Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 6
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 6
Tara Ka Chand by Dua Fatima
“کیا کر رہے ہو تم یہاں؟”اس کی غصے سے بھری آواز سن کر چاند نے تھوک نگلا۔ ڈرو نہیں۔ کچھ سوچو۔ چاند خود کلامی میں بڑبڑایا۔
“م…..میں ……. مچھر…… ہاں میں مچھر مار رہا تھا۔”وہ بمشکل بولتا مڑا تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ تارا سو رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرے پر وہی معصومیت تھی جس نے چاند کو مرسمرائز کیا تھا۔ اگر وہ جاگی ہوتی تو اب تک چاند کی آدھی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہوتیں۔ وہ خواب میں اسے ڈانٹ رہی تھی۔ چلو وہ اس کے خواب میں تو آتا تھا۔ یہ سوچ کر چاند نے سینے میں اٹکی سانس خارج کی اور دلفریب سا مسکراتا کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
صبح اذانوں کی آواز سن کر تارا کی آنکھیں کھلی تھیں۔ حسیات بیدار ہوتے ہی اسے گلاب کی بھینی بھینی مہک محسوس ہوئی تھی۔ وہ آسودگی سے آنکھیں بند کر گئی تھی ۔ کچھ پل گزرے تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔گلاب کی خوشبو اور اس کے کمرے میں؟…..کیسے؟ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی تو اس کی نظر سرہانے کے ساتھ رکھے گلاب کے خوبصورت سے پڑی۔ اسے سخت حیرت ہوئی تھی۔ جب وہ رات کو سوئی تھی تو یہاں کوئی پھول نہیں تھا لیکن۔ اب کیسے آ گیا؟ اس نے گلاب کے پھول کو اٹھاتے ہوئے تعجب سے سوچا۔ کیا رات کو کوئی اس کے کمرے میں آیا تھا۔ اس کی نظر بے ساختہ کھڑکی کی طرف اٹھ تھی جو رات کی نسبت تھوڑی سی زیادہ کھلی ہوئی تھی۔ کون آیا تھا؟ یہ اگلا سوال تھا۔ اور جو نام اس کے دماغ میں آیا تھا وہ اسفر کا تھا۔ اسے لگا تھا اسفر رات کو اس کے کمرے میں آ کر پھول رکھ کر گیا ہے۔ غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ یہ اس کے نزدیک بہت بڑی غلطی تھی جس کی معافی نہیں تھی۔ اس نے اسی وقت سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور اسفر کو کال ملائی۔
دوسری طرف اسفر جو گہری نیند کے مزے لے رہا تھا فون کی گھنٹی بجنے پر جاگ گیا ۔ اسے فون کرنے والے کر سخت غصہ آیا تھا لیکن سکرین پر تارا کا نام دیکھ کر اس کی نیند بھک سے اڑ گئی تھی۔ نیم وا آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔
“آج صبح ہی صبح ہماری یاد کیسے آ گئی؟”وہ فون کان سے لگا کر سرشار لہجے میں پوچھنے لگا۔
“یہ کیا طریقہ ہے اسفر؟…… آپ پاگل تو نہیں ہو گئے؟”وہ چھوڑتے ہی اس کر چڑھ دوڑی۔ اسفر کو اچنبھا ہوا۔
“کیا مطلب؟”
“آپ رات کو میرے کمرے میں آئے تھے؟”وہ سخت لہجے میں پوچھ رہی تھی۔ اسفر کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔
“واٹ؟……میں رات کو تمہارے کمرے میں کیوں آؤں گا؟…… کہیں تم نے خواب میں تو نہیں مجھے اپنے کمرے میں دیکھا؟”وہ خوش ہوتے بولا۔ جبکہ تارا ٹھٹکی تھی۔ اگر اسفر نہیں آیا تھا تو پھر کون تھا وہ۔
“لیکن وہ پھول…..؟”وہ الجھ کر بڑبڑاتی تھی۔
“کونسا پھول؟”اب کی بار اسفر بھی چونکا تھا۔
“کچھ نہیں۔ مجھے بس وہم ہوا تھا کہ کوئی میرے کمرے میں آیا تھا۔ اس لیے آپ سے کنفرم کر لیا۔ سوری فار دس ڈسٹرببینس۔ آپ سو جائیں۔ میں فون رکھتی ہوں۔”وہ تیزی سے بول کر فون کاٹ گئی۔
“جگا کر کہتی ہے سو جاؤ۔”اسفر نے جمائی لیتے ہوئے لاپرواہی سے سوچا تھا جبکہ دوسری جانب تارا کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہہ پہر کا وقت تھا۔ تارا چاند اور ہانیہ کے سامنے کرسی پر بیٹھی بظاہر تو کتاب پڑھ رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر چھائی الجھن یہ پتہ دے رہی تھی کہ وہ کچھ اور سوچ رہی ہے۔ چاند کب سے اسے کن اکھیوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہ رہا تھا کہ اس کے کارنامے کا تارا پر کیا اثر ہوا ہے۔ اسے مضطرب دیکھ کر وہ بھی بے چین ہو چکا تھا۔
تارا کو محسوس ہوا کہ چاند پچھلے پانچ منٹ سے اسے گھور رہا ہے تو اس نے یکدم نظریں اٹھا کر چاند کو دیکھا۔ چاند کو شاید پھر سے اسے مبہوت ہو کر دیکھنے کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ وہ اس سے نظریں ہٹا نہیں پایا تھا۔ اس کی نظروں کا پیغام تارا کی سمجھ سے باہر تھا۔
“ہیلو….. کدھر گم ہو؟ ….. سبق کتاب پر لکھا ہے میرے منہ پر نہیں۔”تارا نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔ چاند گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ہانیہ نے بھی ایک نظر تعجب سے اسے دیکھا تھا۔
“اہممم….. وہ مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا۔”وہ جھجھکتے ہوئے بولا۔
“پوچھو؟”
“تم …. اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟”اس کے پوچھنے پر تارا چونکی۔ کیا وہ سچ میں چہرے سے پریشان لگ رہے تھی۔
“نہیں تو۔”اس نے جھوٹ بولا تھا۔ چاند جان گیا تھا۔
“اگر کوئی پریشانی ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو۔”وہ پہلی دفعہ براہ راست اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا تھا۔ تارا اسے ڈپٹنے ہی والی تھی کہ اسے کل والا واقعہ یاد آیا ۔ وہ چاند سے کہہ رہی تھی کہ وہ اپنی ہر پریشانی اسے بتایا کرے کیونکہ اس کیلیے پریشان ہونا تارا کا حق تھا۔اب وہ اسے اپنے لیے پریشان ہونے سے کیسے منع کرتی۔
“کیا کرو گے جان کر؟”وہ دلچسپی سے پوچھنے لگی۔
“ہو سکتا ہے میں تمہاری کوئی مدد کر سکوں۔”اس نے اب بھی نظریں تارا کی آنکھوں سے ہٹائی نہیں تھیں۔ تارا ہنس پڑی۔
“تم….. میری مدد کرو گے؟”تارا کو جیسے اس پر بھروسہ نہیں تھا۔
“ہاں۔ میں تمہاری مدد کیوں نہیں کر سکتا؟”
“پہلے اپنی مدد تو کر لو۔”ہانیہ نے بیچ میں لقمہ دیا۔ چاند اسے دیکھ کر دانت پیسے۔
“اچھا بس ۔ لڑنے مت لگ جانا۔ پڑھو چپ کر کے۔”تارا نے دونوں کو فل سٹاپ لگایا۔
“پہلے تم اپنی پریشانی بتاؤ۔”چاند کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
“کہا نا کوئی پریشانی نہیں۔ “تارا نے سپاٹ لہجے میں کہا تو وہ چپ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“او نہیں یار …. چوتھے گئیر میں ڈال…..”زاہد چاند کو بائیک چلانا سکھا رہا تھا۔ تارا کو امپریس کرنے کیلیے یہ اس کا نیا پلان تھا۔ پہلے تو فیل ہو چکے تھے۔ اب اس نے ناول میں پڑھا تھا کہ ہیرو بائیک ریسر ہوتا ہے۔ جبکہ اسے بائیک کی الف بے بھی نہیں پتہ تھی۔ وہ گاڑی تو ڈرائیو کر لیتا تھا لیکن ناول کے ہیرو کو بائیک چلانی آتی تھی تو اسے بھی یہ سیکھنا تھا۔ اس کے دوست زاہد کی ہیوی بائیک تھی جسے اس وقت وہ چلانے کی کام کوشش کر رہا تھا۔
“اوہو کیا کر رہا ہے کلچ چھوڑ۔….اوہ ……اوہ”زاہد اسے ابھی سمجھا رہا تھا کہ اچانک سے پتہ نہیں کیا ہوا۔ بائیک ایک دم سے تیز سپیڈ کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ چاند بوکھلا کر اسے روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس سے بائیک سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ زاہد کو یقین ہو گیا تھا اب نہ تو اس کی بائیک بچے گی اور نہ ہی چاند کی ہڈیاں۔وہ بے چارہ چیختا ہوا اس کے پیچھے بھاگا تھا لیکن اس سے پہلے چاند بائیک سمیت گر چکا تھا۔ اس کی دائیں ٹانگ اور بازو بری طرح زخمی ہوا تھا۔ کندھے کی ہڈی میں درد نکل گیا تھا اور دائیں پاؤں پر بھی موچ آ گئی تھی البتہ سر پھٹنے سے بچ گیا تھا۔درد کہ شدت بہت زیادہ تھی۔ وہ اپنے حواس کھونے لگا تھا۔
“چاند …..چاند…. اٹھو۔”زاہد بھاگتا ہوا اس کے قریب آ چکا تھا اور سخت پریشانی سے اسے پکارنے لگا تھا۔ ارد گرد لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔ ایک شخص نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے اٹھایا اور تیزی سے اپنی کار میں ڈال کر ہاسپٹل کی جانب بڑھ گیا۔ زاہد بھی اس کے ساتھ ہی ہاسپٹل گیا تھا۔
کچھ دیر یہ خبر سب گھر والوں کو ہو چکی تھی۔ پریشانی سی ان سب کا برا حال ہو گیا تھا ۔ تارا جو اتنی مضبوط تھی یہ خبر سن کر رونے لگی تھی۔ وہ سب ایک ساتھ ہی ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوئے تھے ۔ ان کے پہنچنے تک ڈاکٹرز چاند کو ٹریٹمنٹ دے چکے تھے۔ ہڈیوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ بس پاؤں پر ہلکی سی موچ آنے کی وجہ سے ڈاکٹر نے دو تین دن اسے چلنے پھرنے سے منع کیا تھا۔ وہ تو شکر تھا کہ اگلا پیپر دو دن بعد ہی تھا ورنہ اسے بہت مشکل ہوتی۔ دائیں بازو اور ٹانگ بھی زخمی ہونے کی وجہ سے بہت درد کر رہے تھے۔ باقی سب اسے مشکل میں دیکھ کر چپ تھے لیکن تارا سے غصہ ضبط نہیں ہوا تھا۔
“کیا تھا یہ ہاں؟ کیا کر رہے تھے تم؟ کیوں موٹر بائیک چلانے کی کوشش کی ….. بولو؟”وہ اس کے سر پر کھڑی چیخ رہی تھی۔ چاند اب اسے کیا بتاتا وہ کس لیے یہ سب کر رہا تھا۔
“میرا دل کر رہا تھا۔”وہ منمنایا۔
“اور میرا دل پتہ کیا کر رہا ہے؟ “وہ دانت کچکچا کر بولی۔ طانیہ بیگم کو بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ان کے بیٹے کو اس حالت میں بھی ڈانٹ رہی ہے لیکن شوہر کے سامنے وہ تارا کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔
“اچھا بس کرو نا تارا۔ وہ پہلے ہی اتنا درد برداشت کر رہا ہے۔”عرفہ بیگم نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
“علاج ہے اس کا۔ اور کرے اپنی من مانیاں۔ حد نہیں ہو گئی۔ موٹر بائیک چلانی سیکھ رہا ہے اور وہ بھی اپنے نکمے دوست سے جو خود ابھی اناڑی ہے۔ “وہ غصے سے سر جھٹک گئی تھی۔ چاند دل ہی دل میں اسے اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ کر خوش ہو رہا تھا۔
” آئیندہ اگر کبھی موٹر بائیک کو ہاتھ بھی لگایا نا تم نے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنے لگی۔
“کیوں….؟”چاند نے اچانک پوچھا تھا۔ تارا نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔ پہلے تو کبھی اس نے ایسے سوال و جواب نہیں کیا تھا۔
“میں بائیک کیوں نہیں چلا سکتا؟”وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
“کیوں کہ تمہیں چلانی نہیں آتی۔”تارا کو اس کی بات پر غصہ آیا۔
“تو سیکھوں گا تو چلانی آئے گی نا۔”وہ بھی دو بدو بولا۔
“کوئی ضرورت نہیں۔ گاڑی ہے نا۔ وہی چلاؤ۔”وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔
“یہی….. آپ سب لوگوں کی اسی بات کی وجہ سے میں کمزور ہوں۔ مجھے ذرا سی مشکل پیش آتی نہیں آپ لوگوں کی جان پر بن آتی ہے۔ بھئی اگر آپ مجھے مشکل کا سامنا ہی نہیں کرنے دیں گے تو میں کیسے آگے بڑھوں گا۔ آپ سب ابھی بھی مجھے بچہ سمجھ کر ٹریٹ کرتے ہیں۔ میں جو بھی کرنا چاہتا ہوں اس سے روک دیتے ہیں۔ اور تارا تم نے کہا تھا کہ میں اپنے فیصلے خود کیا کروں۔ اب یہ فیصلہ میں کیا تھا تو تم مجھے منع کر رہی ہو۔”اس کی بات تو واقعی ٹھیک تھی۔ وہ سب کا لاڈلا تھا اس لیے اسے کسی مشکل میں پڑنے نہیں دیتے تھے ۔ شاید اسی وجہ سے وہ کمزور تھا۔ تارا بھی اس کی بات سے متفق تھی ۔ لیکن اپنے دوست سے بائیک چلانا سیکھنا کہاں کی عقلمندی تھی۔
“تمہیں کوئی ڈھنگ کا فیصلہ کرنا آتا ہے یا نہیں؟”تارا نے کہا۔
“اب جتنا میرا دماغ ہو گا اس کے حساب سے ہی فیصلہ کروں گا نا۔”وہ منہ بنا کر بولا تھا۔ تارا گہرا سانس بھر کے رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس حادثے کو گزرے چوتھا دن تھا۔ وہ زیادہ چلنے پھرنے سے گریز کر رہا تھا۔ سٹڈی بھی اپنے کمرے میں کی کرتا تھا۔ تارا اس کے کمرے میں آ کر پڑھا جاتی تھی۔
اب شام کے سات بج رہے تھے۔ وہ کمرے میں بہت بور ہو رہا تھا۔ پڑھنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ تارا کی یاد بھی آ رہی تھی۔ وہ اس کی سوچوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا اسی لیے کچھ سوچ کر اٹھا اور رائٹنگ ٹیبل کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ آن کر لیا اور پب جی کھیلنے لگا۔ ایک ہاتھ ماؤس پر رکھے اور دوسرے ہاتھ سے لیپ ٹاپ کے بٹنز دباتے ہوئے وہ سکرین کی طرف دیکھتا دھڑا دھڑ دشمنوں کا صفایا کرنے لگا تھا۔
تارا نے آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں دیکھا تو چاند لیپ ٹاپ پر گیم کھیلتا نظر آیا۔ اسے تپ چڑھا۔ کل کیمسٹری کا پیپر تھا اور وہ گیم کھیل رہا تھا۔ تارا دانت پیستی اس کے قریب آئی۔ چاند نے ایک بندے کو گرایا تو سامنے ایک اور آ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کا مقابلہ کرتا تارا نے اس کا ماؤس والا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے ایک سائیڈ پر کر دیا۔ اسی وقت دشمن نے اسے گولیوں سے اڑا دیا۔ یہ کچھ ہی لمحوں کا کھیل تھا۔
“شٹ!”وہ غم و غصے سے بولا اور دائیں طرف دیکھا جہاں تارا کھڑی اسی خشمگیں نظروں سے گھور رہی تھی۔ اس کے چہرے کے تنے تاثرات یکدم ڈھیلے پڑے تھے۔ اسے لگا تھا ہانیہ نے اس کی گیم خراب کی ہے لیکن یہ تو اس کی دشمن جاں تھی۔ اس پر وہ کیسے غصہ کر سکتا تھا۔
“یہ تم پڑھ رہے ہو؟”تارا نے چبھتے لہجے میں پوچھا۔
“پڑھ پڑھ کر میرا دماغ گھوم گیا ہے۔ اب تھوڑا ریلیکس بھی نہ کروں؟”وہ منہ بسور کر بولا۔
“گیم کھیل کر دماغ اور آنکھوں کو خرچ کر رہے ہو۔ یہ کیسا ریلیکس ہوا؟”
“مائینڈ فریش کیلیے گیمز ضروری ہوتی ہیں۔”اس نے تارا کے علم میں اضافہ کیا۔
“وہ گیمز آؤٹ ڈور ہوتی ہیں جو مائینڈ فریش کرتی ہیں۔ “تارا نے اس کے سر پر چپت لگائی۔
“ہاں تو وہ بھی کھیلتا ہوں نا میں۔ کرکٹ تو تھوڑی بہت مجھے آتی ہے۔ اب میں فٹ بال اور باسکٹ بال کھیلنے کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں۔ ایک دفعہ پیپرز ختم ہو جائیں تو جم جانا بھی سٹارٹ کر دوں گا۔”اس نے تارا کے سامنے اپنے نمبر بنائے۔
“میں نوٹ کر رہی ہوں کچھ دنوں سے تم عجیب نہیں ہو گئے؟”تارا اچنبھے سے بولی۔
“کیا مطلب عجیب؟”وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا۔
“مطلب تم پہلے تو ایسے نہیں تھے۔ تمہیں اپنی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ اب تم خود کو بہتر بنا رہے ہو۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟”
“وجہ “وہ زیر لب مسکرایا۔ وجہ تو وہی تھی۔ کاش وہ اتنا بہادر ہوتا کہ اسے وجہ بتا سکتا۔
“ہمم۔”تارا وجہ سننے کو منتظر تھی۔
“ایک منزل ہے جو مجھ سے بہت دور ہے۔ راستہ بھی بہت دشوار ہے۔ لیکن مجھے اس منزل کو پانا ہے۔ اسی کے سفر کی تیاری کر رہا ہوں۔”وہ پرسوچ انداز میں بولتا کہیں سے بھی بچہ نہیں لگ رہا تھا۔ آج پہلی دفعہ تارا کو وہ بڑا لگا تھا۔ اس کی زومعنی باتیں تارا کو سمجھ نہیں آئی تھیں۔
“کیا کہہ رہے ہو؟ ….. اتنی گہری باتیں؟ …… کہیں ناولز وغیرہ تو نہیں پڑھنے لگے؟”تارا نے ناک سکوڑ کر پوچھا۔ ناول کا سن کر وہ گڑبڑایا تھا۔
“نہیں تو۔ میں بھلا ناول کیوں پڑھنے لگا۔ اور تمہیں میری باتیں کسی ناول کا ڈائیلاگ لگ رہی ہیں؟”وہ خفگی سے پوچھنے لگا۔
“ویل تو یہ تمہاری اپنی سوچ ہے۔ اچھی ہے۔ اسی طرح محنت کرتے رہنا تو منزل کو پا لو گے۔ میری طرف سے گڈ لک۔” تارا نے اس کا کندھا تھپکا۔ وہ پراسرار سا مسکرا دیا۔ منزل خود اسے کامیابی کی دعا دے رہی تھی۔ یہ بات اس کیلیے امید کی کرن جیسی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماما مجھے امبر کی منگنی پر جانا تھا آج اور ڈرائیور ہی نہیں ہے۔ اب میں کیسے جاؤں؟”تارا لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے پریشان سے لہجے میں پوچھنے لگی۔ چاند جو عرفہ بیگم کے پاس ہی بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا اور ساتھ میں ان کے بنائے گئے فرنچ فرائز سے انصاف بھی کر رہا تھا چونک کر سامنے دیکھنے لگا جہاں تارا بلیک فراک پہنے اور بڑی سی شال کو اپنے گرد لپیٹے پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ اس سے نظریں ہٹانا چاند کیلیے مشکل ہو گیا تھا۔
“میں لے جاتا ہوں۔”وہ عرفہ بیگم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بول اٹھا۔
“نہیں تمہاری مہربانی۔ تم ذرا بیٹھ کر پڑھ لو۔ کل آخری پیپر ہے تمہارا۔”تارا نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔ چاند کا منہ لٹک گیا۔
“ٹھیک تو کہہ رہا ہے بچہ۔ اب شام ہونے والی ہے۔ اکیلے تو میں تمہیں نہیں بھیجوں گی۔ چاند چھوڑ بھی آئے گا اور واپس بھی لے آئے گا۔ “عرفہ بیگم نے چاند کا ساتھ دیا تو وہ خوش ہو گیا۔
“اچھا چلو پھر جلدی۔”وہ جیسے احسان کرتے ہوئے بولی تھی۔ چاند کو بھی اور کیا چاہیے تھا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر اس کے ساتھ لپکا تھا اور اس سے پہلے گاڑی تک پہنچ کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔ تارا ایک نظر اس پر ڈال کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور چاند نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔ وہ بہت اچھی گاڑی چلاتا تھا۔ سپیڈ بھی کم ہی رکھتا تھا۔ اور اکثر تارا اور ہانیہ کو کہیں باہر شاپنگ پر لے جاتا تھا۔ لیکن اب وہ موٹر سائیکل سے گرا تھا تو تارا کو یہ ڈر تھا وہ گاڑی بھی کہیں ٹھوک نہ دے۔
“دھیان سے چلاؤ گاڑی۔”وہ پیچھے دیکھتے ہوئے گاڑی کو گلی سے نکالنے کیلیے ریورس کر رہا تھا جب تارا نے اسے کہا۔
“دھیان سے ہی چلا رہا ہوں۔”وہ منہ بنا کر بولا۔
“تمہارا کچھ پتہ نہیں کہاں ٹھوک دو۔”
“تارا تمہیں مجھ پر یقین کیوں نہیں ہے؟”وہ شاکی لہجے میں پوچھنے لگا۔
“کیونکہ میں بے وقوف نہیں ہوں۔ تم پر یقین کرنے کے چکر میں ، میں اپنی ہڈیاں نہیں تڑوا سکتی۔”وہ طنزیہ بولی۔
“فکر مت کرو۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔ چاہے اس کیلیے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔”وہ بڑی سنجیدگی سے بولا تھا۔ تارا تو حیرت سے منہ کھولے ٹکر ٹکر اسے دیکھنے لگی تھی۔
“ماشاءاللّٰہ میرا چاند کتنا بڑا ہو گیا ہے۔ ہیں نا۔”وہ اس کی بات کو مذاق میں اڑا گئی تھی۔ چاند نظریں اس سے ہٹا کر خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا تھا۔ کچھ دیر میں وہ منزل تک پہنچ چکے تھے۔ تارا گاڑی سے اتری تو چاند بھی باہر نکل آیا۔
“کتنے بجے لینے آؤں؟”
“تم مت آنا۔ میں بابا کو بلا لوں گی فون کر کے۔”وہ کہہ کر اندر جانے لگی۔
“میں ہی آؤں گا۔”وہ ضدی لہجے میں بولا۔
“اتنی رات کو باہر نکلنا تمہارے لیے ٹھیک نہیں۔ “تارا نے اسے جتایا۔
“وہ تو تمہارے لیے بھی ٹھیک نہیں ۔”
“بہت سوال و جواب نہیں کرنے لگے ہو تم۔ “تارا نے اسے تیکھی نظروں سے گھورا۔
“مجھے کچھ نہیں پتہ۔ میں ابھی اپنے دوست کے پاس جا رہا ہوں ۔ جب واپس جانا ہو مجھے فون کر کے بلا لینا۔”وہ اس کی کوئی دوسری بات سنے بغیر ہی چلا گیا۔
“پتہ نہیں اس لڑکے کا بچپنا کب ختم ہو گا۔”وہ سر جھٹک کر بڑبڑاتی میں گیٹ کی جانب بڑھی۔ اندر کا ماحول بہت پر رونق اور خوشگوار تھا۔ عورتوں کے علاوہ مرد بھی آئے ہوئے تھے۔ کافی بڑی گیدرنگ تھی۔ وہ امبر سے مل کر اپنی دوسری سہیلیوں سے بھی ملی تھی جو امبر کی منگنی پر آئی ہوئی تھیں۔ نتاشہ بھی آئی ہوئی تھی۔ وہ بظاہر تو اس سے مسکرا کر باتیں کر رہی تھی لیکن جب سے اس نے اسفر کو تارا کے ساتھ دیکھا تھا اس کے دل کا چین کھو گیا تھا۔ وہ ہر حال میں اسفر کو اس سے چھیننا چاہتی تھی سو اس سے بنا کر رکھنی ضروری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسفر اپنے دوست بلال کی منگنی پر آیا ہوا تھا۔ وہ کچھ دیر سٹیج پر بلال کے پاس رہا تھا پھر نیچے آ کر ایک جانب جہاں اس کے گروپ فرینڈز کھڑے تھے وہاں آ گیا۔ پھر منگنی کی رسم شروع ہوئی تو سب سٹیج کے قریب آ گئے ۔ تب اس کی نظر تارا پر پڑی تھی ۔
“یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟”وہ حیرت سے سوچتا اس کی طرف بڑھا تھا۔ تبھی نتاشہ کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی۔
“تارا!”اس نے تارا کے قریب جا کر اسے پکارا۔ تارا چونک کر مڑی۔
“اسفر!…. آپ یہاں؟”
“ہاں میں اپنے دوست کی منگنی پر یہاں آیا ہوں اور تم؟”
“میں بھی اپنی دوست کی منگنی پر آئی ہوں۔”وہ بولی تو اسفر مسکرا دیا۔
“کیا حسین اتفاق ہے۔ چلو اس بہانے ہمیں ساتھ وقت گزارنے کا موقع تو ملا۔”وہ اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھتا بولا۔ تارا اس کی بات پر دھیان دیے بغیر نظریں پھیر کر ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی۔
“چلو نا وہاں چل کے بیٹھتے ہیں۔ کچھ دیر باتیں ہی کر لیتے ہیں۔”
“اممم….. نہیں۔ ابھی تو میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔”وہ تذبذب سے بولی۔
“تو چلو نا میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں گھر۔ “وہ کسی بھی طریقے سے اس کا تھوڑا سا ساتھ پانا چاہتا تھا۔
“نہیں۔ چاند مجھے لینے آ رہا ہے۔ میں نے اسے کال کر دی ہے۔”
“تم میرے ہوتے ہوئے کسی اور لڑکے کے ساتھ جاؤ یہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔”وہ سنجیدہ ہو گیا۔
“وہ بچہ ہے اسفر۔ اس سے آپ کا جیلس ہونا ویسے بنتا نہیں۔”تارا کو اچھا نہیں لگا تھا کہ وہ چاند کے حوالے سے ایسی بات کرے گا۔
“تمہیں تو خوش ہونا چاہیے نا کہ میں تمہارے لیے پوزیسو ہوں۔” اس کی بات ٹھیک تھی۔ لیکن اسے پتہ نہیں کیوں خوشی نہیں ہوئی تھی۔ وہ اسفر کی بات کا جواب دینے کی بجائے فون پر وقت دیکھنے لگی۔ تبھی چاند کی کال آ گئی۔
“اوکے میں چلتی ہوں۔ اللّٰہ حافظ۔”وہ مروتاً تھورا سا مسکرا کر اپنی دوست کی جانب بڑھ گئی اور اس سے مل کر اسفر کی طرف ایک نظر بھی دیکھے بنا باہر چلی گئی۔ اسفر لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔
“ہیلو!”وہ مڑنے ہی لگا تھا کہ نتاشہ اس کے سامنے آ گئی۔ جب تک اسفر تارا سے بات کرتا رہا تھا وہ اسے دور سے ہی دیکھتی رہی تھی اور اب اس کے پاس آئی تھی۔
“اوہ ہائے کیسی ہیں آپ؟”وہ خوشگوار لہجے میں بولا۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔ “
“نہیں تو۔ میں بھی ٹھیک ہوں۔”
” آپ کے الفاظ اور لہجے میں بہت فرق دکھائی دے رہا ہے۔ “
“آپ کوئی سائیکیٹریسٹ ہیں؟”
“ہاں۔”وہ مسکرائی۔
“تبھی ۔ سائیکیٹریسٹس ہر بندے کو اپنا مریض سمجھ لیتے ہیں۔”اسفر نے سر ہلایا۔ نتاشہ ہنس دی۔
“آپ اداس مت ہوں۔ تارا بہت موڈی ہے لیکن دل کی اچھی لڑکی ہے۔ آہستہ آہستہ آپ کے پیار کو سمجھ جائے گی۔”وہ جان بوجھ کر تارا کے حق میں بولی تھی جبکہ اسفر اسے تعجب سے دیکھنے لگا تھا۔ تارا نے تو کہا تھا وہ اس کی دوست نما دشمن تھی۔ اگر وہ دشمن ہوتی تو اس کے سامنے تارا کی برائی کرتی نہ کہ اچھائی۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی ایسا سوچنے لگا تھا۔
“اور اگر وہ میرے پیار کو نہ سمجھی تو؟”نجانے کس خیال کے تحت اس نے پوچھ لیا۔
“تو پھر یہ اس کی بدقسمتی ہو گی۔”وہ بولی تھی۔ اسفر نے غور سے اسے دیکھا تو وہ دلفریب سا مسکرا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا چاند؟”تارا نے محسوس کر لیا تھا کہ چاند آتے ہوئے جتنا پرجوش تھا اب اتنا ہی ڈل لگ رہا تھا۔ دراصل وہ مین گیٹ سے اسفر کو تارا کے ساتھ دیکھ چکا تھا۔ اس اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ کیا تارا اسفر سے ملنے کیلیے منگنی پر آئی تھی؟ کیا وہ اسفر کو پسند کرتی تھی ؟ یہ سوال اس کے زہن میں گردش کر رہے تھے۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا اور تارا کی آواز سن نہیں سکا تھا۔
“چاند!”تارا نے اسے اونچی آواز میں پکارا۔
“ہ….ہاں؟”وہ چونک کر ہوش میں آیا۔
“کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟ کسی گہری سوچ میں لگ رہے تھے۔”تارا نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔
“کچھ نہیں چل رہا۔”وہ خفگی ظاہر ہوتے ہوئے بولا۔
“مانا کہ میں نے تمہیں سیریس ہونے کا کہا تھا لیکن اتنا سیریس ہونے کا بھی نہیں کہا تھا۔ یہ سنجیدہ سا چہرہ بنائے بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔”
“مجھے نہیں پرواہ میں تمہیں اچھا لگوں یا برا۔”وہ اس سے زیادہ خود کو باور کروانا چاہتا تھا لیکن دل یہ بات مانتا تو تب نا۔
“کیا کہا ذرا ایک دفعہ پھر سے کہنا۔”تارا نے اس کا کان پکڑ کر مروڑا۔ اسے چاند کی بات بری لگی تھی۔
“آہ….. تارا
