406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 34

Tara Ka Chand by Dua Fatima

اگلے دن بالاج اور تارا کا ولیمہ تھا۔ ہانیہ اور میکال کا اس سے اگلے دن ہونا تھا۔ ہانیہ نے تو شکر کیا تھا ایک دن کا گیپ آ گیا۔ بھاری ڈریس پہن کر ایک ہی جگہ ٹِک کے خاموش بیٹھے رہنا اس کیلیے بہت مشکل تھا۔ آج وہ کھل کر تارا اور بالاج کی شادی کو انجوائے کر رہی تھی۔ وہ سلور کلر کے پیروں تک آتے گاؤن میں ملبوس تھی جس کا اپر گولڈن کلر کی لانگ جیکٹ کی طرح کی ریشمی قمیض تھی۔ ساتھ ہم رنگ دوپٹہ بھی تھا جو اس نے سر پر لیا ہوا تھا۔ میکال سے تو اتنا بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ اس کا دل کر رہا تھا ہانیہ کو واپس گھر ہی لے جائے۔ کسی اور کی اس پر نظر ہی نہ پڑے۔

تارا اور بالاج آج بھی دلہن دلہا بنے چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے۔ تارا نے گولڈن کلر کا لہنگا پہنا تھا اور بالاج نے بھی اسی رنگ کی شیروانی پہنی ہوئی تھی۔ وہ دونوں سٹیج پر ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ تارا اپنی جسامت کے لحاظ سے بالاج سے چھوٹی ہی لگ رہی تھی۔ اگر کسی کو تارا کی عمر پتہ نہ ہوتی تو اس نے یہی سمجھنا تھا تارا بالاج سے چھوٹی ہی ہے۔ آج جب کچھ عورتیں ان کی جوڑی کی تعریف کر رہی تھیں تو ایک نے سب کو بتا دیا کہ دلہن دولہے سے بڑی ہے۔ وہ سب عورتیں حیران ہوئی تھیں۔

“عمر کا کیا ہے۔ ویسے دیکھنے میں دلہن تو چھوٹی ہی لگتی ہے۔”ایک عورت نے کہا تھا۔ تارا نے یہ سن لیا تھا۔ اب وہ سوچنے لگی تھی کہ کیا وہ واقعی بالاج سے چھوٹی لگتی ہے۔ اس نے چہرہ ذرا سا موڑ کر کن اکھیوں سے بالاج کا جائزہ لیا۔

“ہمم۔ یہ تو مجھ سے بڑا لگ رہا ہے۔ “وہ بڑی معصومیت سے سوچنے لگی تھی۔ اگر بالاج کو اس کے خیالات پتہ چلتے تو اس نے بہت ہنسنا تھا ۔

“لیکن عمر میں تو بڑا نہیں ہے نا۔ کاش تم مجھ سے بڑے ہوتے بالاج۔”وہ منہ بنا کر سوچنے لگی تھی۔

کچھ دیر بعد اس کی نظر سامنے سے آتی ایک لڑکی پر پڑی۔ اسے لگا جیسے اس نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہوا ہے۔ غور کرنے پر اسے یاد آ گیا کہ وہ زویا تھی ۔ دو سال پہلے وہ اسے اور بالاج کو پارک میں ملی تھی۔ پھر وہ بالاج سے بعد میں بھی ملتی رہی تھی۔ اب وہ یہاں کیوں آئی تھی۔ وہ الجھ کر سوچنے لگی۔ زویا پھولوں کا بکے پکڑے اسٹیج پر چڑھ کر ان کے قریب آئی تو بالاج کھڑا ہو گیا۔

“اف یار کتنے پیارے لگ رہے ہو۔ “زویا نے پھولوں کا بکے اسے پکڑا کر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ تارا کو اس کا بالاج کی تعریف کرنا بہت برا لگا تھا۔

“شکریہ۔ تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔”بالاج کی بات نے تارا کو حیرت کا جھٹکا لگایا تھا۔ وہ اس سے اتنا فرینک تھا کہ کیسے اس کی تعریف کر رہا تھا۔ اب تو اسے اور بھی برا لگا تھا۔

“وہ تو میں ہوں۔ اچھا اپنی دلہن سے تعارف کروا دو اب۔”وہ بولی تو بالاج نے ان دونوں کا رسمی تعارف کروایا۔ تارا نے زبردستی مسکرا کر اسے سلام کیا تھا۔

“تو پھر تم نے اپنی محبت کو پا ہی لیا؟”زویا نے سرگوشی میں کہا تو بالاج نے اسے گھورا۔

“تم ابھی بھی اس سے ڈرتے ہو؟”زویا نے ناک چڑھائی۔

“نہیں تو۔ میں بھلا کیوں تارا سے ڈروں گا بلکہ تارا اب مجھ سے ڈرتی ہے “وہ ذرا اونچی آواز میں بولا تھا۔ تارا دانت کچکچا کر رہ گئی تھی۔ زویا ہنس پڑی اور کچھ دیر بالاج کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتی رہی۔

جب تارا کی اسفر سے شادی ہوئی تو وہ اندر تک ٹوٹ گیا تھا۔ پھر زویا نے اسے سنبھالا تھا۔ وہ ایک شاپ پر اسے ملی تھی اور پچھلی باتیں بھول کر اس سے اچھے طریقے سے پیش آئی تھی۔ بالاج کو بھی اس وقت شاید ایسے ہی ہمدرد کی ضرورت تھی۔ اس نے زویا کو بتا دیا تھا کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اس کی شادی ہو چکی ہے۔ زویا پھر اس کی دوست بن گئی تھی۔ کچھ عرصہ قبل وہ ابروڈ چلی گئی تھی۔ بالاج اور اس کا فون پر رابطہ تھا۔ بالاج نے اسے اپنی شادی کی خبر سنائی تو وہ اس کیلیے خوش کوئی تھی۔ وہ برات پر ہی آنا چاہتی تھی لیکن فلائٹ جلدی نہیں ملی ۔ وہ آج ہی پاکستان آئی تھی اور بالاج کی شادی پر آ گئی تھی ۔ ان کی باتوں سے تارا جان گئی تھی کہ وہ دونوں دوست ہیں۔ اسے یہ دوستی کھٹکنے لگی تھی۔ جیلسی کا وہ احساس جو اس نے کبھی اسفر کیلیے محسوس نہیں کیا تھا وہ بالاج کیلیے محسوس کر رہی تھی۔ اسے خود بھی یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ بالاج کیلیے پوزیسو ہو رہی ہے۔

کچھ دیر بعد زویا اٹھ کر اسٹیج سے نیچے گئی تو بالاج اس کی طرف متوجہ ہوا۔

“بڑی دوستیاں ہیں تمہاری لڑکیوں سے۔”تارا نے کڑھتے ہوئے طنز مارا ۔ بالاج نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کیا وہ اس کیلیے جیلس ہو رہی تھی۔ اس کا دل خوشی دھڑکا۔

“ایک ہی لڑکی سے تو دوستی کی ہے صرف۔”

“ہونہہ۔ مجھے کیا پتہ کتنی لڑکیوں سے دوستی ہو گی تمہاری۔”وہ ناک چڑھا کر بولی۔

“تارا تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟”وہ مصنوعی صدمے سے بولا تھا۔ تارا نے پھر اسے جواب نہیں دیا تھا۔ وہ شاید کسی گہری سوچ میں چلی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ولیمے کے فنکشن سے وہ دونوں حسن صاحب کے گھر ہی آئے تھے۔ حسن صاحب نے میکال سے ولیمے تک وہیں رکنے کا کہا تھا۔ خاندان کے کئی لوگ بھی وہیں موجود تھے۔ اگر دلہا دلہن ہی وہاں نہ ہوتے تو انہوں نے سوال اٹھانا تھا۔ اب وہ یہ تو نہیں جانتے تھے کہ میکال اپنے باپ کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہتا۔ وہ حسن صاحب کو معاف تو کر چکا تھا لیکن ان کی دوسری بیوی کی وجہ سے ان کے پاس نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس نے میکال کی ماں پر جھوٹا الزام لگوا کر اسے طلاق دلوائی تھی۔ وہ کبھی بھی اسے معاف نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ حسن صاحب کی دوسری بیوی انعم اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی ۔ اس کا جوان بیٹا مرا تھا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی جو ظلم اس نے وریشہ کے ساتھ کیا تھا اللّٰہ نے اس کا بدلہ لیا ہے۔ وہ میکال سے معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن میکال نے اسے ابھی تک موقع نہیں دیا تھا۔

ولیمے سے آنے کے بعد ہانیہ ابھی تک کمرے میں نہیں آئی تھی۔ میکال کے خاندان کے لوگ بہت اچھے تھے۔ ہانیہ ان میں گھل مل گئی تھی۔ میکال کی کزنوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اسے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ جبکہ میکال کو اپنی کزنیں بہت بری لگ رہی تھیں۔ جو وقت ہانیہ نے اس کے ساتھ گزارنا تھا وہ اس کی کزنیں ضائع کر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو وہ برداشت کرتا رہا لیکن کب تک کرتا۔

“ہنی….. کافی بنا کر کمرے میں لے کر آنا ذرا۔”سب کے سامنے اس کے اس طرح پکارنے ہر ہانیہ نے بلش کیا تھا۔ میکال کی کزنیں ہنس پڑی تھیں۔

“بیٹا میں بنا دیتی ہوں کافی.”انعم نے کہا تو میکال کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے۔

“میں نے اپنی بیوی سے کہا ہے۔ “وہ انہیں سرد مہری سے دیکھ کر کمرے میں چلا گیا۔ انعم شرمندہ ہو گئی۔ہانیہ الجھی تھی۔ وہ چاہے اس کی سٹیپ مدر تھی لیکن میکال کو اس سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ہانیہ نے میکال سے اس بارے میں بات کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

وہ کافی لے کر کمرے میں آئی تو میکال لیپ ٹاپ لیے صوفے پر بیٹھا دکھائی دیا۔

“زہے نصیب۔ فرصت مل گئی کمرے میں آنے کی۔”وہ میٹھا طنز مارتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

“فرصت تو نہیں ملی۔ بڑی مشکل سے وقت نکالا۔”ہانیہ نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔ میکال نے اسے گھورتے ہوئے کافی کا کپ پکڑا۔

“آپ سے ایک بات پوچھوں۔”وہ اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔

“ہمم۔”میکال نے کافی کا سپ بھرا۔ کافی بہت مزے دار تھی۔ میکال کا دل خوش ہو گیا۔

“آپ اپنی سٹیپ مدر سے ناراض ہیں؟”اس کے سوال پر میکال نے خاموشی سے اسے دیکھا تھا۔

“بتائیں نا۔ آپ نے سب کے سامنے ان سے کتنے روڈ لہجے میں بات کی۔ انہیں کتنا دکھ ہوا ہو گا۔”

“مجھے نہیں پرواہ انہیں کتنا دکھ ہوا ہے۔ “اس کے لہجے میں غصہ تھا۔

“کیوں؟ “

“وہ میری سٹیپ مدر ہیں ۔اسی لیے۔”

“لیکن وہ انسان بھی تو ہیں نا۔ انسانیت کے ناطے ہی آپ ان سے اچھے اخلاق سے بات کر لیا کریں۔”وہ سمجھانے لگی۔

“جن لوگوں میں انسانیت نہ ہو ان سے میں کبھی اچھے اخلاق سے پیش نہیں آ سکتا۔”اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ ہانیہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

“کیا مطلب….. وہ تو بہت اچھی ہیں”

“وہ میری ماں کی قاتل ہیں۔ اب وہ سونے کی بھی بن کر آئیں تو میرے لیے بری ہی رہیں گیں۔”وہ بولا تو ہانیہ ششدر سی رہ گئی تھی۔

“میری دادو اور سٹیپ مدر نے مل کر میری ماں پر جھوٹا الزام لگایا اور بابا سے طلاق دلوا دی۔ وہ اسی صدمے سے مر گئیں۔ میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔”میکال کے چہرے پر خطر ناک حد تک سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔

“اوہ آئی ایم سوری۔ مجھے پتہ نہیں تھا۔ آپ پلیز غصہ مت کریں۔ میں آئیندہ اس بارے میں کبھی بات نہیں کروں گی۔ آپ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں۔”ہانیہ گھبرا کر کہہ رہی تھی۔ میکال کے جلتے دل کو اس کی باتوں نے سکون دیا تھا۔ وہ مسکرا دیا تھا۔

“غصہ تو مجھے تم پر واقعی ہی آ رہا ہے۔ ایک تو تم مجھ سے دور بھاگتی ہو اور جب قریب آتی ہو تو دوسروں کی باتیں لے کر بیٹھ جاتی ہو۔ “وہ اس کے کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے بولے تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہانیہ کے چہرے کے قریب ہوتا وہ اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔ میکال نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ہانیہ اور میکال کے ولیمے کی تقریب تھی۔ میرج ہال جانے میں ابھی دس منٹ تھے۔ بالاج تیار ہو چکا تھا جبکہ تارا کی تھوڑی سی تیاری رہتی تھی۔ وہ کھلے بالوں کو ایک کندھے سے آگے ڈالے ہار کی ہک بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہک کے ساتھ پتہ نہیں کیا مسلہ تھا بند ہو کے ہی نہیں دے رہی تھی۔ بالاج نے جب اسے مشکل میں دیکھا تو صوفے سے اٹھ کر اس کے قریب آیا۔

“چھوڑو میں کر دیتا ہوں۔”وہ اس کے ہاتھ سے ہک لے کر بند کرنے لگا تھا۔ تارا ساکت سی آئینے میں اس کا عکس دیکھ رہی تھی۔ بالاج ہک بند کر چکا تھا جب اس کی انگلی ذرا سی تارا کی گردن سے مس ہوئی تھی۔ وہ کرنٹ کھا کر پلٹی تھی اور غصے سے بالاج کو گھورا تھا۔

“کیا ہوا؟”بالاج نے ناسمجھی سے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھا۔

“تم نے مجھے ٹچ کرنے کی کوشش کی ہے؟”غصے میں وہ یہ بات بول تو گئی لیکن پھر اس نے دل ہی دل میں خود کو کوسا تھا۔

“واٹ؟……. میں تو تمہاری مدد کر رہا تھا۔”بالاج دل ہی دل میں مسکراتا بظاہر سنجیدگی سے بولا تھا۔

“تم میری مدد نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔ اور دور ہٹو مجھ سے۔”تارا نے اسے دھکیل کر پیچھے کیا۔

” یار تمہیں مجھ سے مسلہ کیا ہے؟”وہ منہ بنا کر بولا۔

“جیسے تم تو جانتے ہی نہیں نا۔ “وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے بال پیچھے ہٹانے ۔ اس کے بالوں کی ایک لٹ کان میں لٹکے آویزے میں اٹک گئی۔ اس نے کھینچا تو کان میں درد کی وجہ سے وہ سی کر کے رہ گئی تھی۔ بالاج سر جھٹک کر آگے بڑھا اور نرمی سے بالوں کی لٹ کو کانٹے سے الگ کیا۔ تارا کو اس کی قربت سے عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ غصہ اسے خود پر آتا لیکن نکلتا بالاج پر ہی تھا۔

“تم جان بوجھ کر بار بار میرے قریب آ رہے ہو ۔”وہ بھڑکی۔

“تو اور ہمسائی کے قریب جاؤں۔”وہ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا تھا۔ تارا سٹپٹا گئی۔

“بکو مت۔”

“ایک تو اللّٰہ اتنی سخت بیوی کسی کو نہ دے۔ جو نہ تو شوہر کو اپنے قریب آنے دیتی ہے اور نہ ہی اسے کچھ بولنے دیتی ہے۔”وہ جل کر بولا تھا۔

“مجھے غصہ مت دلاؤ بالاج۔ میں تمہیں اپنا شوہر نہیں مانتی۔”

“کبھی نا کبھی تو مانو گی نا۔”اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر تارا کا دل تیزی سے دھڑکا۔

“اگر کبھی بھی نا مانا تو؟”وہ نجانے کیوں پوچھنے لگی۔

“میں ساری زندگی تمہارا انتظار کر سکتا ہوں۔”وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور پہلی دفعہ کھل کر ایسی گفتگو کر رہا تھا۔

“یہ بس کہنے کی ہی باتیں ہیں۔ میں جانتی ہوں تم کچھ ہی عرصے میں مجھ سے بے زار ہو جاؤ گے اور مجھے طلاق دے کر کسی اور سے شادی کر لو گے۔”تو یہ خدشہ تھا اسے۔ بالاج کو سمجھ آ گئی تھی۔

“افسوس ہوا جان کر کہ تم میرے بارے میں ایسا سوچتی ہو۔ شاید تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے۔ میں مر تو سکتا ہوں لیکن تمہیں کبھی چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور یہ طلاق کا خیال بھی دل سے نکال دو۔ کیونکہ ایک دفعہ جو چیز میری ہو جائے وہ بس میری ہوتی ہے۔ اتنا تو تم جانتی ہی ہو گی مجھے۔”وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے چلا گیا تھا۔ اس کے لہجے میں جنون کی شدت محسوس کر کے تارا شاکڈ رہ گئی تھی۔ اسے یاد تھا بچپن میں وہ اپنی چیزوں کیلیے بہت پوزیسو ہوا کرتا تھا۔ اور اس کیلیے بھی بہت پوزیسو تھا۔ جب بھی وہ تارا کے ساتھ کھیل رہا ہوتا اور کوئی انہیں ڈسٹرب کرتا تو اسے بہت غصہ آتا تھا۔ وہ چاہتا تھا تارا اس کے قریب رہے۔ کسی اور کے پاس نہ جائے۔ اس وقت تو وہ بچہ تھا لیکن اب وہ بڑا ہو چکا تھا۔ اب اس کی پوزیسونیس کی وجہ بھی بدل چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی تقریبات ختم ہو چکی تھیں۔ اب دعوتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ بہت سارے لوگوں نے انہیں انوائٹ کیا تھا لیکن بالاج صرف دو تین جگہ ہی گیا تھا۔

اس کے پانچویں سمیسٹر کے پیپرز کو چکے تھے۔ اب یونی سٹارٹ ہونے میں دو ہفتے تھے۔ وہ چھٹیوں میں تارا کے ساتھ ہنی مون پر جانا چاہتا تھا۔ تارا نے اس کی بات تو ماننی نہیں تھی سو اس نے بابا سے بات کی کہ وہ ہنی مون کی بات چھیڑیں۔ پھر انہوں نے ڈنر پر بالاج سے ہنی مون پر جانے کے بارے میں پوچھ لیا۔ ہانیہ اور میکال بھی ان کی طرف ڈنر پر آئے ہوئے تھے۔

“ہاں بھئی پھر کہاں جانے کا ارادہ ہے ہنی مون پر؟”انہوں نے بالاج کو مسکراتی نظروں سے دیکھا۔

“مری۔”وہ تو جیسے پہلے ہی سب کچھ پلان کر کے بیٹھا تھا۔ تارا نے چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔

“ہمم۔ لیکن اگر کسی دوسرے ملک جانا چاہو تو میں ٹکٹس ارینج کروا دیتا ہوں۔”

“نہیں بابا۔ مجھے تو پاکستان سے خوبصورت اور کوئی جگہ نہیں لگتی۔ “وہ بولا۔ تارا دل ہی دل میں تلملا رہی تھی۔ مطلب اس سے کچھ پوچھا بھی نہیں اور خود ہی فیصلے کر رہا تھا وہ ۔ یہ دن بھی دیکھنا تھا اس نے۔

“لیکن مجھے ہنی مون پر نہیں جانا۔ میں یونی جوائن کر رہی ہوں۔ “وہ لہجے کو اٹل بنا کر بولی۔

“اوکے میں زویا کو ساتھ لے جاؤں گا پھر۔”وہ آہستہ آواز میں بولا تھا۔

“میں تمہاری ہڈیاں بھی توڑ دوں گی۔”وہ بھڑکی تھی۔ سکندر صاحب مسکرائے تھے جبکہ طانیہ اور عرفہ بیگم نے تارا کو گھورا تھا۔

“تارا اپنا رویہ درست کرو۔ وہ شوہر ہے تمہارا۔ اس کی بات ماننا تمہارا فرض ہے۔”عرفہ بیگم نے بالاج کا ساتھ دیا۔ وہ جتاتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ تارا دانت پیس کر رک گئی تھی۔

“مان جاؤ تارا۔ بالاج کو بھی چھٹیاں ہیں۔ پھر کب وقت ملے گا انجوائے کرنے کا۔”سکندر صاحب نے کہا تو تارا کو ماننا ہی پڑا۔ پھر سکندر صاحب میکال سے ہنی مون پر جانے کے بارے میں پوچھنے لگے تھے۔ وہ دونوں ایس ٹی لوسیا جا رہے تھے ۔