ڈسٹرب مت کیجیے گا۔”وہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
جب میکال شاور لے کر آیا تو ہانیہ بیڈ کے ایک کنارے پر آنکھیں بند کیے لیٹی نظر آئی۔ اس نے دائیں طرف ایک سرہانہ بھی رکھا ہوا تھا جو وہ ہمیشہ حفظ ما تقدم کے طور پر اپنے اور میکال کے درمیان رکھتی تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ صبح جب جاگتی تو اس کا سر میکال کے سینے پر ہی ہوتا تھا۔ رات جب تک وہ جاگ کر اس سے باتیں کرتی رہتی میکال اس سرہانے کو اپنے اور ہانیہ کے بیچ کسی نا کسی طرح برداشت کر ہی لیتا تھا لیکن جب وہ سوتی تو اسے اپنے سینے سے لگا لیتا ۔ آج میکال نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے وہ سرہانہ اٹھا کر دور پھینک دیا۔ ہانیہ نے صدمے سے اسے دیکھا۔
“ہنی اب اتنی دوری بھی مت بناؤ۔ تم تو میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو۔ “وہ اسے کھینچ کر اپنے حصار میں لے گیا تھا۔ ہانیہ نے اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تارا تو پوری رات نہیں سو سکی تھی۔ اس کی سوچوں کا محور ایک ہی شخص تھا جس کے نجانے کتنے روپ تھے۔ پہلے وہ اس کیلیے صرف ایک بچہ تھا جو اس سے بہت اٹیچڈ تھا۔ وہ کمزور سا لڑکا پھر اس کا شوہر بن گیا۔ اگر بالاج بچپن میں اس سے مغلوب نہ ہوتا تو اب وہ بھی اس کی برتری مان لیتی لیکن آج تو عجیب ہی سچویشن بن گئی تھی۔ بالاج نے جب شوہروں والے تیور دکھائے تو اس کے حواس ہی معطل ہو گئے تھے۔ اسے تو یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ بالاج اتنی جرات کا مظاہرہ کر سکتا ہے اور اوپر سے اس نے ایک اور جھٹکا دے دیا۔ اس اکیلے نے کئی لوگوں کو پیٹ ڈالا تھا۔ چلو یہ تو پھر بھی کم تھا پھر جو تارا پر ایک نیا ادراک کھلا تھا اس نے تارا کے دماغ کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ وہ اجنبی بالاج ہی تھا۔ اس کا لڑائی کا انداز بالکل ویسا تھا۔ اس کی آواز بالاج کی آواز سے ملتی تھی لیکن اس سے تھوڑی بھاری تھی۔وہ زیادہ تر سرسراتے ہوئے لہجے میں سرگوشی کرتا تھا اور وہ سمجھتی رہی کہ اجنبی باذل تھا لیکن نہ تو اس کی آواز اس اجنبی سے ملتی تھی اور نہ وہ اس کی طرح پاور فل تھا۔ اور ایک دفعہ اس نے اس اجنبی کی آنکھوں کا رنگ دیکھا تھا جو کہ سبز تھا۔ گہرا سبز اور بلیک کا کمبینیشن۔ اسے یاد آیا بالاج کی آنکھوں کا رنگ یہی تو تھا۔ بچپن میں جب بھی کوئی اس کی آنکھوں کا یہ رنگ دیکھتا تو مبہوت ہو جاتا تھا اور بالاج کو پھر نظر لگ جاتی۔ پھر سکندر صاحب نے اسے بلیک لینزز لگوا دیے۔ وہ لینزز پرمانینٹ نہیں تھے۔آسانی سے اتارے جا سکتے تھے۔ بالاج کبھی کسی کے سامنے وہ لینز نہیں اتارتا تھا۔ تارا بھی یہ بات بھول چکی تھی اور اس اجنبی کی سبز آنکھیں دیکھ کر بھی اسے یہ بات یاد نہیں آئی تھی۔ اگر آ بھی جاتی تو اس کا دھیان بالاج کی طرف نہیں جانا تھا۔ کیونکہ وہ تو معصوم سا بچہ تھا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا۔ اس سے آگے تو تارا کچھ سوچتی ہی نہیں تھی۔ لیکن آج تارا اچھی طرح یہ جان چکی تھی کہ وہ بالغ مرد بن چکا ہے۔ اب بچہ نہیں رہا۔ اسے اب بالاج سے خوف آنے لگا تھا۔ اسے یہ جان کر سخت دھچکا لگا تھا کہ بالاج اجنبی بن کر اسے ڈراتا رہا۔ وہ اجنبی سے ڈر کر اس کے پاس ہی پناہ لیتی تھی یہ جانے بغیر کہ وہی اجنبی تھا۔ تبھی تو وہ سوچتی تھی کہ جو احساس اس اجنبی کے قریب آنے سے اس کے دل میں ابھرتا تھا وہی احساس بالاج کے قریب آنے سے کیوں ہوتا تھا۔ وہ دو الگ الگ لوگوں کیلیے ایک جیسی فیلینگز کیسے محسوس کر سکتی تھی۔ اس کا دل تو اتنا مضبوط تھا کہ اسفر کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی طرف ملتفت نہیں ہو سکی تھی تو پھر اب اسے کیا ہو رہا تھا۔ اسے کیا پتہ تھا وہ دو الگ الگ نظر آنے والے لوگ حقیقت میں ایک ہی شخص تھا۔ اور وہی شخص جسے سب سے زیادہ جاننے کا وہ دعویٰ کرتی تھی۔
کتنا بڑا دھوکا ہوا تھا اس کے ساتھ۔ اسے بالاج پر شدید غصہ بھی آیا تھا۔ وہ کتنی ہی دیر روتی رہی تھی۔
“ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو۔ وہ اجنبی بالاج نہ ہو۔”اس کا دل ابھی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ تبھی اسکے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس اجنبی نے اسے جو انگوٹھی دی تھی اس پر بی ایس لکھا تھا جسے وہ باذل شاہ کا مخفف سمجھی تھی لیکن بالاج سکندر بھی تو بی ایس سے ہی بنتا تھا۔ اور وہ انگوٹھی جو اجنبی نے اس کی انگلی سے اتار کر اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ میں رکھ دی تھی۔ اگر وہ بالاج کی گاڑی سے مل جاتی تو تارا کو پوری طرح یقین آ جانا تھا کہ وہی اجنبی ہے۔وہ بستر سے اٹھ کر کمرے سے نکلی تو صبح کی روشنی پھیل چکی تھی۔ بالاج کے کمرے کا دروازہ ابھی بند تھا۔ وہ جانتی تھی کہ بالاج نماز پڑھ کر سو جاتا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ ڈرتے ہوئے ہی اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ توقع کے مطابق وہ سو رہا تھا اور اس کا چہرہ بہت معصوم لگ رہا تھا۔ تارا نے بس ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور شیلف کی طرف بڑھی۔ شکر تھا گاڑی کی چابی جلد ہی اسے مل گئی۔ وہ چابی لے کر احتیاط سے کمرے سے باہر آئی اور پھر تیزی سے باہر بڑھی۔ پورچ میں آ کر اس نے گاڑی کا لاک کھولا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ڈیش بورڈ کا ڈرا کھولا۔ کچھ ہی لمحوں بعد اسے وہ انگوٹھی مل چکی تھی۔ اب تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی۔ جب بالاج نے اجنبی کے روپ میں اسے گھر تک چھوڑا تھا اس دن تو وہ ڈر کی وجہ سے گاڑی پر بھی دھیان نہیں دے پائی تھی ۔ کتنی بےوقوف تھی وہ۔
وہ گہرے سانس لیتے ہوئے چکراتے سر کو ڈیش بورڈ سے ٹکا گئی۔
“آئی ہیٹ یو بالاج۔”آنسو بے آواز اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر نیچے گرنے لگے تھے۔ اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ جس سے اتنا ڈرتی تھی اس کے ساتھ ہر وقت کیسے رہ سکتی تھی۔ وہ یہاں سے کہیں غائب ہو جانا چاہتی تھی لیکن بالاج کی قید سے نکلنا اب اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ اجنبی سے بچ گئی ہے لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ اس اجنبی نے اپنا کہا پورا کر دکھایا تھا۔ وہ جو کہتا تھا کہ وہ اسی سے شادی کرے گا تو وہ کامیاب ہو چکا تھا۔ اجنبی بن کر وہ اتنی بہادری دکھا سکتا تھا تو پھر اب شوہر بن کر کیا کچھ کر سکتا تھا۔ یہ سوچ آتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ کچھ سوچ کر گاڑی سے باہر نکلی۔ اس کا ارادہ باہر جا کر کسی ٹیکسی کے ذریعے بس اسٹیشن تک جانے کا تھا۔ وہ اب یہاں بالاج کے ساتھ اکیلی نہیں رہ سکتی تھی۔ جلدی از جلد ماما کے پاس جانا چاہتی تھی اور ان کے گلے لگ کر رونا چاہتی تھی۔ ابھی وہ گاڑی سے نکل کر ایک قدم ہی چلی تھی کہ اچانک اس اپنے سامنے بالاج نظر آیا جو اس سے کچھ ہی قدموں کی دوری پر تھا۔ تارا کی سانس اٹکی۔
“تم یہاں اتنی صبح کیا کر رہی ہو؟”وہ الجھ کر پوچھتا اس کے قریب آ رہا تھا۔ تارا اسے جواب دیے بنا باہر گیٹ کی جانب بھاگی ۔ بالاج نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا پھر تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا اور گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے پیچھے سے اپنے بازوؤں جکڑ لیا۔
“آہ۔”تارا چیخ مار کر بے ہوش ہو چکی تھی۔ بالاج نے نچلا لب دبا کر اسے دیکھا اور پھر اس کے نازک وجود کو بازوؤں میں بھر کر کمر میں لے گیا۔
