406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 36

Tara Ka Chanda by Dua Fatima

رات کو پھر ڈر کی وجہ سے تارا کو بالاج کے پاس ہی سونا پڑا تھا۔ بالاج حسب معمول قالین پر سویا تھا اور وہ بیڈ پر۔ اسے پہلی دفعہ شرمندگی ہوئی تھی کہ وہ شوہر کو زمین پر سلا کر خود سارے بیڈ پر قبضہ کر لیتی ہے۔ اس نے شرمندگی ظاہر تو نہیں کی لیکن بے چین ہو گئی تھی۔ رات دیر تک وہ بالاج کے بارے میں ہی سوچتی رہی تھی۔ اس کی سوچوں کا رخ بے اختیار ہی بالاج کی طرف مڑ چکا تھا۔ اور اسے پتہ بھی نہیں تھا۔

صبح وہ فجر کی اذان کے ساتھ بالاج سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی اور دوسرے کمرے میں جا کر نماز پڑھنے لگی تھی۔ بالاج کی آنکھ کھلی تو کمرہ خالی پا کر وہ باہر آیا اور دوسرے کمرے میں دیکھا۔ وہ سر پر حجاب کی صورت میں دوپٹہ باندھے نماز پڑھتی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ بالاج کئی پل اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر کمرے میں واپس آ گیا۔ وضو کر کے نماز پڑھنے کے بعد وہ پھر سو گیا تھا۔ جب دو گھنٹوں بعد اٹھ کر باہر آیا تو تارا صوفے پر بیٹھی پاؤں اوپر کیے ٹی وی پر مارننگ شو دیکھتی نظر آئی تھی۔ اس کے بال ڈھیلے سے جوڑے میں بندھے تھے اور ماتھے سے ایک لٹ گال سے گزرتی گردن تک پہنچ رہی تھی۔ وہ لٹ دیکھ کر بالاج کے دل میں ایک خواہش جاگی تھی اور وہ خود کو روک نہیں سکا تھا۔ تارا کو پتہ تو تب چلا جب وہ اس کے پاس آ کر بڑے مزے سے اس کی گود میں سر رکھ کر صوفے پر لیٹ چکا تھا۔ تارا ساکت سی ہو کر سانس روک گئی تھی۔ اس کی حیرت زدہ نگاہیں بالاج کے چہرے پر تھیں جو آنکھیں بند کیے مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر تو تارا کو سمجھ نہ آئی اب کیا کرے۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے بالاج۔ اٹھو یہاں سے۔”وہ چاہ کر بھی اپنا لہجہ سخت نہیں بنا لائی تھی۔

“کیوں اٹھوں۔ کل خود تو اتنی دیر میرے سینے پر سر رکھے کھڑی رہی۔ میں نے تمہیں خود سے دور کیا؟ نہیں نا تو پھر تم مجھے خود سے دور کر کے ہرٹ کیوں کرتی ہو؟”وہ مظلوم لہجے میں بولا تھا۔ تارا کو اس کی بات ٹھیک ہی لگی تھی۔ وہ شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھتی لب چبانے لگی۔

“ہے یار مذاق کر رہا ہوں۔ جسٹ چِل۔”وہ مسکرا کر بولا۔ اس کی دلفریب سی مسکراہٹ دیکھ کر تارا کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔

“تم میرے قریب ہو گے تو میں نے خاک چِل کرنا ہے۔”وہ منہ میں ہی بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔

“مجھے وہ زمانہ بہت یاد آتا ہے۔”وہ دھیرے سے اس کے بالوں کی لٹ کو چھوتا جذب کے عالم میں بولا تھا۔ تارا کا دھیان اس طرف نہیں گیا تھا۔

“کونسا؟”اس نے بے اختیار پوچھا۔

“جب ہم چھوٹے ہوتے تھے۔ میں زیادہ تر تمہارے پاس ہی سوتا تھا۔ تم میرا سر اپنی گود میں رکھ کر میرے بالوں کو سہلاتی تھی۔ مجھ سے بڑے پیار سے بات کرتی تھی۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا تم مجھ سے دور ہوتی گئی۔ اپنا عادی بنا کر مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔ “وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہہ رہا تھا اور ساتھ اس کے بالوں کی لٹ کو انگلی پر لپیٹ رہا تھا۔ تارا کئی پل اس کے لفظوں کے سحر میں جکڑی رہی تھی پھر ہوش میں آ کر جلدی سے اپنے بال چھڑوائے۔

“تم اب کچھ زیادہ ہی فری ہو رہے ہو۔”اسے کچھ اور سمجھ نہیں آیا تو یہی کہہ دیا۔ بالاج اس کی جھجھک سے محظوظ ہوتا ہنس پڑا تھا۔ تارا نے دانت پیستے ہوئے اسے دیکھا۔

“اچھا اچھا ناراض مت ہو۔ چلو آج کہیں باہر چلتے ہیں۔ “وہ اسے منانے لگا۔

“مجھے نہیں جانا کہیں۔”

“پلیز۔”بالاج نے مسکین سا منہ بنایا ۔

“نہیں آج میرا فیورٹ ڈرامہ لگے گا۔ کل چلی جاؤں گی۔”وہ نجانے کیوں مان گئی۔ بالاج کھل کر مسکرایا تھا۔

“جو حکم آپ کا۔”

“اچھا اب اٹھ جاؤ یہاں سے۔”وہ روہانسی ہو کر بولی۔

“میرا سر اتنا بھاری تو نہیں۔ جو تم تھک گئی۔ چلو میرے بالوں کو سہلا دو جیسے بچپن میں کرتی تھی۔”اس نے تارا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا۔ تارا تلملائی تو بہت لیکن انکار نہیں کر سکی تھی۔ بالاج کے بدلتے تیور اسے خوفزدہ کر رہے تھے۔ کل جیسے اس نے جرات کا مظاہرہ کیا تھا اگر پھر وہی کرتا تو تارا سے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جانا تھا سو چپ چاپ اس کی بات مان لی۔ اگر تارا کو یہ پتہ چلتا کہ وہ اس کی بے خبری میں اسے بوسہ بھی دے چکا ہے تو اس کا بے ہوش ہو جانا پکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساحل سمندر پر ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ میکال بلیک جینز پر براؤن شرٹ پہنے ہوئے تھا جبکہ ہانیہ کیپری پر گھٹنوں تک آتی فراک میں ملبوس تھی۔ وہاں بہت کم لوگ تھے۔ وہ ایک ساتھ قدم اٹھاتے آگے بڑھ رہے تھے۔ سمندر کی لہریں ان کے ہیروں کو چھو رہی تھیں۔ ہانیہ کی آج یہ خواہش پوری ہو چکی تھی کہ وہ کبھی اپنے ہمسفر کے ساتھ یوں ساحل سمندر پر چلے۔

“یہاں کوئی فوٹو گرافر نہیں ہے کیا؟”اس نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

“فوٹوگرافر؟ کیوں؟”میکال نے اچنبھے سے پوچھا۔

“پکس بنوانی تھیں آپ کے ساتھ۔ آپ کو پتہ ہے مجھے موویز میں وہ سین بہت اچھے لگتے تھے جس میں کپلز بیچ پر چل رہے ہوتے ہیں جیسے اب ہم چل رہے ہیں۔ میں اس منظر کو ہمشہ کیلیے قید کرنا چاہتی ہوں۔ کیوں نہ ہم ویڈیو بنا لیں۔ “وہ اپنی معصوم سی خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔ میکال دلچسپی سے اسے دیکھتا کچھ سوچنے لگا۔

“کسی میل فوٹوگرافر کو تو میں بالکل بھی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ ہماری ویڈیو بنائے۔ ہاں البتہ کسی لڑکی کی مدد لے سکتا ہوں۔”وہ کہہ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

“یہ کیا بات ہوئی؟”ہانیہ نے منہ بنایا۔ وہ کسی پروفیشنل فوٹوگرافر سے ویڈیو بنوانا چاہتی تھی۔ لیکن میکال ایک لڑکی کو بلا چکا تھا۔ وہ تو بڑی خوشی سے ان کی ویڈیو بنانے پر راضی ہو گئی تھی۔ میکال نے کمیرہ آن کر کے اسے اپنا فون دیا تو وہ کچھ قدم ان سے دور ہٹ کر ویڈیو بنانے لگی۔ میکال اور ہانیہ آہستہ سے بیچ پر چلنے لگے ۔ اس لڑکی نے سلومو کا ٹچ دے کر ویڈیو کو خوبصورت یادگار بنا دیا تھا۔ ہانیہ نے جب وہ ویڈیو دیکھی تو بہت خوش ہوئی اور مسکرا کر اس لڑکی کا شکریہ ادا کرنے لگی۔

“شکریہ کی ضرورت نہیں بس ایک سیلفی دے دیں تو بات بن جائے گی۔”وہ لڑکی میکال کو دیکھتی بولی تو ہانیہ کو پتنگے ہی لگ گئے۔

“جی کیوں نہیں۔ یہاں آئیں میں اپنی سیلفی دیتی ہوں آپ کو۔ “ہانیہ نے اسے اپنے قریب کھینچتے ہوئے کہا۔ میکال مسکراہٹ ضبط کیے اس کی جیلسی دیکھنے لگا۔

“لیکن میں نے اس لڑکے کی پک لینی تھی۔”وہ لڑکی منمنائی۔

“یہ دیں یا میں دوں ایک ہی بات ہے۔ ہم دونوں الگ تھوڑی ہیں۔ کیوں مائک؟”ہانیہ بظاہر مسکراتے ہوئے میکال کو دیکھ رہی تھی لیکن اس کی چبھتی نگاہوں میں غصہ وہ پہچان گیا تھا۔

“جی جی۔”میکال نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے جلدی سے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ لڑکی مایوس ہو گئی۔

“اچھا آپ دونوں مل کر سلیفی دے دو۔”وہ مصلحت پسند سے بولی۔

“ہمم ٹھیک ہے۔ “ہانیہ نے اس پر احسان کرتے ہوئے کہا تو وہ لڑکی اپنا فون آن کر کے کیمرہ نکالنے لگی۔ ہانیہ درمیان کھڑی ہوئی تھی۔ وہ لڑکی اس کے بائیں طرف تھی جبکہ میکال دائیں طرف تھا۔ کلک کی آواز سے سیلفی لے کر وہ لڑکی ان کا شکریہ ادا کرنے لگی اور چلی گئی۔

“کیا ضرورت تھی اس لڑکی سے مدد لینے کی۔ خوامخواہ ہی آپ سے فری ہو رہی تھی۔ “وہ بولی تو میکال ہنس پڑا۔

“یار تم میرے لیے جیلس ہوتی کتنی کیوٹ لگتی ہو۔ “میکال نے اس کا گال کھینچا۔

“مجھے غصہ آ رہا ہے اور آپ ہنس رہے ہیں۔ آپ جیسا شوہر ہو تو کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔”وہ بھڑکی۔ میکال کو اس کی باتوں پر مزید ہنسی آئی۔

“مسز وہ شوہر نہیں دوست ہوتا ہے۔ آپ نے غلط محاورہ بولا ہے ۔”

“ہاں جو بھی۔”اس نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا۔

“ویسے تمہارے خیال میں شوہر کو کیسا ہونا چاہیے؟”میکال نے اس کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے قریب کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ ہانیہ سٹپٹائی۔

“شوہر کو بیوی کی ہاں میں ہاں ملانی چاہیے۔”اس نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے اپنا خیال بتایا۔

“ابھی ملائی تو تھی ہاں۔”میکال نے اسے یاد کروایا۔

“اور جب بیوی کو غصہ آئے تو ہنسنا نہیں چاہیے۔”

“اوکے جی آئیندہ نہیں ہنسوں گا۔”

“اور دوسری لڑکیوں سے دور رہنا چاہیے۔”ہانیہ نے ایک اور ڈیمانڈ بتائی۔

“تو پھر بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ شوہر کو قریب آنے دے۔”اس کی بات پر ہانیہ کی سٹی گم ہوئی۔ میکال اس کے چہرے پر جھکا تو وہ پلکیں جھپکتی آنکھیں بند کر گئی تھی۔ میکال نے نرمی سے اس کے لبوں کو چھوا تھا۔ ہانیہ کو اپنا آپ کسی فسوں میں جکڑتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بالاج نے تارا کو مری کی کئی جگہوں کی سیر کروائی تھی اور شاپنگ بھی کروائی۔ وہ کافی حد تک اس سے فرینک ہو چکی تھی اور آہستہ آہستہ ناراضگی بھول رہی تھی۔ بالاج کا ساتھ اسے پیارا لگنے لگا تھا۔ اس کی باتیں سننا اسے اچھا لگنے لگا تھا۔ شاید وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی لیکن وہ ابھی بھی اپنی کیفیت سے انجان تھی۔ اگر جانتی ہوتی تو اپنے دل کو وہیں روک لیتی لیکن اس کا دل چپکے سے باغی ہو رہا رہا تھا۔

وہ سہ پہر تک وہ گھر لوٹے تھے۔ تارا ہال کی کھڑکی سے گھر کے قریب ہی بہتی ایک آبشار کو دیکھ رہی تھی جو زمین پر آ کر ایک ندی کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ وہ ندی اور آبشار اسے بچپن سے پسند تھی لیکن کبھی وہ وہاں نہیں گئی تھی اور ندی کے پار سیب اور مالٹوں کے باغات میں جانے کا اسے بہت شوق تھا لیکن کبھی موقع نہیں ملا۔

بالاج نے اسے کھڑکی میں کھڑے دیکھا تو اس کے قریب آیا۔ اس کی نظروں کے تعاقب میں وہ خوبصورت سی ندی کو دیکھنے لگا۔

“وہاں چلیں؟”اس نے تارا کو دیکھا۔

“ہاں۔”وہ بے اختیار بولی تھی۔ اس کی ایکسائٹمینٹ دیکھ کر وہ مسکرا دیا۔

“تو چلو پھر۔”وہ دونوں گھر سے نکل کر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ندی کے قریب آ گئی۔ ندی اتنی گہری نہیں تھی لیکن پانی کا بہاؤ تیز تھا۔ اس میں سے چل کر جانا مشکل تھا ۔ لیکن کچھ پتھروں کی مدد سے دوسری طرف جانے کا راستہ تھا۔

“مجھے اس باغ میں جانا ہے۔”وہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بولی تھی۔

“ان پتھروں پر چل لو گی؟”اس نے کہا تو تارا نے پتھروں کی طرف دیکھا۔

“ہاں چل لوں گی۔”اسے ندی پار کرنا آسان ہی لگا تھا۔

“میرا ہاتھ پکڑ سکتی ہو۔”بالاج نے اسے مدد کی آفر کی۔

“نہیں۔”وہ ناک چڑھا کر نخوت سے بولی تھی۔

بالاج سر ہلا کر آگے بڑھا اور تارا اس کے پیچھے ہو لی۔ بالاج تو بڑی آسانی سے پتھروں پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھ رہا تھا لیکن تارا کو مشکل ہو رہی تھی۔ وہ دونوں بازو پھیلائے جھومتے ہوئے چل رہی تھی۔ بالاج آخری پتھر پر آ کر رکا اور مڑا۔ تارا نے اس سے پچھلے پتھر پر پاؤں رکھا تو نیچے گرنے لگی لیکن بالاج نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ تارا کا دل ڈر کے مارے دھک دھک کرنے لگا تھا۔

“آرام سے آؤ۔ ڈرو نہیں۔”بالاج اسی پتھر پر تھوڑا سا پیچھے ہو کر اسے پاؤں رکھنے کی جگہ دیتے ہوئے بولا تھا۔ وہ پتھر اتنا بڑا تھا کہ وہ دونوں آسانی سے وہاں کھڑے ہو سکتے تھے۔ اگر بالاج آگے بڑھتا تو اسے تارا کا ہاتھ چھوڑنا پڑنا تھا اور اب تارا اس کے سہارے کے بنا آگے نہیں بڑھ سکتی تھی سو گہری سانس کھینچتے ہوئے احتیاط سے پہلے ایک پاؤں بالاج کے پاؤں کے قریب رکھا اور دوسرا پاؤں بھی اس پتھر پر رکھنے ہی والی تھی کہ پاؤں سلپ ہو گیا۔

“بالاج……!”وہ چیخی۔ اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی بالاج اس کی نازک سی کمر میں بازو حمائل کر کے خود سے لگا چکا تھا۔ نیچے گرنے کا خوف اور بالاج کی قربت ، دونوں نے ہی تارا کے حواس معطل کر دیے تھے۔ اس کا ایک پاؤں ہوا میں ہی معلق تھا اور اگر بالاج اسے چھوڑتا تو اس نے نیچے گر جانا تھا۔ اب وہ اسے چھوڑنے کا بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ جبکہ بالاج ساکت سا ارد گرد سے بیگانہ بہت قریب سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ بس اسے محسوس کر رہا تھا۔ تارا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی ۔ شاید وہ محبت تھی لیکن تارا سمجھنے سے قاصر تھی تبھی اسے عجیب لگی تھی۔ وہ زیادہ دیر اس کی نظروں کی تاب نہیں لا سکی تھی۔ اور پلکیں جھکا گئی تھی۔ اس کا سرخ ہوتا چہرہ اور اٹھتی گرتی پلکیں بالاج کے دل کو دیوانہ کر گئی تھیں۔تارا اس سے شرما رہی تھی۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ اس کا دل کیا تھا ساری زندگی یہی اس کے ساتھ گزار دے۔

“بالاج…….”وہ روہانسی ہوئی۔

“ہمم۔”وہ اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔

“میں گرنے والی ہوں۔ کچھ کرو۔”

“کیا کروں؟”وہ بڑی آسانی سے اسے ساتھ لے کر زمین تک پہنچ سکتا تھا لیکن وہ ابھی تارا کو مزید تنگ کرنا چاہتا تھا۔

“مجھے ڈر لگ رہا ہے بالاج۔”وہ کانپتے ہوئے بولی تھی۔ اسے بالاج پر بھروسہ نہیں تھا۔ اسے لگ رہا تھا بالاج اور وہ دونوں ابھی ہی ندی میں گر جائیں گے۔

“تمہیں ڈر بھی لگتا ہے۔ حیرت ہے۔”اس نے بڑے مزے سے کہا۔

“چھوڑو مجھے۔ میں خود ہی چلی جاؤں گی۔”وہ اکتا کر غصے سے بولی۔

“اگر میں نے تمہیں چھوڑا تو اگلے ہی پل تم پانی میں گرو گی۔ “بالاج نے اطلاع دی۔

“تو پھر کیا ہم یہیں کھڑے رہیں گے۔ پلیز مجھے اس مشکل سے نکالو۔ “اس نے بالآخر منت کی۔

“کیسے نکالوں۔ اگر میں تمہاری مدد کروں تو تمہیں برا لگتا ہے۔ کہتی ہو میرے قریب مت آنا ۔ “

“تو اب کونسا دور ہو۔ طعنے بعد میں مار لینا پہلے مجھے یہاں سے لے کر جاؤ۔”وہ رونے والی ہو گئی۔

“اوکے پھر مجھے کچھ نہ کہنا۔” بالاج نے ذرا سا جھک کر اسے دونوں بازوؤں میں بھر لیا۔ تارا اس کے گلے میں بازو حمائل کرتی چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔ بالاج نے مسکرا کر سر جھٹکا اور ایک لمبا قدم بھر کر خشکی پر آ گیا۔ تارا نے ڈرتے ہوئے آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا تو شکریہ کا سانس لیتی پھر اس کے شانے پر سر ٹکا گئی تھی۔ بالاج کو اس کی یہ ادا بہت پیاری لگی تھی۔ وہ اسے نیچے اتارے بنا آگے بڑھنے لگا تھا۔

“مجھے نیچے اتار دو اب ۔”تارا اس کی طرف دیکھے بنا شرمندگی سے بولی تھی۔ بالاج نے پھر اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر کے نیچے اتار دیا۔ لیکن اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ڈر کی وجہ سے ابھی بھی کانپ رہی تھی۔

“اوہ تارا جو ابھی بھی ڈر لگ رہا ہے؟”وہ اسے تنگ کرنے لگا جیسے کبھی وہ اسے ڈرتے دیکھ کر مذاق اڑاتی تھی۔ تارا خوف بھوک کر اسے گھورنے لگی۔

“شٹ اپ۔ تم سے مدد کیا لے کی تم تو اوور ہی ہو رہے ہو۔”وہ نروٹھے پن سے کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ بالاج صدمے سے اسے کچھ پل دیکھتا رہا پھر اس کے ہم قدم ہو گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ کتنی پھیکی فش ہے۔ مجھ سے نہیں کھانے ہو رہی۔”ہانیہ نے ناک چڑھا کر کہا تھا۔ وہ دونوں بیچ کے قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر پر آئے ہوئے تھے۔ میکال نے فرائیڈ فش آرڈر کی تھی جو وہاں کی مقامی ریسپی کے مطابق بنائی گئی تھی۔ اس میں مرچ تو ذرا بھی نہیں تھی صرف نمک تھا وہ بھی تھوڑا سا۔

“کچھ اور منگوا دوں۔”میکال نے کہا۔ وہ ہانیہ کے کھانے پینے کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ہانیہ بہت کم کھاتی تھی اور جب کچھ پسند نہ آتا تو بالکل بھی نہ کھاتی۔ بس فاسٹ فوڈ جتنی مرضی چاہے کھلا دو۔ نہ نہیں کرے گی۔

“ہممم۔ پیزا منگوا دیں۔”وہ نخرے کرنے والے انداز میں بولی تو میکال نے ویٹر کو بلا کر سپائسی پیزا آرڈر کیا۔ ہانیہ اب رغبت سے کھانا کھانے لگی تھی۔

“میکال آپ یہ والی فش خرید لیں ۔ میں خود پکاؤں گی گھر جا کر۔”اس نے کہا تو میکال نے اسے تعجب سے دیکھا۔

“تمہیں کوکنگ آتی ہے؟”

“ہاں نا۔ میں بہت اچھی کوکنگ کرتی ہوں۔ اتنی مزے کی فش بناؤں گی کہ آپ انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے۔”وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنی۔

“ارے نہیں تم رہنے دو ۔ یہ نہ ہو کچھ الٹا سیدھا بنا دو۔ مجھے اپنا پیٹ خراب نہیں کروانا۔ “اسے یقین نہیں تھا کہ ہانیہ اچھا کھانا پکا لے گی۔ اگر غلط بن گیا تو اسے ہی کھانا ہرنا تھا۔

“آپ کے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ میں کوکنگ نہیں کر سکتی؟”وہ غصے سے تلملائی۔

“نہیں سویٹی میرا وہ مطلب ……”

“میں آپ کا مطلب اچھے سے سمجھ چکی ہوں اور اب آپ کو بھی اچھی طرح سمجھاتی ہوں۔ “وہ کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ کیا کرنے والی تھی۔ میکال نے الجھ کر سوچا۔ ہانیہ اسے تیکھی نگاہوں سے گھورتی ریسٹورنٹ کے کچن کی جانب بڑھی جو وہیں ریسیپشن ہر تھا۔ میکال بھی اٹھ کر اس کے پیچھے لپکا۔

“ایکسکیوز می۔ کیا میں آپ کے کچن میں ایک ریسپی ٹرائے کر سکتی ہوں؟”اس نے ایک شیف سے پوچھا جو شاید اس ریسٹورنٹ کا مالک بھی تھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن ہانیہ پھر بول ہڑی۔

“پلیز انکار مت کیجیے گا۔ پیسے چاہے جتنے لے لیں۔ “وہ میکال کا بازو تھام کر بولی تھی۔ مطلب وہ میکال کا ہی خرچہ کروانے والی تھی۔

“وائے ناٹ۔”شیف خوش ہوتے ہوئے بولا تھا۔ ہانیہ خوشی سے مسکراتی میکال کو ایک نظر دیکھ کر ریسیپشن کے پیچھے آ گئی۔ میکال نے سر جھٹکا اور اس کے پاس آ گیا۔

وہ ریسٹورینٹ اتنا جدید نہیں تھا لیکن اس کے کچن میں تقریباً ہر چیز موجود تھی۔ دو تین شیفز تھے وہاں جو ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہو چکے تھے اور دلچسپی سے ہانیہ کی ریسپی بنتے دیکھنے لگے تھے۔ ہانیہ نے مچھلی لے کر اسے صاف کیا اور دھو کر اسے کٹ لگائے۔ پھر ڈھیر ساری چیزیں ملا کر ایک سپائسی مصالحہ تیار کیا اور مچھلی کو لگا کر اسے آئل میں فرائی کیا۔ بیس منٹ میں ہی وہ ڈش تیار کر چکی تھی۔

“آپ نے تو چیک کرنی نہیں میں کسی اور سے کروا لیتی ہوں۔”ہانیہ میکال سے کہہ کر ایک شیف کی طرف متوجہ ہوئی۔

“چیک کر کے بتائیں کیسی بنی ہے؟”وہ پلیٹ اس شیف کی طرف کرتے ہوئے بولی لیکن میکال نے اپنی طرف کھینچ لی۔

“میں چیک کروں گا۔”وہ ضدی لہجے میں بولا تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی اور اس کے ہاتھ کی بنی ڈش کھانے کا حق پہلے اسی کو تھا۔ یہی سوچ کر وہ ہانیہ کی ڈش کھانے پر تیار ہو گیا تھا۔ اس نے کانٹے سے فش کا ایک ٹکڑا اتار کر منہ میں ڈالا تو اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا تھا۔ اتنی مزے کی فش بنی تھی۔ اس نے پہلے کبھی اتنی مزے کی نہیں کھائی تھی۔ مصالحہ تیز تھا لیکن ڈش کمال کی تھی۔ میکال نے مسکراتے ہوئے اسے تھمبز اپ کا اشارہ کیا تھا۔ ہانیہ کھل کر مسکرائی تھی۔ پاس کھڑے شیفز اس کپل کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔

“اب یقین آیا میری کوکنگ پر۔”وہ اترائی۔

“یقین کیا ایمان بھی آ گیا۔”وہ فش کھانے لگا۔

“ساری اب خود ہی نہ نا کھا جائیں۔ انہیں بھی چیک کروانی ہے میں نے “ہانیہ نے اسے گھرکا۔

“یہ تو میں کسی کو بھی نہیں دینے والا۔ خود بنا لیں یہ۔”وہ دو ٹوک لہجے میں بولا تھا۔ ہانیہ نے شرمندگی سے ان شیفز کو دیکھا۔

“کوئی بات نہیں میڈم۔ ہم خود بنا لیتے ہیں۔ ریسپی تو دیکھ ہی چکے ہیں۔ اگر ریسپی اچھی ہوئی تو ہم اسے مینیو میں شامل کر لیں گے۔”ایک شیف بولا۔

“رئیلی؟”وہ خوشی سے چلائی۔ شیفز مسکرا دیے۔ پھر انہوں نے ہانیہ کی رہنمائی میں ہی وہ ڈش تیار کی ۔ انہیں وہ سپائسی فش واقعی بہت پسند آئی تھی۔ انہوں نے اس ڈش کو بھی اپنے ریسٹورینٹ کے مینیو میں شامل کر لیا تھا۔ ہانیہ تو ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ اور میکال اسے خوش دیکھ کر مسکرانے لگا تھا۔