Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435

Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Last updated: 12 December 2025

406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand by Dua Fatima

صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ نیم اندھیرے کمرے میں خنکی اور ٹھنڈک تھی۔ وہ بیڈ کے ایک کنارے پر اوندھے منہ لیٹا سو رہا تھا۔ براؤن بال ماتھے پر گرے اس کے خوبصورت سے چہرے کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ پوری طرح سے خوابوں میں گم تھا جب تارا اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور لائٹ آن کی۔ چاند کی نیند میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ تارا نے کچھ پل دلچسپی سے اس کے کیوٹ چہرے کو دیکھتی رہی تھی۔ پھر مسکرا کر سر جھٹکتے آگے بڑھی اور چاند پر سے بلینکٹ پیچھے ہٹایا۔ سردی نے چاند کے مزاج اچھی طرح پوچھے تو اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ڈسٹرب ہوتے ہوئے منہ بنا گیا لیکن آنکھیں نہیں کھولیں تھیں۔
"چاند اٹھو۔"تارا کا کڑک دار حکم صبح سویرے سن کر چاند کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر سامنے کھڑی تارا کو دیکھا۔ کتنا ہی عرصہ ہو گیا تھا تارا کبھی ایسے صبح کے وقت اس کے کمرے میں نہیں آئی تھی۔ وہ بے یقین سا رہ گیا تھا۔ تارا کمر پر ہاتھ ٹکائے اسے گھور رہی تھی۔
"اگر حیرت کا دورہ ختم ہو گیا ہو تو اٹھنے کی زحمت کر لو۔"اس کی بات سن کر وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا۔
"ک.....کیا ہوا؟....تم اتنی صبح ......"وہ گھبرا کر بول رہا تھا۔
"ابھی تو کچھ نہیں ہوا لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی تو بہت کچھ ہو جائے گا اور اتنی صبح بھی نہیں ہے۔ ٹائم دیکھو ذرا آٹھ بج چکے ہیں۔"
"تو آٹھ ہی بجے ہیں نا۔"وہ تعجب سے بولا۔
"ہمم۔ جاگنگ کرنے کیلیے یہ وقت بہتر رہے گا۔"تارا نے سر اثبات میں ہلایا۔
"جاگنگ؟"چاند کو سخت پریشانی ہوئی تھی۔ ابھی تو باہر اتنی دھند تھی۔
"جی ۔ اب اٹھ کر جلدی سے فریش ہو جاؤ۔ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔"تارا نے حکمیہ لہجے میں کہتے ہوئے ایک نظر کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ چاند نے رونے والا منہ بنا کر گہری سانس خارج کی اور سر ہاتھوں میں گرا لیا۔ اس کی آنکھیں پھر سے بند ہونے لگی تھیں۔
"جلدی۔"باہر سے تارا کی آواز سن کر وہ پھرتی سے اپنے حواسوں میں آیا اور بیڈ سے اتر گیا۔
دراصل کل چاند کا ٹیسٹ خراب ہوا تھا تو تارا نے اسے ٹیرس پر سو چکر لگانے کی سزا دے دی ۔ پچاسویں چکر پر ہی چاند کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ اس کا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔ تارا نے اسے صبح اپنے ساتھ جاگنگ پر لے جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔