756.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 26

Tara Ka Chand by Dua Fatima

اس اجنبی کے جاتے ہی لائٹ بھی آن ہو گئی تھی۔ تارا جیسے کسی فسوں سے نکلی تھی ۔ اس نے چونک کر سامنے لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا اور جسم کانپ رہا تھا۔ جھٹکا بھی تو کچھ کم نہیں لگا تھا اسے۔ وہ گہری گہری سانسیں لیتی دیوار سینے پر ہاتھ رکھ کر دیوار سے ٹیک لگا گئی تھی۔ کون تھا وہ جو اس کے اتنے قریب آ گیا تھا۔ یہ سوال اس کے زہن میں مسلسل گردش کر رہا تھا لیکن اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ اس کی نظر اپنی سرخ کلائیوں پر پڑی تھی جہاں اس اجنبی شخص کے ہاتھوں کے نشان تھے۔

“گھٹیا….. وحشی انسان۔ ایک دفعہ میر سامنے آؤ پھر بتاتی ہوں میں تمہیں۔ بزدل ۔ اندھیرے میں مجھے ڈرا کر چلا گیا۔”وہ غصے سے بڑبڑانے لگی تھی۔ اب خوف تھوڑا کم ہو چکا تھا تو وہ اپنی ازلی جون میں واپس آ رہی تھی۔

“پتہ نہیں کون تھا منحوس مارا۔ ہونہہ ۔ یور ہبی۔مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ تمہارا بھی یہ خواب ہی رہے گا ۔”وہ بھڑکتی ہوئی واشروم سے نکلی تھی ۔ ابھی وہ ہال میں نہیں پہنچی تھی کہ بالاج اس تک آ چکا تھا۔

“تارا کہاں تھی تم……”وہ تارا کے سرخ چہرے پر چھائے غصے کے تاثرات دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا۔ اسے تارا کی آنکھوں میں خوف بھی نظر آیا تھا۔

“کیا ہوا تارا؟”وہ تیزی سے اس کے قریب آیا۔

“کچھ نہیں۔ “تارا نے خود کو کمپوز کیا۔

“تم پلیز مجھے گھر چھوڑ آؤ۔ میں اب مزید یہاں نہیں رہ سکتی۔”وہ بے زاریت سے بولی تھی۔

“اوکے چلو۔” بالاج اس کے رویے سے الجھ گیا تھا لیکن اس نے مزید کچھ نہیں پوچھا تھا۔ جب پارکنگ ایریا سے ان کے گاڑی نکلی تو ایک اور گاڑی بھی سٹارٹ ہوئی تھی اور ان کی گاڑی کا پیچھا کرنے لگی تھی۔

گھر پہنچ کر تارا نے کھانا بھی نہ کھایا اور جلد ہی اپنے کمرے میں آ گئی۔ وہ اجنبی ایک دفعہ پھر اس کے حواسوں پر سوار ہو گیا تھا۔

“کہیں اس پارٹی میں سے تو نہیں تھا وہ شخص؟”وہ اندازہ لگانے لگی۔

” وہیں دیکھا ہو گا اس نے مجھے اور میرے پیچھے پڑ گیا۔ مجھے پارٹی میں جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔”وہ پریشانی سے سوچ رہی تھی۔ پھر خود کو تسلی دینے لگی۔

“ریلیکس تارا۔ اسے کیا پتہ تم کون ہو اور کہاں رہتی ہو۔ آئیندہ کبھی بھی تمہارا اس سے سامنا نہیں ہو گا۔ ٹینشن مت لو۔”

“لیکن اگر وہ میرا پیچھا کرتے ہوئے میرے گھر آ گیا تو؟”کہ سوچ کر ہی وہ گھبرا گئی تھی۔ جیسے اس شخص کے تیور تھے وہ پیچھے ہٹنے والا تو نہیں لگ رہا تھا۔ اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا۔ تارا اپنے اندر کے خوف کو دباتی کھڑکی تک آئی اور دونوں پٹ بند کر کے پردہ برابر کر دیا۔ باہر ٹیرس پر کھڑا ایک ہیولہ یہ منظر دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا بات ہے بچے؟ اتنے اداس کیوں لگ رہے ہو؟”عرفہ بیگم نے محبت سے پوچھا تھا۔

“اداس نہیں بے چین ہوں۔”بالاج کسل مندی سے کہتا ان کی گود میں سر رکھ گیا۔ وہ ان کے پاس ہی زمین پر بیٹھا تھا۔ عرفہ بیگم اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں۔

“کیوں؟”

“اس کیوں کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ “وہ لب چبانے لگا۔

“مجھے اپنی ماں سمجھ کر اپنا دکھ بانٹ سکتے ہو تم۔”

“رئیلی؟”اس نے سر اٹھا کر عرفہ بیگم کو دیکھا۔ انہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا۔

“اگر میں آپ سے کچھ مانگوں تو کیا آپ مجھے دیں گیں؟”وہ بچوں کی طرح پوچھ رہا تھا۔

“ہاں بولو۔ کیا چاہیے میرے بچے کو؟”ان کے نرم رویے سے بالاج کو حوصلہ ملا تھا۔

“تارا…..”وہ عرفہ بیگم کی طرف دیکھے بنا دھیمی آواز میں بولا تھا۔ عرفہ بیگم بمشکل سن پائی تھیں اور کچھ پل کیلیے ساکت رہ گئی تھیں۔ بالاج کے لہجے میں بے بسی تھی اور تارا کیلیے پیار تھا۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا وہ جو سمجھ رہی ہیں وہی سچ ہے۔

“مجھے تارا چاہیے۔ میں اب اس سے دور نہیں رہ سکتا۔ پلیز مجھے غلط مت سمجھیے گا ۔اور نہ انکار کیجیے گا۔ میں نے بہت مشکل سے آپ کے سامنے یہ بات کہی ہے۔ “وہ ملتجی لہجے میں بولا تھا۔

“بہت محبت کرتے ہو اس سے؟”انہوں نے پوچھا ۔

“ہاں بہت۔”بالاج نے سر ہلاتے ہوئے بے بسی سے اعتراف کیا تھا۔ عرفہ بیگم کو اس کی محبت پر یقین آ گیا تھا۔ انہیں آج بھی یاد تھا جب تارا کی شادی ہوئی تھی تو بالاج کا کیا حال ہوا تھا۔ اس وقت تو انہیں وجہ سمجھ نہیں آئی تھی لیکن اب سمجھ آ چکی تھی۔

“پہلے کیوں نہیں بتایا؟”وہ بولیں تو بالاج نے چونک کر انہیں دیکھا۔ کیا وہ غصے نہیں ہوئی تھیں۔

“ہمت نہیں تھی۔”وہ شرمندگی سے بولا تھا۔

“اب کیا چاہتے ہو؟”

“میں تارا سے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن جانتا ہوں وہ کبھی نہیں مانے گی۔ آپ پلیز میری مدد کریں۔”

“ٹھیک ہے میں تارا کو منانے کی کوشش کروں گی۔ تم سکندر بھائی اور طانیہ بھابھی سے بات کرو۔ اگر وہ مان جائیں تو میں بھی اس رشتے سے انکار نہیں کروں گی۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی تھیں۔ ماما بابا کو منانا مشکل تھا لیکن اسے یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ تائی جان اس کے ساتھ ہیں۔ اس نے مسکرا کر جلدی سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج تیسرے دن پھر وہ اس کے سامنے تھا۔ اپنی خوفناک اور سحر انگیز شخصیت کے ساتھ اس پر چھا سا گیا تھا۔ تارا سانس روکے اسے پتھرائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر غصے سے زیادہ خوف کے تاثرات تھے۔ اور اس اجنبی کے بارے میں جاننے کی جستجو بھی تھی لیکن وہ آج بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھی۔

وہ بلیک جینز پر بلیک ہائی نیک شرٹ پہنے ہوئے تھا جس کا کالر اس کے لبوں تک چڑھا ہوا تھا۔ سر پر پی کیپ تھی اور آنکھوں پر بلیک گاگلز۔ اس کا ناک اور گال تھوڑے سے نظر آ رہے تھے جس سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کون ہو سکتا تھا۔اپنی متناسب جسامت سے وہ کوئی تئیس چوبیس سال کا لگتا تھا۔ وہ تارا کے ارد گرد دیوار پر دونوں ہاتھ رکھے اس کے چہرے کے بالکل قریب تھا۔ تارا چیخ بھی نہیں پا رہی تھی کیونکہ وہ یونی میں تھی اور یہ یونی کا ایک سنسان کاریڈور تھا۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ جن یہاں بھی آ ٹپکے گا۔

“امید ہے میں تمہیں یاد ہوں گا۔”اس کی بھاری آواز سن کر تارا کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔

“مجھے اجنبی لوگ یاد نہیں رہتے۔”تارا نے جتاتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے لہجے میں خوف چھپا ہوا تھا۔ اس شخص کے لب ذرا سے مسکرائے تھے۔

“میں بہت جلد یہ اجنبیت ختم کر دوں گا۔”

“بھول ہے تمہاری یہ۔ میں تم جیسے گھٹیا انسان سے مر کر بھی شادی نہیں کروں گی۔ “وہ بھڑکی تھی۔

“لگتا ہے پچھلی ملاقات بھول گئی ہو۔ میں نے کچھ کہا تھا تم سے۔”وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔

“کیا؟”تارا نے بے ساختہ پوچھا تھا۔

“کہ مجھ سے بدتمیزی مت کرنا اور …… کسی لڑکے کے قریب نہیں جانا لیکن تم نے تو میری بات کو سیریس ہی نہیں لیا۔ اپنے ہونے والے شوہر کا حکم نہ مان کر تم نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ اس کی سزا تو تمہیں بھگتنی پڑے گی۔”وہ اس کے کان کے قریب سرد لہجے میں بولا تو تارا کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی تھی۔ اسے یاد آیا تھا وہ آج کتنی ہی دیر اپنی کلاس کے سٹوڈینٹس کے ساتھ کھڑی باتیں کرتی رہی تھی اور بالاج تو تقریباً ہر وقت ہی اس کے پاس ہوتا تھا۔

“د…..دیکھو تم جو کوئی بھی ہو ۔ پلیز اس طرح مت کرو میرے ساتھ۔ م….. میں شادی شدہ ہوں۔ تم میرا پیچھا چھوڑ دو ۔”اس نے التجا کی تھی۔ کوئی اور چارہ جو نہیں تھا جبکہ اس کے سامنے کھڑا شخص ہنسا تھا۔

“تم شادی شدہ ہو نہیں بلکہ تھی۔ اچھا ہی ہوا تمہارے ایکس ہزبینڈ نے تمہیں طلاق دے دی ورنہ میرے ہاتھوں قتل ہو جاتا۔”اس کی بات پر تارا کو ادراک ہوا تھا کہ وہ شخص بہت کچھ اس کے بارے میں جانتا ہے۔ وہ چپ سی رہ گئی تھی۔

“اور یہ تو سوچنا بھی مت کہ میں اب تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا۔ ساری زندگی اب تمہیں میرے ساتھ گزارنی ہے۔ سو خود کو ذہنی طور پر اس بات کیلیے تیار کر لو ورنہ زبردستی کرنا تو مجھے اچھے سے آتی ہے۔ “وہ تارا کا گال تھپتھپاتے ہوئے تحکم بھرے لہجے میں بولا تھا۔ تارا ضبط کے گھونٹ پی کر رہ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے پھوٹتے شرارے محسوس کر کے مقابل نے مسکراہٹ روکی تھی۔

“سی یو اگین۔”وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا جا چکا تھا ۔

“یہ کس کی اتنی جرات ہو سکتی ہے جو مجھ پر رعب جما رہا ہے۔ “تارا نے جھلا کر سوچتے ہوئے پیر پٹخے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تارا کو پارٹی میں لے جانے کا نتیجہ سکندر صاحب کی توقع سے زیادہ اچھا تھا۔ دو تین کیا پورے دس پرپوزل آ گئے تارا کیلیے لیکن انہیں سب سے زیادہ باذل شاہ پسند آیا تھا ۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا اور آج تک اس کا کسی لڑکی کے ساتھ سکینڈل نہیں بنا تھا۔سکںدر صاحب اسے بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ کھرے کردار کا مالک تھا۔ اس نے خود ہی سکندر صاحب سے تارا کیلیے بات کی تھی کیونکہ اس کے ماں باپ نہیں تھے۔ سکندر صاحب نے اسے صاف انکار بھی نہیں کیا تھا اور نہ کوئی امید دلائی تھی۔ انہوں نے بس اتنا کہا تھا کہ وہ تارا سے پوچھ کر فیصلہ کریں گے۔ لیکن اس سے پہلے وہ باذل کے بارے میں ساری معلومات لینا چاہتے تھے۔ یہ کام انہوں نے بالاج سے ہی کروانا تھا اسی لیے اسے اپنی سٹڈی میں بلوایا تھا۔ وہ ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔ سکندر صاحب نے ایک تصویر اس کی طرف بڑھائی۔

“اس شخص کے بارے میں مجھے ساری معلومات چاہیں۔”انہوں نے کہا تھا۔ جبکہ بالاج کی قہر آلود نظریں باذل کی تصویر پر جمی ہوئی تھیں۔

“کیوں؟”وہ جواب جانتا بھی تھا لیکن پھر بھی پوچھ لیا ۔

“تارا کے لیے پرپوزل آیا ہے اس کا۔ کچھ اور لوگوں کے بھی پرپوزل آئے ہیں ہیں لیکن یہ سب سے بیسٹ ہے۔جہاں تک میں جانتا ہوں بہت اچھا انسان ہے یہ ۔ اب یہ تو معلومات کرنے پر ہی پتہ چلے گا کہ اس کا باطن کیسا ہے۔”

“بٹ بابا اس دفعہ میں نہیں کروں گا یہ کام۔”وہ بے زاری سے تصویر میز پر پھینکتے ہوئے بولا تھا۔

“کرنے کو تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ میں اپنے سیکرٹری سے بھی کہہ سکتا ہوں یہ کام لیکن یہ تارا کا معاملہ ہے۔ اسی لیے تمہیں چنا۔ تم سے بہتر اور کوئی بھی یہ کام نہیں کر پائے گا۔”انہوں نے رسانیت سے کہا۔

“کیا بابا؟…… اب میں یہی کام کرنے کیلیے رہ گیا ہوں۔ ویسے تو میں آپ کو نظر نہیں آتا۔”وہ شکوہ کرتے ہوئے بولا۔

“اب اس بات کا مقصد جان سکتا ہوں؟”ان کے سوال پر بالاج نے منہ بنایا اور کچھ پل کیلیے آنکھیں بند کیں۔

“آپ کو تارا کیلیے باقی سب لڑکے نظر آ جائیں گے۔ میں بھی تو ہوں۔ پھر کسی دوسرے کی کیا ضرورت ہے۔ “وہ بچوں کی طرح جھنجھلا کر بولا تھا۔ سکندر صاحب نے کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے تیکھی نگاہوں سے گھورا تھا۔ بالاج کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔

“مطلب؟”

“مطلب یہ کہ میں تارا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اس کیلیے رشتے ڈھونڈنے بند کر دیں۔”وہ دل کڑا کر کے بولا تھا۔ دماغ نے دل کو شاباشی دی تھی۔ وہ ڈرتے ہوئے سکندر صاحب کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔

“تم جانتے تو ہو کیا کہہ رہے ہو؟”انہوں نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔

“میں نے اپنے پورے ہوش و حواس میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ اب پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔”

“اپنی ماں کو کیسے مناؤ گے؟”مطلب وہ راضی تھے۔ بالاج کھل کر مسکرایا تھا۔

“آپ ہیں نا ۔”وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا کر بولا تھا۔ سکندر صاحب بھی مسکرا دیے تھے۔

“یقین مانو تم نے یہ بات کہہ کر میرا دل جیت لیا ہے ۔ جب تارا کی طلاق کا سنا تو مجھے بہت مایوسی ہوئی تھی ۔ سب کہتے تھے کہ اس سے اب کوئی شادی نہیں کرے گا۔ لیکن مجھے تمہارا خیال آیا تھا۔میں نے سوچا تھا اگر کسی نے تارا سے شادی نہ کی تو میں تم سے اس کی شادی کروا دوں گا۔ لیکن میں اپنے دل کی بات ظاہر نہیں کر سکا۔ مجھے ڈر تھا تم کہیں انکار نہ کر دو کہ وہ تم سے بڑی ہے۔ اب تمہارا فیصلہ سن کر مجھے تم پر فخر ہو رہا ہے۔ ویسے یہ فیصلہ تم نے صرف ہمدردی کے ناطے کیا ہے یا بات کچھ اور ہے؟”وہ سنجیدگی سے بولتے آخر پر شرارتی لہجے میں پوچھنے لگے تھے۔ بالاج ہنس پڑا تھا۔

“پتہ نہیں۔ میں بس چاہتا ہوں سارے جہان کی خوشیاں اسے لا کر دے دوں۔ میں بس اس سے دور نہیں رہ سکتا۔ اس کا یہی ایک حل ہے کہ اس سے شادی کر لوں….. لیکن تارا کبھی مجھے نہیں سمجھے گی۔ مجھے تو یہ ٹینشن ہے کہ وہ مجھ سے شادی کرنے پر آمادہ کیسے ہو گی۔”

“اس کی تم فکر مت کرو۔ میں سنبھال لوں گا اسے۔ مشکل تو ہے لیکن مان جائے گی۔” سکندر صاحب نے اسے تسلی دی تھی۔

“ٹھیک یو سو مچ بابا۔ “وہ جذب کے عالم میں بولا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طانیہ بیگم نے سکندر صاحب کا فیصلہ سن کر واویلہ تو بہت کیا کہ وہ تارا کی شادی بالاج سے نہیں ہونے دیں گیں لیکن سکندر صاحب نے ان کی بات کو ذرا اہمیت نہ دی۔ طانیہ بیگم کا غصے سے برا حال تھا۔ ایک تو تارا بالاج سے بڑی تھی اور اوپر سے طلاق یافتہ تھی۔ اگر بالاج اس سے شادی کر لیتا تو کیا عزت رہ جاتی۔ انہیں ہر وقت اپنی عزت کی ہی پڑی رہتی تھی۔ تارا کو طلاق کا طعنہ دیتے ہوئے وہ یہ بھی بھول گئی تھیں کہ ان کی بیٹی بھی طلاق یافتہ ہے۔ سکندر صاحب نے پھر ان کو ایک لمبا لیکچر دیا کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ نیکی کرنے سے اپنی بیٹی کے نصیب اچھے ہوتے ہیں۔ دل سے تو نہیں لیکن وہ مان ہی گئی تھیں۔ پھر سکندر صاحب نے عرفہ بیگم سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ پہلے خود تارا سے بات کریں گیں ۔ اور اب انہیں موقع مل چکا تھا۔

“یہاں میرے پاس بیٹھو تارا۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔”انہوں نے بازو سے پکڑ کر تارا کو اپنے پاس بٹھایا۔

“ماما اگر شادی کے علاوہ اور کوئی بات ہے تو کریں ورنہ رہنے دیں۔”وہ ان کی سنجیدگی سے بھانپ گئی تھی کہ بات کیا ہے۔

“کیوں نا کروں شادی کی بات۔ ساری زندگی اکیلے ہی رہو گی کیا؟ میرے بعد کیا بنے گا تمہارا؟”وہ روہانسی ہو گئیں۔

“اللّٰہ مالک ہے۔ آپ مجھے اس طرح ایموشنل بلیک میل مت کریں۔”

“تو تم مجھے سکون سے مرنے نہیں دو گی۔”

“ماما…..”تارا نے احتجاج کیا۔

“کیا ماما….. ہاں۔ دل کی مریضہ ہوں میں۔ کل کا پتہ نہیں۔ کب مجھے موت آ لے۔ میں تمہیں خوش اور آباد دیکھنا چاہتی ہوں۔ تمہاری اجڑی حالت دیکھ کر کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے اندازہ ہے تمہیں کچھ۔ مانتی ہوں تمہاری شادی اسفر سے کروا کر میں نے غلطی کی تھی لیکن اس غلطی کی اب اتنی بڑی سزا تو مت دو مجھے تم۔ میں کیا جواب دوں گی قیامت کے دن تمہارے بابا کو؟”وہ رو پڑیں۔ تارا نے ان کے حالت دیکھ کر صاف انکار تو نہیں کیا لیکن شادی کیلیے مان جانا اب مشکل ہی تھا۔

“اچھا پلیز روئیں تو مت۔آپ کی طبیعت پہلے ہی خراب ہے۔ “

“پہلے مجھ سے وعدہ کرو میری بات مانو گی پھر میں نہیں روؤں گی۔”

“ماما پلیز میں عزت سے جینا چاہتی ہوں۔ اب اگر کوئی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو میں منتیں کروں جا کر سب کی کہ مجھ سے شادی کر لو۔”وہ اکتا کر بولی۔

“اس کی ضرورت نہیں۔ تمہارے لیے ایک پرپوزل آیا ہے۔”وہ بولیں تو تارا کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ اسے وہ شخص یاد آیا تھا جس نے اسے دو ملاقاتوں میں کی باور کروا دیا تھا کہ وہ اسی سے شادی کرے گا۔ کیا اس نے رشتہ بھیج دیا تھا۔

“کس نے بھیجا ہے؟”وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ شخص کون تھا جو اس کے دماغ پر حاوی ہو چکا تھا۔ اس شخص کو دیکھنے کا بھی تجسس تھا اسے۔ لیکن پہلے اس کا نام جاننا ضروری تھا۔

“بالاج۔”عرفہ بیگم نے جیسے تارا کی سماعتوں پر بم گرایا تھا۔ اسے وہ شخص بھول گیا تھا جس کے بارے میں جاننے کا اسے تجسس تھا۔ زہن میں بالاج کا نام گونج رہا تھا۔ اسے لگا تھا جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو۔ وہ بے یقینی سے ششدر سی عرفہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔

“بالاج؟”اس کے لب بے آواز پھڑپھڑائے تھے۔ پھر اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“آپ مذاق کر رہی ہیں نا؟”اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ پوچھا تھا۔

“میں بالکل سنجیدہ ہوں تارا۔ یہ میرا اور سکندر بھائی کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ تمہاری شادی بالاج سے کر دی جائے۔”

“ماما آپ ایسے سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔ وہ بچہ ہے میرے لیے۔ دو سال چھوٹا ہے وہ مجھ سے۔ میں کیسے اس سے شادی کر لوں؟”وہ حیران و پریشان سی پوچھ رہی تھی۔

“وہ بچہ نہیں ہے تارا۔ ماشاءاللہ بالغ لڑکا ہے اور چھوٹی عمر کے مرد سے شادی کرنا گناہ ہے کیا جو تم نہیں کر سکتی ؟”

“میں کچھ نہیں جانتی۔ آپ اس بات کو یہیں ختم کر دیں۔”وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔

“جذباتی پن سے مت سوچو تارا۔ دماغ کو ذرا ٹھنڈا کرو۔ “

“کیسے ٹھنڈا کروں میں دماغ کو۔ میرا تو دماغ آپ کی بات نے گھما دیا ہے۔ جسے کل تک میں بچہ سمجھتی رہی۔ آج اس سے شادی کر لوں۔ نیور۔ میں اپنا مذاق نہیں بنوا سکتی۔ لوگ پہلے ہی مجھے طلاق کے طعنے دیتے نہیں تھکتے۔ اب یہ خبر سن کر وہ کیا کچھ کہیں گے۔

“تمہیں لوگوں کی پروا ہے اپنی ماں کی بات نہیں؟”عرفہ بیگم نے غصے سے پوچھا۔

“مجھے آپ کی پروا ہے ماما۔ اسی لیے میں اپنا فیصلہ بدل چکی ہوں۔ آپ چاہے کسی سے بھی میری شادی کروا دیں۔ لیکن بالاج سے نہیں۔”وہ شادی کیلیے تو مان گئی تھی لیکن بالاج سے شادی کرنا اس کیلیے ناممکن تھا۔

“یہ فیصلہ سکندر بھائی نے کرنا ہے کہ تمہاری شادی کس سے ہو گی۔ وہ اب تمہارے باپ کی جگہ ہیں۔ ان کو انکار کر سکتی ہو تو کر لو۔ مجھ سے کچھ مت کہو۔”انہوں نے اپنا دامن بچایا۔

“واٹ دی ہیل۔ ماما پلیز ایسا مت کریں۔ بالاج مجھ سے شادی پر راضی نہیں ہو گا۔ آپ ہم دونوں ہر زبردستی کر رہے ہیں۔”

“بالاج راضی ہے۔ اس سے پوچھ کر ہی یہ رشتہ طے ہوا ہے۔”عرفہ بیگم نے بتایا تو اسے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا تھا۔

“واٹ؟”وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ عرفہ بیگم کے کانوں کے پردے ہل کر رہ گئے تھے۔