Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 19
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 19
Tara Ka Chand by Dua Fatima
آج یونی میں کوئی پارٹی تھی۔ سیکنڈ فلور پر ایک بڑے سے ہال میں فنکشن تھا۔ سب ڈیپارٹمنٹس کے سٹوڈینٹ مدعو تھے۔ ٹیچرز بھی سبھی وہاں موجود تھے۔ تارا سفید رنگ کی لانگ قمیض اور ٹراؤزر کے ساتھ کالج شال لپیٹے ہمیشہ کی طرح پر وقار لگ رہی تھی۔ میک اپ کے نام پر ہلکا گلابی لپ گلوز اور آنکھوں پر آئی لائنر لگایا ہوا تھا۔ بالاج کی نظریں نہ تو اس پر سے ہٹنے کو تیار تھیں اور نہ اس پر ٹھہر رہی تھیں۔ وہ عجیب ہی مصیبت میں پڑا ہوا تھا۔ ایک اور الجھن جو اسے بے چین کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ میتھ کے ایک لیکچرار جو لگ بھگ پینتیس سال کے تھے اور ابھی تک غیر شادی شدہ تھے کب سے آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے تارا کو ہی گھورے جا رہے تھے۔ بالاج سے یہ برداشت نہیں ہو پا رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس پروفیسر کی آنکھوں کو اندھا ہی کر دے۔ جب کچھ نہ بن سکا تو وہ تارا کے قریب آیا اور وہاں موجود دوسری لیکچرار سے معزرت کرتا تارا کو اپنے ساتھ ایک کونے میں لے گیا جہاں اس چشماٹو پروفیسر کی نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔
“کیا ہے چاند؟”تارا نے چڑ کر پوچھا۔ وہ اتنے مزے سے اپنی نئی نئی بنی دوستوں کے ساتھ گپیں مار رہی تھی اور بالاج اسے وہاں سے لے آیا تھا۔ اسے لگا تھا کہ بالاج نے اس سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔
“کچھ نہیں۔”بالاج نے کندھے اچکائے۔ مطلب وہ بغیر وجہ کے اسے وہاں سے کے آیا تھا۔
“تو پھر مجھے یہاں کیوں لائے؟”اس نے بالاج کو گھورا۔
“آ….. ہاں وہ ہانیہ تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔ تم یہیں رہنا۔ میں اسے لے کر آتا ہوں۔”وہ تیزی سے کہہ کر پلٹ گیا تھا۔
ہانیہ بے بی پنک اور ڈارک پنک کلر کے امتزاج سے بنی میکسی میں ملبوس سر پر گلابی ہی سٹالر سے حجاب باندھے گلاب کا پھول لگ رہی تھی۔ وہ اپنی دوستوں کے پاس کھڑی مسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔ اس کی دوستوں نے محسوس کیا تھا کہ آج پہلی دفعہ وہ اتنی خوش لگ رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ مصنوعی نہیں تھی۔ چہرے پر مایوسی نہیں تھی اور آنکھوں میں ایک چمک سی تھی۔ آج وہ بس ہوں ہاں کرنے کی بجائے کھل کر باتیں کر رہی تھی اور اس کے نقرئی قہقہے فضا میں گونج رہے تھے۔ اس کی بیسٹ فرینڈ مرحہ ہی اصل وجہ جانتی تھی کہ وہ کیوں اتنی خوش تھی۔ وہ ہانیہ کے ہر غم میں اس کی رازدان تھی تو ایسا کیسے ہو سکتا تھا ہانیہ اسے اپنی خوشی میں شریک نہ کرتی۔ وہ اسے اپنی خلع کے بارے میں بھی بتا چکی تھی اور میکال کے بارے میں بھی اپنے جذبات بتا چکی تھی لیکن اس نے میکال سے کوئی ایسی امید نہیں باندھی تھی کیونکہ وہ خود کو اس کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔ مرحہ نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ ہر لحاظ سے چاہے جانے کے قابل ہے اور اسے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ میکال اسے ضرور اپنائے گا۔ میکال کے نرم رویے کے بارے میں سوچ کر اس کا دل خوشی سے دھڑک اٹھتا اور وہ دھیرے سے مسکرا دیتی تھی۔ اب تو مسکراہٹ اس کے لبوں سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
“آپی….”ایک جونئیر لڑکے نے آ کر اسے پکارا تو اس نے چونک کر اسے دیکھا۔
“نیچے آپ کو کوئی بلا رہا ہے۔”وہ لڑکا کہہ کر چلا گیا۔ شاید بالاج بلا رہا ہو گا۔ یہی سوچ کر ہانیہ ہال سے باہر نکلی اور سیڑھیوں سے نیچے آئی۔ اس نے گراؤنڈ میں بھی جا کر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ وسیع میدان سنسان پڑا تھا۔ سب لوگ اندر ہی تھے۔ وہ تعجب سے منہ بناتی مڑی ہی تھی کہ کسی نے پیچھے سے اس کے چہرے پر رومال رکھ دیا تھا۔ ایک ہی لمحے میں وہ بے ہوش ہو کر اس شخص کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔ اس نقاب پوش شخص نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ہانیہ کے بے ہوش وجود کو اٹھا لیا اور میں گیٹ کی بجائے ایک بیک گیٹ کی طرف بڑھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا جس نے ایک لڑکے کو ہانیہ کو بلانے بھیجا تھا۔ وہ فون پر کسی کو کال ملاتے ہوئے ہال سے نکل گیا تھا۔
“کام ہو گیا ہے چوہدری صاحب۔”دوسری جانب ثاقب یہ سن کر مکروہ سا مسکرایا تھا۔
“لڑکی کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے فارم ہاؤس پہنچو۔ میں بھی وہیں آ رہا ہوں۔”ثاقب اس وقت اپنے گاؤں میں ہی تھا اور لاہور پہنچتے ہوئے اسے ایک گھنٹہ لگ جانا تھا۔ وہ بہت دنوں سے ہانیہ کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آج اسے موقع مل ہی گیا تھا۔ اب اس نے ہانیہ بہت اذیت دینی تھی یہ تو اس نے سوچ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاج نے ساری یونی چھان ماری تھی لیکن ہانیہ اسے کہیں نہیں ملی تھی۔ اس کا فون بھی بند جا رہا تھا۔ بالاج نے ہانیہ کی دوستوں س پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہال سے باہر گئی تھی۔ اس وقت سے اندر نہیں آئی۔ بالاج پریشان ہو گیا تھا۔ اس نے باہر جا کر گیٹ کیپر سے بھی ہانیہ کے بارے میں پوچھا لیکن اسے بھی کچھ نہیں معلوم تھا۔ وہ واپس ہال میں آیا تو تارا کو دور سے ہی اس کی پریشانی صورت نظر آ گئی تھی۔
“کیا ہوا بالاج”وہ تیزی سے اس کے قریب آئی تھی۔
“پتہ نہیں ہانیہ کہاں چلی گئی ہے۔”وہ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھتے ہو بولا تھا کہ شاید کہیں ہانیہ نظر آ جائے۔
“کیا مطلب کہاں چلی گئی ہے۔ یہیں ہو گی اپنی دوستوں کے پاس۔”تارا تعجب سے بولی۔
“ان کے پاس نہیں ہے۔ اس کی ایک دوست نے بتایا ہے کہ وہ کب سے باہر گئی ہوئی ہے اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔ میں نے ساری یونی چیک کر کی ہے وہ کہیں نہیں مل رہی۔”
“پریشان مت ہو۔ وہ مل جائے گی۔ میں کال کرتی ہوں اسے ۔”تارا دل میں اٹھتے خدشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے کال کرنے لگی۔
“اس کا فون بھی بند ہے۔ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے یہ بے وقوف لڑکی۔”بالاج روہانسا ہو گیا۔
“اچھا تم میرے ساتھ چلو۔ ابھی پتہ چل جائے گا وہ کہاں ہے۔”تارا کچھ سوچ کر اسے اپنے ساتھ لے کر ہال سے باہر نکلی اور نیچے آ کر یونی کے سیکیورٹی روم میں چلی گئی جہاں ایک ساتھ کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز کمپیوٹرز کی سکرینز پر چل رہی تھیں۔ دو لوگ وہاں موجود تھے لیکن ان کا دھیان فوٹیجز پر نہیں تھا۔
“ہال نمبر ٹونٹی کے سی سی ٹی کیمرے کی تمام فوٹیجز چاہیں۔ “تارا نے ان سے کہا تو ایک شخص جلدی سے ایک کمپیوٹر کے سامنے آ بیٹھا۔
“کس وقت کی؟”
“پچھلے ایک گھنٹے کیں۔”تارا نے سکرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ بالاج بھی مضطرب سا لب کچلتا سکرین کی طرف دیکھ رہا تھا۔
جس ہال میں فنکشن تھا اس کے چار دروازے تھے۔ سب کے اوپر ایک ایک سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پندرہ منٹ کی کوشش کے بعد انہیں ہانیہ ایک دروازے سے نکلتی نظر آ گئی تھی ۔ وہ سیڑھیوں سے اتر کر گراؤنڈ میں گئی تھی۔ لیکن پھر وہ واپس آتیتی نظر نہیں آئی تھی۔ انہوں نے چاروں دروازوں کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کر لیے تھے۔ آس پاس کے اور سیڑھیوں کے کیمرے چیک کرنے شروع کر دیے لیکن وہ کہیں نہیں ملی تھی۔ ہانیہ کو اغوا کرنے والے شخص نے وہ راستہ اختیار کیا تھا جہاں سے وہ کسی بھی سی سی ٹی وی کیمرے میں نہ آ سکے۔
مین گیٹ کا سی سی ٹی وی کیمرہ چیک کرنے کے بعد انہوں نے بیک ڈور کا کیمرہ چیک کیا لیکن وہ خراب نکلا۔ اب تو تارا اور بالاج دونوں کو یقین ہو چکا تھا کہ ہانیہ کسی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ بالاج کو تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہاں اپنی بہن کو تلاش کرے۔ اس نے بابا کو فون پر ساری بات بتائی رو وہ بھی پریشان ہو گئے۔
“تم تارا کو لے کر گھر پہنچو۔ میں کچھ کرتا ہوں۔”انہوں نے کہہ کر کال جاتی اور اپنے ایک دوست کو کال ملانے لگے جو پولیس مین تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک گھنٹے تک ہانیہ کو ہوش آ چکا تھا۔ کچھ دیر تو وہ خالی خالی نظروں سے سفید چھت کو دیکھتی رہی تھی پھر جب اسے یاد آیا کہ کسی نے اسے بے ہوش کر دیا تھا تو یکدم آٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ وہ ایک فلی فرنشڈ کمرہ تھا جس کا دروازہ بند تھا۔ خود کو اس انجان جگہ پر پا کر اس کا دل خوف کے مارے کانپنے لگا۔ وہ بیڈ سے اتر کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور ناب گھماتے ہوئے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن دروازے کو لاک لگا ہوا تھا۔
“دروازہ کھولو…….کوئی ہے؟ …… پلیز میری مدد کرو۔”وہ دروازے کو کھٹکھٹانے لگی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جھلکنے لگے تھے۔
“اللّٰہ……. “جب ہر کوشش بے کار گئی تو اس نے بے اختیار اللّٰہ کو پکارا تھا۔ وہ اپنی عزت کے محفوظ رہنے کی دعا کرنے لگی تھی۔ پتہ نہیں کس نے اسے اغوا کر لیا تھا۔ بالاج اور ماما بابا کتنے پریشان ہو رہے ہوں گے۔ اگر وہ یہاں سے بچ بھی جاتی تو ان سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہنی تھی۔ اس کا سر چکرانے لگا تھا۔
تبھی باہر سے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی۔
“اللّٰہ جی پلیز مجھے بچا لیں۔”وہ روتے ہوئے بڑائی تھی۔ اگلے ہی پل دروازہ کھلا تھا۔ اپنے سامنے ثاقب کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی تھی۔ اسے اغوا کرنے والا اس کا اپنا ہی شوہر تھا۔ اور اس نے کس وجہ سے ایسا کیا تھا وہ اچھی طرح جانتی تھی اور یہ بھی جان گئی تھی کہ اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس کا دل ڈوبنے لگا تھا۔ اس کی ساکت سی خوفزدہ نگاہیں ثاقب کر ہی جمیں تھیں۔ اس میں ہلنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ثاقب استہزائیہ مسکرایا تھا۔
“کیا ہوا بیوی؟ جام کیوں ہو گئی ہو؟ “وہ دروازے کو بند کرتا اس کے قریب آیا۔ ہانیہ لڑکھڑا کر ایک قدم پیچھے ہٹی تھی۔
“ارے اتنا مت ڈرو۔”وہ طنزیہ بولا۔ پھر اس کا لہجہ پتھریلا ہو گیا۔
“بلکہ زیادہ ڈرو۔ یہ تھوڑا کم ہے۔ کیونکہ میں تمہاری سوچ سے بھی زیادہ برا ثابت ہونے والا ہوں “وہ غرایا تھا۔ ہانیہ کا نازک سا دل سہم گیا تھا۔
“نہیں….. پلیز مجھے جانے دو۔”وہ گڑگڑائی۔ ثاقب نے اسے اپنی گرفت میں قید کرتے ہوئے اس کے بال جکڑے۔
“ایسے ہی جانے دوں۔ آج ہی تو میرے قابو میں آئی ہوں۔ دو سال سے میری دسترس میں ہو لیکن ابھی تک مجھ سے بچی ہوئی ہو۔ یہ تو زیادتی ہے نا بھئی۔ اور اوپر سے خلع کا نوٹس بھیج دیا۔ اس کی سزا بھی تمہیں ملے ضرور ملے گی۔” وہ اس کے چہرے کے قریب ہو کر سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا۔ ہانیہ تڑپتے ہوئے خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے چہرے پر جھکتا ہانیہ نے پورا زور لگا کر خود کو چھڑوا لیا ۔ اسے اتنا غصہ چڑھا ہوا تھا کہ سوچے سمجھے بغیر ایک تھپڑ رکھ کر ثاقب کے منہ پر مارا۔ تھپڑ کا درد تو نہیں ہوا تھا لیکن ہانیہ کی ایک انگلی اس کی آنکھ میں بہت زور سے لگی تھی۔
“تیری یہ ہمت۔”اس نے بڑی مشکل سے درد برداشت کرتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگتی ہانیہ کو پکڑا اور اپنے سامنے کھڑا کر اپنا ہاتھ گھما کر ہانیہ کے چہرے پر مارا۔ وہ درد کی شدت سے چیخ مارتی نیچے گری تھی۔ سائیڈ ٹیبل کی لکڑی سے اس کا سر ٹکرایا تھا۔ اور وہاں سے خون نکلنے لگا تھا۔ ہانیہ اپنے ہوش گنوانے لگی گھی۔ ثاقب نے اپنی بیلٹ اتار لی اور یکے بعد دیگرے اس پر برسانے لگا۔ ہانیہ جب ضبط کھو کر آخری چیخ مارتی ہوش و خرد سے بے گانہ ہوئی تو اسی وقت کمرے کا دروازہ دھڑ کی آواز سے کھلا تھا۔ ثاقب چونک کر مڑا ہی تھا کسی نے اسے گریبان سے پکڑ کر دائیں جانب دیوار کے ساتھ دے مارا تھا۔ اس کا سر پیچھے زور سے بجا تھا اور آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے تھے۔ اس نے دھندلاتی آنکھوں سے سامنے دیکھا جہاں وہی لڑکا کھڑا تھا جس نے اس دن سڑک پر ہانیہ کو اس سے بچایا تھا۔ وہ یہاں بھی ہانیہ کو بچانے آ گیا تھا۔ اور پھر جس کا اسے ڈر تھا وہی ہوا۔ میکال جنونی کیفیت میں اسے مارنے لگا تھا۔ ثاقب کا بیلٹ چھین کر وہ وہی بیلٹ اس پر برسانے لگا تھا۔ وہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ ثاقب کے کہاں لگ رہی ہے نہ اس کی چیخیں اس پر اثر کر رہی تھیں۔ اسے بس ہانیہ کو تکلیف پہنچانے والے کو سو گنا بڑھ کر تکلیف دینی تھی۔ ثاقب درد کی تاب نہ لاتے ہوئے جب بے ہوش ہوا تو میکال نے بیلٹ پھینک کر ہانیہ کی طرف بڑھا جو خون میں لت پت بے ہوش پڑی تھی۔ اس کا ایک گال بری طرح سرخ ہو چکا تھا اور ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا۔ ماتھے سے بھی خون نکل رہا تھا۔ کمر اور بازوؤں پر جہاں جہاں بیلٹ لگا تھا وہاں سے کپڑا پھٹنے کے ساتھ ساتھ جلد بھی ادھر چکی تھی۔ میکال سے ہانیہ کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اس مضبوط دل کے ملک مرد کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے تھے۔
“مجھے معاف کر دو ہانی۔ میں بر وقت تمہیں نہیں بچا سکا۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں اب تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”وہ ہانیہ کو احتیاط سے اپنے بازوؤں میں بھر کر باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اس کے وہاں سے نکلتے ہی دو تین سیکیورٹی گارڈز کمرے میں داخل ہوئے تھے اور ثاقب کو گھسیٹ کر باہر لے جانے لگے۔ اب اس کا ٹھکانہ بھی وہی تھا جو اسفر کا تھا۔
ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ ایک قریبی ہاسپٹل پہنچا تھا۔
“پیشنٹ پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا ہے۔ یہ پولیس کیس ہے……”ڈاکٹر نے ہانیہ کو دیکھتے ہی کہا تو میکال نے چڑ کر اس کی بات کاٹی۔
“بھاڑ میں گیا کیس۔ پہلے علاج کریں اس کا۔ بعد میں جو مرضی کر لیجیے۔ اس لڑکی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔”اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرز نے علاج شروع کر دیا تھا۔ خطرے والی کوئی بات نہیں تھی۔ ہانیہ درد اور ڈر کے باعث بے ہوش ہوئی تھی۔ میکال اس کے درد کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کر رہا تھا۔ کاش وہ تھوڑا جلدی پہنچ پاتا۔ دل کو ایک پچھتاوے نے گھیرا ہوا تھا۔
جس دن اس نے ثاقب کو ہانیہ پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا تھا تب سے اس نے ثاقب کے پیچھے ایک بندہ لگا رکھا تھا۔ اسی نے میکال کو یہ خبر دی تھی کہ وہ اپنے فارم ہاؤس آ چکا ہے جہاں کچھ دیر پہلے ایک لڑکی کو لایا گیا تھا۔ اس سے جتنی جلدی ہو سکا وہ فارم ہاؤس پہنچا تھا لیکن ثاقب اس وقت تک ہانیہ کو مار مار کر بے ہوش کر چکا تھا۔ اسے ثاقب شدید غصہ تھا جو اسے اتنا مار کر بھی ختم نہیں ہوا تھا۔
“تمہارا تو میں وہ حشر کروں گا کہ ساری دنیا دیکھے گی۔ہانیہ کو پہنچنے والی ہر تکلیف کا بدلہ لوں گا میں تم سے۔ “وہ سرخ آنکھوں کو دیوار پر جمائے لب بھینچے سوچ رہا تھا۔
“ایکسکیوز می سر! آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں؟”ایک ڈاکٹر اس سے مخاطب ہوا۔ وہ کچھ پل کیلیے چپ سا رہ گیا تھا۔
“کچھ نہیں۔”
“اچھا پھر ان کے گھر والوں کو کسی طرح بلا دیں۔ تاکہ قانونی کاروائی کی جس سکے۔”ڈاکٹر کی بات پر اسے یاد آیا کہ ہانیہ کے گھر والے اس کی غیر موجودگی سے پریشان ہو رہے ہوں گے۔
“ڈاکٹر وہ ٹھیک تو ہے نا؟”ڈاکٹر جانے لگا تو میکال نے بے قراری سے ہوچھا۔
“جی بس جسمانی چوٹیں ہیں جو کچھ دنوں میں بھر جائیں گیں
“اور اس کے دل پر لگے زخموں کو میں بھروں گا۔ “اس نے سوچتے ہوئے فون نکالا اور تارا کو کال ملائی۔ کوئی چوتھی پانچویں چیک پر اس نے کال اٹھائی تھی۔
“ہیلو تارا کب سے کال کر رہا تھا۔ بندہ تھوڑا جلدی اٹھا لیتا ہے۔”وہ اسے ڈپٹنے لگا۔
“میکال میں اس وقت بہت پریشان ہوں۔ ہانیہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے……”تارا کی پریشان سی آواز آئ تھی۔
“اسے کے بارے میں بتانے کیلیے تمہیں فون کر رہا تھا۔ “
“کیا مطلب؟”تارا ٹھٹکی۔
“ثاقب ہانیہ کو اغوا کر کے لے گیا تھا۔ میں نے بازیاب کروا لیا ہے لیکن اس کی حالت بہت بری ہے۔ میں اسے ہاسپٹل لے آیا ہوں۔”
“کونسے ہاسپٹل؟ ….. اور تمہیں کیسے پتہ چلا کہ ثاقب نے اسے اغوا کیا ہے؟” تارا نے دماغ میں کلبلاتا سوال پوچھا۔
“فضول سوال چھوڑو اور ہاسپٹل پہنچو۔”میکال نے ہاسپٹل کا نام بتا کر کال کاٹ دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب گھر والے اس وقت ہاسپٹل میں ہانیہ کے پاس موجود تھے۔ لیکن میکال جا چکا تھا۔ کیونکہ وہ کسی کے سوالوں کا جواب نہیں دینا چاہتا تھا۔ بالاج بھی حیران تھا کہ میکال کو ثاقب کے بارے میں کیسے پتہ چلا۔ جب تارا نے اسے بتایا تھا کہ میکال نے ہانیہ کو ڈھونڈ لیا ہے تو اس وقت ہانیہ کے ملنے کی خوشی میں اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا لیکن اب وہ اس بات پر غور کر رہا تھا۔ یہ تو سراسر ان کا ذاتی معاملہ تھا۔ میکال کیسے اس بارے میں جان سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے اتفاقاً ہی اللّٰہ نے اسے مدد کیلیے بھیج دیا ہو۔ جو بھی تھا وہ میکال کا شکر گزار تھا اور ہانیہ کی زخمی حالت دیکھ کر اسے ثاقب پر حد سے زیادہ غصہ آیا تھا۔ اس کا خون کھول رہا تھا۔ وہ کسی بھی طرح ثاقب سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اور یہ جانتا ہی نہیں تھا کہ کوئی بہت اچھے سے ہانیہ کا بدلہ لے چکا ہے۔ ہانیہ اب کسی اور کیلیے بھی بہت اہم ہو چکی تھی۔ بلکہ وہ تو میکال کی زندگی بن چکی تھی۔ اس کا ہر درد میکال کی تکلیف کا باعث تھی۔ وہ اپنی جان سے بڑھ کر اسے چاہنے لگا تھا۔
طانیہ بیگم بھی اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر رونے لگی تھیں۔ انہیں زارا اور ثاقب سے نفرت ہونے لگی تھی اور وہ اپنے فیصلے پر شرمندہ بھی تھیں۔ ہانیہ کو جب ہوش آیا تو خود کو اپنی فیملی کے درمیان پا کر بھی اس نے کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ روئی تھی۔ شاید وہ ابھی اسی فیز کے زیر اثر تھی۔ تارا اور بالاج اسے بولنے پر اکسانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ چپ رہی تھی۔ بس خاموشی سے کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتی رہی تھی۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ابھی شاکڈ ہے۔ اسے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ اس نے جسمانی اور ذہنی دونوں تکلیف سہی تھیں۔ اب یہ تو ہونا ہی تھا۔
“ہانیہ…… میری بچی….. مجھے معاف کر دو۔ “طانیہ بیگم روتے ہوئے بولی تھیں لیکن ہانیہ نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔
“بہت ناراض ہو نا اپنی ماں سے۔ ہونا بھی چاہیے۔ یہ سب میری وجہ سے ہی تو ہوا ہے۔ کاش میں تمہیں اس وحشی کے پلے نہ باندھتی۔ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں ہانیہ۔ پلیز معاف کر دو مجھے۔”ان کے رونے سے ہانیہ بے چینی سے لب چبانے لگی تھی لیکن کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ سب گھر والے اس کی اس حالت سے پریشان ہو چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مائک مجھے ساری بات جاننی ہے کیسے تم نے ہانیہ کی مدد کی؟”تارا اس وقت میکال کے گھر موجود تھی اور حکمیہ لہجے میں پوچھ رہی تھی جبکہ میکال تذبذب کا شکار تھا۔ پھر اس نے محتاط انداز میں بتانا شروع کیا۔
“کچھ دن پہلے میں ڈرائیو کرتے ہوئے ایک سڑک سے گزر رہا تھا تو میری نظر ایک لڑکے پر پڑی جو کسی لڑکی کو زبردستی اپنے ساتھ لے جا رہا ہے اور اسے ایک تھپڑ بھی مارا تھا۔ تم تو جانتی ہو ایسے لوگوں کو سیدھا کرنے کا مجھے کتنا شوق ہے۔ میں جب ان کے قریب گیا تو مجھے پتہ چلا وہ ہانیہ تھی۔ میں نے اس لڑکے کو وہیں پیٹ ڈالا اور ہانیہ کو اپنے ساتھ لے آیا۔ راستے میں میں نے اس سے اس لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا وہ ثاقب ہے اس کا شوہر۔ اور اس پر بہت ظلم کرتا ہے ۔ پھر میں نے ثاقب کے بارے میں سب کچھ معلوم کروانے کیلیے اس کے پیچھے ایک بندہ لگا دیا اور آج اسی نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ ثاقب ہانیہ کو اغوا کر کے اپنے فارم ہاؤس لے جا چکا ہے۔ “میکال نے اپنی کسی بات سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ ہانیہ اس کیلیے کتنی اہم ہو چکی ہے۔ وہ نارمل لہجے میں بول رہا تھا جیسے اگر یہاں ہانیہ کی جگہ کوئی اور لڑکی بھی ہوتی تو وہ اس کی مدد بھی ایسے ہی کرتا۔ تارا نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
“شکر ہے اللّٰہ کا جس نے تمہیں مدد کیلیے بھیج دیا ورنہ وہ وحشی انسان پتہ نہیں ہانیہ کے ساتھ کیا کرتا۔ مجھے تو ابھی تک یہ سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے ہیں۔ ہانیہ نے کیسے تکلیف برداشت کی ہو گی۔”وہ گہری سانس بھر کر بولی تھی۔
“اب کیسی طبیعت ہے اس کی؟”اس نے بمشکل اپنے لہجے کی بے قراری کو چھپایا تھا۔
“ٹھیک نہیں ہے وہ۔ اس واقعے کا اس کے زہن پر بہت برا اثر پڑا ہے۔ وہ گم صُم سی ہوگئی ہے۔ کوئی بات نہیں کر رہی۔”وہ پریشانی سے بولی۔
“پریشان مت ہو۔ اللّٰہ بہتر کرے گا۔”وہ اسے تسلی دے رہا تھا لیکن خوف پریشان ہو چکا تھا۔
