756.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 3

Tara Ka Chand by Dua Fatima

“تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ آپ مجھ پر غصہ کیوں کر رہے ہیں؟ میں نے تو آپ کو منع کیا تھا نا مت آئیں۔”تارا اسفر کی بات کاٹ کر جتاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ اسفر فون کال کے ذریعے اس پر بھڑک رہا تھا۔ تارا جو آج تک سب کو ڈانٹتی آئی تھی اور سب کی محبت کی عادی تھی وہ کیسے اس کی سخت باتیں چپ کر کے برداشت کر لیتی۔

“تو کیا میرا تم پر اتنا بھی حق نہیں کہ میں تمہیں مل سکوں۔”وہ شاکی لہجے میں بولا تو تارا کچھ پل کیلیے چپ کر گئی۔

“میں اس بات سے انکار نہیں کر رہی اسفر۔ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن آپ چھپ کر مجھ سے ملنے آئے یہ آپ نے غلط کیا۔ اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو جانتے ہیں کیا ہوتا۔ سب مجھے برا سمجھتے۔ آپ کو کوئی بھی کچھ نہیں کہتا۔ آپ مرد جو ہوئے۔ “وہ حقیقت پسندی سے بولی۔ دوسری طرف اسفر نے بے زاری سے سر جھٹکا۔

“اچھا چھوڑو اس بات کو۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ تم سے ملنے کے چکر میں میری کمر ٹوٹ گئی۔ اور تم نے میرا حال بھی نہیں پوچھا۔”اس کی بات پر تارا کو وہ منظر یاد آیا تھا جب چاند نے گلدان کھینچ کر اسفر پر دے مارا تھا۔ اسفر گرتے ہوئے بہت مضحکہ خیز لگا تھا۔ تارا نے بمشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔

“جی بتائیں۔ کیسے ہیں آپ؟”

“اب کیا بتاؤں کیسا ہوں تمہارے بنا۔ پتہ نہیں کب ہماری شادی ہو گی…..”وہ بے چارگی سے بول رہا تھا جب تارا نے غصے سے گہری سانس کھینچتے ہوئے فون ہی بند کر دیا۔ ٹوں ٹوں کی آواز پر اسفر نے فون کان سے ہٹا کر تعجب سے سکرین کو دیکھا اور جب اسے یقین آیا کہ کال واقعی ہی کٹ چکی ہے تو دل مسوس کر کے رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ہانیہ اکیلی پڑھنے آئی تھی۔ چاند کل والے واقعے کی وجہ سے ابھی تک اس کے سامنے نہیں آیا تھا۔

” چاند کہاں ہے؟”

“اپنے کمرے میں۔ کہہ رہا تھا میرا دل نہیں کر رہا پڑھنے کو “ہانیہ مزے سے بولی۔ اسے تو موقع چاہیے ہوتا تھا چاند کو ڈانٹ پڑوانے کا۔

“اس کے دل کی تو ایسی کی تیسی۔”وہ کتاب کو زور سے بند کر کے اٹھی اور سیدھا چاند کے کمرے میں جا پہنچی۔

وہ کرسی پر بیٹھا سامنے راٹننگ ٹیبل پر بازو باندھے اور ان پر سر رکھے ہوئے تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر تارا کو دیکھا تھا۔ تارا کی نظروں میں ایک پل کیلیے کل والا واقعہ گھوما تھا۔ اسے پھر سے غصہ آنے لگا تھا۔

“یہ کیا تماشا بنایا ہوا ہے تم دونوں بہن بھائیوں نے۔ ایک دن وہ نہیں آتی پڑھنے اور دوسرے دن تم۔ کیا مسلہ ہے ….ہاں؟”وہ اس کے سر پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ چاند نے جواب دینے کی بجائے چہرہ دوسری جانب پھیر کر بائیاں گال بازوؤں پر ٹکا دیا۔ تارا کو اس کا یہ رویہ برا لگا تھا۔

“چاند….!”وہ چیخی۔

“تنگ مت کرو تارا۔ جاؤ یہاں سے۔”اس کی آواز سے بھرپور ناراضگی جھلک رہی تھی۔ تارا لب بھینچ گئی۔

“بالکل نہیں۔ تمہیں لیے بغیر تو میں نہیں جاؤں گی۔ پیپرز میں دو تین دن رہ گئے ہیں اور جناب کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے۔ پھر فیل ہو جاؤ گے”اسے سمجھ نہیں آ رہا تھی چاند کو کیسے منائے۔

“نہیں ہوتا فیل۔ اب اتنا بھی نالائق نہیں ہوں۔ “وہ خفگی سے بولا۔

“مجھے اچھی طرح پتہ ہے تم کتنے پانی میں ہو۔”

“ہاں تو تمہیں اس سے کیا ہے؟ میں پڑھوں نہ پڑھوں میری مرضی۔”وہ اٹھ کر سیدھا ہو بیٹھا اور اسے گھورنے لگا۔

“مطلب تم میری بات نہیں مانو گے؟”تارا نے سر اثبات ہلایا اور چاند کو کہنے کوئی موقع دیے بنا اس کا کان پکڑ لیا۔

“اب بتاؤ پڑھنا ہے یا نہیں؟”وہ اس کا کان کھینچتے ہوئے اسے کھڑا کر چکی تھی۔

“آہ…… ہاں پڑھنا ہے۔ “وہ لائن پر آ گیا۔

“تو پھر چلو۔”تارا اسے کان سے پکڑے گھسیٹتی دروازے کی جانب بڑھی ۔

“چل رہا ہوں۔ کان تو چھوڑ دو۔”وہ روہانسا ہوا۔

“یہ کان تب ہی چھوٹے گا جب تمہارے ہاتھ میں کتاب آئے گی۔ تم جیسے بھوت باتوں سے نہیں بلکہ لاتوں سے ہی مانتے ہیں۔”وہ چبا چبا کر بولی تھی۔

“تم نے مجھے بھوت کہا؟”چاند نے صدمے سے پوچھا تھا۔ کان کا درد اسے بھول چکا تھا۔

“تمہیں اعتراض ہے ؟”تارا نے رک کر ابرو اچکاتے ہوئے اسے دیکھا تو اسنے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں۔”

“گڈ”وہ مسکرا کر دوبارہ چل پڑی تھی۔چاند بے چارہ کان کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا۔ اس کی رونی صورت مزید کیوٹ لگنے لگ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہانی…..!”چاند چیختا ہوا لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ ہانیہ کو بڑے مزے سے ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی اس کی آواز سن کر دل پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔

“کیا پرابلم ہے تمہیں۔ کیوں بھینسے کی طرح چیخ رہے ہو؟”وہ اس سے زیادہ اونچی آواز میں چیخی تھی۔ بھینسے کے لقب ملنے پر چاند کا پارہ مزید ہائی ہوا تھا لیکن ابھی وہ اس بات پر لڑنا نہیں چاہتا تھا۔ لڑنے کی ایک اور وجہ پہلے سے موجود تھی۔

“میری چاکلیٹس کہاں ہیں؟”چاند کا ایک دوست ابروڈ سے واپس آیا تھا اور وہاں سے اس کیلیے چاکلیٹس کا ایک ڈبہ لایا تھا۔ چاند کو چاکلیٹس بہت پسند تھی خاص کر کے باہر کے ممالک کی۔ پاکستان کی تو وہ اکثر کھاتا رہتا تھا لیکن یہ چاکلیٹس جو ہانیہ کھا چکی تھی یہ انگلینڈ کی تھیں اور چاند نے ہانیہ سے چھپا کر رکھی ہوئی تھیں پھر بھی پتہ نہیں اسے کس جن نے اس بارے میں خبر دے دی تھی۔

“کونسی چاکلیٹس؟”ہانیہ جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے بولی۔

“وہی جو میرے دوست نے مجھے گفٹ دی تھیں۔”وہ ضبط سے بولا تھا۔

“اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔ “ہانیہ نے جتایا۔

“بھوکی کہیں کی اسی لیے نہیں بتایا کہ تم کھا نہ جاؤ۔”

“تو اب کونسا بچ گئی ہیں۔ بتا دیتے تو مل جل کر آدھی آدھی کھا لیتے۔”ہانیہ نے کندھے اچکا کر کہا۔

“تم……تم رکو ذرا۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔”وہ خطرناک تیوروں کے ساتھ اس کی طرف بڑھا تو ہانیہ اٹھ کر بھاگنے لگی۔ چاند اگر اسے مارتا تو اس نے تارا کو شکایت لگا دینی تھی اور پھر اسے ہی سزا ملنی تھی۔ یہ سوچ کر وہ رک گیا اور کچھ سوچ کر لاؤنج سے نکل گیا۔ ہانیہ نے اسے تعجب سے جاتے دیکھا۔ اور صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر گزری تو چاند دوبارہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہانیہ کی پرائز شیلڈ تھی جو اسے میٹرک میں سیکنڈ پوزیشن لینے پر ملی تھی۔ ہانیہ اس کے ہاتھوں میں اپنی جان سے عزیز شیلڈ کو دیکھ کر پریشان ہو اٹھی تھی۔

“چاند میں تمہیں پہلے سے بتا رہی ہوں اگر اسے کچھ ہوا تو میں تمہارا جینا حرام کر دوں گی۔”وہ مضطرب سی بولتی اس کی طرف بڑھی۔

“دیکھا اپنی دفعہ کتنا غصہ آ رہا ہے۔”چاند پیچھے ہٹتے ہوئے مزے سے بولا تھا۔

“چاند!”وہ رونے والی ہو گئی تھی۔ چاند پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ شیلڈ کو فضا میں بلند کرتے ہوئے نیچے پھینکنے کی والا تھا کہ وہاں تارا نمودار ہوئی۔

“آپی…..یہ دیکھیں چاند کیا کر رہا ہے۔ پلیز اسے روکیں۔ میری شیلڈ توڑ دے گا یہ۔”ہانیہ نے اسے دیکھ کر رو شکر کا سانس لیا تھا جبکہ چاند صاحب سانس سینے میں اٹکا تھا۔ وہ کرنٹ کھا کر مڑا تھا اور تارا کو اپنی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھتا پا کر گھبرا گیا تھا۔ اسے پتہ چل گیا تھا اب تارا کے ہاتھوں اس کی خیر نہیں۔ وہ ڈرتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگا۔

“ن… نہیں تارا۔ وہ…..میں۔”وہ ہکلاتے ہوئے بول رہا تھا اور تارا آہستہ آہستہ اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔

“کیا وہ میں؟”تارا نے اس کا کان پکڑ کر مروڑا۔ چاند منہ بنا کر رہ گیا تھا۔

“آہ……اس نے میری چاکلیٹس کھائی ہیں۔”وہ بچوں کی طرح شکایت کرنے لگا۔

“تو ؟…… بہن ہے تمہاری۔ تمہیں اگر اس کیلیے اپنی جان بھی دینے پڑی تو تم اس سے دریغ نہیں کر سکتے۔ چاکلیٹ تو بہت چھوٹی چیز ہے۔”وہ سخت لہجے میں بولی تھی۔ اس کی بات چاند کے دل کو لگی تھی۔ ہانیہ اتنی زیادہ اہمیت ملنے پر کھل کر مسکرائی تھی۔

“تھوڑے میچور ہو جاؤ اب۔ اٹھارہ سال سے اوپر ایج ہو چکی ہے تمہاری اور حرکتیں پانچ سال کے بچوں جیسی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے مت لگ جایا کرو۔”تارا اسے لیکچر دے کر ہانیہ کی طرف بڑھی۔ وہ جو بڑے مزے سے چاند کو ڈانٹ پڑتے دیکھ رہی تھی تارا کو اپنی طرف آتے دیکھ کر ٹھٹکی۔ اس سے پہلے کہ تارا کا ہاتھ اس کے کان کو پکڑتا اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا۔ تارا نے ابرو اچکا کر ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اس کے گال کو چٹکی میں پکڑ کر کھینچ ڈالا۔

“آہ…..آپی بہت درد ہو رہا ہے چھوڑیں۔”ہانیہ نے منہ بسورا۔

“درد کی بچی۔ غلطی کرتے ہوئے تمہیں یاد نہیں رہتا کہ اس کی سزا بھی مل سکتی ہے۔”وہ اب ہانیہ کے لتے لے رہی تھی۔ چاند سر جھکائے اپنی ہنسی روکنے لگا تھا۔

“م….میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔”وہ منمنائی۔

“میں بتاؤں تمہاری غلطی کیا ہے؟…..پہلے تم نے بغیر پوچھے چاند کی چاکلیٹس کھائیں اور اب جھوٹ بول رہی ہو۔ “تارا نے اسے تیکھی نظروں سے گھورا۔

“سوری آئیندہ نہیں کروں گی۔”وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی۔ جلدی سے سوری کر لیتی تاکہ سزا سے بچ جائے لیکن تارا اسے سزا دے کر ہی چھوڑتی تھی۔ اب بھی اس نے ہانیہ کو چاند کا کمرہ صاف کرنے کی سزا دی تھی۔ مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ چاند کا کمرہ صاف کرنے لگی جو بہت ہی بری حالت میں تھا اور چاند جان بوجھ کر کمرے میں مزید گند پھیلانے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے آٹھ بج چکے تھے۔ نیم اندھیرے کمرے میں خنکی اور ٹھنڈک تھی۔ وہ بیڈ کے ایک کنارے پر اوندھے منہ لیٹا سو رہا تھا۔ براؤن بال ماتھے پر گرے اس کے خوبصورت سے چہرے کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ پوری طرح سے خوابوں میں گم تھا جب تارا اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور لائٹ آن کی۔ چاند کی نیند میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ تارا نے کچھ پل دلچسپی سے اس کے کیوٹ چہرے کو دیکھتی رہی تھی۔ پھر مسکرا کر سر جھٹکتے آگے بڑھی اور چاند پر سے بلینکٹ پیچھے ہٹایا۔ سردی نے چاند کے مزاج اچھی طرح پوچھے تو اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ڈسٹرب ہوتے ہوئے منہ بنا گیا لیکن آنکھیں نہیں کھولیں تھیں۔

“چاند اٹھو۔”تارا کا کڑک دار حکم صبح سویرے سن کر چاند کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر سامنے کھڑی تارا کو دیکھا۔ کتنا ہی عرصہ ہو گیا تھا تارا کبھی ایسے صبح کے وقت اس کے کمرے میں نہیں آئی تھی۔ وہ بے یقین سا رہ گیا تھا۔ تارا کمر پر ہاتھ ٹکائے اسے گھور رہی تھی۔

“اگر حیرت کا دورہ ختم ہو گیا ہو تو اٹھنے کی زحمت کر لو۔”اس کی بات سن کر وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا۔

“ک…..کیا ہوا؟….تم اتنی صبح ……”وہ گھبرا کر بول رہا تھا۔

“ابھی تو کچھ نہیں ہوا لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی تو بہت کچھ ہو جائے گا اور اتنی صبح بھی نہیں ہے۔ ٹائم دیکھو ذرا آٹھ بج چکے ہیں۔”

“تو آٹھ ہی بجے ہیں نا۔”وہ تعجب سے بولا۔

“ہمم۔ جاگنگ کرنے کیلیے یہ وقت بہتر رہے گا۔”تارا نے سر اثبات میں ہلایا۔

“جاگنگ؟”چاند کو سخت پریشانی ہوئی تھی۔ ابھی تو باہر اتنی دھند تھی۔

“جی ۔ اب اٹھ کر جلدی سے فریش ہو جاؤ۔ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔”تارا نے حکمیہ لہجے میں کہتے ہوئے ایک نظر کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ چاند نے رونے والا منہ بنا کر گہری سانس خارج کی اور سر ہاتھوں میں گرا لیا۔ اس کی آنکھیں پھر سے بند ہونے لگی تھیں۔

“جلدی۔”باہر سے تارا کی آواز سن کر وہ پھرتی سے اپنے حواسوں میں آیا اور بیڈ سے اتر گیا۔

دراصل کل چاند کا ٹیسٹ خراب ہوا تھا تو تارا نے اسے ٹیرس پر سو چکر لگانے کی سزا دے دی ۔ پچاسویں چکر پر ہی چاند کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ اس کا سانس بری طرح پھول گیا تھا۔ تارا نے اسے صبح اپنے ساتھ جاگنگ پر لے جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تارا….. رکو ۔مجھ سے اب مزید نہیں چلا جا رہا۔”چاند گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے جھک چکا تھا۔ اس کا سانس پھول گیا تھا۔ تارا جو نارمل سپیڈ سے ٹریک پر دوڑ رہی تھی رک کر مڑی۔ چاند اس سے چند قدم پیچھے تھا۔

“بس اتنی سی ہمت ہے؟”وہ ناک چڑھا کر بولتی اس کے قریب آئی۔

“بیس چکر تو لگا چکے ہیں ہم۔ اور یہ اتنا بڑا ٹریک ہے۔ اب میں سانس بھی نہ لوں۔”وہ روہانسا ہو گیا۔ جب اسے پتہ چلا تھا کہ تارا بھی اس کے ساتھ جاگنگ کرے گی تو وہ بہت خوش ہوا تھا۔ سردی اور گرم بستر چھوڑنے کا غم بھی بھول گیا تھا لیکن اب تو صحیح معنوں میں اس کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔ اتنی سردی میں بھی اسے بھاگ بھاگ کر پسینہ آ گیا تھا۔ تارا کے خوبصورت چہرے پر بھی پسینے کے ننھے ننھے قطرے تھے جو سورج کی ہلکی ہلکی سی روشنی میں منعکس ہو کر چاند کو مبہوت کر رہے تھے۔ وہ بمشکل اس سے اپنی نظریں ہٹا پایا تھا۔

“تم اتنے نازک مزاج کیوں ہو چاند؟…… مردوں کو کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ جب وقت پڑے تو وہ بزدلی دکھائیں۔ ہر مشکل سے لڑ جانے کا حوصلہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں۔ تم کب تک مجھ پر انحصار کرو گے؟”وہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔

“مجھے فیصلے کرنے نہیں آتے۔تم جو ہو میرے ساتھ۔ مجھے ہر قدم پر تمہاری گائیڈینس چاہیے۔”وہ لاپرواہی سے بولا تھا۔

“اور جب میں تمہارے ساتھ نہ ہوئی تو؟”تارا نے ابرو اچکائی۔ چاند کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ وہ اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ لیکن کبھی نا کبھی تو ایسا ہونا ہی تھا۔

“تو میری دنیا ویران ہو جائے گی۔ میرے لیے جینا مشکل ہو جائے گا اور تم کہہ رہی ہو کہ زندگی کے فیصلے خود کیا کروں۔”وہ سوچ کر خود پر ہنسا تھا۔

“کیا سوچ رہے ہو؟”تارا نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔

“کچھ نہیں۔”وہ نفی میں سر ہلا کر آگے بڑھ گیا۔ تارا بھی اس کے ساتھ چلنے لگی۔

“پیپرز کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے؟”وہ کبھی کبھی اس سے ایسے ہی دوستانہ رویہ اختیار کر لیا کرتی تھی۔ لیکن رعب تب بھی اس کے لہجے میں موجود ہوتا تھا۔

“ابھی سوچا نہیں۔ تم ہی بتا دو کیا کروں؟”

“پھر وہی۔ خود فیصلہ کرو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔”وہ چڑ کر بولی۔

“میرا ارادہ تو ایگزیمز کے بعد اپنی نیند پوری کرنے کا ہے۔”وہ مزے سے بولا۔ تارا نے اس کے سر پر تھپڑ لگایا۔

“مجھے تم سے یہی امید تھی۔”وہ تاسف سے بولی۔

“اب تم مجھ سے جیسی امید رکھو گی میں نے تو ویسے ہی کرنا ہے نا۔”وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولا۔ تارا ہنس پڑی۔ چاند کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اس نے تارا کے ہنستے ہوئے چہرے پر دوسری نظر ڈالنے کی غلطی نہیں کی تھی۔

“بڑی باتیں بنانی آ گئی ہیں تمہیں۔ مطلب اتنے بھی معصوم نہیں ہو۔”وہ اسے تیکھی نظروں سے گھورتی بولی۔

“ابھی تو تم نے میری باتیں سنی ہی کہاں ہے۔ کاش کبھی تم میرے دل کا حال سن لو۔”وہ حسرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ پھر خود کو کوستا سر جھٹک گیا۔

“ہاں میں معصوم نہیں ہوں۔ تم ہی مجھے بچہ سمجھتی ہو۔”وہ منہ بنا کر کہتا بالکل بچہ ہی لگ رہا تھا۔ تارا اسے دیکھ کر رہ گئی۔ چاند نظریں پھیر کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔تبھی اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو تیزی سے بھاگتا ان کی ہی طرف آ رہا تھا۔

“تارا…..!”وہ چیختا تارا کے پیچھے چھپ گئی۔ تارا طنزیہ ہنسی۔ ابھی تو وہ اس سے شکایت کر رہا تھا کہ وہ اسے بچہ سمجھتی ہے۔ اور اب بچوں کی طرح ڈر رہا تھا۔

“اوہ چاند صاحب کتے سے ڈر گئے۔”وہ بولی اور جھک کر قریب آتے کتے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی۔ کتے کے پیچھے ایک نوجوان لڑکی بھی تھی جو شاید اس کی مالکن تھی۔

“مانو…..”وہ لڑکی بولی تو کتے نے پلٹ کر اسے دیکھا اور اس کے جانب بڑھ گیا۔ تارا بھی اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اس لڑکی کو دیکھنے لگی۔

“مانو تو بلی کا نام ہوتا ہے نا۔”چاند نے تارا سے تعجب بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔ اس کی بات کتے کی مالکن نے بھی سن لی تھی۔ اس کی نظر چاند پر پڑی تو کچھ دیر ہٹ نہیں سکی تھی۔ پھر وہ کھل کر مسکرائی تھی۔ تارا اس لڑکی کے چہرے کے تاثرات غور سے دیکھ رہی تھی اور نجانے اسے اتنا برا کیوں لگ رہا تھا ۔

“ہائے۔ میرا نام زویا ہے۔ اور آپ کا؟”وہ چاند کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی اور اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر بڑے میٹھے لہجے میں بولی تھی۔ چاند تو بھونچکا کر رہ گیا تھا۔ تارا کی خشمگیں نظریں خود پر محسوس کر کے اس نے تھوک نگلا تھا۔ تارا انتظار کر رہی تھی کہ چاند اس لڑکی کو کیا ریسپانس دیتا ہے ۔ اسے طریقے سے ہینڈل کرتا ہے یا اس کے ہاتھ کو تھام لیتا ہے۔ لیکن چاند تو بچوں کی طرح جھینپ کر نامحسوس طریقے سے تارا کے پیچھے ہو گیا تھا۔ زویا ابرو اچکا کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔ اس اپنا ہاتھ ابھی تک پیچھے نہیں ہٹایا تھا۔ تارا کو اب اس لڑکی کی ڈھٹائی پر غصہ آنے لگا تھا۔ اس نے زویا کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مارا۔ زویا نے ہاتھ کے درد کو سہلاتے ہوئے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔

“وہ تم سے ہاتھ نہیں ملا رہا تو تھوڑی شرم کر لو۔”تارا نے اسے شرم دلائی۔

“یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے۔ تم بیچ میں مت پڑو تو بہتر ہو گا۔”زویا بھڑکی۔ چاند کو اس پر غصہ آیا ۔ اس لڑکی کی وجہ سے اسے تارا سے مار بھی پڑ سکتی تھی۔

“اور تم اپنی نظروں کو کنٹرول کرو ذرا تو بہتر ہو گا۔”تارا نے اسے دوبدو جواب دیا اور چاند کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی۔ چاند اتنے عرصے بعد تارا کے ہاتھ کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کر کے کسی عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وحید تو پندرہ اپریل کی تاریخ کہہ رہا تھا۔ میں نے سوچا آپ سے مشورہ کر کے ہی اسے کوئی تاریخ دوں۔”عمران صاحب اپنے بھائی سکندر کے ساتھ تارا کی شادی کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔ جب طانیہ بیگم چائے کے کپ ٹرے میں رکھے لاؤنج میں داخل ہوئی تھیں۔

“ہمم۔ پندرہ تاریخ ہی ٹھیک رہے گی۔ تارا کے ایگزیمز ختم ہو جائیں گے نا اس وقت تک؟”سکندر صاحب بولے۔ طانیہ بیگم نے باری باری دونوں کو چائے کے کپ پکڑائے اور سکندر صاحب کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئیں۔

“ہاں۔ اسفر کہہ رہا تھا کہ تارا شادی کے بعد بھی جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے۔”

“چلو اللّٰہ کا شکر ہے تارا کو اچھا سسرال ملا۔ “سکندر صاحب مشکور لہجے میں بولی۔

“اللّٰہ اس کے نصیب اچھے کرے۔ “طانیہ بیگم بھی مروتاً بولی تھیں۔

ہانیہ لاؤنج سے باہر دروازے کے قریب کھڑی یہ ساری گفتگو سن چکی تھی۔

“اوئے ہوئے ۔ تارا آپی کی شادی۔ کتنا مزا آئے گا نا۔ میں تو ڈھیر ساری شاپنگ کروں گی ۔”وہ خوشی سے اچھلنے لگی تھی۔ یہ بات جتنی اس کیلیے خوش کن تھی بالاج سکندر کیلیے اتنی ہی تکلیف در ثابت ہونے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ کیک کس کیلیے ہے؟”چاند نے خوبصورت سے چاکلیٹ کیک کو دیکھتے ہوئے اشتیاق سے پوچھا تھا ۔

“تمہارے لیے نہیں ہے۔”ہانیہ نے اسے بازو سے پکڑ کت پیچھے ہٹایا۔

“مجھے تم سے ایسی توقع بھی نہیں کہ تم مجھے کیک بنا کر کھلاؤ گی۔”

“اچھی بات ہے۔ غلط جگہوں پر توقعات باندھنی بھی نہیں چاہیے۔”ہانیہ کیک پر چاکلیٹ چپس بکھیرتے ہوئے مصروف سے لہجے میں بولی۔

“شکریہ اس نصیحت کیلیے۔ اب بتا دو کس کیلیے ہے یہ؟”وہ جل کر بولا۔

“میرے لیے۔”اس نے جھوٹ بولا۔ دراصل یہ کیک اس نے تارا آپی کیلیے بیک کیا تھا۔ تارا کی شادی ہونے والے تھی۔ اور وہ اسے چاند سے پہلے وش کرنا چاہتی تھی۔ جب بھی تارا کی برتھ ڈے ہوتی ہانیہ اور چاند میں مقابلہ لگ جاتا کہ کون پہلے تارا کو وش کرتا ہے اور کون اسے زیادہ اچھا گفٹ دیتا ہے۔ اب اگر ہانیہ اسے کیک بیک کرنے کا اصل مقصد بتا دیتی تو چاند اس پر برتری لے جاتا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ خبر چاند کو اس قابل ہی نہیں چھوڑے گی کہ وہ اسے وش کر سکے۔

کچھ دیر بعد وہ تارا کے کمرے میں موجود تھی۔

“دیکھیں تارا آپی۔ میں نے آپ کیلیے اپنے ہاتھوں سے کیک بنایا ہے۔”وہ چہکتے ہوئے تارا کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ تارا کو ابھی ابھی اسفر نے کال کی تھی۔ ہانیہ کے آنے پر اس نے کال کاٹ دی تھی اور مسکرا کر ہانیہ کو دیکھنے لگی۔

“یہ کس لیے؟”

“آپ کی شادی کی خوشی میں۔”

“اوہ تو خبر تم تک پہنچ گئی۔”

“ہاں۔ تایا جان بابا سے بات کر رہے تھے تو میں نے سن لیا۔ “

“بڑی تیز ہو تم۔”

“ہاں بس کبھی غرور نہیں کیا۔ اچھا اب میری تعریفیں کرنا بند کریں اور کیک چیک کر کے بتائیں کیسا ہے۔” وہ ہنستے ہوئے بولی۔ تارا نے کانٹے سے کیک کاٹ کر منہ میں ڈالا۔ کیک واقعی مزے کا تھا۔

“بہت مزے کا ہے۔”وہ مسکرا کر بولی ۔ ہانیہ کے چہرے کی چمک مزید بڑھ گئی۔

“آخر میں نے بنایا ہے آپ کو پسند کیسے نہ آتا۔”اسے اپنی تعریفیں کرنے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا۔

“ہمم۔ صحیح کہا۔”تارا نے سر ہلا کر اس کی تائید کی۔

“اچھا ویسے دلہا بھائی کیسے ہیں؟….کوئی تصویر ہی دکھا دیں۔”وہ شرارت سے پوچھنے لگی۔ تارا نے اسے گھورا۔

“میرے پاس ان کی کوئی تصویر نہیں۔”وہ سچ ہی بول رہی تھی۔ اس کے پاس اسفر کی کوئی تصویر نہیں تھی۔

“اوئے ہوئے۔ ان……”ہانیہ ہنسی۔

“مار نہ کھا لینا۔”تارا نے کیس تو اس کی ہنسی کو بریک لگی۔

“ارے نہیں نہیں۔ میں تو کچھ بھی نہیں کہہ رہی۔ “وہ جلدی سے سیریس ہو گئی۔

“ویسے جب آپ شادی کے بعد چلی جائیں گی تو مجھے آپ کی بہت یاد آئے گی۔”ہانیہ اداسی سے بولی۔

“یہی اصول ہے۔ ہر لڑکی کو ایک نا ایک دن اپنا بھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ تم اداس مت ہو میں تم سے فون پر بات کرتی رہوں گی۔ “اسے تسلی دیتے ہوئے تارا کو چاند کی یاد آئی تھی۔ وہ اس سے کتنا اٹیچڈ تھا۔ پتہ نہیں اس کے جانے کے بعد وہ اسے کتنا یاد کرے گا۔ وہ بھی تو چاند کو بہت مس کرنے والی تھی۔ بظاہر تو وہ چاند سے سخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھی اور ہر وقت اسے ڈانٹتی رہتی تھی لیکن وہ اسے بہت زیادہ پیار کرتی تھی۔ اس سے دور جانا اس کیلیے بھی آسان نہیں تھا۔