Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 25
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 25
Tara Ka Chand by Dua Fatima
“کیا وہ میں لگا رکھی ہے۔ سیدھی طرح بتاؤ کیا بات ہے ورنہ مار کھاؤ گے مجھ سے۔”تارا نے بھڑکتے ہوئے کہا تھا۔ بالاج نے مشکل سے جو تھوڑی بہت ہمت اکٹھی کی تھی وہ بھی گم ہو گئی تھی۔
“وہ…. میں میتھ کے ٹیسٹ میں فیل ہو گیا۔”جلدی میں جو اس کے منہ میں آیا اس نے بول دیا۔ البتہ یہ الگ بات تھی کہ بولا سچ ہی تھا۔ تارا نے اس کے کندھے پر تھپڑ رسید کیا۔
“یہ بات بتانے کیلیے تم نے مجھے گھنٹہ الجھائے رکھا۔ میں سمجھی پتہ نہیں کیا بات ہے۔”وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تھی۔
“تمہیں کیا لگا میں کیا کہنے والا تھا؟”وہ نجانے کیوں پوچھنے لگا۔
“مجھے لگا کسی لڑکی کا چکر ہے۔ تم کسی کو پسند کرنے لگے ہو اور اب شادی کرنا چاہتے ہو۔ اسی لیے مجھے بتا کر گھر والوں کو منانے میں میری مدد چاہتے ہو۔”تارا نے اندازہ لگایا جو آدھا ٹھیک ہی تھا۔ لیکن اس کی آخری بات سن کر وہ افسوس سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ مطلب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ کسی بھی لڑکی کو پسند کر لے ۔
“تم اور تمہارے اندازے۔”وہ سر جھٹک گیا۔
“اور تم مجھے یہ بتاؤ۔ فیل کیوں ہوئے میتھ میں؟”تارا کے خطرناک تیور دیکھ کر بالاج ایک قدم پیچھے ہٹا تھا۔ اس کے کان خطرے میں تھے۔
“آ….. وہ سر نے پتہ نہیں میرے ساتھ کونسی دشمنی نکالی ہے۔ حالانکہ میں نے سارے سوال ٹھیک کیے تھے۔ “وہ معصومیت سے بولتا تارا کو بہت پیارا لگا تھا۔ تارا نے دل ہی دل میں ماشاءاللّٰہ کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار میں نے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھ سے نہیں ہو سکا۔ اب مجھے کوسنا مت۔ مجھے پتہ ہے میں ایک بزدل انسان ہوں۔”بالاج اداسی سے کہہ رہا تھا۔
“اچھا اداس مت ہو۔ میں کس لیے ہوں۔ محبت کے اظہار میں بھی میں تمہاری مدد کروں گا۔” میکال نے اس کا کندھا تھپکا۔
“وہ کیسے؟”اس نے اچنبھے سے میکال کو دیکھا۔
“چلو بتاتا ہوں۔”میکال اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹنے لگا۔
“کہاں؟”
“سٹار کے پاس۔”
“یار مروا نہ دینا۔”
“کچھ نہیں ہوتا۔ میرے پاس ایک پلان ہے۔ بس تم میری بات مانو چپ کر کے۔”وہ لاؤنج میں داخل ہوئے تو عرفہ بیگم کچن سے نکل رہی تھیں۔ انہوں نے سلام دعا کے بعد تارا کا پوچھا تو عرفہ بیگم نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے۔ وہ دونوں سیڑھیوں کے ذریعے اوپر آ گئے۔
“تم یہیں باہر کھڑے رہو۔ میں اندر جا کر بات کرتا ہوں۔”میکال اسے دروازے کے باہر ہی کھڑا کر کے اندر داخل ہو گیا۔
تارا صوفے پر بیٹھی کتابوں میں سر کھپا رہی تھی۔
“ہے سٹار…… تمہارا مون کدھر ہے؟ کچھ اتہ پتہ ہے تمہیں۔”میکال اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا تو تارا سمجھ گئی وہ بالاج کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“اس وقت تو وہ گھر پر ہی ہوتا ہے۔ وہاں جا کر پتہ کرو ۔ یہاں کیا کرنے آئے ہو۔”تارا کو بالاج کی آنے جانے کی ٹائمنگ کے بارے میں پتہ تھا۔ یہ جان کر بالاج خوش ہوا تھا۔
“میرا ہونے والا سسرال ہے وہ ۔ اب بار بار وہاں جاتا اچھا تھوڑی لگوں گا۔ “میکال نے خود کو شریف ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔
“تو پھر فون کر کے بالاج کو گھر سے باہر بلا لو۔”تارا نے کچھ طنزیہ لہجے میں مشورہ دیا۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے۔ ویسے اس کا نمبر تو دے دو۔”وہ فون نکالتے ہوئے بولا تھا۔
“نمبر مجھ سے لے لینا۔پہلے کام کی بات کرو ۔ ابھی تک تہمید ہی نہیں بندھ رہی۔”باہر کھڑے بالاج نے دانت کچکچائے۔ لیکن جب اس نے اگلے ہی پل تارا کو اپنا نمبر بولتے سنا تو وہ حیران ہوا تھا۔ تارا کو اس کا نمبر زبانی یاد تھا۔ اس کے لبوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ مچلی تھی۔
“اچھا ایک بات بتاؤ۔”میکال نے پرسوچ انداز میں پوچھا۔
“ہمم؟”
“تمہیں محبت پر یقین ہے؟”اس کے سوال پر وہ کچھ پل کیلیے خاموش ہوئی تھی۔
“نہیں۔”اس کا محبت سے واسطہ ہی پڑا تھا۔ وہ کیسے محبت پر یقین کرتی۔
“اور اگر تم سے کوئی کہے کہ اسے تم سے محبت ہے تو تم کیا کرو گی؟”میکال نے دوسرا سوال پوچھا۔ بالاج کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ یہی تو وہ جاننا چاہتا تھا۔
تارا نے میکال کے سوال پر پہلے بھنویں سمیٹیں پھر ہنس پڑی۔ میکال اور بالاج دونوں حیران ہوئے تھے۔
“چپل اتار لوں گی اور ساری محبت ایک منٹ میں نکال باہر کروں گی۔”اس کا جواب سن کر دونوں گہری سانس بھر کر رہ گئے تھے۔
“اگر تمہاری چپل سے بھی اس کی محبت نہ نکلی تو پھر؟”میکال نے ایک اور کوشش کی۔
“تم آخر پوچھنا کیا چاہتے ہو؟ سیدھی طرح پوچھو۔ کس کو مجھ سے سے محبت کا بخار چڑھا ہے۔”وہ الجھ کر پوچھنے لگی۔
“ہے کوئی ……”اس سے پہلے کے میکال کچھ بولتا بالاج جلدی سے اندر داخل ہوا۔ دونوں نے چونک کر دیکھا۔
“ہائے کیا ہو رہا ہے۔”وہ میکال کو آنکھوں سے کوئی اشارہ کرتا زبردستی مسکرا کر بولا تھا۔
“کچھ خاص نہیں۔”تارا بے زاری سے بولی تھی۔ میکال منہ بنا کر اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہا تھا کہ اس نے سارا پلان خراب کر دیا۔ ابھی اس نے ہار نہیں مانی تھی۔ وہ ابھی تارا کے مزید نادر خیالات جاننا چاہتا تھا لیکن بالاج ٹپک پڑا تھا۔ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ میکال نے سوچ کر سر جھٹکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر صاحب کے ایک بزنس پارٹنر نے ڈنر پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں اس انڈسٹری کے بڑے بڑے بزنس مینز مدعو تھے۔ سکندر صاحب بھی فیملی سمیت انوائٹڈ تھے۔ پہلے بھی انہیں ایسے انویٹیشنز ملتے رہتے تھے لیکن وہ اکیلے ہی اٹینڈ کرتے تھے یا کبھی کبھی بالاج کو اپنے ساتھ لے جاتے لیکن اس دفعہ انہوں نے تارا کو بھی ساتھ لے کر جانا تھا۔ تاکہ اس کیلیے کوئی اچھا پرپوزل مل سکے۔ اب خاندان میں تو کوئی اس سے شادی کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ سب اسے طلاق یافتہ کہہ کر باتیں سناتے تھے تو ایسے میں سکندر صاحب بھی اس کا رشتہ خاندان میں نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے بزنس فرینڈز ایلیئٹ کلاس سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے نزدیک طلاق یافتہ ہونا اتنا برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان میں کچھ برے لوگ بھی تھے اور کچھ اچھے بھی تھے۔ سکندر صاحب کو یقین تھا تارا سے ملنے کے بعد دو تین لوگ پرپوزل تو ضرور ہی دیں گے اور انہیں بیسٹ کو چوز کرنا تھا۔ اگر تارا کو پتہ چلتا کہ سکندر صاحب اس لیے اسے پارٹی میں لے کر جانا چاہتے ہیں تو اس کی انا کو ٹھیس پہنچتی۔ ظاہر ہے وہ جیتی جاگتی انسان تھی۔ کوئی پروڈکٹ تو نہیں تھی کہ اسے لوگوں کو دکھایا جاتا لیکن سکندر صاحب بھی اپنی جگہ ٹھیک تھے۔ اگر وہ یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس کے لیے کسی رشتے کے آنے کا انتظار کرتے رہتے تو صابر جیسے ہی رشتے ملنے تھے پھر۔ جب تک لڑکی اکیلی ہو لوگ اس کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ اور اگر شوہر ساتھ ہو جو اس کیلیے لڑنا جانتا ہو تو لوگ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ یہی سوچ کر انہوں نے تارا کی شادی جلد از جلد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی شادی کیلیے ان سے جو ہو سکتا تھا وہ کر رہے تھے۔ تارا کو اصل مقصد کا پتہ نہ چلے اس لیے انہوں نے ہانیہ اور طانیہ کو بھی پارٹی میں ساتھ لے جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ بالاج حیران تو ہوا کہ اس دفعہ ساری فیملی کیوں پارٹی پر جا رہی ہے لیکن بابا کے سامنے کچھ بول نہ سکا۔ البتہ تارا نے پارٹی پر نہ جانے کیلیے مصروفیت کا بہانہ بنایا لیکن سکندر صاحب نے اس کی ایک نہ سنی اور جب دو ٹوک لہجے میں اسے حکم دیا تو اسے ماننا ہی پڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹی ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تھی۔ وہ سب ایک ہی گاڑی میں آئے تھے او اب ہوٹل کے اینٹرینس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بالاج نے پہلی دفعہ تھری پیس سوٹ پہنا تھا۔ بلیک ڈریس پینٹ، وائٹ شرٹ پر بلیک کوٹ پہنے وہ اپنی عمر سے بڑا اور با رعب لگنے لگا تھا۔ اسے دیکھ کر تو آج تارا کے دل نے بھی ایک بیٹ مس کی تھی لیکن تارا جیسی محبت میں اناڑی لڑکی کیلیے اپنے جذبات سمجھنا ناممکن ہی تھا۔
وہ بھی کم خوبصورت نہیں لگ رہی تھی۔ کالی پیروں تک آتی سٹائلش سی ریشمی فراک پہنے ، سر پر ہم رنگ دوپٹہ حجاب کی صورت میں باندھے اور بلیک شال کو ایک کندھے پر پھیلائے وہ وہاں موجود سب عورتوں سے باوقار لگ رہی تھی۔چہرے پر ذرا سا میک اپ تھا جو اس کے تیکھے نقوش جو مزید حسین بنا رہا تھا۔ بالاج نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر سختی سے دل کو ڈپٹ کر روک لیا تھا ورنہ اسے خدشہ تھا کہ اس کا دل بہک نہ جائے۔
ہانیہ ریڈ فراک میں ملبوس تھی ۔ اس کے بال کھلے تھے اور دوپٹہ بھی لاپرواہی سے ہی لیا ہوا تھا۔ میکال کی گاڑی بھی ان سے اک منٹ بعد پارکنگ ایریا میں رکی تھی۔ اس نے دور سے ہی ہانیہ کو دیکھ لیا تھا اور گاڑی لاک کرتا تیزی سے اس کی طرف بھاگا تھا۔ باقی سب ہال میں اینٹر کو چکے تھے اور ہانیہ داخل ہونے ہی والی تھی کہ اسے اپنے ہاتھ پر کسی شناسا کا لمس محسوس ہوا تھا۔ اس نے تیزی سے پلٹ کر دیکھا تو توقع کے مطابق وہ میکال ہی تھی۔ میکال کچھ پل اس کے خوبصورت سے چہرے کو دیکھتا رہا تھا۔
“آپ یہاں بھی آ گئے؟”ہانیہ نے معصومیت سے پوچھا۔ وہ بھی مدعو تھا کیونکہ اس کے ڈیڈ نے بھی آنا تھا۔ پہلے تو وہ یہاں آنے کیلیے تیار نہیں ہوا تھا لیکن ہانیہ کے جانے کا سن کر فوراً تیار ہو گیا تھا۔ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ شادی سے پہلے اکیلے میں ہانیہ سے نہیں ملنا یہ نہ ہو کہیں بے اختیار ہی ہو جائے لیکن سب کے سامنے ملنے کا موقع تو وہ ضائع نہیں کر سکتا تھا۔
“اب ہم اکیلے میں تو مل نہیں سکتے ۔ سوچا یہیں مل لوں۔ “وہ کہتے ہوئے پیار سے ہانیہ کا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگا تھا۔ ہانیہ نے جھجھک کر ادھر ادھر دیکھا۔ کچھ لوگ گزر کر اندر جا رہے تھے اور اس خوبصورت سے کپل کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ ابھی شکر تھا ہانیہ کی ساری فیملی اندر جا چکی تھی۔
“اگر میرے بس میں ہو تو سات پردوں میں چھپا کر رکھوں تمہیں۔ جہاں میرے علاوہ کوئی بھی تمہیں نہ دیکھ سکے۔”وہ اسے کے سر پر حجاب باندھ چکا تھا۔ اس کے لہجے میں پیار کی اتنی شدت دیکھ کر ہانیہ دنگ رہ گئی تھی۔ اگر یہی بات ثاقب اس سے کہتا تو وہ اسے ایک بے جا پابندی سمجھتی لیکن میکال کے نرم رویے نے اسے اپنے تابع کر لیا تھا۔ وہ مزید میکال کے سامنے کھڑی نہیں رہ پائی تھی اور سرخ چہرہ لیے وہاں سے بھاگ گئی تھی۔ میکال دلفریب سا مسکرا دیا تھا۔
“ارے ہانی تم کہاں رہ گئی تھی…… اور یہ دوپٹہ کیوں اتنا لپیٹا ہوا ہے۔ کھلا کر کے لو۔ “طانیہ بیگم نے اسے دیکھ کر ڈپٹا۔
“نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے۔”وہ بدک کر بولی تھی۔ قریب آتے میکال نے اس کی یہ بات سنی تو اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
“اسلام علیکم آنٹی۔”وہ طانیہ بیگم کے قریب آ کر بولا تو ہانیہ جلدی سے رخ پھیر گئی۔
“ارے وعلیکم السلام۔ تم بھی آئے ہو؟”وہ خوشدلی سے بولی تھیں۔ ان سے مل کر میکال بالاج اور سکندر صاحب سے ملا تھا۔ سکندر صاحب اپنے بزنس فرینڈز سے بالاج کا تعارف کروانے کے بعد ہانیہ کے ساتھ ساتھ میکال کا تعارف بھی کروایا تھا۔
“یہ میری بیٹی ہے ہانیہ اور یہ میرا ہونے والا داماد ہے ۔ میکال۔ حسن صاحب کا بیٹا ہے۔”
“اوہ اچھا اچھا۔ بہت پیاری جوڑی ہے ماشاءاللّٰہ ۔”کئی لوگوں نے جواب میں یہ کہا تھا۔ ان کا تعارف کروانے کے بعد انہوں نے ارد گرد تارا کو ڈھونڈا جو ایک کونے میں الگ تھلگ سی کھڑی تھی۔ اور غیر مرئی نقطے کو دیکھتی جوس پی رہی تھی۔ اپنی سوچوں میں گم وہ ایک شخص کی دھڑکنوں سے کھیل رہی تھی۔ اس کی بے نیازی بھی کمال کی تھی۔
سکندر صاحب نے تارا کو اپنے پاس بلا کر کچھ لوگوں سے تعارف کروایا تھا۔ تبھی کسی کی نظر اس پر پڑی اور پھر ہٹ نہیں سکی تھی۔ وہ مبہوت سا قدم قدم چلتا اس کے قریب آ رہا تھا لیکن تارا وہاں سے ہٹ کر پھر سے ایک سنسان گوشے میں جا چکی تھی۔ وہ شخص اپنی بے اختیاری پر سر جھٹک کر مسکراتا پھر اس کی طرف بڑھا تھا۔
“ہائے …… میرا نام باذل ہے۔ اور آپ کا؟”وہ تارا کے خوبصورت چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے نرم لہجے میں پوچھنے لگا تھا۔ تارا نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ وہ تئیس چوبیس برس کا شخص بہت شاندار پرسنیلٹی کا مالک تھا۔ لیکن تارا کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
“ستارا عمران۔”وہ مختصراً بولی۔
“نائس نیم۔ آپ سکندر صاحب کے ساتھ آئی ہیں؟”
“جی۔”تارا کو تعجب ہو رہا تھا وہ یہ سوال کیوں پوچھ رہا تھا۔
“ہمم۔ گڈ۔ بہت گارجیئس پرسنیلٹی ہے آپ کی۔ آئی ایم ویری ایمپریسڈ۔”باذل متاثر لہجے میں بولا تھا۔ تارا کو اپنی تعریف اچھی نہیں لگی تھی لیکن باذل نے کچھ برا بھی نہیں کہا تھا۔ اس نے تارا کی خوبصورتی کی تعریف نہیں کی تھی اس کی شخصیت کو پروقار کہا تھا۔ تارا نے بھی اعتراض کرنا مناسب نہ سمجھا۔
“تھینکس۔”
“اب میری بھی تعریف کر دیں آپ؟”وہ حیران تھا کہ تارا اس سے متاثر نہیں ہوئی۔
“آپ نے اس لیے میری تعریف کی ہے تاکہ بدلے میں میں بھی آپ کی تعریف کروں؟”تارا نے تعجب سے پوچھا۔ باذل زور سے ہنسا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر بالاج غصے سے ان کی طرف بڑھا تھا۔
“آپ تو سٹریٹ فارورڈ بھی بہت ہیں۔ ویسے آپ کی تعریف میں نے کسی بدلے کیلیے نہیں کی۔ آپ واقعی اس تعریف کے قابل ہیں۔ “تعریف کے قابل تو وہ بھی تھا لیکن تارا کو کسی کی بھی تعریف کرنی نہیں آتی تھی۔ وہ باذل کی بات پر بس سر ہلا کر رہ گئی تھی۔ تبھی بالاج وہاں آیا تھا۔
“تارا….. میرے ساتھ آنا پلیز۔”وہ باذل کو اگنور کر کے تارا کو بازو سے پکڑتے ہوئے لے جانے لگا۔ باذل کو سخت برا لگا تھا۔
“ایکسکیوز می۔”تارا نے سر کو ذرا سا خم دے کر معذرت کی اور بالاج کے ساتھ ہو لی۔ باذل کی جلتی نگاہیں تارا اور بالاج پر جم گئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تارا سے ایک ویٹر ٹکرائی تو اس کپڑوں پر جوس گر گیا ۔ ویٹر نے سوری کر کے اسے واشروم کا راستہ دکھایا۔ وہ داغ صاف کر کے واشروم سے نکلنے ہی لگی تھی کہ اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ شاید لائٹ چلی گئی تھی۔
اور اگلے ہی پل کسی نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دے کر دیوار سے لگا دیا تھا۔ اس نے گھبرا کر چیخنا چاہا لیکن مقابل نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے لبوں پر جما دیا تھا۔ تارا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی لیکن پھر بھی سامنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکی تھی۔ وہ ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ تو ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔
“مجھے خود سے دور کرنے کی یہ کوشش بے کار ہے۔ تم خوامخواہ اپنی انرجی ضائع کر رہی ہو۔”اس شخص کا سرسراتا ہو با رعب لہجہ اور گھمبیر آواز تارا کو ساکت کر گیا تھا۔ یہ کون اس کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ اس کی آواز شاید کہیں پہلے وہ سن چکی تھی لیکن سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کس کی آواز تھی۔ اسے خوف کے ساتھ ساتھ اس پر غصہ بھی آ رہا تھا۔ کسی نے تارا کو چھونے کی جسارت جو کی تھی۔
“ہاتھ ہٹا رہا ہوں۔ چیخنا مت۔ میں نہیں چاہتا تمہاری فیملی تم سے بدگمان ہو۔”وہ سنجیدگی سے کہتا ہاتھ اس کے لبوں سے ہٹا گیا تھا۔
“ہو دا ہیل آر یو؟”وہ دبی دبی آواز میں غرائی تھی۔
“ہبی ….. یور فیوچر ہزبینڈ۔ لیکن تم مجھے ابھی سے ہبی پکار سکتی ہو۔ میں برا نہیں مناؤں گا۔”اس کی بات پر تارا کا میٹر گھوما۔
“یو چیپسٹر…….. تمہاری ہمت کیسے ہوئی……”وہ بھڑک رہی تھی جب مقابل نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
“شش….. بدتمیزی نہیں۔ اور ہمت کی تو بات ہی مت کرو ۔ تم جانتی نہیں میں کیا کچھ کر ہوں۔”وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔ تارا کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔ وہ گھبرا کر ہاتھوں کی مدد سے اسے خود سے دور کرنے لگی تھی۔ مقابل نے اس کی دونوں کلائیاں اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے ہوئے دیوار سے لگا دیں اور اس کے چہرے پر جھکا تھا۔ اس کی گرم سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر کے تارا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ دل رک سا گیا تھا۔ وہ کچھ پل کیلیے ساکت ہوئی تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص اپنے لبوں سے اس کے گال کو چھوتا وہ چہرہ موڑ گئی تھی۔
“چھ….. چھوڑو مجھے پلیز۔”وہ اب وہی بے بس تارا بن چکی تھی جو نیویارک میں اسفر کے سامنے ہوا کرتی تھی۔ اسفر کی قربت میں تو نفرت تھی لیکن اس شخص کی قربت میں عجیب دیوانگی اور شدت تھی۔ وہ اندر تک کانپ کر رہی گئی تھی۔
“ابھی تو میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں لیکن جلد ہی تمہیں میری دسترس میں آنا ہو گا۔ پھر تم مجھے روک نہیں سکو گی۔ “وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اپنا چہرہ پیچھے ہٹا گیا تھا۔ تارا اس کے بے باک الفاظ پر شرک اور غصے سے سرخ ہو گئی تھی۔
“تم جیسے چھچھورے انسان کی دسترس میں آتی ہے میری جوتی۔”وہ تپ کر بولتی مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔
“دیکھیں گے۔ لیکن اتنا یاد رکھنا تمہاری شادی مجھ سے ہی ہو گی۔ میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی مت۔ اور ہاں….. آئیندہ تم مجھے کسی لڑکے کے قریب نظر مت آؤ ورنہ بہت بری سزا دوں گا میں تمہیں۔”وہ سخت لہجے میں وارن کرتا وہاں سے جا چکا تھا اور تارا کئی لمحے سن سی رہ گئی تھی۔
