Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 35
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 35
Tara Ka Chand by Dua Fatima
بالاج اور تارا بائے روڈ مری جا رہے تھے۔ سارا راستہ خاموشی میں ہی کٹا تھا۔ تارا کچھ دیر کھڑکی سے باہر تیزی سے گزرتے مناظر دیکھتی رہی پھر سیٹ کی پشت سے لگا کر آنکھیں بند کر گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ سو چکی تھی۔ بالاج پہلے تو بڑے دھیان سے ڈرائیونگ کر رہا تھا اب سوئی ہوئی تارا ہر بھی بار بار نظر ڈال رہا تھا۔ اس کے جاگتے ہوئے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔
مری میں سکندر صاحب نے ایک رہائش خریدی ہوئی تھی جو ایک پہاڑی اور آبشار کے ساتھ ایک خوبصورت سا بنگلہ تھا۔ وہاں کا ماحول اور فضا بہت سکون بخش تھے۔ بالاج کو وہ جگہ جنت کا ٹکڑا لگتی تھی۔ وہ بچپن میں بھی کئی دفعہ وہاں جا چکا تھا البتہ تارا کم ہی وہاں جاتی تھی۔ آج وہ کتنے ہی عرصے بعد وہاں جا رہی تھی۔ اس بات سے بے خبر کہ وہاں اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ آنے والا تھا۔
چار گھنٹوں کی مسلسل ڈرائیو کے بعد وہ مری پہنچ چکے تھے۔ اور دس پندرہ منٹ بعد وہ گھر تک آ چکے تھے۔ وہ گھر ایک بوڑھا ملازم اور اس کی بیوی سنبھالتے تھے۔ سکندر صاحب نے انہیں بالاج اور تارا کے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ گاڑی گیٹ تک پہنچتے ہی ملازم دروازہ کھول چکا تھا۔ بالاج نے گاڑی پورچ میں روکی اور باہر نکلا۔ ملازم اسے سلام دے کر گاڑی کی ڈگی سے سوٹ کیس نکالنے لگا تھا۔ بالاج نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر تارا کو جگانا چاہا لیکن پھر رک گیا۔ وہ گہری نیند سو رہی تھی۔ بالاج نے کچھ سوچ کر اسے احتیاط سے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا تھا۔ جب اسے پتہ چلے گا کہ بالاج اسے اٹھا کر کمرے میں لائے گا تو اس کا کیا ری ایکشن ہو گا۔ یہ سوچ کر بالاج نے مسکراہٹ دبائی تھی۔
ملازم کمرے میں سامان رکھ کر جا چکا تھا۔ بالاج نے تارا کو کمرے میں لا کر بیڈ کے ایک کنارے پر لٹایا اور بلینکٹ اس پر دینے لگی۔ اس کی نظریں تارا کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ دل بار بار اس کی طرف ہمک رہا تھا۔
“نو بالاج۔ سنبھالو خود کو۔”اس نے خود کو کوسا لیکن دل پھر بے باز نہ آیا اور اپنی کر کے ہی چھوڑی۔ وہ بے اختیار تارا کے چہرے پر جھکا تھا اور تارا کی صبیح پیشانی پر نرمی سے بوسہ دیا تھا۔ تارا نیند میں کسمسائی تو وہ جلدی سے پیچھے ہٹا۔
“بہت جلد میں تمہیں اپنی محبت میں گرفتار کر لوں گا مائی روڈ بیوٹی۔ آج سے تمہارا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ بیسٹ آف لک۔”وہ اس کا گال ہلکا سا تھپک کر کمرے سے چلا گیا تھا۔
ایک گھنٹے بعد جا کر تارا کی نیند پوری ہوئی تو اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھیں۔ کچھ لمحے بعد جب اسے سمجھ آئی کہ وہ گاڑی کی بجائے بیڈ پر تھی تو ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
“میں یہاں کیسے آئی؟”وہ ششدر سی سوچنے لگی تھی۔ کیا بالاج اسے اٹھا کر لایا تھا۔ اس کے علاوہ اور کون اسے یہاں لا سکتا تھا۔ اسے بالاج پر شدید قسم کا غصہ آیا تھا۔ البتہ دل تیزی سے دھڑکا تھا۔
“بالاج!”وہ چیختے ہوئے بستر سے اتری اور باہر جانے لگی۔
“بالاج!”ابھی وہ کمرے کے وسط میں ہی پہنچی تھی کہ بالاج کمرے میں آ چکا تھا۔ تارا شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی تھی۔ بالاج جان گیا تھا یہ اس کے عمل کا ردعمل ہے۔ اسے ایسے ہی ری ایکشن کی توقع تھی۔
“کیا ہو گیا تارا؟”وہ مصنوعی غصے سے پوچھنے لگا۔
“یہ پوچھو کیا نہیں ہوا۔ تم اپنی حد بھولتے جا رہے ہو۔ “وہ بھڑک اٹھی۔
“آخر میں نے کیا کیا ہے؟”بالاج نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔
“تم مجھے اپنی گود میں اٹھا کر کمرے میں کیوں لائے؟”وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
“تم سو رہی تھی تو……”
“تو تم مجھے جگا نہیں سکتے تھے۔ یہ گھٹیا فلرٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ “
“واٹ؟ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ کبھی فلرٹ بھی کرتا ہے کیا؟”وہ مسکراہٹ چھپاتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگا۔ اس کی بات پر تارا کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا۔
“تم ….. تم باز نہیں آؤ گے نا ۔ “وہ اس کے سینے اور کندھوں پر تھپڑ مارنے لگی تھی جب بالاج نے اس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر اسے پیچھے دیوار سے لگا دیا۔ تارا تو کچھ پل کیلیے بالاج کہ جرات پر ساکت رہ گئی تھی۔ وہ حیرت اور بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ بالاج اسے چیلنج کرتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“ہاؤ ڈئیر یو…… چھوڑو مجھے۔”وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔
“اگر نہ چھوڑوں تو؟”اس کے تو تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔ تارا کا دل خوف سے دھڑکا تھا جبکہ چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔
“اب تم مجھ سے مقابلہ کرو گے؟”ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ بالاج نے اس کا مقابلہ کیا ہو۔ وہ سخت حیران تھی۔
“میں تو صرف اپنا دفاع کر رہا ہوں۔ اگر مقابلہ کرنے پر آیا تو تمہیں مشکل ہو گی۔”اس کی بات کا کیا مطلب تھا تارا اچھے سے سمجھ گئی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا بالاج اسے اپنی طاقت سے زیر کرنے کی کوشش کر گا۔ وہ تو مطمئن تھی کہ بالاج معصوم سا بچہ ہے۔ لیکن وہ اتنا بھی معصوم نہیں تھا۔
“بالاج ….. چھوڑو مجھے۔”وہ بڑے ضبط سے بولی تھی۔
“نہیں۔ پھر تم مجھے مارو گی۔”بالاج بچوں کی طرح مسکین سے لہجے میں بولا۔
“نہیں ماروں گی چھوڑو۔”اس نے پچکارا۔
“پکا؟”وہ آنکھوں میں شرارت لیے پوچھنے لگا۔
“بالاج!”وہ چیخی تو بالاج نے اس کی کلائیاں آزاد کر دیں اور گلے ہی پل تارا نے کھینچ کر تھپڑ اس کے گال پر مارا تھا۔ وہ دل ہی دل میں ہنسا تھا۔ جو کچھ ابھی وہ کر چکا تھا اب اتنی سزا تو بنتی ہی تھی۔
“آئیندہ میرے قریب آئے تو قتل کر دوں گی میں تمہارا۔”وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی کمرے سے نکل گئی جبکہ بالاج گال سہلاتے ہوئے منہ بنا کر رہ گیا تھا۔ پھر اس کے لب پراسرار سے مسکرا اٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایس ٹی. لوسیا بہت خوبصورت جزیرہ تھا۔ میکال اور ہانیہ انیس گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد وہاں پہنچ چکے تھے۔ اور اب ایک ہوٹل کے سویٹ میں آ چکے تھے جو وہ پہلے ہی بک کروا چکے تھے۔
ہانیہ بہت خوش اور پرجوش تھی۔ مسکراہٹ تو اس کے لبوں سے جدا ہی نہیں ہو رہی تھی۔ میکال سوٹ کیس پکڑے ہال میں داخل ہوا تو وہ خوشی سے گول گھومتی نظر آئی تھی۔ وہ بھی بے اختیار مسکرا دیا تھا۔
“واؤ…. کتنی پیاری جگہ ہے یہ۔ “وہ اب کھڑکی کے پاس جا کر اسے کھولنے لگی تھی۔ لیکن اس سے کھل نہیں پا رہی تھی۔ میکال نے اس کے قریب آ کر کھڑکی کھولی۔ ٹھنڈی اور تیز ہوا کا جھونکا ان سے ٹکرایا تھا۔ ہانیہ کے بال اڑ کر میکال کے چہرے پر آ گئے تھے۔ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ اور مڑ کر باہر کا منظر دیکھنے لگی تھی۔ دائیں طرف خوبصورت پہاڑ تھے اور سامنے وسیع و عریض سمندر تھا اور ساحل سمندر تو ہانیہ کو کچھ زیادہ ہی پیارہ لگ رہا تھا۔ کھڑکی سے دور دور کے مناظر دیکھنا اسے بہت پسند تھا۔
“میکال وہ دیکھیں کتنی پیاری جگہ ہے۔ “وہ ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر جکڑتی محسوس ہوئی تھی۔ میکال اسے پیچھے سے اپنے ایک بازو کی گرفت میں لے چکا تھا۔ وہ سانس روک گئی تھی۔
“ہممم۔ بہت پیاری ہے۔”وہ اسے اپنے سینے بھینچ کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتی ہوئے بولا تھا۔ ہانیہ کو پتہ چل گیا تھا وہ اسی کی تعریف کر رہا ہے۔ اس کی دھڑکنوں کی سپیڈ تیز ہوئی تھی۔
“میکال…… وہ دیکھیں نا۔”اس نے میکال کی توجہ خود پر سے ہٹانی چاہی۔ میکال اس کی بات پر دھیان دیے بنا اس کے گال پر لب رکھ چکا تھا۔ وہ پل بھر میں سرخ ہوئی تھی۔ کچھ لمحوں بعد میکال نے لب ہٹایے تو ہانیہ کی جان میں جان آئی تھی۔
“میکال…… میں آپ سے کیا کہہ رہی ہوں اور آپ……”وہ اس کی طرف مڑتے ہوئے خفگی سے بولی تھی۔
“تم بولو میں سن رہا ہوں۔”میکال نے کہتے ہوئے اس کے دوسرے گال کو چوما تھا۔ اب ایسے اس نے خاک بولنا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے سوچنے لگی تھی۔ میکال نے چہرہ پیچھے کر کے اسے آنکھیں بھینچے دیکھا تو مسکرا دیا اور پھر اس کے لبوں پر جھک گیا۔ ہانیہ کا دل کانوں میں ڈھول کی طرح بجنے لگا تھا۔ شادی کی رات کے بعد وہ آج اتنا رومینٹک ہوا تھا۔ ہانیہ کافی حد تک اس سے فرینک ہو چکی تھی اور آہستہ آہستہ اس کی قربت کی عادی ہو رہی تھی۔ آج اسے یوں خوشی سے مسکراتے دیکھ کر وہ اپنے دل پر قابو نہیں رکھ سکا تھا۔ ہانیہ کا نازک وجود اپنے حصار میں لیے کتنے ہی پل ارد گرد سے بیگانہ ہو کر وہ اپنے جنون کی داستان رقم کرتا رہا تھا۔ ہانیہ بے چاری سے تو اس کے پیار کی شدت سہنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ کانپ رہی تھی لیکن مزاحمت نہیں کر پا رہی تھی۔
آخر کار اس پر ترس کھا کر میکال نے اس کے لبوں کو آزاد کیا تو وہ گہری گہری سانسیں لیتی گلنار چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی تھی۔
“اف یار اب ایسے مت کرو۔ پھر میں نے کچھ غلط کر دیا تو تم نے ناراض ہو جانا ہے۔”وہ شرارت سے بولا تھا۔
“اب بھی کچھ اور کرنا باقی ہے کیا؟”ہانیہ نے پلکیں اٹھا کر اسے غصے سے گھورا۔
“ہاں نا بہت کچھ باقی ہے۔ اگر اجازت ہو تو……”وہ بول رہا تھا جب ہانیہ چیخی۔
“میکال……” وہ ہنس پڑا تھا۔
“اوکے اوکے۔ اب کچھ نہیں کر رہا میں۔ ابھی کیلیے اتنی ڈوز ہی بہت ہے۔ “
“بہت برے ہیں آپ۔ میں ناراض ہوں آپ سے۔”وہ جل کر بولتی رخ پھیر گئی تھی۔ میکال ایک دفعہ پھر سے اسے پیچھے سے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
“اچھا چلو ناراض نہ ہو بتاؤ کیا کہہ رہی تھی تم۔”
“پہلے مجھے چھوڑیں۔”
“یہ تو اب ناممکن ہے۔ تمہیں چھوڑنا میرے بس کی بات نہیں۔ “وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تھا۔ ہانیہ نچلا لب دبا کر مسکراہٹ روک گئی تھی۔ اس کی ناراضگی ختم ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ہو چکی تھی۔ سارے گھر کی بتیاں بھی بند ہو چکی تھی۔ چاند کی چاندنی نے فضا کو ذراسا روشن کیا ہوا تھا۔ تارا بالاج کے ساتھ والے کمرے میں موجود تھی۔ یہاں آس پاس بہت کم گھر تھے اور جنگل بھی تھا۔ اسے اکیلے ڈر لگ رہا تھا لیکن بالاج کے ساتھ تو اس نے بھی نہیں سونا تھا۔ گھر میں تو بڑوں کے ڈر سے اسے بالاج کے ساتھ کمرہ شئیر کرنا پڑتا تھا لیکن اب وہ اپنی من مانی کر رہی تھی۔
وہ بستر پر لیٹ کر اپنے اوپر بلینکٹ درست کر رہی تھی جب کھڑکی کے شیشے کے پار اسے کوئی ہیولہ نظر آیا۔ اس کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ وہ ایک پل کیلیے ساکت ہوئی تھی پھر کانپتے ہوئے بستر سے اتری اور ننگے پاؤں دروازے کی طرف بھاگی۔ وہ اس اجنبی کے کمرے سے آنے سے پہلے باہر نکل جانا چاہتی تھی۔ دروازہ کھول کر وہ جیسے ہی آگے بڑھی کسی سے بری طرح ٹکرائی تھی۔ اس کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔ اسے لگا وہ اجنبی کی قید میں آ چکی ہے۔ اس نے آنکھیں پھاڑ کر سامنے والے کو دیکھا لیکن اندھیرے کے باعث کچھ خاص نظر نہیں آیا تھا۔
“تارا!….. کیا ہوا؟”یہ تو بالاج کی آواز تھی۔ اس نے بے اختیار گیری سانس لیتے ہوئے بالاج کے سینے سے سر ٹکا دیا تھا۔
“تارا!”وہ اس کے عمل پر حیران و پریشان سا رہ گیا تھا۔
“وہ…..وہاں کوئی ہے۔”اس نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
“کہاں ؟”بالاج نے پوچھا۔
“کھڑکی کے پار۔”وہ کانپتے ہوئے بولی تھی۔ بالاج تیزی سے اندر آیا اور کمرے کا بلب آن کر کے کھڑکی کی طرف بڑھا۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا۔ شاید ملازم ہو گا۔ بالاج سوچ کر مطمئن ہو گیا تھا۔
“کوئی بھی نہیں تارا۔ پریشان نہیں ہو۔ میں تمہارے پاس ہوں۔”وہ اس کے قریب آ کر اسے تسلی دینے لگا ۔
“وہ تمہیں بھی نقصان پہنچا دے گا؟”وہ پریشانی سے بولی۔
“کون؟”بالاج نے بے اختیار پوچھا۔ تارا کو کچھ دیر کیلیے چپ لگی تھی۔
“وہ……”تارا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے کیسے باذل کے بارے میں بتائے۔
“بتاؤ تارا؟ کون ہے وہ؟”وہ نرمی سے پوچھنے لگا۔
“باذل۔”وہ اس سے نظریں ملائے بغیر بولی تھی۔ بالاج کچھ پل خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔
“اس نے مجھے دھمکی بھی دی تھی کہ اگر میں نے تم سے شادی کی تو وہ تمہیں مار دے گا۔”وہ رونے لگی۔
“تم نے مجھے یہ پہلے کیوں نہیں بتایا؟”اس کے اس سوال کا جواب بھی تارا کے پاس نہیں تھا۔
“میں شوہر ہونے سے پہلے تمہارا دوست ہوں تارا۔اگر تم مجھ سے اپنی ہر پریشانی شئیر کرو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
“میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ سوری۔”وہ شرمندگی سے بولی تھی۔
“ٹرسٹ می تارا۔ آئی کین پروٹیکٹ یو۔”وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔ تارا نے اس دفعہ خود کو چھڑوانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ طمانیت سے آنکھیں بند کر گئی تھی۔
