406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 5

Tara Ka Chand by Dua Fatima

“کیا کمی تھی مجھ میں یار۔ اس نے تو ایک پل میں ہی مجھے پرایا کر دیا۔ حالانکہ میری کوئی غلطی بھی نہیں تھی۔ وہ غلط بھی تھی پھر بھی میں نے اسے کبھی چھوڑنے کا سوچا تک نہیں۔ میں نے خود اسے کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے لیکن میں نے اسے کچھ نہیں کہا۔ اب وہ کیسے ایک چھوٹی سی بات کو بنیاد بنا کر مجھ سے بریک اپ کر سکتی ہے؟”زاہد کب سے چاند کے سامنے اپنے دکھڑے رو رہا تھا۔ اور چاند اللّٰہ سے یہ شکوہ کر رہا تھا کہ ساری دنیا میں ایک یہی روندو دوست اس کیلیے رہ گیا تھا۔ زاہد کے ساتھ جب بھی کچھ برا ہوتا وہ چاند کے سامنے اپنے دل کی ساری بھڑاس نکالتا۔ اب اس کی گرل فرینڈ نے اس سے بریک اپ کر لیا تھا تو اس نے چاند کو فون کر کے ایک کیفے میں بلا لیا اور شروع ہو گیا اپنی پریم کہانی سنانے جس کا انجام بہت ہی برا تھا۔ چاند پہلے ہی تارا کی وجہ سے ٹینشن میں تھا اس کی باتیں سن کر مزید بے چین ہو گیا ۔

“کہتی ہے میں روندو ہوں۔ اسے ہنسنے کھیلنے والے خوش مزاج لڑکے پسند ہیں۔ جب مجھ سے دوستی کر رہی تھی اس وقت اسے میرے مزاج کو نہیں دیکھا اس نے۔ اس وقت تو صرف میرے پیسے ہی نظر آ رہے تھے اسے۔ بے وفا ۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا۔”وہ جذباتی انداز میں بولا تھا۔

“اچھا چل جانے دے اسے۔ نئی پٹا لے۔”چاند نے بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا ، ہاں؟”زاہد نے گھور کر اسے دیکھا تو چاند کو لگا اس نے کچھ غلط کہہ دیا ہے۔ وہ اسے بہلانے کیلیے کچھ کہنے کی والا تھا کہ زاہد پھر بول پڑا۔

“ابھی پچھلی کے جانے کا غم بھولا نہیں ۔ نئی کیسے پٹاؤں۔”مطلب کچھ عرصے بعد وہ نئی لڑکی پٹانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

چاند تو ہونقوں کی طرح منہ کھول کر اسے دیکھنے لگا۔ پھر ناسمجھی سے سر اثبات میں ہلا دیا۔

“یار یہ لڑکیاں اتنی بے وفا کیوں ہوتی ہیں؟ …. کیوں ہمارے جذبات سے کھیلتی ہیں؟ کہانیوں میں تو لڑکیاں اتنی با وفا ہوتی ہیں کہ ساری زندگی ایک شخص کے نام کر دیتی ہیں۔” چاند زاہد کی بات پر چونکا تھا۔ کیا کہانیوں میں ہمیشہ ہیپی اینڈنگ ہوتی ہے؟ اب اسے یہ جواب ڈھونڈنا تھا۔ زاہد کا رونا ابھی تک جاری تھا لیکن اب چاند کا دھیان اس طرف نہیں تھا۔ وہ اپنی ہی سوچ میں گم ہو چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ کے کمرے کے ساتھ ایک سٹڈی روم بھی تھا جس کا ایک دروازہ اس کے کمرے میں کھلتا تھا اور ایک باہر لابی میں کھلتا تھا۔ اس روم میں ہانیہ کی ایک چھوٹی سی لائبریری بھی تھی جس میں اس نے اپنے فیورٹ ناول رکھے ہوئے تھے۔ وہ موویز اور ڈرامے بھی دیکھتی تھی لیکن ناولز زیادہ پڑھتی تھی۔ اب بھی اس کا دل کیا تھا کہ کچھ دیر ناول پڑھ لے۔ پیپرز کی وجہ سے نصاب کی کتابیں پڑھ پڑھ کر وہ اکتا گئی تھی ۔ اب تھوڑی دیر کیلیے تفریح کرنا تو اس کا حق بنتا تھا۔ وہ اپنے کمرے کے ساتھ ملحق دروازے کے ذریعے سٹڈی روم میں آئی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چاند سٹڈی روم میں موجود تھا اور ایک کتاب کو پکڑ کر اس کے صحفے پھول رہا تھا۔ کھٹکے کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر مڑا تھا اور ہانیہ کو اپنے سامنے دیکھ کر اس نے گڑبڑاتے ہوئے تیزی سے کتاب اپنے پیچھے چھپا لی۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”وہ بھنویں سکیڑ کر پوچھتی اس کے قریب آئی۔

“وہ….وہ میں۔”چاند کو کوئی جواب نہیں سوجھ رہا تھا۔ ہانیہ نے اس کے پیچھے دیکھا اور کتاب اس سے چھین لی۔

“تم ناول پڑھ رہے تھے؟”وہ تعجب سے پوچھنے لگی۔

“ہاں وہ بس ایک ناول ڈھونڈ رہا تھا۔ ایک دوست نے مانگا تھا۔”چاند نے بمشکل بات بنائی۔

“تم مجھ سے پوچھے بغیر میرا ناول اپنے دوست کو دینے والے تھے؟”ہانیہ کو غصہ آیا۔

“نہیں۔ میں تم سے پوچھنے ہی والا تھا۔”

“اچھا بتاؤ کونسا ناول چاہیے۔”وہ ٹھنڈی پڑ گئی۔ چاند اس کے سوال پر گڑبڑا گیا۔ اسے تو کسی ناول کا نام بھی نہیں پتہ تھا۔

“آ…… یہی تھا وہ ناول۔”

“یہ لو۔ جلدی واپس کر دینا۔”وہ احسان کرتے ہوئے بولی۔ چاند نے ڈرتے ہوئے کتاب پکڑ لی اور جانے لگا تو اسے کچھ یاد آیا۔

“اچھا ایک بات بتاؤ۔ اس مووی کا کیا بنا تھا جو تم اس دن دیکھ رہی تھی؟”

“ہیپی اینڈنگ ہوئی تھی۔ بہت مزا آیا تھا دیکھ کر ۔”ہانیہ بولی۔

“ہیرو کو ہیروئن مل گئی تھی؟”وہ تجسس سے پوچھنے لگا۔

“ہاں لیکن بے چارے کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ “کیوں؟”چاند نے ناسمجھی سے پوچھا۔

“ہیروئن کا دل جیتنے کیلیے۔”ہانیہ نے بتایا تو چاند نے کچھ سوچتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند میتھ کا پیپر دے کر امتحانی کمرے سے باہر آیا اور مین گیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔جب اچانک ہی زویا اس کے سامنے آ گئی۔ وہ ٹھٹک کر رک گیا۔

“ہائے بالاج کیسے ہو؟”زویا مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔ چاند اس سے نظریں ہٹا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔

“او ہیلو میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟” زویا نے ہاتھ لہرا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔”وہ تیزی سے کہہ کر اس کے ایک سے گزرنے لگا جب زویا اس کے سامنے آ گئی۔

“کتنے بے مروت ہو۔ میں نے تمہاری اتنی مدد کی اور تم نے مجھے شکریہ تک نہیں کہا۔”وہ شکوہ کرنے لگی۔

“شکریہ۔”وہ اس نظریں جھکا کر بولتا بہت ہی پیارا لگا تھا۔ زویا کھل کر مسکرائی تھی۔

“سو کیوٹ۔”وہ ستائش بھرے لہجے میں بولی۔ چاند نے حیرت سے اسے دیکھا۔ تبھی اسے میں گیٹ سے تارا داخل ہوتی نظر آئی تھی۔ چاند صاحب کی تو سانس ہی سینے میں اٹک گئی۔ اگر تارا زویا کو اس کے ساتھ دیکھ لیتی تو پتہ نہیں کیا کرتی۔ ایک تو مار کا ڈر تھا اور دوسرا وہ تارا کی نظروں میں اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“ایکسکیوز می۔ “وہ کہہ کر تیزی سے تارا کی طرف بڑھا تھا تاکہ تارا زویا کو نہ دیکھ لے۔ لیکن وہ دیکھ چکی تھی۔ اسے برا تو لگا تھا لیکن اس نے چاند کے سامنے اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا۔

“تارا تم یہاں کیسے؟”وہ اس کے قریب آ کر گھبراتے ہوئے پوچھنے لگا۔

“مجھے کام تھا کچھ مارکیٹ میں۔ انکل غفار کے ساتھ آئی تھی ۔ انہوں نے تو ابھی مزید کچھ دیر مارکیٹ میں خوار ہونا ہے ۔ میں نے سوچا تمہارے ساتھ چلی جاؤں۔” غفار اس کے ڈرائیور کا نام تھا جن کی عمر پچاس سے اوپر ہی تھی۔ وہ بہت اچھے اور قابل بھروسہ شخص تھے۔

“ہمم۔”چاند نے سر ہلا کر ایک دفعہ پیچھے دیکھا جہاں اب زویا نہیں تھی۔ اس نے شکر کا سانس لیا تھا۔

“کسی کا انتظار کر رہے ہو کیا؟”تارا نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔

“ن…. نہیں تو۔”وہ ہکلایا۔

“تو پھر چلو۔”تارا اسے بازو سے پکڑ کر مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“گھنے کالے بال، چوڑی پیشانی، گہری سنجیدگی آنکھیں، اونچی ستواں ناک، عنابی لبوں پر خوبصورتی سے تراشی گئی ہلکی ہلکی مونچھیں اور گندمی رنگت۔” چاند ناول کے صحفے پر نظریں جمائے آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا۔ یہ ناول کے ہیرو کا حلیہ تھا جس پر یونی کی لڑکیاں مرتی تھیں۔

“میری تو ایک بھی چیز ہیرو جیسی نہیں۔”چاند کو پریشانی نے آن گھیرا۔ اس کے بال براؤن تھے۔ بھوری آنکھوں میں سنجیدگی کی بجائے معصومیت تھی جس کی ایک وجہ آنکھوں میں سرمے کی موجودگی تھی۔ ناک بھی اونچی نہیں تھی۔ اور داڑھی مونچھ تو بالکل بھی نہیں تھی۔ رنگت بھی کچھ زیادہ ہی گوری تھی۔ اور پیشانی…… یہ سوچ کر اس نے اپنے ماتھے سے بال ہٹا کر سامنے لگے شیشے میں اپنا عکس دیکھا۔ اور یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اس کی پیشانی چوڑی تھی۔

“چلو ایک بات تو ہے ہیرو والی۔”وہ خود سے کہتا آگے پڑھنے لگا۔ اس سین میں ہیرو صبح کے وقت اٹھ کر کہیں جانے کیلیے تیار ہو رہا ہوتا ہے۔ شاور لینے کے بعد اس نے بلیک جینز پر سفید سلیو لیس شرٹ پہنی اور اوپر بلیک لیدر جیکٹ پہنی تھی۔ پیروں میں کالی جرابیں اور کالے ہی بند شوز پینے تھے۔ بالوں کو جیل لگا کر ایک سٹائل سے ماتھے پر گرایا تھا۔ کلائی پر ایک مہنگی سی گھری پہنی تھی اور آنکھوں پر گاگلز لگا لی تھیں۔ آخر پر اس نے خود پر ڈھیر ساری پرفیوم چھڑکی تھی۔

اور چاند کی تیاری اس سے کتںی مختلف تھی۔ وہ ہر وقت رف سے حلیے میں ہی رہتا تھا۔ جینز پر ہاف یا فل سلیو ٹی شرٹس پہنتا تھا اور اگر سردی زیادہ لگتی تو موٹا سا کوٹ پہن کر بھالو کی شکل اختیار کر لیتا۔ پیروں میں اس نے سردی کے باوجود بھی کبھی جرابیں اور شوز نہیں پہنے تھے۔ بس باٹا کی کوئی چپل پہنے رکھتا۔ اس کے بالوں کو طانیہ بیگم ڈھیر سارے تیل سے بھر دیتیں۔ پھر کوئی سٹائل کیا خاک بننا تھا۔ اور اس نے کبھی گاگلز بھی نہیں لگائے تھے نہ کبھی گھڑی پہنی تھی۔

کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور وارڈروب سے بلیک جینز، سفید ویسٹ اور بلیک جیکٹ نکال کر واشروم کی طرف بڑھا۔ اب ہیروئن کو متاثر کرنے کیلیے ہیرو صاحب کو پاپڑ تو بیلنے ہی پڑنے تھے۔

شاور لینے کے بعد وہ باہر آیا اور ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے عکس کو دیکھا۔

اب تھوڑا تھوڑا ہیرو لگ رہا ہوں میں۔”وہ خوشی سے مسکرایا۔

پھر اس نے بالوں کو ٹاول سے خشک کر کے جیل لگائی اور جب برش پھیرنے لگا تو اسے یاد آیا اسے تو بوائز ہیئر سٹائل کے بارے میں کچھ علم ہی نہیں۔ وہ جلدی سے فون کی طرف بڑھا اور گوگل سے بوائز ہیئر اسٹائلز نکالے۔ ایک اسے پسند آ گیا۔ بڑی مشکل سے اس نے بالوں کا وہ سٹائل بنایا۔ بلیک جرابیں اور شوز پہنے۔ گھڑی بھی پہنی۔ گریبان میں گاگلز ٹکائیں اور پرفیوم بھی لگایا۔

پھر اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو وہ حیران رہ گیا۔ وہ واقعی کسی فلمی ہیرو کی طرح ہینڈسم لگنے لگا تھا ۔ اسے خود پر ڈھیروں پیار آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ تو چاند کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر ورطہ حیرت میں پر گئی تھی۔ اسے تو وہ چاند لگا ہی نہیں تھا۔ وہ پہلی دفعہ اتنے دل سے تیار ہوا تھا ۔ورنہ تو ماما کی ڈانٹ پھٹکار سن کر ہی تھوڑا بہت تیار ہوتا تھا۔ اب تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنے ولیمے پر جا رہا ہو۔

“اتنا تیار کیوں ہوئے ہو؟ پڑھنے جا رہے ہو یا شادی پر؟”ہانیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا ۔

“کوئی مسلہ ہے تمہیں۔ میں جتنا مرضی تیار ہو جاؤں۔ تم اپنے کام سے کام رکھا کرو بس۔”وہ اسے ڈپٹ کر آگے بڑھ گیا۔ اب اسے یہ تجسس ہو رہا تھا کہ تارا اسے دیکھ کر کیا ری ایکشن دیتی ہے۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں تارا کے گھر کے ٹیرس پر پہنچ کر اپنی اپنی جگہ پر پہنچ چکے تھے۔ تارا ابھی اپنے کمرے میں تھی اور چاند بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔

تارا موبائل پر کچھ ٹائپ کرتے ہوئے ٹیرس پر آئی تھی ۔ تبھی ایک تیز خوشبو نے اس کے ناک سے گزر کر اس کے دماغ کی چولیں ہلا ڈالیں۔ اسے زور دار چکر آیا تھا۔ وہ سر پر ہاتھ رکھ کر سی کر کے رہ گئی تھی۔ چاند جو کسی اچھی بات کی توقع کر رہا تھا یہ منظر دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا۔

“تیرا بیڑا ترے چاند یہ کیا کیا؟”وہ غصے سے کھولتی اس کی طرف بڑی۔

“ک….کیا؟”وہ ڈرتے ہوئے بولا۔ جبکہ ہانیہ نے مسکراہٹ دبائی تھی۔

“اتنی زیادہ پرفیوم کیوں لگا لی۔ میرا سر درد کر دیا ہے اس نے…… اور یہ اتنا تیار کس خوشی میں ہوئے ہو ۔ہاں؟”تارا نے اس کے سر پر رکھ کے ایک تھپڑ مارا۔ چاند کو کچھ دیر سمجھ نہ آیا اب کیا جواب دے۔

“آ….. وہ میرے دوست کی سالگرہ ہے ۔ وہاں جانے کیلیے تیار ہوا ہوں۔”اس نے بمشکل بات بنائی۔ اس کا دل اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ اتنی محنت سے اس نے تیاری کی تھی اور یہ صلہ ملا تھا۔

“کونسے دوست کی سالگرہ ہے؟”ہانیہ نے پوچھا۔ تارا اب ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔

“تمہیں کیوں بتاؤں؟”وہ چڑ کر بولا۔

“ضرور کسی لڑکی کا چکر ہو گا۔”ہانیہ نے اندازہ لگایا۔ اس کی بات سے تارا کو وہ منظر یاد آیا تھا جس میں زویا اور چاند ایک ساتھ کھڑے تھے۔

“کیا بکواس کر رہی ہو؟” چاند کی بوکھلاہٹ دیکھنے کے لائق تھی۔

“یہ بات بکواس ہی ہونی چاہیے چاند۔ اگر سچ میں ایسا ہوا تو یاد رکھنا بہت برا حشر کروں گی میں تمہارا۔ ابھی تم چھوٹے ہو۔ اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دو اور ایسے فضول کاموں سے دور ہی رہنا۔”تارا نے سنجیدگی سے کہا۔ چاند نے دکھ سے اسے دیکھا تھا۔ یہ سب کچھ تو اس نے تارا کیلیے کیا تھا اور وہ بھی یہی سمجھ رہی تھی کہ کسی اور لڑکی کا چکر ہے۔ وہ اسے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی تھی۔ چاند اٹھارہ سال سے اوپر کا ہو چکا تھا۔ اور بہت حساس دل کا مالک تھا۔ تارا کے رویے نے اس کے دل میں محبت پیدا کر دی تھی۔ اب وہ کیسے خود کو اس محبت سے بچاتا۔ یہ اس کے بس میں نہیں تھا۔ پہلا پلان فیل ہونے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن تارا چاند کو مارننگ واک پر لے جانے کیلیے جگانے آئی تو اسے سخت حیرت ہوئی۔ چاند نہ صرف جاگا ہوا تھا بلکہ جانے کیلیے بالکل تیار بھی تھا۔ بلیک ٹریکنگ سوٹ اور جاگرز پہنے وہ نظر لگ جانے ک حد تک پیارا لگ رہا تھا۔ تارا نے دل ہی دل میں ماشاءاللّٰہ پڑھا تھا۔

“آج یہ سورج کہیں مغرب سے تو نہیں نکلا؟”وہ چاند کو تیکھی نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تھی۔ چاند کو لگا تھا اب تو تارا ضرور اس ک تعریف کرے گی لیکن وہ تو طنز کر رہی تھی۔ اس کا منہ بن گیا۔

“یہی سمجھ لو۔”وہ جل کر بولتا آگے بڑھ گیا۔ تارا بھی جلدی سے اس کے پیچھے لپکی۔ کچھ دیر بعد وہ پارک میں موجود تھے جاگنگ کرتے ہوئے چاند نے ایک دفعہ بھی تارا سے یہ نہیں کہا تھا کہ اس سے اب مزید چلا نہیں جا رہا۔ اسے مشکل تو ہو رہی تھی لیکن وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھا۔ اب اسے تارا کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا تھا۔ ہیرو کو طاقت ور ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنی ہیروئن کی حفاظت کر سکے۔ اس نے ناول سے یہ بات بھی سیکھی تھی۔

آدھا گھنٹہ جاگنگ کرنے کے بعد تارا رک گئی اور چہرہ موڑ کر چاند کی طرف دیکھا جس کے چہرے سے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی بس ہو چکی ہے لیکن وہ کوئی چوں چراں کیے بنا آدھا گھنٹہ اس کے ساتھ جاگنگ کرتا رہا تھا یہ بات اس کیلیے تعجب کا باعث تھی۔

“واہ میرے شیر۔ دل خوش کر دیا تم نے آج میرا۔”تارا نے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔ یہ سن کر تو چاند کا سیروں خون بڑھ گیا۔ اس کے چہرے پر سو واٹ کا بلب جل اٹھا تھا۔ وہ خوشی سے مسکرا دیا تھا۔

تبھی اچانک ان کے سامنے زویا کسی بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو چکی تھی۔ چاند نے دانت پر دانت جما کر آنکھیں بھینچتے ہوئے ایک اکتائی ہوئی سانس خارج کی تھی جبکہ تارا کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔

“ہیلو بالاج؟”زویا مسکرا کر چاند کو دیکھ رہی تھی۔ تارا کی طرف تو اس کا دھیان ہی نہیں تھا۔

“بالاج؟….. تم نے اسے اپنا نام بھی بتا دیا؟”تارا نے چاند سے بھڑکتے ہوئے پوچھا۔

“ن…. نہیں ۔ میں نے نہیں بتایا۔”

“ارے تم نے خود تو بتایا تھا۔”زویا نے اسے یاد دلایا۔ یہ سچ بھی تھا۔ اس وقت اسے زویا کی مدد چاہیے تھی اور اس نے زویا کو اس کے بابا کے سامنے اپنا نام بتایا تھا۔ اگر وہ نہ بتاتا تو وہ اس کا پیپر کیسے واپس دلاتے۔

“تمہیں نہیں تمہارے بابا کو بتایا تھا۔”وہ بچوں کی طرح لڑاکا انداز میں بولا۔

“بابا؟”تارا کی آنکھیں حیرت سے مزید پھیلیں۔ وہ اس لڑکی کے باپ سے بھی مل چکا تھا۔

“نہیں میرا مطلب ہاں۔ “چاند گڑبڑا گیا۔ تارا کو تو اس پر غصہ آیا ہی آیا ساتھ ساتھ زویا کو بھی آ گیا۔ وہ تارا سے اتنا ڈر کیوں رہا تھا۔

“ریلیکس چاند تم اتنا ڈر کیوں رہے ہو۔ کونسا گناہ کیا ہے تم نے؟ بس دو منٹ تو بات ہوئی تھی ہماری۔ “زویا تعجب سے پوچھنے لگی۔

“اے بی بی۔ چلو اپنا راستہ ناپو۔ میرے خاندان کے لڑکے پر اگر بری نظر بھی ڈالی نا تو آنکھیں نکال دوں گی۔”تارا کی کڑک دار آواز پر زویا بھی سہم گئی تھی۔

“ہاؤ ڈئیر یو؟”وہ چلائی۔

“لگتا ہے ہمت دکھانی ہی پڑے گی۔ تمہیں زبان سے سمجھ نہیں آئی نا۔”تارا آگے بڑھی تو زویا جلدی سے پیچھے ہٹی۔

“بالاج ابھی مجھے کچھ ضروری کام یاد آ گیا ہے۔ بعد میں ملیں گے جب یہ چڑیل پاس نہ ہوئی تب۔”زویا دور جاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

“تم خود ہو گی چڑیل بلکہ چڑیل کی نانی۔”اب وہ لڑتے ہوئے بالکل بچی بنی ہوئی تھی۔ اس کا یہ روپ چاند نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ وہ اس کیلیے کتنی پوزیسو تھی۔ اس بات نہ چاند کو خوشی دی تھی لیکن اب اپنے انجام کے بارے میں بھی سوچ کر اس کی سانس خشک ہو رک تھی۔

“کیا چکر تھا یہ؟ ذرا بتانا پسند کرو گے مجھے؟”تارا کا ہاتھ چاند کے کان کی طرف بڑھا۔

“آ…. تارا پلیز پہلے میری بات تحمل سے سن لو پھر جو مرضی سزا دے دینا۔”چاند نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا۔

“ہاں ہاں میں سن رہی ہوں۔ تم بولو۔”تارا نے اس کے کان کو مروڑتے ہوئے بظاہر تو بڑے سکون سے پوچھا تھا لیکن اس کے اندر بھانپڑ اٹھ رہے تھے۔

“وہ…. پہلے پیپر میں میرے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا تھا ……”چاند نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتا دی۔

“اور تم نے مجھے یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی؟”تارا نے کو نئے سرے سے غصہ چڑھا۔

“میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا تاکہ تم پریشان نہ ہو۔”اس نے بہانہ بنایا۔

“کیوں پریشان نہ ہوں ۔ تمہارے لیے پریشان ہونا حق ہے میرا۔ شروع سے میں تمہاری فکر کرتی آئی اور اب تم اتنے بڑے ہو گئے ہو کہ اپنی باتیں چھپاؤ گے مجھ سے۔”تارا اس کے سر پر تھپڑ مارنے لگی۔ چاند کو اس کے الفاظ سے ایک سکون سا ملا تھا۔

“اچھا سوری نا آئیندہ ایسا نہیں کروں گا۔”

“کر کے دکھانا پھر میں تمہیں پوچھوں گی۔…..”تارا اسے ڈانٹ رہی تھی جب اسے ایک دم سے کچھ یاد آیا۔

“ایک منٹ ؟….. کہیں تم اس لڑکی سے ملنے کیلیے تو نہیں اتنا تیار ہوئے؟ اور کل جو بن ٹھن کے گئے تھے ، اپنے دوست کی برتھڈے پر گئے تھے یا اس منحوس ماری سے ملنے گئے تھے؟”تارا اسے مشکوک نظروں سے گھور رہی تھی۔ چاند کا تو صدمے سے برا حال ہو گیا۔

“تم….. تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟”وہ رونے والا ہو گیا۔ اس نے تو تارا کیلیے اتنی محنت کی تھی۔ وہ اس سب کو زویا سے منصوب کر رہی تھی۔

“تمہارے لچھن ہی ایسے ہیں۔”وہ چبا چبا کر بولی تھی۔ اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ چاند کیلیے کتنی پوزیسو ہو رہی تھی اور کسی دوسری لڑکی کو اس کے قریب دیکھ کر کتنی جیلس ہو رہی تھی۔ اس کیلیے یہ بات غیر معمولی نہیں تھی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اس پر اپنا حق اور رعب جماتی آئی تھی۔ اس نے چاند کو کبھی اپنی زندگی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن چاند کی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار اسی کو تھا۔ اور وہ بھرپور طریقے سے یہ اختیار استعمال کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ ہیرو بننا اتنا مشکل کیوں ہے؟” ناول کا وہ سین پڑھ کر تو چاند پریشان ہو گیا۔ اب وہ یہ کیسے کرے؟ اتنا مشکل کام تو اس نے زندگی میں نہیں کیا تھا۔ اور اگر تارا کو پتہ چل جاتا تو اس کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دینی تھی اس نے۔ لیکن یہی تو مشکلات تھیں نا جن کو اسے ہر حال میں پار کرنا تھا۔ اس نے وہ کام کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ دماغ تو اسے منع کر رہا تھا لیکن وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔

رات لمحہ بہ لمحہ گزرتی جا رہی تھی اور وہ بے چین سا تارا کے سونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی اپنی آنکھوں سے آج نیند کوسوں دور تھی۔ آخر میدان جنگ پر جا رہا تھا۔ پتہ نہیں پاس بھی ہوتا تھا یا فیل ۔ شہید ہونے کا چانس کچھ زیادہ ہی تھا۔

“تمہاری محبت کی راہ میں جان بھی قربان ہے۔”اس نے سوچ کر سر اثبات میں ہلایا اور گھڑی پر وقت دیکھا۔ رات کے ایک بج چکے تھے۔ تارا اس وقت گہری نیند میں ہو گی۔ یہ اسے یقین تھا۔ لیکن وہ اس کی موجودگی کو محسوس کر کے جاگ جائے گی یا نہیں یہ اسے کنفرم نہیں تھا۔ اگر وہ پکڑا جاتا تو نجانے سب اس کے بارے میں کیا سمجھتے لیکن وہ تو ایک پھول کے ذریعے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ ناول میں ہیرو نے ایسے ہی کیا تھا۔ جب ہیروئن اپنے کمرے میں سو رہی ہوتی ہے تو وہ چپکے سے جا کر اس کے کمرے میں پھول رکھ آتا ہے۔ اب اس نے بھی اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جی کڑا کرتے ہوئے اس نے گہری سانس لی اور اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ اس کا کمرہ ٹیرس پر تھا۔ اور ٹیرس کے ساتھ بائیں طرف تارا کے گھر کا ٹیرس لگا ہوا تھا۔ تارا کمرہ بھی اسی فلور پر تھا اور وہ رات کو کھڑکی بھی کھلی رکھتی تھی ۔ سو اس کے کمرے میں پہنچنا مشکل نہیں تھا لیکن چاند کو یہ پہاڑ سر کرنے کے برابر لگ رہا تھا۔

“بی بریو ۔ بالاج!”اس نے خود کو ہمت دلائی اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ تارا کے کمرے کے باہر کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ کھڑکی کا ایک پٹ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ چاند نے کچھ لمحوں کے توقف کے بعد ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کو پورا کھول دیا۔ تبھی اس کی نظر بیڈ پر لیٹی تارا پر پڑی تھی۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑے لیمپ کی مدھم سے روشنی میں اس کا چہرہ پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ وہ سینے تک بلینکٹ میں چھپی ہوئی تھی ۔اس کے بال کھلے ہوئے تھے جو سرہانے پر بکھرے پڑے تھے۔ بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے کو چوم رہی تھی۔ اور وہ آنکھیں بند کیے نیند کی وادیوں میں گم تھی۔ چاند کتنی ہی دیر مبہوت ہو کر اسے دیکھتا رہا تھا۔ پھر وہ ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں اندر داخل ہو گیا اور قدم قدم چلتا تارا کے قریب آنے لگا تھا۔ اس کا ڈر پتہ نہیں کہاں جا چھپا تھا۔ تارا کا سحر اس کے دل کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔ وہ بیڈ کے قریب پہنچ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

کوئی لمحہ ہو تیرے ساتھ کا

میری عمر بھر کو سمیٹ لے

میں فنا بقا کے سبھی سفر

اسی ایک پل میں گزار دوں

اس کی نظریں تارا کے چہرے سے ایک پل کیلیے بھی نہیں ہٹ رہی تھیں۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔

“سوتے ہوئے کتنی معصوم لگتی ہو تم۔”چاند کے لب ہلکی سے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ اس کا ہاتھ بے ساختہ تارا کے چہرے کی طرف بڑھا تھا۔ وہ اس کے بالوں کو چہرے سے ہٹانا چاہتا تھا لیکن راستے میں ہی اس نے ہاتھ کو روک لیا لیا تھا۔ اسے یکدم ہوش آیا تھا۔ ایسا لگا تھا جیسے کوئی فسوں ٹوٹا ہو۔ جیسے وہ صدیوں کا سفر کر کے واپس آیا ہو۔ اسے اپنی ہمت پر حیرانی ہو رہی تھی۔ وہ تارا کے کمرے تک پہنچ کیسے گیا ۔ یہ محبت کچھ بھی کروا دیتی ہے بندے سے۔ مت مار دیتی ہے۔ وہ خود کو ڈپٹتا جلدی سے اٹھا اور سرخ گلاب کا پھول تارا کے سرہانے رکھ کر مڑا تھا۔

“چاند!”تارا کی آواز پر وہ ساکت ہوا تھا۔ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ کیا وہ پکڑا جا چکا تھا۔ اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ اس بارے میں تو سوچنے بھی نہیں ہو رہا تھا اس سے۔ اس میں اتنی سکت بھی نہیں رہی تھی کہ مڑ کر تارا کو دیکھتا۔