406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 29

Tara Ka Chand by Dua Fatima

زخم زیادہ گہرا نہیں تھا۔ ہلکا سا کٹ لگا تھا۔ میکال کی جتنی وِل پاور تھی اس کیلیے یہ زخم کچھ بھی نہیں تھا ۔ تارا بھی اسی کے ساتھ ہی ہاسپٹل آئی تھی۔ پولیس کے پوچھنے پر کچھ دیر وہ جواب نہیں دے سکی تھی کہ یہ سب کیسے ہوا ۔ میکال نے پولیس کے سامنے جھوٹ بول دیا کہ وہ وہاں اپنے کسی رشتے دار سے ملنے آئے تھے اور ایک ڈاکو نے ان پر حملہ کر دیا۔ پولیس کو تو مطمئن کر دیا تھا لیکن سکندر صاحب مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ وہ اور حسن صاحب اکٹھے ہی ہاسپٹل پہنچے تھے۔ حسن صاحب میکال کو ڈانٹ رہے تھے او سکندر صاحب تارا کو خاموشی سے گھور رہے تھے۔ توقع کے مطابق بعد میں اس کی کلاس لگ چکی تھی۔

“یہ سب کیا تھا تارا؟”وہ سخت لہجے میں پوچھ رہے تھے۔ تارا نے نچلا لب دبا کر آنکھیں بھینچیں۔ اب کیسے انہیں اصل بات بتاتی۔ لیکن بتانا ضروری بھی تھا۔ وہ نہیں چاہتی چچا جان اس کے بارے میں کچھ غلط سوچیں۔

“تم دونوں وہاں کیا کرنے گئے تھے؟”انہوں نے دوبارہ پوچھا تو تارا نے انہیں سب کچھ بتانے کا ارادہ کر لیا تھا۔

“مجھے میکال کو کسی سے ملوانا تھا۔”اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔

“کس سے؟”سکندر صاحب کی بھنویں سکڑیں۔

“وہ پتہ نہیں کون ہے۔ پارٹی میں وہ مجھ سے ملا تھا تب سے میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ یہ ایسی بات تھی کہ میں کھل کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔ ایک میکال ہی تھا جو میری مدد کر سکتا تھا۔ میں نے اسے بتا دیا……..”وہ جھجھک کر آہستہ آہستہ سب بتاتی گئی۔ سکندر صاحب پریشانی سے کنپٹی مسلنے لگے۔ وہ تارا کو پارٹی میں کس مقصد کیلیے لے کر گئے تھے اور یہ ہو کیا گیا تھا۔ کون تھا جو ان کے گھر کی بیٹی پر بری نظر رکھے ہوئے تھا۔ انہیں اس اجنبی پر غصہ بھی آ رہا تگ اور دل میں یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں وہ تارا کے ساتھ کوئی اونچ نیچ نہ کر دے ۔

“تمہیں مجھے پہلے ہی سب بتا دینا چاہیے تھا۔ جتنا وہ خطرناک انسان ہے اس سے کچھ بھی بعید نہیں کیا کر دے۔ تمہاری جان سے زیادہ عزت خطرے میں ہے۔ اگر کسی کو یہ بات پتہ چلی تو کوئی اسے کچھ نہیں کہے گا ۔ سب تمہیں ہی قصوروار گردانیں گیں۔ “

“میں تو پوری احتیاط کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔”وہ رونے والی ہو گئی تھی۔

“بہر حال اس مشکل سے نمٹنے کا میرے پاس ایک ہی حل ہے۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے تھے۔ تارا نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“جتنی جلدی ہو سکے تمہارا نکاح کر دیا جائے۔”ان کی بات پر تارا کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔

“اتنی جلدی کسی کے بارے میں معلومات کرنا بھی مشکل ہے اس لیے کسی باہر والے سے تمہاری شادی نہیں کر سکتا۔ تمہارے لیے بالاج ہی بیسٹ رہے گا۔ تم بھی اسے اچھی طرح جانتی ہو۔ بچپن ساتھ گزرا ہے تم دونوں کا۔ میرے خیال سے اس میں ایسی کوئی برائی نہیں جسے بنیاد بنا کر تم اس رشتے پر اعتراض کر سکو۔”وہ دو ٹوک لہجے میں بول رہے تھے ۔

“لیکن چچا جان!”وہ منمنائی۔

“لیکن ویکن کچھ نہیں۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ خود کو اس رشتے کیلیے تیار کر لو۔ کل تمہارا نکاح ہے ۔”

تارا کو اپنے ارد گرد دھماکے ہوتے ہوئے محسوس ہونے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کس الو کے پٹھے نے مارا آپ کو؟”ہانیہ کا غصے سے بھرا میسج پڑھ کر میکال زور سے ہنسا تھا۔

“پتہ نہیں کون الو کا پٹھا تھا۔ “اس نے مسکین سے منہ والی ایموجی کے جواب سینڈ کیا۔

“ایک دفعہ وہ میرے سامنے آ جائے۔ پھر دیکھیے گا کیا حشر کرتی میں اس کا۔ اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی آپ کو مارنے کی۔”ہانیہ کچھ زیادہ ہی غصے میں تھی۔ اسے اپنے لیے پریشان دیکھ کر میکال کو اچھا لگا تھا۔

“میں اسے ڈھونڈ کر تمہارے سامنے لاؤں گا۔ پھر تم اس کا جی بھر کے حشر بگاڑنا۔”وہ مذاق کے موڈ میں تھا۔

“آپ میرا مذاق مت اڑائیں۔ میں بہت سنجیدہ ہوں۔”ہانیہ نے کہا۔

“اوکے ناراض تو مت ہو۔”

“اچھا بتائیں اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”وہ فکرمندی سے پوچھنے لگی۔

“آ کر پوچھو گی تو بتاؤں گا۔”

“میں نہیں آ رہی۔ “ہانیہ بدک کر بولی۔ وہ چاہے میکال سے منسوب ہو چکی تھی لیکن گھر والوں کے سامنے اس سے ملنے کی خواہش نہیں کر سکتی تھی۔ میکال بھی اس کی شرمیلی طبیعت سے واقف تھا۔ اسی لیے اس نے زیادہ اصرار نہیں کیا تھا۔ وہ ابھی ہانیہ سے بات کر رہا تھا کہ ایک ملازم نے اسے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔ وہ گھر آ چکا تھا اور پہلے سے کافی بہتر تھا۔ ابھی وہ اپنے کمرے میں تھا۔ وہ مہمانوں سے ملنے باہر آنے ہی والا تھا کہ کمرے کے دروازے پر طانیہ بیگم نمودار ہوئیں۔ وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کے ساتھ بالاج بھی تھا۔

“ارے ارے۔ بچے لیٹے رہو۔”وہ فکر مندی سے بولیں۔

“اسلام علیکم۔”وہ تابعداری سے بولا تھا۔ ان سے سلام دعا کے بعد وہ بالاج سے ملا۔

“ویسے حیرت کی بات ہے ۔ تمہیں بھی کوئی مات دے سکتا ہے؟”بالاج نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی تو وہ مسکرایا۔

“تمہارا رقیب ہے۔ بچ کر رہنا۔یہ نہ ہو تمہیں سیدھا اوپر پہنچا دے۔”اس نے جوابی کاروائی کی۔

“ہونہہ۔ رقیب۔ میرے سامنے تو آئے”چاند نے جیلس ہوتے ہوئے ناک چڑھایا تھا۔

کچھ دیر بعد طانیہ بیگم میکال کا حال احوال پوچھا کر چلی گئی تھیں جبکہ بالاج میکال کے پاس ہی موجود تھا۔

“قسم سے یار کیا بندہ تھا وہ۔ چہرہ تو نہیں دیکھ سکا اس کا لیکن جسامت سے کوئی باڈی بلڈر ہی لگ رہا تھا۔ کیا کمال کی فائٹنگ کی اس نے۔ میں تو حیران رہ گیا۔ آج تک اس سے بہتر کوئی مقابل نہیں ملا مجھے۔ لڑائی کرنے کا مزا آ گیا یار۔ کاش ایک دفعہ وہ پھر میرے سامنے آئے۔ میں اس سے ریکویسٹ کروں گا کہ مجھ سے ایک اور فائٹ میچ لگائے۔ “وہ ایسے بول رہا تھا جیسے ان حسین پلوں کو یاد کر رہا ہو۔ جبکہ بالاج نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔ اسے اپنے رقیب کی تعریف برداشت نہیں ہو رہی تھی۔

“اس کے گن گانا اب بند بھی کر دو۔”وہ چڑ کر بولا۔

“اچھا کر دیے بند۔ یہ بتاؤ تمہاری نیہ پار لگی کہ ابھی بیچ منجھدار میں ہی ہے۔ “اس نے پوچھا تو بالاج مسکرایا۔

“لگ گئی پار۔ کل میرا نکاح ہے۔”

“ارے….. نہ کر۔ سٹار مان گئی؟”

“بابا نے سختی سے منوایا ہے۔ آج جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے بابا نے اچانک ہی یہ فیصلہ سنا دیا۔”

“پھر تو تمہیں اپنے رقیب کو شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔ اس کی وجہ سے سٹار اتنی جلدی تمہاری ہونے جا رہی ہے۔ ناممکن سی بات ممکن ہو چکی ہے۔ “میکال شرارت سے بولا تو بالاج اسے غصے سے گھور کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالآخر تارا کو بالاج سے نکاح کرنا ہی پڑا تھا۔اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے اس کی دھڑکنیں رکی تھیں۔ سب بہت خوش نظر آ رہے تھے لیکن اسے اپنے دل کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ایک بے چینی سی اندر باہر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا دل رونے کو کر رہا تھا۔ وہ بس تنہائی چاہتی تھی۔

نکاح عمران ہاؤس کے لاؤنج میں ہوا تھا۔ صرف گھر والے ہی تقریب میں شامل تھے۔ خاندان والوں میں سے کسی کو بھی نہیں بلایا گیا تھا۔ یہ نکاح ابھی راز رکھنا تھا۔ ہانیہ اور میکال کی شادی کو ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ ان کے ساتھ ہی تارا اور بالاج کی شادی ہونی تھی۔ میکال اور حسن صاحب بھی نکاح پر آئے تھے۔ نکاح اور دعا کے بعد اب میکال تارا اور بالاج کو چھیڑنے میں مصروف تھا اور ہانیہ ہنس رہی تھی۔ بڑے ایک طرف بیٹھے تھے۔

“ویسے یہ تو غلط بات ہے نا۔ مون سٹار کا رشتہ ہم سے بعد میں طے ہوا تھا شادی ہم سے پہلے ہو گئی۔ “میکال نے کہا تو ہانیہ سے تھا لیکن آواز بالاج اور تارا کو بھی پہنچ گئی تھی۔ تارا غصے سے لب بھینچ کر ایک جھٹکے سے اٹھی اور لاؤنج سے نکل گئی۔

“چلو بھئی ۔ اب جا کر اپنی روٹھی محبوبہ کو مناؤ۔”میکال نے ہاتھ جھاڑنے والے انداز میں کہا تھا۔ بالاج اسے گھوری سے نوازتا اٹھ کھڑا ہوا تھا اور تارا کے پیچھے گیا۔ وہ بیگ گارڈن میں دوسری طرف رخ کیے مٹھیاں بھینچتے ہوئے اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بالاج کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ پہچان گئی تھی۔

“تارا…..”اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا تارا مڑ کر ہاتھ اٹھاتے ہوئے اسے وہیں روک چکی تھی۔

“سٹاپ۔”اس کی آواز سرد مہری لیے ہوئے تھی۔ آنکھوں میں بھی بیگانہ پن تھا۔ بالاج کا دل دکھا تھا۔

“اتنا تم جانتے ہی ہو گے کہ میں اس رشتے کو نہیں مانتی اور ہمارا پرانا رشتہ بھی تمہارے اس عمل کی وجہ سے ختم کو چکا ہے سو ….. آج سے ہم اجنبی ہیں۔”وہ بے حسی سے کہتی اسے ہرٹ کر رہی تھی۔

“تارا اب ایسے تو مت کہو۔ میں اب بھی تمہارے لیے وہی چاند ہوں۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ “وہ تڑپ کر بولا تھا۔ تارا خود اذیتی سے ہنسی۔

“سب کچھ بدل گیا ہے ۔ تم نے مجھ پر جو یہ زبردستی احسان تھوپا ہے نا اس نے میرے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ میں خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی۔ “وہ بمشکل خود کو رونے سے روک رہی تھی۔

“رو لو تارا۔ مجھ پر غصہ نکال دو۔ “وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولا۔

“مجھے تم سے بات بھی نہیں کرنی۔ جاؤ یہاں سے۔”تارا نے چیخ کر کہا۔ بالاج نے گہری سانس لی تھی۔

“اوکے ۔ میں جا رہا ہوں لیکن امید کرتا ہوں تم جلد ہی مجھے معاف کر دو گی۔”وہ کہہ کر پلٹا تھا۔

“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔”تارا کی بات پر اس کے قدم کچھ پل کیلیے رکے تھے۔ پھر وہ تیزی سے چلتا ہوا اندر داخل ہو گیا تھا۔تارا کے آنسو بہہ نکلے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرفہ بیگم نے تارا سے کہا تھا کہ وہ بالاج کے کمرے میں شفٹ ہو جائے لیکن وہ نہیں مانی تھی۔ وہ بالاج کو اپنا شوہر تسلیم نہیں کر پا رہی تھی اور ابھی تک حقیقت سے انکاری تھی۔ سکندر صاحب نے عرفہ بیگم کو سمجھایا تھا کہ ابھی تارا پر مزید کوئی دباؤ نہ ڈالیں۔ دو دن سے تارا یونی بھی نہیں گئی تھی۔ حتیٰ کہ اپنے کمرے سے بھی باہر نکلی تھی۔ ابھی تک دوبارہ اس کا بالاج سے سامنا نہیں ہوا تھا لیکن ہانیہ کئی بار اس کے کمرے میں آ چکی تھی۔ وہ اس واقعے کی وجہ سے اپ سیٹ تھی لیکن ہانیہ نے اس کا دھیان اپنی باتوں سے کافی حد تک بٹا لیا تھا۔ اس اجنبی کی انگوٹھی ابھی تک اس کی انگلی سے نہیں اتری تھی حالانکہ اس نے کوشش تو بہت کی تھی۔ اب وہ نکاح کی وجہ سے انگوٹھی والی بات بھول گئی تھی۔

“میرے لیے اس رشتے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اب میں مزید ٹینشن نہیں لوں گی۔ “وہ خود کو تسلی دے کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے اور اسے ابھی تک نیند نہیں آئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔ تبھی کوئی کھڑکی کے ذریعے اس کے کمرے میں کودا تھا۔ اور قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا تھا۔ لیمپ کی ذرد روشنی میں تارا کا چہرہ جگمگا رہا تھا۔ وہ مبہوت سا اسے دیکھتا زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ چکا تھا۔ کئی پل یوں ہی اسے دیکھتا رہا پھر بے خودی کے عالم میں وہ تارا کے چہرے پر جھکنے لگا تھا۔ اس کے لب تارا کے گلابی ہونٹوں پر آن ٹھہرے تھے۔ وہ آنکھیں بند کر کے ان کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔

تارا کی نیند ابھی اتنی گہری نہیں تھی۔ اسے غنودگی میں کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا۔ وہ ہونٹوں پر کسی کے لمس کا احساس تھا۔ اس کی نیند بھک سے اڑ گئی تھی۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو کسی کو خود پر جھکا پا کر خود کی ایک لہر اس کے سارے جسم کو کانپنے پر مجبور کر گئی تھی۔ اس نے تیزی سے مقابل کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلا تھا اور ساتھ اس کی ایک اونچی آواز میں چیخ بھی نکلی تھی جو بے ساختہ ہی تھی۔

“آہ……” وہ ہوش میں نہیں تھا اس لیے تارا کی چیخ کو نہ روک سکا لیکن اسے پہلے خود کو ایکسپوز ہونے سے بچانا تھا۔ اس نے تیزی سے لیمپ آف کر دیا۔ تارا اٹھ بیٹھی تھی۔ گھبراہٹ کے مارے اس کے چہرے پر پسینہ آ چکا تھا۔

“شش…..تارا ڈرو نہیں۔ میں ہوں۔”وہ اپنی مخصوص گھمبیر آواز میں بولا تھا۔ تارا کو اب سمجھ آ گیا تھا وہی اجنبی تھا جو اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ کیا وہ اس کے لبوں تک پہنچ گیا تھا۔ وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ یہ تو وہ سوچ بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ اب کسی اور کے نکاح میں تھی۔ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن پھر بھی اسے اپنا آپ گناہگار لگنے لگا تھا۔

“ت…..تم…..کیوں آئے ہو یہاں ؟”تارا خوفزدہ لہجے میں پوچھ رہی رہی تھی ۔ وہ اسے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ تارا کو دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی۔

“تارا…… کیا ہوا…… میں نے تمہاری چیخ سنی تھی۔”یہ عرفہ بیگم کی آواز تھی۔ تارا کے ساتھ ساتھ وہ بھی گھبرایا تھا۔ دروازے کو لاک نہیں لگا تھا۔ عرفہ بیگم دروازہ کھول کر اندر آ چکی تھیں اور سوئچ ڈھونڈ کر انہوں نے لائٹ آن کی تو اتنی دیر میں وہ جا چکا تھا لیکن عرفہ بیگم کی زیرک نگاہیں جان چکی تھیں کہ یہاں کوئی آیا تھا۔ انہوں نے جواب طلب نظروں سے تارا کو دیکھا۔ تارا کے چہرے پر چمکتے پسینے نے انہیں جواب دے دیا تھا۔

“کیا وہ آیا تھا؟”وہ سپاٹ لہجے میں پوچھتی اس کے قریب آئی تھیں۔ تارا سر اثبات میں ہلاتی ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔ عرفہ بیگم نے اسے گلے لگایا۔

“بس بس چپ کرو۔ سب ٹھیک ہے۔ تم میرے ساتھ میرے کمرے میں چلو۔ اب وہ تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔”وہ نرمی سے اس کی کمر سہلاتی بولیں تو تارا کو کچھ حوصلہ ہوا تھا۔ پھر وہ ماما کے ساتھ ان کے کمرے میں چلی گئی تھی۔ نیند تو اب کوسوں دور جا چکی تھی۔ اسے بار بار وہ لمحہ یاد آ رہا تھا جب وہ اس کے لبوں پر جھکا ہوا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ اسفر کے ساتھ شادی کے دو سال گزارنے کے باوجود بھی وہ ایسے لمحے سے نہیں گزری تھی۔ جب تک اسے اسفر کی حقیقت نہیں پتہ تب تک بھی اسفر نے کبھی اسے پیار سے ایک بوسہ بھی نہیں دیا تھا۔ اور جب اسفر کا بھیانک روپ اس کے سامنے آیا تو اسفر نے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پیسوں کی وجہ سے وہ بچ جاتی تھی۔ اس وقت اسے اسفر سے نفرت کے علاوہ اور کچھ بھی فیل نہیں ہوتا تھا لیکن آج وہ ایک عجیب سے احساس میں گِھر چکی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ وہ خود پر غصے ہوتی ہاتھ میں پہنی انگوٹھی اتارنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ تھی کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اس نے اکتا کر گہرا سانس لیا تھا۔