406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 41

Tara Ka Chand by Dua Fatima

ہانیہ اپنی دوست مرحہ کو ہنی مون کی پکچرز دکھانے کے ساتھ ساتھ ایس ٹی لوسیا میں گزری یادوں کو بھی بتا رہی تھی۔ وہ دونوں یونی کے گراؤنڈ میں بیٹھیں تھیں۔ ان کے ساتھ ہی دو تین اور لڑکیاں موجود تھیں جن میں سے ایک کا دھیان اس کی طرف ہو گیا۔

“یہ ہم ایک ماؤنٹین کی ہائی پیک پر گئے تھے ۔ وہاں ہم نے یہ پکچرز لی تھیں۔”ہانیہ فون پر سوِیپ کرتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی۔

“ہائے کتنا پیارا کپل ہے تم دونوں کا۔ “مرحہ نے ستائش بھرے لہجے میں کہا تو ہانیہ مسکرا دی۔

“دکھانا ذرا مجھے بھی۔”ان کے قریب بیٹھی لڑکی نے فون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ہانیہ نے اسے نا سمجھی سے دیکھا۔ مرحہ نے فون پکڑ کر اسے پکچرز دکھائیں۔ اس لڑکی کو ہانیہ اور میکال کی تصویر دیکھ کر عجیب سی جلن ہوئی تھی۔ اسے تو کبھی کوئی ڈھنگ کا لڑکا نہیں ملا تھا۔ کسی کی بھی اتنی شاندار پرسنیلٹی نہیں تھی۔ کئی لڑکے اس کی طرف ملتفت ہوئے تھے۔ اور وہ عادت سے مجبور ان سے رابطہ قائم کر لیتی۔ وہ کچھ دنوں کیلیے اسے گرل فرینڈ بناتے اور ٹائم پاس کر کے چھوڑ دیتے۔پھر وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتی رہتی۔ اس سب میں اس کی اپنی غلطی تھی۔ وہ خود ہر کسی کو اپنے دل سے کھیلنے کی اجازت دیتی تھی۔ بار بار دھوکے کھا کر بھی نہیں سنبھلتی تھی۔ ہر کسی سے ہی محبت کر لیتی تھی اور جانتی ہے نہیں تھی کہ محبت تو وہ ہوتی ہے جو آپ کو صرف ایک شخص کا بنا دے۔

“شکل تو اچھی ہے تمہارے ہزبینڈ کی۔ پیار بھی کرتا ہے یا تمہیں صرف ضرورت کی چیز ہی سمجھتا ہے؟”اس کے عجیب سے سوال پر ہانیہ اور مرحہ کو اس کی ذہنی حالت پر شک ہوا۔

“ایکسکیوز می۔ میں بیوی ہوں ان کی۔ کوئی ضرورت کی چیز نہیں۔ میکال بہت پیار کرتے ہیں مجھ سے۔ “ہانیہ غصہ ضبط کرتے ہوئے جتا کر بولی تھی۔

“سب لڑکیوں کو ایسے ہی لگتا ہے کہ ان کا محبوب ان سے بہت محبت کرتا ہے لیکن ان مردوں کی فطرت میں کسی ایک سے محبت کرنا ہے ہی نہیں۔ آج تم تو کل کوئی اور ہو گی۔”اس کی باتوں سے ہانیہ کا دل کھٹا ہو گیا۔

“تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمہارا بڑا تجربہ ہے؟ کتنوں سے دھوکہ کھایا ہے؟”مرحہ نے بڑے مزے سے پوچھا تو وہ لڑکی لاجواب سی ہو گئی تھی۔ ہانیہ نے مرحہ کو تنبیہی نظروں سے گھورا بھی کہ وہ بات کو بڑھائے نہ لیکن اس کا موڈ ایک لیکچر دینے کو تھا۔

“ضروری نہیں کہ جو کچھ زندگی میں تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو۔ سب کی اپنی اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اپنا الگ مزاج ہوتا ہے۔ نہ تو دنیا کا ہر مرد ایک جیسا ہے اور نہ سب عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ لیکن پتہ نہیں کچھ لوگوں کو کیا مسلہ ہے وہ خود کو ٹھیک سمجھتے ہیں مخالف صنف کو برا۔ کچھ عورتیں مردوں کو برا بھلا کہہ رہی ہوتی ہیں اور کچھ مرد عورتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ بھئی ہم سب سے پہلے انسان ہیں۔ سب برابر ہیں۔ گاٹ دیٹ؟”اس نے کسی استانی کی طرح اس لڑکی کو سمجھایا تھا۔ وہ لڑکی پھر کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ ہانیہ کو بھی مرحہ کی بات اچھی لگی تھی لیکن اس لڑکی کی باتیں بھی اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔ اگر کبھی میکال اس کے علاوہ کسی اور کا سوچتا بھی تو اس کا کیا حال ہونا تھا۔ یہ تو اس سے سوچنے بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ نفی میں سر ہلا کر بری سوچوں کو جھٹک گئی تھی۔

لیکن جب چھٹی کے وقت میکال اسے لینے آیا تو اسے دیکھ کر ہانیہ کو پھر سے وہ باتیں یاد آئیں۔ وہ بے اختیار اسے دیکھنے لگی تھی۔

“مسز میرا دیدار بعد میں کر لینا ابھی گھر تو چلو۔ ” میکال اس کے مسلسل خود کی طرف دیکھنے پر حیران ہوتا بولا تھا۔ ہانیہ کو نجانے کیا سوجھی وہ آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی۔ میکال کچھ پل کیلیے ساکت ہوا تھا۔

“میکال آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟”وہ اس کے سینے سے سر لگائے مضطرب لہجے میں پوچھ رہی تھی۔ اس کے سوال نے میکال کو سمجھا دیا تھا کہ وہ بہت اپ سیٹ ہے۔ کچھ تو ایسا ضرور ہوا تھا جس نے اسے یہ سوال پوچھنے پر مجبور کیا تھا ورنہ وہ یہ سوال کبھی نہ پوچھتی۔

“یہیں بتا دوں یا گھر جا کر۔”میکال نے سرگوشی کی تو وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر سرخ چہرے سے اسے گھورنے لگی۔

“یار تمہیں تو پتہ ہے مجھے فلمی ڈائیلاگ نہیں آتے ۔ ہاں البتہ اپنے طریقے سے میں بہت اچھی طرح محبت کا اظہار کر سکتا ہوں۔”وہ بولا تو ہانیہ ہنس پڑی۔

“رہنے دیں۔ مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ہمیشہ ایسے ہی رہیے گا۔ “

“تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے کیا؟”میکال نے صدمے سے پوچھا۔

“خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے۔ وہ تو بس آج ایک لڑکی کی باتوں نے دماغ خراب کر دیا تو پتہ نہیں آپ سے کیا کیا بول دیا۔ آئی ایم سوری۔”

“ڈونٹ بی سوری۔ تمہارا حق ہے مجھ سے جواب طلب کرنا ۔ کیونکہ میں خود کو تمہارا پابند بنا چکا ہوں۔”میکال نے کہا تو وہ مسکرا دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن تو تارا کے اسی سوچ بچار میں گزر گئے کہ بالاج کو سوری کیسے کہے۔ کئی آئیڈیاز سوچے پھر جا کر اسے ایک طریقہ ملا جس سے وہ بالاج کے سامنے جائے بغیر اسے سوری کر سکتی تھی۔ اس نے سٹڈی روم میں لگے وال گلاس پر بلیک مارکر سے بڑا سا سوری لفظ لکھ دیا۔ بالاج کی نظر اس پر پڑ گئی تھی لیکن وہ مسکراہٹ ضبط کر کے انجان بن گیا ۔ تارا کتنی ہی دیر سے دروازے سے چھپ کر دیکھتی رہی کہ کب اس وہ سوری کا لفظ دیکھ کر اسے معاف کرے لیکن وہ تو اپنے ہی کام میں مگن رہا۔ تارا مایوسی سے منہ بنا کر سوچنے لگی اب کیا کرے۔ پھر ہمت کر کے اس کے سامنے چلی ہی گئی۔ بالاج اس کی موجودگی سے باخبر ہو کر بھی بے نیاز رہا تو تارا کا دل بے چین ہو اٹھا۔ اب اتنی بھی کیا بیگانگی کہ بندہ اپنے سامنے کھڑے انسان کو ہی نہ دیکھ سکے۔ وہ غصے سے مٹھیاں اور لب بھینچ کر بالاج کو گھورنے لگی تھی۔ اسی وقت بالاج نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور اس کے گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھنے پر محظوظ ہوا تھا۔

“کوئی کام ہے تمہیں مجھ سے؟”اس نے سپاٹ لہجے میں ہوچھا۔ مطلب وہ اب کام کے علاوہ اس سے بات بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس کا دل رونے کو کرنے لگا تھا۔

“وہ…… مجھے تم سے کچھ کہنا تھا۔”

“کہو۔”بالاج نے ابرو اچکائی۔

“سوری۔”وہ نظریں جھکا کر بولتی معصوم سی بچی لگ رہی تھی۔ بالاج سر جھکا کر مسکرایا اور پھر کرسی سے اٹھ کر اسے کے قریب آیا۔

“مجھے سنائی نہیں دیا۔ ذرا پھر سے کہنا۔”اس کے لہجے میں شرارت چھپی تھی لیکن تارا جان نہیں سکی تھی۔

“مجھے معاف کر دو۔”وہ کہہ کر لب چبانے لگی۔

“تو تمہیں مجھ سے معافی چاہیے؟”وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا تھا۔ تارا اس کی لو دیتی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور پلکیں جھکا گئی تھی۔ بالاج نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے حصار میں کھینچا تھا۔ تارا کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔

“ایک شرط پر معافی ملے گی۔”وہ نخرے کرنے والے انداز میں بولا تھا۔ تارا نے تھوک نگلتے ہوئے اسے دیکھا۔

“پوچھو گی نہیں کیا؟”بالاج نے کہا تو وہ پھر بھی نہیں بول سکی تھی۔ بالاج آہستہ سے اس کے چہرے پر جھکا تو وہ آنکھیں بند کر گئی۔ بالاج نے نرمی سے اس کے لبوں کو چھوا تھا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اسے ہنوز ڈرتے دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا۔ تارا نے آنکھیں کھولیں اور اسے مسکراتے دیکھ کر اسے تپ چڑھا۔

“تم …… اتنے بے شرم ہو گے ۔ مجھے اندازہ نہیں تھا۔”عادت سے مجبور وہ خود کو روک نہیں سکیں تھی۔

“حد ادب لڑکی۔ شوہر ہوں میں تمہارا۔”بالاج نے رعب جھاڑا۔ تارا نے منہ بنا کر دل ہی دل میں اسے صلواتیں سنائیں۔

“سو کیوٹ۔”اس نے تااکا گال چھوا تو وہ بچوں کی طرح جھینپ گئی تھی۔

“اب ہمارے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے تو ہمیں بھی نارمل کپلز کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی رہنا چاہیے۔ کیوں؟ ٹھیک کہا نا؟”اس نے کہا تو تارا نے سر جھکا دیا۔ مطلب وہ راضی تھی۔ بالاج کچھ سوچ کر ٹیبل کی طرف آیا اور دراز کھول کر کچھ تلاش کرنے لگا۔ تارا ناسمجھی سے اسی دیکھنے لگی تھی۔ بالاج نے انگوٹھی کی ڈبی ڈرا سے نکالی اور اس کی طرف آیا۔ تارا کو اس کا اجنبی والا روپ یاد آیا تھا۔ اسے اس روپ سے بھی ایک انسیت سی ہو گئی تھی۔

“یہ انگوٹھی میں نے تمہارے لیے بنوائی تھی۔ مجھے پتہ تھا تم نہیں لو گی اسی لیے تھوڑی تنگ بنوائی۔”وہ انگوٹھی دبی میں سے نکالتے ہوئے بولا تھا۔ اور تارا سوچ رہی تھی وہ انگوٹھی تھوڑی تنگ تو نہیں تھی۔ بہت زیادہ تنگ تھی۔

“لیکن اب یہ تمہاری انگلی میں بالکل فٹ آئے گی۔”وہ انگوٹھی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تھا۔ تارا نے انگوٹھی لینے کی بجائے ہاتھ الٹا کر کے اس کی طرف بڑھا دیا۔ وہ چاہتی تھی کہ بالاج اسے خود انگوٹھی پہنائے۔ بالاج کو اور کیا چاہیے تھا۔ وہ خوشی سے مسکراتا اسے انگوٹھی پہنانے لگا تھا۔ اسے مسکراتے دیکھ کر تارا بھی مسکرا اٹھی تھی۔

“بہت ستایا نا میں نے تمہیں؟”بالاج نے شرمندگی سے پوچھا تھا۔ تارا نے سر ذراسا نفی میں ہلایا تھا۔

“کیا کرتا تمہیں پانا بھی تو تھا۔ تم پر ترس نہیں کھا سکتا تھا۔ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ یہی سوچ کر ضمیر کی بھی نہیں سنتا تھا۔ لیکن جب تم نے انگوٹھی اتارتے ہوئے اپنی انگلی زخمی کی تھی تو میں بہت شرمندہ ہوا تھا۔ مجھے بھی تم سے معافی مانگنی ہے اپنے ہر اس عمل کی جس سے تم ہرٹ ہوئی۔”وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔

“تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ میں تم سے کبھی بھی ناراض نہیں ہو سکتی اور نہ تم سے نفرت کر سکتی ہوں۔ تم میرے لیے بہت خاص ہو۔ “وہ مخلص لیے میں بولی تھی۔ بالاج کا دل اندر تک سرشار کو گیا تھا۔ وہ تارا کو اپنے سینے سے لگا کر اس کے گرد بازوؤں کا حصار باندھ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ بلیو جینز اور پنک کلر کے کھلے سے بلاؤزر میں ملبوس ہیڈ فون کانوں پر لگائے جسٹن بیبر کا گانا بےبی سنتے ہوئے ساتھ ساتھ کمرے کو بھی سیٹ کر رہی تھی۔ ایک جگہ دھن اتنے مزے تھی کہ وہ اس پر ڈانس کرنے لگی۔ میکال کمرے میں داخل ہوا تو اسے گانے سنتے اور ڈانس کرتے دیکھ کر ٹھٹک کر رکا تھا۔ وہ کمر پر ایک ہاتھ رکھ کر کندھے ہلاتی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میکال اس کے دائیں طرف کھڑا تھا اسی لیے وہ اسے دیکھ نہیں پائی تھی اور اپنی ہی مستیوں میں گم تھی۔ میکال چپکے سے اس کے پیچھے گیا اور اس کے ہیڈ فون اتار کر اپنے کانوں پر لگا لیا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسی کونسی آواز تھی جو اس کی بیوی کو اتنی خوش کر رہی تھی۔ جبکہ ہانیہ مڑ کر اسے آنکھیں پھاڑے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“اچھا تو یہ سنا جا رہا ہے۔”وہ جیلس ہوتے ہوئے بولا تھا۔ اسے یہ بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ ہانیہ اس کے علاوہ کسی اور لڑکے کی آواز سنے۔

“وہ تو….. بس ویسے ہی۔”ہانیہ سر کھجاتے ہوئے بولی تھی۔

“آئیندہ میں تمہیں یہ گانے سنتے ہوئے نہ دیکھوں۔”وہ بمشکل چہرے پر سختی لا کر بولا تھا۔ ہانیہ کا چہرہ ہی اتنا کیوٹ تھا کہ اسے دیکھتے ہی اس کے لہجے میں سختی ختم ہو جاتی تھی۔

“کیوں؟”ہانیہ نے صدمے سے پوچھا۔

“بس کہہ دیا نا میں نے۔ “ہانیہ اس کی بات کی وجہ سمجھ گئی تھی۔

“اچھا پھر آپ مجھے گانا سنائیں۔”

“یار مجھے نہیں آتا۔”میکال نے ٹالنا چاہا۔

“کیسے شوہر ہیں آپ۔ بیوی کیلیے ایک گانا تک نہیں گا سکتے۔ “ہانیہ کو تپ چڑھا۔

“اچھا لیکن میری ایک شرط ہے۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔

“کیا؟”

“میں گانا گاؤں گا اور تمہیں اس پر ڈانس کرنا ہو گا جیسے ابھی کر رہی تھی۔”میکال نے کہا تو وہ منہ بنا گئی۔ وہ تو یہ سوچ کر شرمندہ ہو رہی تھی کہ میکال نے اسے ڈانس کرتے کیا سوچا ہو گا۔ اب کیسے اس کے سامنے ڈانس کرتی۔

“میں نہیں کروں گی۔”

“اوکے میں پھر انٹرنیٹ سے دیکھ لیتا ہوں۔ میں نے سنا ہے پاکستانی لڑکیاں بہت اچھا ڈانس کرتی ہیں۔”وہ ہانیہ کو تپانے لگا۔ ہانیہ کو تو آگ ہی لگ گئی۔

“دیکھ کر دکھائیں مجھے ذرا۔ بہت ماروں گی آپ کو میں۔”وہ اس کے کندھے پر مکا مارتے ہوئے بولی تھی۔ میکال ہنس پڑا۔

“ہاں تو پھر میری بات مان لو۔ “اس نے کندھے اچکائے۔

“اوکے۔”وہ بھی مان گئی۔ پھر میکال نے وہی گانا گایا تھا جو وہ ابھی سن رہی تھی ۔ ہانیہ کا کیوٹ سا ڈانس دیکھ کر اسے ہنسی بھی آ رہی تھی اور پیار بھی۔ وہ خود کو زیادہ دیر روک نہیں سکا تھا اور ہانیہ کو اپنے حصار میں قید کر کے اس کے چہرے پر پیار کرنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج سکندر ہاؤس میں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔ سکندر اور طانیہ دونوں کے ہی تعلقات اس فیملی کے ساتھ بہت اچھے تھے۔ وہ سکندر صاحب کے بزنس فرینڈز بھی تھے۔ سکندر ہاؤس میں ان کا بہت اچھا استقبال کیا گیا تھا۔ ہانیہ اور میکال بھی مدعو تھے۔ تارا سارا دن مہمانوں میں بزی رہی۔ اب رات ہو گئی تھی۔ لیکن وہ ابھی بھی مہمانوں کو کمپنی دے رہی تھی۔ ان کا ارادہ آج رات سکندر ہاؤس میں ہی رہنے کو تھا کیونکہ وہ کراچی سے آئے ہوئے تھے۔ان کی فیملی میں دو تین نوجوان لڑکیاں تھیں جن کی باتیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ تارا بھی خوشدلی سے ان سے گفتگو کر رہی تھی۔ بالاج بھی زیادہ دیر مہمانوں کے ساتھ ہی رہا تھا پھر آٹھ بجے کمرے میں چلا گیا۔ وہ کتنی ہی دیر کمرے میں تارا کا انتظار کرتا رہا لیکن جب وہ نہیں آئی تو اس پر غصے ہوتا نیچے آیا ۔ لیکن جب اسے مسکراتے دیکھا تو غصہ بھول گیا۔

تارا باہر لان میں ان لڑکیوں کے پاس بیٹھی تھی۔ وہ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ جوس بھی پی رہی تھیں۔ جب گلاس خالی ہوئے تو تارا خالی برتن اٹھا کر کچن میں لے جانے لگی۔ وہ لڑکیاں بھی اس کے ساتھ ہی اندر آ گئی تھیں۔

بالاج موقع دیکھ کر تیزی تارا کے قریب آیا تھا۔

“میرے پاس تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے۔ اگر سننی ہے تو جلدی سے کمرے میں آ جاؤ۔”وہ تارا کے کان میں سرگوشی کر کے جا چکا تھا۔ تارا کو اب تجسس پڑ چکا تھا اس لیے وہ ان لڑکیوں کو کمرے دکھا کر جلدی سے فارغ ہوئی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔ اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر بالاج اپنی کامیابی پر مسکرایا تھا۔

“کیا گڈ نیوز ہے؟”وہ بے تابی سے دیکھنے لگی۔ بالاج نے ڈریسنگ ٹیبل سے ایک فائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔ تارا نے تعجب سے اس فائل کو دیکھا

“یہ کیا ہے؟”وہ فائل پکڑتے ہوئے بولی تھی۔

“خود دیکھ لو۔ “بالاج نے کہا تو تارا نے فائل کھول کر دیکھی۔ اسے خوشگوار حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔ وہ عمران صاحب کے شاپنگ پلازہ کے کاغذات تھے۔ وہ جائیداد جو اسفر نے اس سے ہتھیا لی تھی بالاج نے اسے واپس لا دی تھی۔ اسے جائیداد واپس ملنے سے زیادہ اس بات کی خوشی تھی کہ اس کے باپ کی نشانی اسے دوبارہ مل گئی۔ اس کے چہرے پر بکھرتی مسکراہٹ دیکھ بالاج بھی مسکرا دیا تھا۔

“تھینک یو چاند۔ تم کتنے اچھے ہو۔”وہ فرطِ جذبات سے کہتی اس کے گلے لگ گئی تھی۔ بالاج ایک پل کیلیے ساکت ہوا پھر خوش ہو کر اس کی کمر کے گرد بازو باندھ گیا۔

“اب یہ رائے بدلے گی تو نہیں؟”وہ اس کے کان کے قریب بولا تو تارا کو اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگی لیکن بالاج اسے آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔

“کونسی رائے؟”وہ بوکھلاتے ہوئے بولی۔

“یہی کہ میں اچھا ہوں۔”وہ بولا۔ تارا جواب دینے کی بجائے ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی۔

“یار اب کرو دو تم بھی محبت کا اظہار۔ میں نے تو کر دیا تھا۔”اس نے منت کی۔ تارا سٹپٹائی۔

“محبت ہی نہیں تو اظہار کیسے کروں؟”اس نے بمشکل یہ جھوٹ بولا تھا۔

“محبت تو ہے تمہیں۔ یہ تو مجھے پتہ ہے لیکن میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔ “وہ یقین سے بولا تو تارا کے دل نے بیٹ مس کی جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔

“اوکے رہنے دو۔ میں تمہیں فورس نہیں کرتا۔ کبھی نا کبھی تو اظہار کرو گی نا۔”اس نے فائل لے کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اور ہاتھ بڑھا کر تارا کے سر پر لگا کیچر اتار دیا۔ اس کے بال کمر اور شانوں پر بکھر گئے۔ تارا سانس روک اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ جان گئی تھی بالاج کا رومینٹک موڈ آن ہوچکا ہے۔

“اممم….. وہ مجھے تم سے ایک بات پوچھنی تھی۔”وہ اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرنے لگی۔

“کیا؟”بالاج اس کی لٹ سے کھیلتے ہوئے بولا تھا۔ تارا نے کچھ پل کیلیے آنکھیں بند کی تھیں۔

“تمہیں…… مجھ سے محبت کب ہوئی؟”وہ کچھ دیر توقف کے بعد جھجھک کر پوچھنے لگی۔ بالاج نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔

“محبت تو شروع سے ہی تھی لیکن اظہار کبھی اس لیے نہیں کیا تھا کہ کہیں تمہاری نظروں سے نہ گِر جاؤں۔”وہ اس کی کالی ساحرانہ آنکھوں میں دیکھتا ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں بول رہا تھا۔تارا کی آنکھوں میں مسکراہٹ کسی ستارے کی طرح چمکی تھی۔

“اور اب کیوں اظہار کیا؟”اس کے سوال پر وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔

“اگر اب نہ کرتا تو اپنی نظروں سے گِر جاتا۔”اس کا ایک ایک لفظ تارا کے دل میں اترا تھا۔ وہ خود کو خوش قسمت تصور کرنے لگی تھی۔ چاہے جانے کا احساس اچھا لگنے لگا تھا۔ بالاج کی محبت نے اس کے سارے دکھوں کا مداوا کر دیا تھا۔

“اور کوئی سوال؟”بالاج نے ابرو اچکائی۔ تارا سوچنے لگی اب کیا بات چھیڑے۔ کچھ پل سوچنے کے بعد اس کے دماغ میں ایک بات آئی تو تھی لیکن پھر بالاج نے اسے کچھ بولنے کا موقع نہیں دیا تھا اور اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں الجھا دی تھیں۔ تارا نے اب کی بار پہلے جیسی مزاحمت نہیں کی تھی ۔ لیکن اس کے انداز میں جھجھک تھی جو بالاج کو مزید دیوانہ بنانے لگی تھی۔ وہ دونوں سب کچھ بھول کر ایک دوسرے میں کھو سے گئے تھے اور قسمت ان کی بے خبری کر مسکرائی تھی۔ غم کے سیاہ بادلوں نے آسمان پر چمکتے چاند کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔