Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Last updated: 12 December 2025
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 1Tara Ka Chand Episode 2Tara Ka Chand Episode 3Tara Ka Chand Episode 4Tara Ka Chand Episode 5Tara Ka Chand Episode 6Tara Ka Chand Episode 7Tara Ka Chand Episode 8Tara Ka Chand Episode 9Tara Ka Chand Episode 10Tara Ka Chand Episode 11Tara Ka Chand Episode 12Tara Ka Chand Episode 13Tara Ka Chand Episode 14Tara Ka Chand Episode 15Tara Ka Chand Episode 16Tara Ka Chand Episode 17Tara Ka Chand Episode 18Tara Ka Chand Episode 19Tara Ka Chand Episode 20Tara Ka Chand Episode 21Tara Ka Chand Episode 22Tara Ka Chand Episode 23Tara Ka Chand Episode 24Tara Ka Chand Episode 25Tara Ka Chand Episode 26Tara Ka Chand Episode 27Tara Ka Chand Episode 28Tara Ka Chand Episode 29Tara Ka Chand Episode 30Tara Ka Chand Episode 31Tara Ka Chand Episode 32Tara Ka Chand Episode 33Tara Ka Chand Episode 34Tara Ka Chand Episode 35Tara Ka Chand Episode 36Tara Ka Chand Episode 37Tara Ka Chand Episode 38Tara Ka Chand Episode 39Tara Ka Chand Episode 40Tara Ka Chand Episode 41Tara Ka Chand Episode 42Tara Ka Chand Episode 43 (Last Episode)
Tara Ka Chand by Dua Fatima
صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ نیم اندھیرے کمرے میں خنکی اور ٹھنڈک تھی۔ وہ بیڈ کے ایک کنارے پر اوندھے منہ لیٹا سو رہا تھا۔ براؤن بال ماتھے پر گرے اس کے خوبصورت سے چہرے کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ پوری طرح سے خوابوں میں گم تھا جب تارا اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور لائٹ آن کی۔ چاند کی نیند میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ تارا نے کچھ پل دلچسپی سے اس کے کیوٹ چہرے کو دیکھتی رہی تھی۔ پھر مسکرا کر سر جھٹکتے آگے بڑھی اور چاند پر سے بلینکٹ پیچھے ہٹایا۔ سردی نے چاند کے مزاج اچھی طرح پوچھے تو اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ڈسٹرب ہوتے ہوئے منہ بنا گیا لیکن آنکھیں نہیں کھولیں تھیں۔
"چاند اٹھو۔"تارا کا کڑک دار حکم صبح سویرے سن کر چاند کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر سامنے کھڑی تارا کو دیکھا۔ کتنا ہی عرصہ ہو گیا تھا تارا کبھی ایسے صبح کے وقت اس کے کمرے میں نہیں آئی تھی۔ وہ بے یقین سا رہ گیا تھا۔ تارا کمر پر ہاتھ ٹکائے اسے گھور رہی تھی۔
"اگر حیرت کا دورہ ختم ہو گیا ہو تو اٹھنے کی زحمت کر لو۔"اس کی بات سن کر وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا۔
"ک.....کیا ہوا؟....تم اتنی صبح ......"وہ گھبرا کر بول رہا تھا۔
"ابھی تو کچھ نہیں ہوا لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی تو بہت کچھ ہو جائے گا اور اتنی صبح بھی نہیں ہے۔ ٹائم دیکھو ذرا آٹھ بج چکے ہیں۔"
"تو آٹھ ہی بجے ہیں نا۔"وہ تعجب سے بولا۔
"ہمم۔ جاگنگ کرنے کیلیے یہ وقت بہتر رہے گا۔"تارا نے سر اثبات میں ہلایا۔
"جاگنگ؟"چاند کو سخت پریشانی ہوئی تھی۔ ابھی تو باہر اتنی دھند تھی۔
"جی ۔ اب اٹھ کر جلدی سے فریش ہو جاؤ۔ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔"تارا نے حکمیہ لہجے میں کہتے ہوئے ایک نظر کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ چاند نے رونے والا منہ بنا کر گہری سانس خارج کی اور سر ہاتھوں میں گرا لیا۔ اس کی آنکھیں پھر سے بند ہونے لگی تھیں۔
"جلدی۔"باہر سے تارا کی آواز سن کر وہ پھرتی سے اپنے حواسوں میں آیا اور بیڈ سے اتر گیا۔
دراصل کل چاند کا ٹیسٹ خراب ہوا تھا تو تارا نے اسے ٹیرس پر سو چکر لگانے کی سزا دے دی ۔ پچاسویں چکر پر ہی چاند کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ اس کا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔ تارا نے اسے صبح اپنے ساتھ جاگنگ پر لے جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔
