406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 31

Tara Ka Chand by Dua Fatima

تارا آج ناشتے کی میز پر سب کے ساتھ موجود تھی۔ اس نے یونی جانا تھا۔ طانیہ بیگم نے منع تو کیا لیکن اس نے اثر نہیں لیا اور کسی سے بھی بات کیے بنا ناشتہ کر کے اٹھ گئی۔ اسے باہر جاتے دیکھ کر بالاج بھی تیزی سے اٹھا تھا۔

“ہانیہ جلدی آؤ تم بھی۔”

“بس دو منٹ۔”ہانیہ چائے پیتے ہوئے بولی تو وہ باہر چلا گیا۔ تارا ایک گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔ بالاج نے اس کے قریب آ کر گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔

“پچھلا کھولو۔”تارا نے اسے ایسے حکم دیا جیسے وہ اس کا ڈرائیور ہو ۔ بالاج بس منہ بنانے کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا۔

تارا پچھلی سیٹ پر بیٹھی تو بالاج نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ بیک ویو مرر سے تارا کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے لب بے ساختہ مسکرائے تھے۔

“بیوٹیفل۔”وہ آہستہ آواز میں بولا تھا ۔ لیکن تارا کو سنائی دے گیا تھا۔اس نے ٹھٹک کر بالاج کی آنکھوں میں دیکھا۔

“آ….. موسم بہت پیارا ہے آج ہیں نا۔”وہ جلدی سے بولا۔ وہ تو شکر تھا موسم واقعی اچھا تھا ورنہ تارا کے ہاتھوں بالاج کی شامت آ جانی تھی۔ تارا مطمئن ہو گئی تھی۔ کچھ دیر ان کے درمیان معنی خیز خاموشی رہی تھی۔ وہ بہت دیر ساتھ رہنے کے باوجود بھی زیادہ بات نہیں کر پاتے تھے۔ بالاج تو ویسے ہی اس سے ڈرتا تھا اور اگر وہ کچھ بولنے کی کوشش کرتا تو تارا اسے گھور کر چپ کروا دیتی تھی۔ وہ ابھی بھی اس پر حاوی تھی۔

ہانیہ کے آنے پر بالاج نے گاڑی سٹارٹ کر دی اور گیٹ سے نکال لی۔ تارا کو ڈر لگنے لگا کہ کہیں وہ اجنبی پھر نہ آ دھمکے۔ لیکن اب تو بالاج اور ہانیہ اس کے ساتھ تھے تو زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ یونی میں بھی اس نے بڑی احتیاط سے کام لیا تھا۔ کسی سنسان جگہ پر تو وہ بھول کے بھی نہیں گئی تھی لیکن اسے ہر پل یہ خدشہ رہتا تھا کہ جیسے وہ اجنبی اس کے پیچھے ہے اور موقع ملتے ہی اس پر دھاوا بول دے گا۔ پچھلی ملاقات میں اس نے جو کچھ کیا تھا اس نے تارا کو بہت خوفزدہ کر دیا تھا۔ اتنا ڈر تو اسے کبھی نہیں لگا تھا۔ وہ خود کو تسلی دے کر ریلیکس کرنے کی کوشش تو کر رہی تھی لیکن جانتی تھی اگر اب وہ اس کے سامنے آیا تو خوف سے اس نے بے ہوش ہو جانا تھا۔ وہ اس کیلیے ایک خوفناک آسیب بن چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کے دن قریب آ رہے تھے۔ ہانیہ اور تارا کی شاپنگ ابھی رہتی تھی۔ طانیہ بیگم نے ان دونوں سے کہا تھا کہ وہ ان کے ساتھ چل کر اپنی پسند کی چیزیں لے لیں لیکن تارا نے انکار کر دیا۔ طانیہ بیگم اس پر تھوڑا بہت غصہ کر کے ہانیہ کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ بالاج آفس میں تھا تو طانیہ بیگم نے میکال کو فون کر کے بلا لیا۔ اس نے خوشی خوشی یہ زمہ داری لے لی کیونکہ ہانیہ سے ملاقات جو ہونی تھی۔ کچھ دوسری شاپنگ کر کے وہ لیڈیز بوتیک آ گئے۔ اور ہانیہ کیلیے لہنگا پسند کرنے لگے۔ ایک لہنگا پسند آیا تو طانیہ بیگم نے اسے ڈریسنگ روم میں جا کر لہنگا چیک کرنے کا کہا۔ جب وہ چینج کر کے باہر آئی تو میکال مبہوت سا رہ گیا تھا۔سرخ لہنگے میں ملبوس وہ کسی پری کی طرح لگ رہی تھی اور میکال کی وجہ سے شرما بھی رہی تھی تو اور بھی پیاری لگنے لگی تھی۔ اس سے پہلے کہ میکال کا دل بے قابو ہوتا وہ تیزی سے نظریں پھیر گیا تھا۔ طانیہ بیگم نے وہ لہنگا اوکے کر کے مزید کچھ اور ڈریس بھی خریدے تھے اور ہانیہ کو چیک کرنے کا کہا تھا۔ ہانیہ بے چاری کپڑے چینج کر کر کے تھک گئی۔ لیکن پھر میکال نے ایک دفعہ بھی اسے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ ہانیہ مایوسی سے منہ بنا گئی تھی۔ میکال نے اس کے لیے ولیمے کا ڈریس بھی خریدا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ جیولری کی شاپ پر چلے گئے ۔ جیلوری لینے کے بعد وہ شاپنگ مال میں ہی بنے ایک کیفے میں کچھ کھانے آ گئے۔ طانیہ بیگم کو اپنی ایک دوست نظر آ گئی تو وہ اس کے پاس چلی گئیں۔ میکال ہانیہ کی طرف متوجہ ہوا جو ادھر ادھر دیکھتی اسے اگنور کرنے میں مصروف تھی۔

“تم وہی ہانیہ ہو نا جو فون پر میرے ساتھ چیٹنگ کرتی ہو۔”میکال نے کچھ مشکوک انداز میں کہا تھا۔ ہانیہ نے بس تعجب سے اسے دیکھا پھر نظریں پھیر لیں۔ اس کے انداز سے میکال کو لگا جیسے وہ اس سے ناراض تھی۔

“تم مجھ سے ناراض ہو؟”وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔ ہانیہ نے جواب نہیں دیا۔

“کیا ہوا ہنی؟”اس کے انداز تخاطب پر ہانیہ کا دل تیزی سے دھڑکا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“تو پھر مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو؟”

“آپ نے بھی تو مجھے اگنور کیا۔”اس کی زبان پھسلی۔ میکال کی بھنویں پہلے حیرت سے سکڑیں پھر اسے سمجھ آ گیا کہ وہ کیوں یہ شکوہ کر رہی تھی۔

“میں نے اگنور تو نہیں کیا تھا۔”وہ منانے والے انداز میں بولا۔

“تو اور کیا کیا تھا؟”ہانیہ نے اسے گھورا۔

“وہ تو احتیاط کر رہا تھا نا۔ تمہیں دیکھ کر پتہ نہیں میرے دل کو کیا ہو جاتا ہے۔ اگر میں بے اختیار ہو جاتا تو سوچو کیا ہوتا پھر۔”اس نے بڑی معصومیت سے صفائی پیش کی تھی جبکہ ہانیہ کے گال سرخ ہو چکے تھے اور وہ میکال کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی۔

“آپ بہت….”وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔

“ہینڈسم ہوں نا۔ یہی کہنا چاہ رہی ہو نا تم۔”میکال نے اس کی بات اچکی۔ ہانیہ ہنس پڑی تھی۔ میکال اسے ہنستے دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج نے آفس سے آ کر سیدھا کچن کا رخ کیا تھا۔ اسے بہت پیاس لگی تھی۔ کچن میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر تارا پر پڑی تو اسے پیاس بھول گئی تھی۔ وہ نظروں کی پیاس بجھانے لگا تھا۔ تارا نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تو وہ جلدی سے نظریں پھیر گیا

“اسلام علیکم۔”وہ دھیرے سے چلتا ہوا کچن میں لگے ڈائینگ ٹیبل پر آ بیٹھا۔

“وعلیکم السلام۔”لٹھ مار جواب آیا تھا۔ بالاج مسکراہٹ چھپانے کو نچلا لب دبا گیا تھا۔

“تارا ! ایک گلاس پانی کا تو دینا۔”اس نے تھوڑا شوہروں والا حق استعمال کرنا چاہا۔ تارا نے بڑے اچنبھے سے اسے دیکھا۔

“کیا کہا؟”

“پانی مانگا تھا۔”وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولا تھا۔

“پانی چاہیے۔”وہ چمچا پکڑے اس کی طرف بڑھی تو بالاج کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“کیا ہو گیا ہے تارا۔ میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا۔”وہ تارا سے بچنے کیلیے ٹیبل کے گرد چلنے لگا۔

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھ پر حکم چلانے کی۔ میں تمہیں نوکرانی نظر آتی ہوں کیا؟”اسے پتہ نہیں کیوں اتنا غصہ آ رہا تھا۔

“نوکرانی نہیں بیوی تو ہو۔ اب اپنے شوہر کیلیے اتنا بھی نہیں کر سکتی تم۔”بالاج نے اسے اور تپایا۔

“یو…..ٹھہرو تم۔ “تارا چیختی اس کے پیچھے بھاگی تھی۔ بالاج نے جان بوجھ کر اپنی سپیڈ کم کر دی۔ تارا اس کے قریب آ کر اسے مارنے لگی تھی۔

“میں نے منع کیا تھا آئیندہ میرے سامنے ایسی فضول بات مت کرنا۔ لیکن تم ہو ہی بدتمیز۔ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔”تارا نے چمچا اس کے بازو پر مارا ۔ اتنا زور کا تو نہیں لگا تھا لیکن بالاج جان بوجھ کر کراہنے لگا۔

“آہ…. تارا ……”اس کے چہرے پر درد کے آثار دیکھ کر تارا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

“دکھاؤ زیادہ لگی ہے کیا؟”وہ فکر مندی سے پوچھنے لگی۔ بالاج دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔

“ہاں بہت زیادہ۔ “وہ منہ بسورے ہوئے بولا تو تارا اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔

“آستین اوپر کرو دیکھنے دو مجھے۔”وہ بولی تو بالاج نے نفی میں سر ہلایا۔

“رہنے دو اب اتنی بھی نہیں لگی۔ ……ایک دفعہ مجھے کسی نے کہا تھا کہ مردوں کو اتنی چھوٹی چھوٹی چوٹوں سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔”وہ سر پر ہاتھ مارتا آنکھوں میں شرارت لیے بظاہر سنجیدگی سے بولا تھا۔ تارا کو بھی وہ لمحہ یاد آیا تھا جب اس نے بالاج کو یہ بات کہی تھی۔ اس وقت تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ کمزور سا لڑکا مستقبل میں اس کا شوہر بننے والا تھا۔ وائے رے قسمت۔ وہ اپنی قسمت کو کوستی سر جھٹک گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہائے میرا بچہ اتنا اداس کیوں لگ رہا ہے؟”میکال نے بڑی ماں کی طرح تارا کو پچکارا تھا۔ وہ جو لان میں لگی کرسی پر چہرہ ہاتھوں میں ٹکائے بیٹھی تھی اسے ایک نظر دیکھ کر سیدھی ہو بیٹھی تھی۔

“میرا موڈ سخت آف ہے۔ تم چلے جاؤ ابھی۔”وہ منہ پھلائے بولی تھی۔

“ارے کیا ہوا؟” میکال نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

“جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہو رہا ہے میرے ساتھ۔”

“مثلاً کیا؟”میکال نے تجسس سے پوچھا۔

“ایک تائی جان میری ساس کم تھی جو ماما بھی اب ساس بن گئیں۔ جب دیکھو دونوں مجھے ڈانٹتی رہتی ہیں اور ڈانٹتی بھی کس کی وجہ سے ہیں اس چاند کے بچے کی وجہ سے۔ ہر وقت اسے خوش رکھنے کی نصیحتیں کرتی رہتی ہیں۔ میں مر کیوں نہیں گئی یہ سب کچھ سہنے سے پہلے۔”وہ دانت پیستے ہوئے میکال کے سامنے اپنی بھڑاس نکالنے لگی تھی۔

” یار یہ کوئی بری بات تو نہیں ہے۔ وہ شوہر ہے تمہارا۔ اسے خوش رکھنا تمہارا فرض ہے۔”میکال نے اسے سمجھایا۔

“جانتی ہوں میں شوہر کو خوش رکھنا بیوی کا فرض ہوتا ہے لیکن میں اسے شوہر تسلیم ہی نہیں کر پا رہی۔ عجیب سی سچویشن بن گئی ہے۔ وہ مجھ سے بڑا ہوتا تو تب بھی میں کہتی چلو ٹھیک ہے لیکن اب وہ مجھ پر حکم چلاتا ہے تو مجھے اس پر بہت غصہ آتا ہے۔ مجھے وہ پرانا زمانہ یاد آ جاتا ہے جب وہ میرے حکم کو بچوں کی طرح مانتا تھا۔”وہ الجھ کر کہہ رہی تھی۔

“جب تک تم ماضی کو بھولو گی نہیں اسی الجھن میں رہو گی۔ ماضی سے نکل آؤ اور احساس کمتری سے بھی۔ حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھو۔ اور شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اتنا اچھا لائف پارٹنر دیا۔ وہ چاہے اممیچور سہی لیکن اسفر کی طرح منافق اور برا تو نہیں ہے۔ تمہیں اس پر یہ یقین تو یہ نا وہ کبھی تمہیں دھوکا نہیں دے گا اور تمہیں کبھی چھوڑے گا بھی نہیں۔ “میکال کی باتوں نے اس کی سوچ کو ایک نیا رخ دیا تھا۔ اگر یہاں اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو بالاج کے ملنے پر اللّٰہ کا شکر ادا کرتی اور وہ اللّٰہ سے شکوے کر رہی تھی۔ بالاج میں کوئی خامی نہیں تھی۔ بس وہ اس سے دو سال چھوٹا ہی تو تھا۔ کئی لڑکیوں کی شادی اپنے سے چھوٹے مردوں سے یو جاتی ہیں۔ پھر وہ کیوں اتنا الجھ رہی تھی۔

“تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن مجھے نہیں پتہ میں کبھی اسے شوہر کا درجہ دے پاؤں گی یا نہیں۔ میں اپنی انا نہیں ہار سکتی اور وہ کب تک میرا انتظار کرے گا۔ مجھ سے ہمدردی اپنی جگہ لیکن اس کیلیے اپنی خوشی بھی تو اہم ہے۔ اگر اس نے مجھے چھوڑا نہ بھی لیکن مجھ سے نا امید ہو کر وہ دوسری شادی جلد ہی کر لے گا۔”وہ اپنا اندازہ برا رہی تھی اور جانتی ہی نہیں تھی کہ بالاج کی خوشی وہی ہے۔ ایک دفعہ میکال کا دل تو کیا اسے یہ بتا دے لیکن بالاج اسے خود بتاتا تو تب ہی تارا کو یقین آنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ دیر سے کمرے میں آئی تھی۔ بالاج اس سے پہلے آ چکا تھا اور بیڈ پر قبضہ جما چکا تھا۔ تارا جو اس پر پھر سے تپ چڑھا۔

“تم یہاں کس خوشی میں بیٹھے ہوئے ہو؟”وہ تیوریاں چڑھا کر پوچھنے لگی۔

“میں آج یہاں سوؤں گا۔ صوفے پر مجھ سے نہیں سونے ہوتا۔ صبح جب اٹھتا ہوں تو زمین پر گرا ہوا ہوتا ہوں۔”وہ منہ بنا کر بولا۔

“تو زمین پر ہی سو جایا کرو نا۔”

“تو تم سو جاؤ نا۔”بالاج نے بحث کرنی چاہی ۔ تارا نے کچھ پل اسے گھورا پھر سر اثبات میں ہلایا۔

“ٹھیک ہے میں سو جاتی ہوں زمین پر۔”وہ گہری سانس لے کر بولی اور اپنا پِلو اور ایک چادر لے کر زمین پر آ گئی۔ زمین پر نرم قالین تھا لیکن پھر بھی بالاج کو گوارا نہیں تھا کہ تارا زمین پر سوئے۔

“ارے تارا میں مذاق کر رہا تھا۔ تم تو سیریس کی ہو گئی ہو۔ چلو آ جاؤ بیڈ پر میں سو جاتا ہوں نیچے۔”

“نہیں تم اب اوپر ہی رہو۔”تارا خفگی سے کہتی چادر کو اپنے اوپر پھیلا کر لیٹ گئی ۔ بالاج نے کچھ سوچا اور اٹھ کر اس کے قریب آیا۔ تارا نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ بھی اس کے قریب سرہانہ رکھ کر لیٹ رہا تھا۔

“واٹ دی ہیل۔”وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چیخی۔

“کیا ہوا؟”بالاج نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ تارا نے اس کے کندھے پر ایک دھپ رسید کی اور اٹھ کر بیڈ پر چلی گئی۔ بالاج کھل کر مسکرایا تھا۔

“ویسے تارا تمہیں میرے ساتھ مسلہ کیا ہے؟ کہیں میرے ساتھ کانٹے تو نہیں لگے ہوئے؟”بالاج نے اس کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا۔

“بکواس بند کرو اور سو جاؤ۔”تارا نے چادر سر پر تان لی۔

“کیوں مجھ سے اتنا بھاگتی ہو یار۔ بچپن میں تو تم مجھے اپنے پاس سلا لیتی تھی۔ میں تمہاری گود میں سر رکھ کر لیٹتا تھا اور تم میرے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے سلاتی تھی۔”وہ بچپن کو یاد کرتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تو کیسی گزر رہی ہے شادی شدہ زندگی؟”میکال نے پوچھا۔ بالاج اس وقت اس کے آفس میں موجود تھا۔

“زبردست۔”وہ تارا کو یاد کر کے مسکرایا تھا۔

“رئیلی؟”میکال نے ابرو اچکائی۔

“اب تم کیا چاہتے ہو میں اپنی بیوی کے ظلم بتا کر تم سے ہمدردی حاصل کروں؟”وہ بولا تو میکال ہنس پڑا۔

“مطلب حالات بے چاروں والے ہی ہیں تمہارے۔”

“بس یار کبھی نہ کبھی ٹھیک ہو ہی جائیں گے ۔ “وہ پر امید تھا۔

“صرف خواہش کرنے سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ تمہیں کچھ کرنا پڑے گا۔ “

“اب اور کیا کروں؟”تارا سے شادی کر کے وہ خود کو بڑا بہادر سمجھ رہا تھا۔ یہ کوئی آسان بات تھوڑی تھی۔

“اب یہ بھی مجھے ہی بتانا پڑے گا ۔ اسے اپنی محبت کا احساس دلاؤ ۔ وہ تم سے دو سال بڑے ہونے کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔ اب تمہیں بڑا بن کر اسے احساس کمتری سے نکالنا ہو گا۔ تمہاری محبت اس کی انا کو ختم کر سکتی ہے۔”میکال تو دونوں کو سمجھا رہا تھا۔ تاکہ ان کی نیہ بھی پار لگ جائے۔

“صحیح کہہ رہے ہو۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا۔