756.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 23

Tara Ka Chand by Dua Fatima

سکندر صاحب اور بالاج سٹڈی میں بیٹھے تھے۔ بالاج اب اپنا زیادہ تر فارغ وقت بابا کے ساتھ گزارتا تھا تاکہ بزنس کو جلد از جلد سمجھ سکے۔ سکندر صاحب نے اسے کچھ سمجھایا تھا اور اب وہ لیپ ٹاپ پر وہ کام کر رہا تھا۔ سکندر صاحب محبت سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے تھے جو کبھی معصوم سا بچہ ہوتا تھا لیکن کچھ عرصے سے بہت میچور اور زمہ دار ہو چکا تھا ۔ اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے انہیں تارا کا خیال آیا تھا۔

“اچھا بالاج تمہارے لیے اور کام بھی ہے۔”وہ بولے تو بالاج نے چونک کر انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

“تمہاری یونی کے ایک لیکچرار ہیں صابر اسحاق۔ اس کے بارے میں معلومات چاہیں مجھے۔”

“کیوں؟”بالاج کو سخت حیرت ہوئی تھی۔

“اس کا پرپوزل آیا ہے تارا کیلیے۔”بالاج کو لگا تھا جیسے اس کے ارد گرد سناٹا چھا گیا ہو۔ آکسیجن کی کمی ہو گئی ہو جیسے۔ وہ بمشکل سانس کے پایا تھا۔ غصے سے اس نے مٹھی بھینچ لی تھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات ناقابل فہم تھے۔

“بہت اچھا لڑکا ہے۔ عرفہ بھابھی کو تو پسند آیا ہے لیکن میں پہلے تسلی کرنا چاہتا ہوں۔”

“لیکن بابا تارا نہیں مانے گی۔ وہ اب شادی ہی نہیں کرنا چاہتی۔”بالاج نے احتجاج کیا۔

“میں جانتا ہوں۔ لیکن اب ہم اسے یوں ہی ساری زندگی اکیلے تو نہیں رہنے دے سکتے نا۔ وہ کب تک لوگوں کی باتیں برداشت کر پائے گی۔ اگر ابھی اس کی شادی کسی ایسے شخص سے ہو جائے جو اسے خوشیاں دے تو وہ پچھلے غم بھول جائے گی۔ تم صابر اسحاق کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ اگر وہ شخص ٹھیک نکلا تو میں تارا کو اس سے شادی کرنے پر منا لوں گا۔ وہ میری بات کا انکار نہیں کرے گی۔”انکا لہجہ اٹل تھا۔ بالاج کو ناچار سر اثبات میں ہلانا پرا تھا۔ اس کے چہرے کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔ وہ بے دلی سے کام کرنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہانی ایک بات پوچھوں تم سے؟”تارا نے پوچھا تو ہانیہ نے سر اثبات میں ہلایا۔

“تمہیں مائک کیسا لگتا ہے؟”اس سوال پر ہانیہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ وہ گڑبڑا کر رہ گئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اب کیا جواب دے۔

“لگتا ہے کچھ زیادہ ہی پرسنل سوال پوچھ لیا۔”تارا نے مسکراتے ہوئے لطیف سا طنز کیا۔

“ارے آپی کیسی بات کر رہی ہیں۔ وہ ….. دراصل مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا جواب دوں۔”ہانیہ شرمندگی سے بولی۔

“جو سچ ہے وہی بتا دو۔” تارا نے کہا تو ہانیہ نے تھوک نگلا۔

“میکال بہت اچھے ہیں۔”وہ معصومیت سے کہتی لب چبانے لگی تھی۔

“مطلب تمہیں پسند ہے وہ؟”اس کے سوال پر ہانیہ نے نظریں جھکا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔

“اور مائک بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہے۔ تو پھر تم دونوں کو شادی کر لینی چاہیے۔”تارا نے مشورہ دیا۔ ہانیہ کے گال سرخ ہوئے تھی جو تارا نے بڑی دلچسپی سے دیکھے تھے۔

“ہاہ….. میری گڑیا شرما رہی ہے۔”اس نے ہانیہ کے گال کو پیار سے چھوا تھا۔

“نہ تنگ کریں نا آپی۔”وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی۔ تارا ہنس ہڑی۔

“اچھا چلو نہیں کرتی تنگ۔ تم پریشان مت ہو۔ “اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ وہ میکال کی شادی کی بات آگے بڑھانے سے پہلے ہانیہ سے ایک دفعہ پوچھنا چاہتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نے صابر اسحاق کے بارے میں تمام معلومات حاصل کر لی تھیں لیکن اسے ان کے بارے میں کوئی بھی غلط بات پتہ نہیں چلی تھی۔ اس نے ان کے سب دوستوں سے پوچھ گچھ کی تھی نے یہی کہا تھا کہ وہ بڑے نیک انسان تھے۔ ہمسائے بھی ان کی اچھائی سے واقف تھے۔اب بالاج کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے بابا کو یہ سچ بتائے۔ اس طرح تو نقصان اسی کا ہونا تھا۔ اور صابر جیسے شریف انسان کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں بھی اسے برا لگ رہا تھا۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اسے میکال کا خیال آیا۔اس نے بالاج کو مدد کی آفر کی تھی۔ ہو سکتا تھا وہ کچھ کر پاتا۔ بالاج کے دل کی بات تو وہ پہلے ہی جان کا تھا۔ اب اس سے مدد لینے میں کیا خرج تھا۔ بالاج نے ایٹیٹوڈ کو ایک طرف رکھا اور میکال کے آفس میں آ گیا۔ تارا کیلیے تو وہ میکال سے بھی مدد مانگ سکتا تھا۔

“ارے میں صدقے جاؤں۔ چاند صاحب آئے ہمارے غریب خانے پر۔”اسے اپنے آفس میں دیکھ کر میکال کی شرارتی رگ پھڑکی۔ خلاف توقع بالاج کو غصہ نہیں آیا تھا۔ اس نے بڑے آرام سے میکال کے ساتھ مصافحہ کیا تھا۔

“کین وئی ٹاک فار آ وائل۔”

“وائے ناٹ۔ سٹ۔”میکال نے کہا تو وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔

“کیا پیو گے؟ کافی یا چائے؟”وہ انٹر کام کی طرف بڑھتے ہوئے بولا تھا۔

“کچھ بھی نہیں۔”

“کچھ تو پینا پڑے گا نا۔ آخر پہلی دفعہ میرے آفس میں آئے ہو۔ “میکال نے کہہ کر انٹرکام پر دو کپ کافی لانے کا حکم دیا اور آ کر اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔

“ہاں تو بولو ایسی کیا بات ہے جس نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا؟”

“مجھے تمہاری مدد چاہیے۔”چاند نے کچھ پل توقف کے بعد کہا۔میکال جان گیا تھا کہ وہ کس بات میں بات کر رہا ہے پھر بھی انجان بنا۔

“کس سلسلے میں؟”

“تارا”وہ بس اتنا ہی کہہ چکا۔ میکال نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔ اسی اثناء میں ایک ملازم کافی لے کر آ گیا۔ اس کے جانے کے بعد میکال بالاج سے مخاطب ہوا۔

“صحیح تو تم تارا سے شادی کرنا چاہتے ہو؟”

“ہاں۔”

“لیکن میری آفر تو محدود مدت کیلیے تھی۔”میکال نے کہا تو بالاج کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔

“اوکے اوکے میں تمہاری مدد کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن پھر تمہیں بھی میری ایک مدد کرنی ہو گی”میکال نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔

“کیا؟”

“بعد میں بتاؤں گا۔ پہلے اپنا مسلہ بتاؤ۔”وہ بولا تو بالاج نے اسے صابر کے بارے میں ساری بات بتا دی۔

“تو یار تم جھوٹ بول دو انکل کے سامنے کہ وہ شخص ٹھیک نہیں ہے۔”میکال نے مشورہ دیا۔

“نہیں میں بابا کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا اور نہ کسی انسان پر جھوٹا الزام لگا سکتا ہوں۔”

“محبت اور جنگ میں سب جائز ہے برو۔ “بالاج اس کی بات پر متفق ہو گیا تھا۔

“اگر میں بابا کے سامنے جھوٹ بول بھی دوں تو ثبوت کہاں سے لاؤں گا سر صابر کو غلط ثابت کرنے کیلیے؟”

“میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔ ہنڈرڈ پرسنٹ کامیابی کے چانسز ہیں۔ لیکن پھر تمہیں بھی بدلے مجھے کچھ دینا ہو گا؟”

“کیا چاہیے؟”اس نے دوسری دفعہ کہا تھا تو بالاج نے اکتا کر پوچھا۔

“ہانیہ۔”میکال نے بڑے اعتماد سے ہانیہ کا نام لے دیا تھا۔ بالاج پہلے تو ششدر رہ گیا تھا۔ پھر اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات آئے تھے۔

“دیکھو غصہ مت کرنا۔ میں ہانیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں تم مجھے اتنا پسند نہیں کرتے لیکن تم تارا سے میرے بارے میں پوچھ سکتے ہو۔”وہ تیزی سے بولا تو بالاج کے تاثرات کچھ ڈھیلے پڑے۔

“اوکے اگر تارا تمہیں پاس کر دے تو میں اس رشتے سے انکار نہیں کروں گا “اس نے کہا تو میکال کھل کر مسکرایا۔ تارا کو تو وہ پہلے ہی منا چکا تھا۔

“اور اگر ہانیہ نے بھی انکار کر دیا تو مجھ سے کوئی امید مت رکھنا۔”اس کی بات پر میکال ناک پر مکھی اڑانے والے انداز میں ہنسا۔

“لو بھلا مجھے کون انکار کرے گا۔ میں تو ہوں اتنا پیارا…. ویل ایجوکیٹڈ….. بزنس مین…..”اس سے پہلے کہ وہ اپنی تعریفوں میں رطب اللسان ہوتا بالاج نے اس کی بات کاٹی۔

“اچھا بس بس۔”اس کے چڑنے پر میکال منہ بنا کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تارا کو ہانیہ کی طرف سے تو ہاں مل چکی تھی۔ اب اسے میکال کے والد سے کسی طرح رابطہ کرنا تھا وہ بھی میکال کو پتہ چلے بغیر۔ اگر حسن صاحب راضی ہو جاتے تو رشتہ پکا ہونے کے چانس بڑھ جانے تھے۔ اسے مشکل تو ہوئی لیکن اس نے کسی نا کسی طرح میکال کا موبائل لے کر حسن صاحب کا نمبر حاصل کر لیا تھا اور انہیں کال ملائی۔انہیں اپنا تعارف کروا کر وہ اصل مدعے پر آئی ۔ حسن صاحب کو اس بات سے اعتراض نہیں تھا کہ میکال نے کوئی لڑکی پسند کر لی ہے۔ وہ خوش ہوئے تھے کہ ان کے بزنس فرینڈ کی بیٹی ان کے بہو بنے گی لیکن انہیں اس بات کا دکھ ہوا تھا کہ میکال ان سے مدد بھی نہیں لینا چاہتا تھا۔ حالانکہ باپ ہونے کے ناطے یہ ان کا فرض تھا۔ انہوں نے اپنا دکھ تارا کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا اور یہ وعدہ بھی کیا تھا وہ سکندر صاحب کے پاس اس کا رشتہ لے کر جائیں گے۔ ان کی طرف سے مطمئن ہو کر تارا نے سکندر صاحب سے بات کی تھی۔ وہ تو پہلے ہی میکال کے معترف ہو چکے تھے۔ جیسے اس نے ہانیہ کو ثاقب سے بچایا تھا وہ واقعی تعریف کے قابل تھے۔ اب وہ ہانیہ کی طلاق والی بات جانتے ہوئے بھی اس سے شادی کرنا چاہتا تھا تو یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ ہانیہ کو پسند کرتا ہے۔ طانیہ بیگم نے بھی شکر کیا تھا کہ اب انہیں لوگوں کی باتیں نہیں سننے پڑیں گیں۔ اب وہ آگے سے انہیں جواب دے کر ان کے منہ بند کر سکیں گیں۔ وہ تو میکال کیلیے جی جان سے راضی تھیں۔ میکال پر اعتراض کرنے والی تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ وہ بھلا کیوں انکار کرتیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سر بات سنیے گا۔”سر صابر یونی کے پارکنگ ایریا میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے جب پیچھے سے بالاج نے انہیں پکارا۔ وہ چونک کر مڑے۔ بالاج بلیک جینز پر بلیک اور ویسٹ پر کھلے بٹنوں والی چیک شرٹ میں ملبوس تیزی سے چلتا ان کے قریب آیا تھا۔ صابر صاحب کو نجانے کیوں وہ پیارا لگا تھا۔ شاید تارا کی وجہ سے۔ ان کی ہونے والی بیوی کا کزن جو تھا وہ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ بالاج کو زہر سے کم نہیں لگ رہے تھے۔

“آپ کے پاس کچھ وقت ہو گا۔ دراصل مجھے ایک ٹاپک سمجھنا تھا آپ سے۔”بالاج اپنے دل میں جاگتے رقابت کے احساس کو بمشکل ضبط کرتے ہوئے میٹھے لہجے میں بولا تھا۔ اور صابر صاحب اسے کیسے انکار کرتے۔

“ہاں کیوں نہیں۔ وقت ہی وقت ہے۔”وہ خوشدلی سے بولے تھے۔

“او یار تو ابھی تک یہیں ہے۔ میں کب سے تیرا ویٹ کر رہا تھا۔ جلدی چل میرے ساتھ۔”بالاج کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میکال اونچی آواز میں کہتا ان کے قریب آیا اور بالاج کو کھینچ کر لے جانے لگا۔

“تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔ میں سر سے ایک ٹاپک سمجھ لوں۔”بالاج نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

“بالکل نہیں۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ “میکال نے کہا۔

“لیکن یار میں سر سے وقت لے چکا ہوں۔”وہ سر صابر پر ایک نظر ڈال کر بولا جو ان دونوں کو چپ چاپ دیکھ رہے تھے۔

“اچھا ایسا کر انہیں بھی اپنے ساتھ ہی لے چلتے ہیں۔ پہلے میرا کام ہو جائے پھر آرام سے سمجھ لینا ان سے جو سمجھنا ہے۔”میکال نے مشورہ دیا تو بالاج نے سر صابر کو ملتجی نگاہوں سے دیکھا۔

“اوکے۔ میں چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔”صابر صاحب مروت میں انکار بھی نہ کر سکے۔ وہ تینوں میکال کی گاڑی کی طرف بڑھے تھے۔ بالاج نے ان کیلیے پچھلا دروازہ کھولا تو وہ اندر بیٹھ گئے۔ بالاج نے لب بھینچ کر دروازے کو ٹھاہ کی آواز سے بند کیا تھا۔سر صابر کا دل ہی ہل کر رہ گیا تھا۔ میکال نے اسے گھورا تھا جو سر صابر کا غصہ اس کی گاڑی پر نکال رہا تھا۔

بالاج فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا اور میکال نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ گاڑی کو سٹارٹ کرتے ہوئے تو اس نے دو تین جھٹکے لگوائے۔ سر صابر کا سر آگے بجتے بجتے بچا تھا۔ میکال ان کی حالت پر مسکرایا تھا جبکہ بالاج کے تاثرات سنجیدہ ہی رہے۔

گاڑی جہاز کی سپیڈ پر دوڑنے لگی تھی۔ اتنی تیز سپیڈ سے صابر صاحب گھبرا گئے۔

“بیٹا سپیڈ تھوڑی کم کر دو۔”انہوں نے اپنے خوفزدہ لہجے کو چھپاتے ہوئے کہا تھا۔

“ارے انکل جی اس سے کم سپیڈ پر مجھے مزا نہیں آتا۔ اور مجھے کہیں جلدی میں پہنچنا ہے تو پلیز کمپرومائز کریں۔ ویسے بھی مرد کو اتنی اتنی باتوں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔”وہ جنرل سی بات کر رہا تھا یا ان کی بے عزتی۔ صابر صاحب کو سمجھ نہیں آئی تھی۔

“ویسے یار ان کا تعارف تو کروا دو بالاج۔”میکال بالاج سے مخاطب ہوا۔ بالاج نے اسے گھورا تھا

“آ….. یہ میرے میتھ کے لیکچرار ہیں۔ سر صابر۔”

“شکل سے ہی بہت صابر لگتے ہیں۔”میکال نے کمینٹ پاس کرتی ہوئے مسکراتی نظر سر صابر پر ڈالی تھی۔

“ہمم….. بہت اچھے انسان ہیں یہ۔” بالاج نے برے دل سے ان کی تعریف کی۔ وہ خوش ہو گئے۔

میکال نے ہاتھ بڑھا کر سی ڈی پلیئر آن کر دیا۔ تیز آواز میں انگلش گانوں شروع ہو گیا جو صابر صاحب کی نازک طبیعت پر گراں گزرا۔ وہ جان بوجھ کر صابر صاحب کو زچ کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد میکال نے بالاج کو آنکھ سے کوئی اشارہ کیا۔

“کوئی چیز ہے کھانے پینے کی تمہارے پاس؟”بالاج نے ڈیش بورڈ کا ڈرا کھولتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں کین ہوں گے کوک کے دو تین۔ “میکال نے کہا ۔ بالاج نے اندر سے دو کین نکالے جس میں سے ایک کا ڈھکن پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔ بالاج نے دوسرے کین کو ٹک کی آواز سے کھولا اور پہلے سے کھلا ہوا میں سر صابر کی طرف بڑھا دیا۔

“نہیں بیٹا تم لوگ پیو۔ میں یہ نہیں پیتا۔”وہ تذبذب سے بولے۔

“او سر جی پی لیں۔ ہمیں اچھا لگے گا۔ کسی کے اتنے پیار سے دیے گئے تحفے کو ٹھکراتے نہیں۔”میکال نے لقمہ دیا تو انہوں نے میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ پینے لگے ۔ میکال نے بالاج کو دیکھتے ہوئے آنکھ ماری اور وہ مسکراہٹ دبانے کیلیے نچلا لب دانتوں میں دبا گیا تھا۔ توقع کے مطابق کچھ ہی دیر میں صابر صاحب ٹن ہو چکے تھے۔

دراصل انہوں نے اس کین میں کوئی نشہ آور دوا ملائی تھی جو بندے کو بے ہوش تو نہیں کرتی تھی لیکن اس کے ہوش ٹھکانے پر بھی نہیں رہنے دیتی تھی۔ اور بندہ بونگیاں مارنا شروع ہو جاتا تھا۔ صابر صاحب کی بھی یہی حالت ہوئی تھی۔

“شوٹنگ کہاں کریں؟”بالاج ایسے پوچھ رہا تھا جیسے وہ کسی فلم کو زور کرنے والا ہو۔

“بیچ پر نا کر لیں۔”میکال نے طنزیہ کہا۔

“ہاں…..ہاں مجھے بیچ بہت پسند ہے۔”پیچھے سے صابر صاحب جھومتے ہوئے بولے تھے۔ بالاج نے ان کی طرف دیکھ کر ناک چڑھائی۔

“یہاں بیچ کہاں سے آ گیا۔”

“کسی کلب میں چلتے ہیں۔ پھر انکل ویڈیو دیکھتے ہی رشتے سے انکار کر دیں گے۔”میکال نے آئیڈیا دیا ۔

“کس کا رشتہ؟”صابر صاحب نے چونک کر پوچھا تھا۔

“آپ کی بات نہیں کر رہے۔ بے فکر رہیں۔”میکال مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا ۔ وہ مطمئن ہو کر پھر سے کوک پینے لگے۔

“کلب کیسے ڈھونڈیں؟”بالاج پریشان ہو کر بولا تھا۔ میکال نے فون پر گوگل میپ کر کے ایک کلب ڈھونڈ ہی لیا

میکا

“او واپس لے کین۔ یہ نہ ہو بے ہوش ہو جائیں۔ پلان شروع ہونے سے پہلے ہی خراب ہو جائے گا۔ “میکال نے کہا تو بالاج نے سر صابر سے کین کھینچ لیا۔

“ارے واپس کرو۔ مجھے اور پینا ہے۔”وہ بالاج سے کین جھپٹنے لگے۔

“لو ابھی کہہ رہے تھے میں نہیں پیتا۔”میکال نے کہا۔ بالاج نے کین ہی باہر پھینک دیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ ایک نائٹ کلب میں موجود تھےجو کسی امیر شخص کی ملکیت تھا اور کسی کی جرات نہیں تھی اس کا کلب بند کروانے کی۔ لوگ کھلے عام تو نہیں لیکن آ جاتے تھے اور ساری رات گناہوں میں گزار دیتے۔ بالاج اور میکال پہلی دفعہ یہاں آئے تھے۔

وہ صابر صاحب کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے شور والے ہال سے ہٹ کر ایک کونے کے کمرے میں لے آئے تھے ۔ بالاج نے انہیں صوفے پر پٹخا۔ میکال نے ویٹر سے وائن کی ایک بوتل منگوائی۔ اور شیشے کے گلاس میں ڈال کر سر صابر کو پکڑائی۔ سر صابر وہ پینے ہی لگے تھے کہ بالاج نے انہیں روک دیا۔

“یہ پینے کیلیے نہیں ہے۔ بس شو مارنے کیلیے ہے۔”اس نے بتایا۔ صابر صاحب نے اسے تعجب سے دیکھا۔

“ہاں ہم آپ کی شوٹنگ کرنے لگے ہیں۔ آپ نے ایکٹنگ کرنی ہے۔ ایک غنڈے ٹائپ ہیرو کا رول کرنا ہے آپ کو۔”میکال نے سمجھایا۔

“اچھا۔ مجھے غنڈے کا رول کرنے کا بہت شوق ہے۔”وہ پرجوش سا مسکرائے۔ میکال نے بالاج کو تھمبز اپ کا اشارہ کیا۔ اب صابر صاحب صوفے پر پیچھے ٹیک لگا کر ایک ٹانگ کے گھٹنے پر دوسری ٹانگ کا ٹخنہ رکھے پاؤں جھلاتے ہوئے غنڈے کا فل رول ادا کر رہے تھے۔ میکال نے فون نکال کر کیمرہ آن کر لیا ۔

“کیسا لگ رہا ہوں؟ “

“اے ون۔ اب آپ کو کچھ بولنا بھی ہو گا۔”بالاج نے کہا۔

“کیا بولوں؟”

“اپنی جوانی کے افئیرز بتائیں۔”میکال نے کہا تو وہ شروع ہو گئے اپنے کچے چٹھے خود ہی کھولنے۔ میکال اور بالاج حیران رہ گئے تھے۔

“کچھ نہ پوچھو کتنا مرتی تھیں لڑکیاں میری لُک پر…… مکھیوں کی طرح میرے پیچھے پڑ جاتی تھیں۔ میں ادھر یونی میں اینٹر ہوتا ادھر وہ میرے قدموں میں پڑی ہوتیں۔ ایک سے ایک سے بڑھ کر حسن دیکھا ہے میں نے۔ نیلو ، کالو، پیلو، گلابو پتہ نہیں کیا کیا نام تھے لڑکیوں کے۔ مجھے تو یہ بھی نہیں یاد میری کتنی گرل فرینڈز رہ چکی ہیں۔ “وہ نشے میں تھے اسی لیے سب کچھ سچ بول رہے تھے۔ اوہ جوانی میں واقعی ہی ایسے تھے۔ لیکن اب بہت بدل چکے تھے۔ بالاج حیران تھا کہ اسے تو سر صابر کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں ملی تھی۔یہ سب ان کی پرسنل باتیں تھیں جو ان کے اب والے دوستوں کو نہیں پتہ چلی تھیں تو بالاج کو کیسے پتہ چلتیں۔ ان کے ساتھ دھوکا کرنے کی جو شرمندگی تھی وہ دور ہو چکی تھی۔ اب تو وہ سوچ رہا تھا اس نے اچھا ہی کیا ورنہ ان کی اصلیت نہ پتہ چلتی۔

“ہاء ہاہ۔ جوانی کے بھی کیا مزے تھے۔”وہ یکدم اداس ہو گئے۔

“لیکن اب تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ شادی بھی ہو جاتی تو تب بھی میں صبر شکر کر لیتا لیکن کسی نے شادی بھی نہیں کی مجھ سے۔ “

“کیوں؟”میکال نے آواز ذرا تبدیل کر کے پوچھا۔

“کیا بتاؤں اب۔ ایک دفعہ بخار چڑھا تھا مجھے۔ سر کے سارے بال اتر گئے۔ وہی لڑکیاں جو مجھے سویٹ ہارٹ کہتی نہیں تھکتی تھیں پھر گنجا ٹینڈا کہنے لگیں۔”وہ دکھی لہجے میں کہہ رہے تھے۔ بالاج اور میکال ہنسی ضبط کرنے کے چکروں میں سرخ ہو چکے تھے۔ جبکہ صابر صاحب تو اپنا غنڈے والا رول بھی بھول چکے تھے ۔

“یہ دیکھو اب وِگ لگا کر تھوڑی عزت بنائی ہے۔ “جب سر صابر نے اپنی وگ اتار کر انہیں دیکھائی تو وہ ان کی ہنسی فوارے کی مانند چھوٹی تھی۔ وہ دونوں اپنی ہنسی چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے رخ پھیر گئے تھے۔ میکال نے ویڈیو بنانا بند کر دی تھی ۔ اتنی ہی ویڈیو کافی تھی رشتے سے انکار کیلیے۔

“تم دونوں مجھ پر ہنس تو نہیں رہے؟”انہوں نے ان دونوں کو گھورا۔

“نہیں انکل۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ چلیں ہم آپ کو گھر چھوڑ دیں۔ “میکال نے پکڑ کر انہیں اٹھایا۔

“ارے لیکن وہ میرا غنڈے والا رول؟”انہیں اب یہ یاد آیا تھا ۔

“وہ پھر کبھی سہی۔ ابھی چلیں۔ شام ہونے والی ہے۔”وہ انہیں لیے کلب سے باہر آ گئے۔

“جب یہ سو کر اٹھیں گے تو انہیں کچھ یاد تو نہیں آئے گا؟”بالاج نے میکال سے آہستہ آواز میں پوچھا۔

“نہیں۔تم ٹینشن مت لو۔ “میکال نے کہا۔ جب وہ صابر صاحب کے گھر کے قریب آئے تو میکال نے ان کی ایک رگ دبا کر انہیں بے ہوش کر دیا تاکہ گھر میں بھی بونگیاں نہ مارتے رہیں۔ ان کی والدہ کو یہ بتایا کہ سر صابر کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔اس لیے وہ اسے گھر چھوڑنے آئے ہیں۔ ان کی گاڑی کی چابی وہ پہلے ہی لے چکے تھے تاکہ گاڑی ان کے گھر بھجوا دیں۔