406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 1

Tara Ka Chand by Dua Fatima

میرا سوچنا تیری ذات تک

میری گفتگو تیری بات تک

نہ تم ملو جو کبھی مجھے

میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک

کبھی فرصتیں جو ملی تو آ

میری زندگی کے حصار تک

میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں

تیرے پہلے سے تیرے بعد تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سردیوں کا موسم تھا۔وسیع آسمان پر چمکتے سورج کی سنہری کرنیں ملک ہاؤس کے ٹیرس کو پوری طرح سے روشن کیے ہوئے تھیں۔ ایک طرف پودوں کے خوبصورت سے گملے تھا اور ریلنگ پر بیلوں کے گچھے لٹکے ہوئے تھے۔ ان کے پاس ہی ایک میز کے گرد تین کرسیاں پڑی تھیں۔

وہ سربراہی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ٹیرس میں کھلتے دروازے سے اس کا نیم رخ نظر آ رہا تھا۔ سیاہ سلکی بالوں کا رف سا جوڑا بنائے وہ پیچھے سے بیس اکیس سال کی دبلی پتلی سی لڑکی لگتی تھی۔ لیکن اس کی آواز میں ایسی کڑک تھی جیسے وہ تیس سے اوپر کی کوئی سخت دِل عورت ہو۔ جبکہ اس کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھا اٹھارہ سالہ لڑکا بہت کیوٹ اور معصوم سا لگ رہا تھا۔ براؤن آنکھوں اور خوبصورت سرخ و سفید سے چہرے پر اس وقت درد کے آثار موجود تھے۔ اور اس کے ساتھ دائیں طرف اس کی جڑواں بہن بیٹھی تھی جو شکل میں تو بالکل اس کے جیسی تھی لیکن اس کی حرکتیں اس سے بالکل مختلف تھیں۔ وہ اپنے بھائی کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپا رہی تھی کیونکہ سامنے بیٹھی استانی کی نظر اس پر پڑ جاتی تو اس کی خیر نہیں تھی۔

“دھیان کہاں ہے تمہارا …. چاند!”اس نے کرخت لہجے میں چاند سے کہا تھا۔ چاند جو درد کو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا گھبرا کر سر نفی میں ہلا گیا۔ ہانیہ نے ہنسی چھپانے کیلیے سر جھکا لیا تھا۔ آخر اسی کی کارستانی کی وجہ سے وہ بے چارہ درد سہہ رہا تھا۔

“پڑھ کیوں نہیں رہے تم؟ کب سے دیکھ رہی ہوں تم برے برے منہ بنائے جا رہے ہو؟”اب کی بار اس لڑکی کا چہرہ واضح ہوا تھا۔ سنہرے گندمی رنگ اور تیکھے نقوش کے حامل وہ لڑکی کالے رنگ کے لباس میں کسی ستارے کی طرف چمک رہی تھی۔ اس کے چہرے پر چھایا رعب و دبدبہ اسے پروقار بنا رہا تھا۔ اس کی نظروں میں ہمیشہ ایسی چبھن ہوتی تھی کہ سامنے والے کو وہ نظریں جھکانے پر مجبور کر دیتی تھی اور چاند بے چارہ تو تھا ہی ازل کا ڈر پوک۔ وہ ایک لمحے سے زیادہ آنکھ اٹھا کر اسے دیکھ نہیں پاتا تھا۔

“نہیں……میں پڑھ رہا ہوں۔”چاند نے ایک پل کیلیے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا پھر سر جھکا کر کتاب کے صحفے پھولنے لگا تھا۔ وہ اسے خشمگیں نظروں سے گھورنے لگی تھی۔

“اگر تم پڑھ رہے ہوتے تو اب تمہیں سبق ڈھونڈنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ کیوں تارا آپی؟”ہانیہ نے جلتی پر تیل ڈالا اور تارا کو دیکھا۔

“تم تو چپ کرو۔”وہ دبی دبی آواز میں ہانیہ کو تنبیہہ کرتا بولا تھا پھر تارا کی طرف متوجہ ہوا۔

“وہ ….. ہوا کی وجہ سے پیج آگے پیچھے ہوگئے تھے ورنہ میں پڑھ ہی رہا تھا۔”چاند نے تارا کو صفائی دی۔ تارا نے غصے سے اس کے سر پر تھپڑ دے مارا۔

“تو جب میں نے تمہیں پکارا تب تمہیں سبق ڈھونڈنے کا یاد آیا؟”اب وہ اس کا کان پکڑ کر مروڑ رہی تھی۔ ہانیہ کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔

“آہ…… تارا ۔ میرے کان کو چھوڑو۔ پہلے ہی مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔”وہ منہ بسورتے ہوئے بولا تو تارا نے اس کا کان چھوڑ دیا۔

“کہاں درد کو رہا ہے؟”وہ پریشان ہو اٹھی تھی۔ خود چاہے اسے جتنا مار لیتی اسے فکر نہیں ہوتی تھی لیکن اگر چاند کو کسی اور کی وجہ سے درد ملتا تو وہ غصے میں آ جاتی تھی۔

“یہاں پر۔”چاند نے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے معصومیت سے بتایا۔

“کیا ہوا ہے یہاں پر دکھاؤ مجھے۔”تارا نے اسے جینز کا پائنچہ اوپر کرنے کا اشارہ کیا۔ چاند تذبذب کا شکار ہوا۔

“میں نے کچھ کہا ہے چاند۔”اس کی کڑک دار آواز سنتے ہی چاند نے سر ہلاتے ہوئے پائنچہ اوپر کیا۔ اس کے گھٹنا سرخ تھا۔

“اوہ خدایا یہ کیسے ہوا؟”تارا نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ہانیہ نے تھوک نگلا۔

“سیڑھیوں پر تیل گرا ہوا تھا۔ میرا پاؤں اس پر آ کر پھسل گیا اور گھٹنے پر سیڑھی لگی۔”وہ بچوں کی طرح بتاتا رونے لگا تھا۔

“چپ۔ خبردار جو تم روئے تو۔ مرد بنو۔ اتنی چھوٹی چھوٹی چوٹوں سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ “تارا حکمیہ لہجے میں بولی۔ چاند نے آنسو پونچھتے ہوئے پائنچہ نیچے کیا۔

“ہانیہ جاؤ ذرا کبریٰ میڈم کو بلا کر لاؤ۔ اس کی تو میں خبر لوں۔”تارا نے چاند سے نظریں ہٹا کر ہانیہ سے کہا۔ کبریٰ ان کے گھر کی ملازمہ تھی۔ تارا کے ہاتھوں آئے روز اس کی سختی آئی رہتی تھی۔

“اب تو پکا میں پکڑی جاؤں گی۔”ہانیہ دل ہی دل میں کہتی کرسی سے اٹھی تھی۔ دراصل اس نے ہی تیل سیڑھیوں پر پھینکا تھا تاکہ چاند گر جائے اور ایسا کرتے ہوئے کبریٰ کی نظر اس پر پڑ گئی تھی ۔ اسے ٹھیک سے پتہ تو نہیں چلا تھا کہ ہانیہ نے وہاں کیا گرایا لیکن اتنا پتہ چل گیا تھا کہ اس نے کچھ گرایا تھا۔ اب اگر تارا آپی اس سے پوچھتی تو کبریٰ نے سیدھا اس کا نام لینا تھا۔ اسے کسی بھی طرح بچنا تھا۔ وہ نیچے گئی اور کبریٰ سے کچھ کہے بغیر ہی اوپر آ گئی۔

“وہ ….. کبریٰ مارکیٹ گئی ہوئی ہے۔”تارا کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے اسے بہت ڈر لگ رہا تھا۔

“اچھا تم بیٹھ کر پڑھو۔”وہ بولی تو ہانیہ نے شکر کا سانس لیا کہ یہ معاملہ یہیں دب گیا۔ لیکن تارا اتنی جلدی اس معاملے کو چھوڑنے والی نہیں تھی۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ کوئی اس کے چاند کو دکھ دے اور وہ اسے یوں ہی جانے دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم فکر مت کرو زارا۔ یوں سمجھو سمعیہ میری ہی بیٹی ہے۔ میں اسے ہی اپنی بہو بناؤں گی۔”طانیہ بیگم فون کان سے لگائے اپنی بہن سے بات کر رہی تھیں جب لاؤنج کے دروازے سے ہانیہ کندھے پر بیگ ڈالے اندر داخل ہوئی تھی۔ چاند ابھی پیچھے تھا۔

“اچھا بہن بچے آ گئے ہیں۔ میں بعد میں تم سے بات کرتی ہوں۔”انہوں نے فون بند کر دیا۔ ہانیہ میز پر بیگ رکھ کر صوفے پر بیٹھ چکی تھی جبکہ چاند ابھی تک اندر نہیں پہنچا تھا۔

“چاند کہاں ہے؟”انہوں نے ذرا غصے سے پوچھا۔ انہیں چاند کا تارا کے پاس رہنا بالکل بھی پسند نہیں تھا لیکن مجبوری تھی۔ تارا کے علاوہ وہ کسی اور کے پاس پڑھتا جو نہیں تھا۔اس لیے چپ تھیں وہ۔

ہانیہ ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ چاند لڑکھڑاتا ہوا اندر داخل ہوا۔

“چاند کیا ہوا ہے؟ ایسے کیوں چل رہے ہو؟”طانیہ بیگم پریشانی سے کہتی اٹھیں اور چاند کی طرف بڑھیں۔

“کچھ نہیں ماما…..”وہ جیسے تارا سے اپنا درد شئیر کرتا تھا ویسے اپنی ماں سے بھی نہیں کر پاتا تھا۔

“جھوٹ مت بولو۔ مجھے پتہ ہے اس چڑیل نے ہی تمہیں مارا ہو گا۔ اس کو تو آج میں نہیں چھوڑوں گی۔ خود کو سمجھتی کیا ہے وہ۔ میرا بیٹا کوئی لاوارث ہے کیا۔”ہانیہ بیگم تارا پر بھڑکتے ہوئے لاؤنج سے باہر نکلنے لگیں۔

“رکیں ماما۔ تارا آپی نے اسے کچھ نہیں کہا۔ میری وجہ سے اسے یہ چوٹ لگی ہے۔”ہانیہ نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا تو طانیہ نے پلٹ کر خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ چاند بھی چونک اٹھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ سیڑھیوں پر تیل کس نے گرایا ہے؟”وہ خطرناک تیوروں سے کبریٰ کو دیکھ رہی تھی۔

“م….میں نے تو نہیں گرایا بی بی جی۔”کبریٰ پہلے تو گڑبڑا گئی پھر سوچا وہ کیوں ڈر رہی ہے۔ اس نے تو کچھ کیا ہی نہیں۔

“ہانیہ بی بی سیڑھیوں پر کوئی چیز گرا رہی تھیں۔ جب میری نظر ان پر پڑی تو انہوں نے اپنے پیچھے بوتل چھپا لی۔ مجھے نہیں پتہ تھا وہ تیل کی بوتل تھی “کبریٰ کچھ یاد کرتے ہوئے بولی تھی۔ اور تارا کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ چکا تھا۔ وہ لب بھینچ کر مڑی اور کچن سے نکل گئی۔ پیچھے سے کبریٰ نے سینے میں اٹکی سانس خارج کی تھی۔ تارا کے جاہ و جلال سے تو اس کے ماں باپ بھی ڈرتے تھے۔

وہ اپنے گھر کے ساتھ والے پورشن میں داخل ہوئی اور تیزی سے اندر کی جانب بڑھی تھی۔ لاؤنج کے قریب آ کر اس کے قدم رکھ تھے

“موٹی عورت…… تم نے مجھے گرایا؟”اندر سے چاند چیخا تھا اور ہانیہ ہنسی تھی۔

“اپنی دفعہ کتنا دکھ ہو رہا ہے۔ یاد ہے کل تم نے بھی مجھے گرایا تھا۔” ہانیہ نے کل کے واقعے کی طرف اشارہ کیا۔ بھاگتے ہوئے چاند کی ٹکر اس سے ہوئی تو وہ گھٹنوں کے بل نیچے گر گئی تھی۔ تارا نے چاند کو مارا بھی تھا لیکن ہانیہ خود اپنا بدلہ لینا چاہتی تھی۔

“وہ غلطی سے ہوا تھا۔ میں نے تم سے معافی بھی مانگی تھی۔”وہ رونے والا ہو گیا۔ طانیہ بیگم سے اب اپنے بیٹے کی روشنی صورت دیکھی نہ گئی تو وہ ہانیہ کی طرف جارحانہ انداز میں بڑھی۔

“شرم نہیں آتی تمہیں بھائی کو تکلیف دیتے ہوئے۔”ان کا ہاتھ ہانیہ پر اٹھنے ہی والا تھا کہ تارا اندر داخل ہوئی۔ اسے دیکھ کر چاند اور ہانیہ تو سہمے ہی ساتھ طانیہ بیگم کے ہاتھ کو بھی بریک لگی تھی۔

“دل تو کر رہا ہے تھپڑ مار مار کر تم دونوں کا منہ لال کر دوں۔ “وہ ہانیہ اور چاند کے سامنے آ کر دانت کچکچاتے ہوئے بولی تھی۔ ہانیہ کس سر جھک گیا۔

“میرا کیا قصور ہے؟”چاند بے چارہ منہ میں بڑبڑا کر رہ گیا۔ جانتا تھا اگر یہ بات اونچی آواز میں کہتا تو اب تک واقعی اسے تھپڑ پر چکا ہوتا۔

“اے لڑکی۔ یہ میرے بچے ہیں تمہارے نہیں۔ میں سنبھال لوں گی انہیں تم ہمارے معاملے میں نہ ہی پڑو تو بہتر ہو گا۔”طانیہ نے ناگواری سے تارا کو دیکھا تھا۔ تارا نے اپنا روئے سخن ان کی طرف موڑا اور سینے پر بازو باندھتے ہوئے بڑی طنزیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔

“اوہ اچھا۔ ذرا میں بھی تو دیکھوں کیسے سنبھالتی ہیں آپ انہیں۔ “اس نے طانیہ کو چیلنج کیا تھا۔ اب طانیہ نے اس چیلنج کو پورا کرنا تھا۔ تارا کسی جج کی طرح صوفے پر بیٹھ کر پاؤں ہلاتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی۔ طانیہ بیگم تلملا کر ہانیہ کی طرف بڑھیں۔ ہانیہ بھاگ کر صوفے کے پیچھے چلی گئی۔

“ادھر آؤ تم ۔ آج تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔ تمہارے کچھ زیادہ ہی پر نکل آئے ہیں۔ “طانیہ بیگم غصے سے کہتی ہانیہ کے پیچھے بھاگنے لگی تھیں۔

“اپنے اس لاڈلے بیٹے کے بھی پر کاٹیں نا ذرا۔ ہر بار میرا کام خراب کر دیتا ہے اور بعد میں معصوم بن کر کہتا ہے …..سوری۔”ہانیہ آگے آگے بھاگتے ہوئے بولی تھی۔ تارا سپاٹ نظروں سے یہ مزاحیہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اور چاند ڈرتے ڈرتے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“میرے بیٹے کے بارے میں ایک لفظ بھی مت کہنا۔ تم سے ہزار درجے بہتر ہے وہ۔”طانیہ بیگم کو اپنے بیٹے سے کچھ زیادہ ہی پیار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہانیہ چاند سے خار کھاتی تھی۔

“واہ ماں واہ۔ کام سارے مجھ سے کرواتی ہیں۔ اور پیار اپنے اس بھوکے بیٹے سے کرتی ہیں۔ “اس نے غصے سے چاند کو دیکھا

“تم سے کم ہی کھاتا ہوں۔ موٹی۔”وہ دھیمی آواز میں بولا تھا جو تارا کو تو سنائی نہیں دی تھی البتہ ہانیہ نے سن لی تھی۔

“تم موٹے بھدے۔ سڑی شکل والے کریلے۔”وہ چڑتے ہوئے بولی تھی۔

“خود کی شکل دیکھی ہے۔ بھنڈی جیسی۔”چاند بھی بھڑکا۔

“اچھا بس۔ بہت ہو گیا تماشہ۔”تارا یکدم بولتی اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ دونوں چپ کر گئے۔

“تو سنبھال لیا آپ نے چچی جان؟”وہ جتاتی نظروں سے طانیہ بیگم کو دیکھنے لگی تھی۔ انہوں نے بے بسی سے لب کاٹے۔ ان کے بچے تارا سے ڈرتے تھے لیکن ان سے نہیں۔

“اب ذرا مجھے دیکھیں کیسے بچے سنبھالتے ہیں۔”اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی جو پل بھر میں ہی معدوم ہو گئی تھی۔ اور بالاج سکندر کے دل کی دنیا ہلا گئی تھی۔ وہ کبھی کبھی ہی اس کے سامنے مسکراتی اور جب بھی مسکراتی تھی اس کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں۔ وہ اس کی مسکراہٹ کو مبہوت سا ہو کر دیکھنے لگتے تھا اور جب تارا کے مسکراتے لب سکڑتے تو وہ گھبرا کر نظریں جھکا دیتا تھا۔ اپنی یہ عجیب سی کیفیت اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ وہ شروع سے ہی تارا سے بہت اٹیچڈ تھا لیکن پھر بھی تارا نے اسے خود سے اتنا بھی فرینک ہونے کی اجازت کبھی نہیں دی تھی کہ وہ فرصت سے اس کی مسکراہٹ ہی دیکھ لے۔ اب بھی تارا کے ایک دفعہ گھورنے کی دیر تھی اور وہ نظریں چرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا۔

“یہاں آؤ بے بی۔ اٹس ٹائم ٹو پنش۔”وہ بھنویں آچکا کر کہتی ہانیہ کی طرف بڑھی تھی۔

“ن…. نہیں آپی ۔ پلیز مجھے پنش مت کریں۔”ہانیہ منمناتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگی تھی۔ وہ جتنی اپنی ماں سے تڑخ کر بات کر رہی تھی تارا کے سامنے اتنی ہی بھیگی بلی بنی ہوئی تھی۔

“پنش کرنا ضروری ہے نا بچے۔ ورنہ تم ہر بار یہی غلطی کرو گی۔”وہ بڑے سکون سے بولی تھی۔ چاند اب معصوم بنا نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

“آئیندہ نہیں کروں گی۔”تارا اس کا کان پکڑنے لگی تھی جب وہ تیزی سے بولی۔

“وہ تو اب انشاء اللہ نہیں کرو گی ۔ لیکن آج کا حساب تو دو۔ سیڑھیوں پر تیل کیوں پھینکا تم نے۔اگر چاند کو زیادہ چوٹ آ جاتی تو؟ کون زمہ دار تھا پھر؟”وہ ہانیہ کا کان مروڑتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھنے لگی تھی۔

“اس….. نے بھی مجھے کل چوٹ دی تھی۔”وہ منہ بناتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔

“میں نے اسے اس بات کی پنشمنٹ کل دے دی تھی پھر تم نے خود کیوں بدلہ لیا؟”

“کیونکہ میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ “اس کے لہجے میں ہٹ دھرمی تھی۔ تارا نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا تھا۔

“تو پھر آپ کا غصہ کیسے ٹھنڈا ہو گا؟”

“جب اس کو بھی ویسی ہی ڈانٹ پڑے گی جیسی مجھے پڑتی ہے۔ آپ سب مجھے ہی ڈانٹتے ہو۔ اسے کیوں نہیں ڈانٹتے۔ یہ لڑکا ہے اس لیے؟ “ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“ایسی بات نہیں ہے۔ لڑکا اور لڑکی برابر ہوتے ہیں۔ جو غلطی کرے گا اسے ڈانٹ تو پڑے گی نا۔ کل اس نے غلطی کی تو میں نے اسے پنش کیا تھا ؟ اب کس بات کا شکوہ ہے؟”

“آپ مجھ سے زیادہ اس سے پیار کرتی ہیں۔ یہ شکوہ ہے مجھے۔”اس نے شکوہ کیا۔ تارا نے گہری سانس لے کر سر جھٹکا۔ پھر کچھ دیر توقف کے بعد آگے بڑھی۔ ہانیہ ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹی۔ تارا نے آگے کو جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ہانیہ کے دل میں تو لڈو پھوٹنے لگے جبکہ چاند جل بھن گیا۔

“ایسے کبھی مجھے تو پیار نہیں کیا۔”وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا تھا پھر چونک اٹھا۔

“لاحول ولا قوہ۔ یہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔ “وہ شرمندہ ہوتے ہوئے اپنی سوچ پر لعنت بھیجنے لگا۔

“مجھے تم سے بہت زیادہ پیار ہے۔ سب سے ذیادہ۔”تارا نے ہانیہ کا گال تھپکا۔ طانیہ بیگم بھی دل ہی دل میں اس کے لہجے سے متاثر ہوئی تھیں۔

“رئیلی؟”وہ خوشی سے بولی۔

“ہاں لیکن پیار اپنی جگہ۔ اگر تم غلطی کرو گی تو سزا تمہیں ضرور ملے گی۔ چلو شاباش کچن میں جاؤ اور رات کا کھانا تیار کرو۔ اور چچی جان آپ آرام سے بیٹھ کر ٹی وی پر ڈرامہ دیکھیں۔ ہانیہ کچن سنبھال لے گی۔ “وہ ہانیہ کو حکم دے کر طانیہ بیگم سے مخاطب ہوئی۔ وہ آگے سے کچھ بول نہیں سکی تھیں۔ تارا نے انہیں ایک مسکراہٹ سے نوازا اور مڑ کر چاند کی طرف آئی۔

“ٹانگ میں درد ہے اور اب تک کھڑے ہو۔ عقل سے کام لے لیا کرو کبھی۔ چلو اپنے کمرے میں جاؤ۔” چاند نے اس کے حکم پر سر تسلیم خم کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ماما میں نے آپ کو کتنی دفعہ منع کیا ہے یہ کام مت کیا کریں۔ میں دیکھ لوں گی لیکن نہیں۔ میری بات تو آپ نے کبھی ماننی ہی نہیں نا۔ بس اپنی ہی کرنی ہے۔ “تارا نے غصے سے کہتے ہوئے عرفہ بیگم کو کندھوں سے پکڑ کر سنک کے سامنے سے ہٹایا۔

“اب تم بتاؤ گی کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”عرفہ بیگم دل ہی دل میں خوش تو ہوئی تھیں کہ ان کی بیٹی ان کا کتنا زیادہ خیال رکھتی ہے لیکن ظاہر نہیں کیا اور الٹا خفگی دکھانے لگیں۔

“جی ہاں۔ اور کون بتائے گا۔ محلے والے؟”وہ جل کر بولی تو عرفہ بیگم کی ہنسی نکل گئی۔

“ہنسیں مت اور جا کر میڈیسن لیں اپنی۔”وہ برتن دھوتے ہوئے بولی تھی۔

“کہتے ہیں بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں لیکن تم تو میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے مجھے اتنی پیاری بیٹی سے نوازا۔”عرفہ بیگم اسے پیا سے دیکھنے ہوئے بولی تھیں اور وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔ تبھی میں گیٹ کے کھلنے کی آواز آئی ۔

“لگتا ہے بابا آ گئے۔”تارا ہاتھ دوپٹے سے صاف کرتی کچن سے باہر نکلی اور لاؤنج سے نکل کر پورچ کی جانب بڑھی جہاں عمران صاحب گاڑی سے باہر نکل رہے تھے۔ وہ ان کی طرف بڑھی۔

“اسلام علیکم بابا۔”وہ ان کے قریب آ کر پرجوش سا مسکرائی۔

“وعلیکم السلام۔ کیسا ہے میرا بیٹا۔”عمران صاحب تارا کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور اس سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ اسی لیے تو تارا میں بہت اعتماد تھا۔ باپ کی محبت کسی بیٹی کیلیے بہت بڑی سپورٹ ہوتی ہے۔ اگر باپ ساتھ ہو تو بیٹی مشکل سے مشکل ترین کام بھی کر سکتی ہے۔

“اے ون۔ آپ سنائیں۔ کیسا رہا دن؟”وہ دونوں اب ساتھ ساتھ چلتے اندر کی جانب بڑھنے لگے تھے۔

“ٹھیک۔”وہ ایک مارکیٹ پلازے کے مالک تھے۔ ان کا کاروبار بہت اچھا چل رہا تھا۔

“چلیں آپ فریش ہو جائیں۔ تھوڑی دیر تک میں کھانا لگاتی ہوں۔”وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔

“اسلام علیکم۔”عرفہ بیگم نے عمران صاحب کو سلام کیا۔ اور پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا۔

“وعلیکم السلام۔”وہ صوفے پر بیٹھ کر پانی پینے لگے۔

“کیا ہوا؟ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟”عرفہ بیگم نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا تھا۔ ان کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں تھیں۔

“نہیں۔ پریشان تو نہیں۔ “

“تو؟”

“وحید کا فون آیا تھا۔” وحید عمران صاحب کے دوست تھے اور ان کی بیوی ماریہ عرفہ بیگم کی کزن بھی تھیں۔

” کیا کہہ رہے تھے؟”وہ تجسس سے پوچھنے لگیں۔

“اسفر پاکستان آ رہا ہے۔ “

“اچھا ماریہ نے تو اس بارے کچھ نہیں بتایا۔”وہ حیران ہوئیں۔

“بس اس کا اچانک ہی پروگرام بن گیا ہے پاکستان آنے کا۔ وہاں اس کا بزنس سیٹ ہو چکا ہے۔ تو وحید کہہ رہا تھا کہ اب اس کی شادی کر دینی چاہیے۔ اٹھائیس سال کا ہونے والا ہے۔”

“لیکن ہماری بیٹی تو ابھی بیس سال کی ہی ہے نا۔ اور اس کی پڑھائی بھی ختم نہیں ہوئی۔”عرفہ بیگم پریشانی سے بولیں۔

“ہم لڑکی والے ہیں۔ کوئی اعتراض نہیں کر سکتے اور ویسے بھی آج کل اتنا اچھا رشتہ بہت مشکل سے ملتا ہے۔ پڑھائی تو بعد میں بھی ہوتی رہے گی۔ مجھے اپنی بیٹی کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ مجھے کسی جگہ مایوس نہیں کرے گی۔”انہوں نے جیسے عرفہ سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی۔

“ہمم۔ جیسے آپ کی مرضی لیکن اس سال کے امتحانات کے بعد ہی شادی کی تاریخ دیجیے گا۔”

“ہاں تم فکر مت کرو۔ میں بات کر لوں گا۔”انہوں نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اپنی آواز سنا دو جاناں

صبر پھر کبھی آزما لینا”

موبائل فون کی سکرین پر چمکتا ہوا یہ شعر اسے اچھا لگا تھا کیونکہ یہ اسفر نے اسے بھیجا تھا۔ وہ اس کا ہونے والا شوہر تھا۔ بچپن میں ہی ان کی منگنی ہو گئی تھی۔ لیکن اس رشتے کا تارا نے کم ہی اثر لیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اسفر سے بہت محبت کرتی تھی اور ہر وقت اس کے خیالوں میں ڈوبی رہتی تھی لیکن اس کے دل میں اسفر کی بہت اہمیت تھی ۔ وہ ایک پریکٹکل لڑکی تھی اور محبت وغیرہ پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ماں باپ کی خواہش تھی کہ اس کی شادی اسفر سے ہو تو اس نے اپنے دل کو ان کی خواہش کے تابع کر لیا تھا۔ ویسے بھی اس نے کسی نا کسی سے تو شادی کرنی ہی تھی۔

اس نے کبھی یہ خواہش نہیں کی تھی کہ اسفر اسے بہت زیادہ محبت کرے اور اس کا دیوانہ ہو جائے۔ کیونکہ اسے بچپن سے اتنی محبت ملی تھی کہ اب اور کی گنجائش نہیں تھی۔ وہ جذباتی لڑکی تو بالکل بھی نہیں تھی البتہ اسفر اس سے محبت کا بہت دم بھرتا تھا۔ وہ اس سے مل تو نہیں سکتا تھا لیکن فون پر اس سے بات کرتا تھا۔ اس سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتا لیکن جواب میں تارا کچھ نہیں کہتی تھی۔ بس ہاں ہوں میں جواب دیتی۔ اور کبھی کبھی تو اس کی کال بھی پک نہیں کرتی تھی۔ پھر اسفر اسے میسج کرتا جیسے اب کیا تھا۔ میسج کرنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی کال بھی آ گئی تھی۔ ایک لمحے کو رک کر تارا نے کال پک کر لی تھی۔

“کہاں تھی تم ؟ میری کال کیوں نہیں اٹھا رہی تھی؟”وہ چھوڑتے ہی پوچھنے لگا۔

“کام تھا ضروری۔”وہ بے نیازی سے بولی۔

“مجھ سے بھی ضروری؟”

” ہاں۔”

“بہت ہی سٹریٹ فارورڈ ہو۔”وہ شاکی لہجے میں بولا تھا۔ تارا نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

“ویسے مجھے کچھ کچھ لگتا ہے کہ تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو۔ کیا ایسی ہی بات ہے؟”وہ اس کے روڈ رویے کی وجہ نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

“نہیں۔ میں اپنے ماں باپ کی مرضی میں خوش ہوں ۔”

“اور تمہاری مرضی۔ “

“کہا تو ہے جو ان کی مرضی وہ میری مرضی۔”

“کیا تمہیں مجھ سے کوئی دلی وابستگی نہیں؟”اسفر کے سوال پر سہ کچھ پل کیلیے خاموش ہوئی تھی اور اپنے دل کو ٹٹولا تھا لیکن اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی۔ اسے شاید پیار محبت کی باتیں سمجھ ہی نہیں آتی تھیں۔

“اممم۔….پتہ نہیں۔ “وہ کشمکش میں پڑی بولی۔

“اچھا چھوڑو اس بات کو۔ “اسفر نے گہری سانس لے کر کہا۔

“چھوڑ دیا۔”اس نے دوبدو کہا تو اسفر ہنسا۔

“ایک بات بتاؤں۔”وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔

“کیا؟”

“کل میں واپس آ رہا ہوں۔ “اس نے اطلاع دی جس پر تارا نے کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا۔

“کیوں؟”

“کیوں کا کیا مطلب۔ شادی کرنے کیلیے آ رہا ہوں۔ اور تمہیں دلہن بنا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا ۔”وہ شوخ ہوا۔

“ل…..لیکن میری پڑھائی ابھی کمپلیٹ نہیں ہوئی۔”تارا پریشان ہو اٹھی تھی۔ وہ میتھ کے سبجیکٹ کے ساتھ بی ایس سی کر رہی تھی اور فورتھ ائیر کے پیپرز ہونے والے تھے۔ وہ کسی صورت بھی اپنی پڑھائی بیچ میں نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔

“تو میں کونسا تمہیں روک دوں گا پڑھائی سے۔ جو رہ گیا ہے امریکہ میں آ کر پڑھ لینا۔”اسفر نے کہا تو اس نے سینے میں اٹکی سانس خارج کی۔

“شکریہ۔”وہ ممنون لہجے میں بولی۔

“بھئی اب خالی شکریہ تو نہیں چاہیے مجھے۔ “

“تو پھر کیا چاہیے؟”وہ تعجب سے بولی۔

“جب تم میری دسترس میں آؤ گی تب بتاؤں گا۔”وہ معنی خیز لہجے میں بولا تھا۔ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر وہ سٹپٹائی تھی۔

“آ…..مجھے لگتا ہے ماما بلا رہی ہے۔ میں رکھتی ہوں۔ خدا حافظ۔”جب اسے کچھ سمجھ نہ آئی تو یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ اسفر کان فون سے ہٹا کر سکرین کو دیکھنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمران ملک اور سکندر ملک دو بھائی تھے۔ سکندر چھوٹے تھے اور عمران ان سے دو سال بڑے تھے۔ ان کے ماں باپ کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہو چکا تھا۔ وہ ایک ساتھ بنے دو خوبصورت سے بنگلوں میں اپنی اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔

عمران ملک کی بیوی کا نام عرفہ تھا۔ وہ ان کی دور پار کی رشتہ دار تھیں۔ ایک شادی میں عمران ملک کی والدہ نے اسے اپنے بیٹے کیلیے پسند کر لیا اور پھر کچھ عرصے بعد ہی ان کی شادی ہو گئی۔ جبکہ سکندر ملک نے اپنی پسند سے شادی کی تھی۔ طانیہ ان کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی ڈیپارٹمنٹ تھے سو محبت کے وار سے نہ بچ سکے۔

آج سے بیس سال پہلے عمران ملک اور عرفہ بیگم کے ہاں ایک پیاری سی بچی نے جنم لیا تھا جس کا نام ستارا عمران رکھا گیا۔ لیکن اس کی دادی نے اسے تارا کے نام سے پکارا تھا تب سے اس کا یہی نام بن چکا تھا۔

تارا کی پیدائش کے دو سال بعد سکندر ملک کے دو جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ لڑکی کا نام ہانیہ سکندر رکھا گیا جبکہ لڑکے کا نام بالاج سکندر۔ وہ دونوں چاند رات کو پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے بالاج کو چاند کا نک نیم دیا گیا جبکہ ہانیہ کو ہانی کا۔ وہ دونوں جتنے معصوم تھے اتنے ہی شرارتی اور چڑچڑے بھی تھے۔ ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے ہی رہتے تھے۔ نہ تو انہیں طانیہ بیگم کنٹرول کر سکتی تھی اور نہ ہی وہ اپنے باپ کے بس میں تھے۔ انہیں صرف تارا ہی قابو کرتی تھی۔ وہ بچپن میں کئی بار ان دونوں کو پھینٹی لگا چکی تھی اسی لیے وہ اس سے بہت ڈرتے تھے۔ اور سکندر صاحب نے بھی اسے فل تھرائز دیا ہوا تھا وہ ان دونوں کو سیدھا کرنے کیلیے جو چاہے کر سکتی ہے۔ جبکہ طانیہ بیگم کو یہ بات ذرا بھی پسند نہیں تھی کہ تارا ان کے بچوں کو اپنے حکم پر چلائے۔ لیکن وہ دونوں سنبھلتے بھی تو اسی سے تھے تبھی مجبوراً چپ تھی۔

تارا کے سخت رویے کے باوجود ہانیہ اور چاند اس سے بہت پیار کرتے تھے۔ چاند تو اس سے کچھ زیادہ ہی اٹیچڈ تھا۔ وہ اس سے اپنی ہر بات شئیر کرتا تھا۔ اس کا حکم نہ ماننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ کبھی کبھی وہ اس سے ضد بھی کرنے لگتا تھا۔ اس وقت وہ چھوٹے بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے تارا کو بے حد پیارا لگتا تھا۔ اور وہ اس کی بات سے انکار نہیں کر پاتی تھی۔ ایک لحاظ سے وہ اس کی گارجین تھی۔ سکول میں بھی وہ اسے ہر مشکل سے بچاتی تھی۔ جو بچہ چاند سے لڑتا اس کی دھلائی کر دیتی اور کبھی کبھی تو ان ٹیچرز سے بھی لڑ پڑتی جو چاند کو سزا کے طور پر مارتی تھیں۔

گھر آ کر بھی سارا ہوم ورک وہی اسے کرواتی تھی۔ اتنے چھوٹے بچے کو سنبھالنا واقعی بہت مشکل تھا لیکن پتہ نہیں تارا کیسے اس کو ہر کام کر لیتی تھی۔ طانیہ بیگم اس بات پر حیران بھی تھیں ۔ انہیں بچے سنبھالنا پسند نہیں تھا سو یہ کام انہوں نے جان بوجھ کر تارا کو دے دیا اور پھر بعد میں جب بچے ان کے کنٹرول سے نکل گئے تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا لیکن اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں۔

پہلے تو چاند کا صرف دماغ ہی تارا کے کنٹرول میں تھا اب آہستہ آہستہ اس کے دل پر بھی تارا کا سحر چھانے لگا تھا۔ وہ نہ تو اپنی اس کیفیت کو سمجھ پا رہا تھا اور نہ ہی اس سے چھٹکارا حاصل کر پا رہا تھا۔ وہ محبت کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جا رہا تھا۔ اگر تارا اس کے سامنے موجود نہ ہوتی تو اس کے تصور میں آ جاتی۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو سب سے پہلے تارا کا چہرہ دیکھتا۔ ایک عجیب سا احساس اسے ہر وقت گھیرے رکھتا۔ یہ سب کچھ اس کے ساتھ تب سے ہو رہا تھا جب سے تارا نے اسے خود سے دور کیا تھا۔ بچپن میں تو وہ اس کے بہت قریب تھی لیکن جیسے جیسے چاند بڑا ہوتا گیا تارا اس سے دور ہوتی گئی۔ اور جب وہ پندرہ سے اوپر کو ہوا تو وہ بالکل ہی اجنبی بن گئی تھی۔ چاند کو پہلے اس بات کی وجہ نہیں سمجھ آتی تھی لیکن آہستہ آہستہ وہ جان گیا تھا کہ وہ لڑکا تھا ۔ اس وجہ سے تارا نے اپنے اور اس کے درمیان حد مقرر کر دی تھی ۔ تارا اپنی جگہ ٹھیک تھی لیکن چاند کو یہ بہت برا لگا تھا۔ وہ تو بچپن سے اس کے پیار کا عادی تھا۔ اب وہ دور ہوئی تھی تو اسے پتہ چلا تھا کہ وہ اس کیلیے کیا تھی۔ اسے بچپن کے وہ لمحات بہت یاد آتے تھے جو اس نے تارا کی سنگت میں گزارے تھے۔ کاش وہ پھر سے ماضی میں جا سکتا۔ وہ حسرت سے سوچتا تھا۔ لیکن یہ اب ناممکن تھا۔