756.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 13

Tara Ka Chand by Dua Fatima

“اسلام علیکم ڈیڈ۔”مائک گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا فون کان سے لگائے سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔

“وعلیکم السلام بچے۔ پاکستان آئے ہو تو اپنے باپ سے بھی مل لو۔”وہ دھیمے لہجے میں بولے تھے۔

“اوہ تو آپ کو خبر پہنچ بھی گئی۔ خیر اگر ٹائم ملا تو چکر لگا لوں گا۔ رکھتا ہوں۔”اس کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔

“میکال…..”انہوں نے پکارا تو وہ رک گیا۔

“میرا جرم اتنا بڑا تو نہیں ہے۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے دوسری شادی کی ہے۔”وہ شاید اس وجہ سے ان سے ناراض تھا۔

“صحیح کہا لیکن کوئی بھی آپ کی طرح دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنی معصوم بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔ اسی صدمے کی وجہ سے میری ماں مر گئی تھی۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔”وہ غصے سے کہہ کر فون کاٹ گیا۔ وہ کوئی انگریز نہیں تھا بلکہ پاکستانی مسلمان تھا۔ اس کا نام میکال حسن تھا۔ حسن اس کے باپ کا نام تھا ۔وہ میکال سے بہت مختلف تھے۔ میکال کی طرح ان میں قوت ارادی اور اپنے فیصلے پر ڈٹ جانے کی طاقت نہیں تھی۔ ان کی پہلی شادی ان کی ماں نے خاندان کی ہی ایک لڑکی وریشہ سے کروائی تھی۔ وہ بہت اچھی تھی ۔ جلد ہی حسن اس کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ وہ ان کی ماں کی نظروں میں کھٹکنے لگی۔ وہ جان بوجھ کر اس پر سختی کرنے لگیں۔ وریشہ اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی۔ اتنی سختی کیسے برداشت کرتی۔ اس نے بھی آگے سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی اور یہ لڑائی بڑھتی گئی۔ حسن کی ماں نے اس سے بدلہ لینے کیلیے حسن کو دوسری شادی کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا تو ماں نے انہیں جذباتی بلیک میل کروا کر دوسری شادی کروا ہی دی۔ وریشہ کیلیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا لیکن اس نے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ پھر حسن کی دوسری بیوی اور ماں نے مل کر اس کے خلاف سازش کی اور اسے طلاق دلوا دی۔ اسی دکھ سے وہ مر گئی۔ میکال جب چھوٹا تھا تھا تو یہ بات نہیں جانتا تھا لیکن جب وہ اٹھارہ سال کا ہوا تو اسے اپنی ماں کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو گیا۔ تب سے وہ اپنے باپ سے ناراض ہو کر امریکہ چلاگیا تھا۔ اب وہ تارا کے ساتھ واپس آیا تھا۔ یہاں اس کا ایک گھر تو تھا جہاں اس کے باپ کے ملازم رہتے تھے جہنوں نے اس کی آمد کی خبر اس کے باپ کو دی تھی۔ وہ اس گھر میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس نے تارا کے گھر کے سامنے ہی ایک بنگلہ خرید لیا تھا۔ اب وہ شفٹنگ کر رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ماں کے ساتھ اپنے دکھ بانٹنے کے بعد خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھے۔ دل کا غبار کچھ حد تم کم ہو چکا تھا لیکن وہ ابھی پوری طرح پرسکون نہیں ہوئی تھی۔ شاید چاند سے ملنے کو بے چین تھی۔

عرفہ بیگم سو چکی تھیں۔ وہ کمرے سے باہر آئی تو سامنے بالاج کو دیکھ کر بے اختیار ساکت ہوئی تھی۔ کیا وہ چاند ہی تھا۔ وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔ ان دو سالوں میں وہ کتنا بدل گیا تھا۔

سفید کرتا اور شلوار پہنے، بالوں کو رف سے انداز میں پیشانی پر بکھیرے اور سپاٹ چہرے کے ساتھ وجاہت کا شاہکار معلوم ہو رہا تھا۔ وہ بھی تارا کو یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر رک چکا تھا۔ کچھ دیر کیلیے تو وقت تھم سا گیا تھا ۔ دل کو اتنی مشکل سے اس نے سنبھالا تھا وہ پھر سے اسے دیکھ کر دھڑک اٹھا تھا۔

“چاند!”تارا کے لب آہستہ سے ہلے تھے۔

“چاند نہیں ….. بالاج۔”وہ باور کرواتے لہجے میں بولا تھا۔ وہ واقعی بدل گیا تھا۔ تارا کو کچھ لمحے یقین نہیں آیا تھا۔ اس کا دل دکھا تھا چاند کے اجنبی رویے پر۔ اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔

“کیسے ہو بالاج؟”ان میں صدیوں کا فاصلہ آ چکا تھا۔

“ٹھیک ہوں۔”

“میرا نہیں پوچھو گے؟”وہ آس بھرے لہجے میں پوچھنے لگی۔

“ٹھیک ہی ہو گی تم۔ تبھی تو پیچھے کی خبر نہیں لی تم نے کبھی۔”وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ اس کے الزام پر وہ خود اذیتی سے مسکرائی

“تمہیں اتنی دفعہ کال تو کی تھی۔ وہ تم ہی تھے جو مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔”

“میں اپنی بات نہیں کر رہا۔ تائی جان کی بات کر رہا ہوں۔ وہاں ایسا کیا تھا جس نے تمہیں تمہاری ماں بھلا دی۔”

“تم مجھ سے بہت بد گمان ہو نا؟”تارا نے جواب دینے کی بجائے سوال کیا۔

“پتہ نہیں۔”وہ کہہ کر چلا گیا۔

“میں پہلے ہی بہت دکھ برداشت کر چکی ہوں۔ اب مجھ میں مزید سہنے کی ہمت نہیں رہی۔ تم تو مجھے سمجھو چاند۔ تم نے وعدہ کیا تھا ہمیشہ میرا ساتھ دو گے۔”وہ اسے نم آنکھوں سے جاتا دیکھ کر سوچنے لگی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسی ہو مائی شائننگ سٹار۔”میکال ٹاول سے اپنے گیلے سر کر رگڑتا فون کان سے لگائے تارا سے بات کر رہا تھا۔ اس نے ابھی ابھی شاور لیا تھا ۔

“ٹھیک ہوں۔”وہ افسردگی سے بولی۔

“کیا ہوا۔ تم اداس لگ رہی ہو۔”وہ اس کی اداسی بھانپ گیا۔

“نہیں تو۔ تم سناؤ گھر گئے تھے؟”وہ جلدی سے سنبھلی۔

“نہیں۔ بس ڈیڈ سے فون پر بات کر لی۔”وہ لاپرواہی سے بولا ۔

“تمہیں ان سے ملنا چاہیے تھا۔”

“چھوڑو اس بات کو۔ گیس کرو میں کہاں ہوں؟”وہ چند قدم آگے بڑھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹاتے ہوئے بولا تھا۔ اس کے سامنے ہی تارا کا گھر نظر آ رہا تھا۔

“ڈونٹ ٹیل می کہ تم میرے گھر کے باہر کھڑے ہو۔”تارا بدک کر بولی۔ وہ نیویارک میں کبھی کبھی ایسے ہی تارا کو تنگ کرتا تھا۔

“گھر کے باہر تو نہیں البتہ گھر کے سامنے ایک شاندار سے بنگلے کے ایک بیڈ روم میں کھڑا ہوں۔”

“کیا مطلب؟ “تارا نے ناسمجھی سے پوچھا۔

“ذرا ٹیرس پر آؤ تو۔”وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔ تارا تعجب سے منہ بناتی کمرے سے نکلی تھی۔ دوسری جانب میکال کی نظر تارا کے گھر کے ساتھ بنے گھر کی ٹیرس پر پٹی تھی جہاں ایک لڑکی اوپر والی چھت کو جاتی سیڑھیوں پر بیٹھی رو رہی تھی۔ اس کا خوبصورت سا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ ناک اور گالیں سرخ تھیں۔ کوئی اتنا کیوٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ میکال کے دل نے بے اختیار پوچھا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے رونے سے میکال جو انجانا سا درد محسوس ہوا تھا۔ وہ اس سے رونے کی وجہ پوچھنا چاہتا تھا۔ اس کے آنسو پونچھنا چاہتا تھا۔ اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی خواہش پر خود ہی حیران ہو رہا تھا۔ اس نے بہت سی خوبصورت لڑکیاں دیکھی تھیں لیکن کبھی اس کے دل نے ایسی خواہشیں نہیں کی تھیں۔

“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”تارا فون پر تقریباً چیخی تھی۔ وہ شاید اسے ٹیرس سے دیکھ چکی تھی۔ میکال جو ہانیہ کو مبہوت سا دیکھ رہا تھا ہڑبڑا کر ہوش میں آیا تھا۔

“اپنے گھر میں لوگ کیا کرتے ہیں؟”وہ بمشکل ہانیہ سے نظریں ہٹا پایا تھا۔

“تم نے کس خوشی میں یہاں گھر لیا؟”وہ دانت پیستے ہوئے بولی تھی۔ اس کی آواز آہستہ ہی تھی لیکن ساتھ والے ٹیرس پر بیٹھی ہانیہ تک پہنچ گئی تھی۔ آپی تارا کی آواز سن کر پہلے تو اس نے اپنا وہم سمجھا لیکن جب اس کی نظر تارا پر پڑی تو رونا بھول کر دوڑتی ہوئی تارا کی طرف آئی۔

“آپی……”یہ اس لڑکی کی آواز تھی جس نے ابھی ابھی میکال کے دل پر سحر پھونکا تھا۔ وہ تارا کے قریب آ کر بولی تھی اس لیے میکال کو فون میں سے اس کی آواز پہنچ گئی تھی۔ اس کی آواز کتنی میٹھی تھی۔ اب اس کی آواز کے سحر نے میکال کو جکڑ لیا تھا۔

“تمہیں تو میں بعد میں پوچھتی ہوں۔”تارا نے میکال کو دھمکی دے کر فون بند کر دیا اور ہانیہ کی طرف بڑھ گئی۔ میکال نے دیکھا اب وہ لڑکی مسکرا رہی تھی ۔ ان ڈائریکٹلی وہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ کو پتہ بھی ہے میں کتنا مس کیا آپ کو۔ آپ تو میری کال بھی ریسو نہیں کرتی تھیں۔ کہیں مجھے بھول تو نہیں گئی تھیں۔”ہانیہ کے شکوے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

“ارے نہیں گڑیا۔ بس حالات کی وجہ سے مجبور تھی۔”وہ بات ٹال گئی۔

“نیو یارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں کیسی مجبوری؟”ہانیہ کو حیرت ہوئی۔

“ہاں وہاں ہر سہولت موجود ہے لیکن سکون نہیں ہے۔”تارا اذیت سے بولی تھی۔

“تو اسفر بھائی کس لیے تھے۔ انہوں نے آپ کو خوش نہیں رکھا کیا؟”اس کے سوال پر تارا خاموش ہوئی تھی۔ ہانیہ نے غور سے اسے دیکھا

“کیا ہوا؟ آپ ٹھیک ہیں؟”وہ پریشانی سے پوچھنے لگی۔

“ہ….ہاں میں ٹھیک ہوں۔ تم اپنی سناؤ۔”تارا نے باتوں کا رخ اس کی طرف موڑ دیا۔ اب کی بار ہانیہ خاموش ہوئی تھی۔ اس کی زندگی میں بھی تارا سے کم دکھ نہیں آئے تھے اور وہ اس کی طرح اپنے دکھ اسے نہیں بتا سکتی تھی۔

“میں ٹھیک ٹھاک۔”وہ بشاشت سے کہتی دوسری باتیں چھڑ کر بیٹھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟”تارا نے دروازہ کھولا تو سامنے میکال کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر تیوری آئی۔

“کھڑوس لڑکی۔ سامنے سے ہٹو۔ اندر تو آنے دو۔ قسم سے تم بہت ہی بے وفا ہو۔” میکال اسے پیچھے دھکیل کر اندر گھس آیا۔

“یہ کیا طریقہ ہے مائک؟” تارا نے غصے سے پوچھا۔

“یہ میرا طریقہ ہے۔ جس سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ میرے خیال سے تمہیں یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں۔”وہ مزے سے بولا تھا۔ اس کی نظریں ادھر ادھر بھٹکتے ہوئے کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔

“ہاں جانتی ہوں میں تمہارے کرتوت۔ لیکن تمہاری اطلاع کیلیے عرض ہے کہ یہ پاکستان ہے۔ یہاں چھوٹی چھوٹی بات کو بنیاد بنا کر لڑکی کی عزت دو کوڑی کی کر دی جاتی ہے۔ “وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو اس کے اور مائک کی دوستی کے بارے میں پتہ چلے۔

“ارے یار ایک تو تم سیریس بہت جلدی ہو جاتی ہو۔ مجھے پتہ ہے یہاں کیا ہوتا ہے۔ میری ماں کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ تم فکر مت کرو۔ تمہارے ساتھ اب میں کچھ برا نہیں ہونے دوں گا۔ جتنا برا ہونا تھا وہ ہو چکا۔ ..…. کاش تم ایک دفعہ پہلے مجھے سب بتا دیتی۔ “وہ بولتے ہوئے آخر پر دانت کچکچانے لگا تھا۔ تارا اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔

تبھی چاند لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ تارا کے ساتھ ایک خوبرو نوجوان کو دیکھ کر نجانے کیوں وہ اپنے غصے کو ضبط نہیں کر سکا تھا۔ حالانکہ وہ تو اب اس کی تھی ہی نہیں۔

“کون ہو تم؟”چاند سخت لہجے میں پوچھتا میکال کے قریب آیا۔ تارا نے حیرت سے اس کے چہرے پر چھائے غصے کے تاثرات دیکھے تھے جبکہ میکال نے دلچسپی سے اسے دیکھا تھا۔ اس کی شکل اس لڑکی سے بہت زیادہ ملتی تھی جو اس کے دل کوئی بھا گئی تھی۔ شاید یہ اس کا بھائی تھا۔ وہ جان گیا تھا۔

“سو کیوٹ۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بالاج کی بھنویں پہلے تعجب سے سکڑیں۔ جب اسے یقین آیا کہ اس لڑکے نے اسے کیوٹ کہا تھا تو وہ بے اختیار کسی چھوٹے بچے کی طرح جھینپ گیا۔ اتنے عرصے بعد وہی پرانے والا چاند دیکھ کر تارا مسکرا اٹھی تھی۔ بالاج نے اس کی مسکراہٹ دیکھی تو تیزی سے سنبھلا۔

“میں نے پوچھا تم کون ہو؟”وہ چہرے پر پھر سے سخت تاثرات سجا چکا تھا۔

“میں…..اس کا ….”میکال ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ تارا نے اس کی بات کاٹی۔

“یہ میرا یونی فیلو ہے۔ میکال۔”

“تو یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟”بالاج نے اگلا سوال کیا۔ تارا بھی حیران تھی۔ وہ اس سے لا تعلق ہو چکا تھا تو اب اس سے اتنے سوال کیوں کر رہا تھا۔

“میں آنٹی عرفہ سے ملنے آیا تھا۔ ان کی طبیعت کے بارے میں سنا تو سوچا عیادت کر لوں۔”میکال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی شرافت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

“اوکے تو پھر کرو اور جاؤ۔”بالاج سرد مہری سے بولتا چلا گیا۔ اسے میکال تارا کے پاس برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ ایک تو وہ اتنا خوبصورت تھا اور اوپر سے تارا کے رویے سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ میکال سے کافی فرینک ہے۔ اسی لیے وہ اسے کھٹک رہا تھا۔

“ہائے کتنا پیارا ہے نا یہ۔ اگر یہ لڑکی ہوتا تو میں اس سے شادی کر لیتا۔” میکال نے جان بوجھ کر تارا کے سامنے ایسا کہا تھا۔

“کبھی تو اس ٹھرکی پن سے باز آ جایا کرو۔”تارا نے ناک چڑھا کر کہا۔ میکال کا قہقہہ گونجا تھا۔

“ارے یار ایک تو تم میرے مذاق کو بھی سیریس لے لیتی ہو۔ ویسے اس کی کوئی بہن وغیرہ ہے کیا؟”وہ یکدم ٹون بدل کر رازداری سے پوچھنے لگا۔

“خبردار جو میرے گھر والوں کو بری نظر سے دیکھا بھی تو۔ آنکھیں نکال دوں گی میں تمہاری۔”تارا کی غیرت جاگ اٹھی تھی۔ میکال اس کے غصے سے تپے چہرے کو دیکھ کر ہنستا ہی چلا گیا تھا۔

گلاس ڈور کے پار کھڑی ہانیہ نے وہ منظر دیکھا تو اس کی دھڑکنیں کچھ پل کیلیے تھمی تھیں۔ وہ لڑکا کسی ہیرو کی طرح تھا۔ جیسا اس نے ہمیشہ اپنے شوہر کا امیج زہن میں بنایا ہوا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے کتنا پیارا لگ رہا تھا۔ ہانیہ کچھ پل مبہوت سی اسے دیکھتی رہی تھی پھر جب اسے یاد آیا کہ وہ کسی اور کی بیوی کے تو تیزی سے نظریں پھیر گئی تھی۔ وہ تارا سے ملنے آئی تھی لیکن اب ملے بغیر ہی واپس جا رہی تھی۔ اس لڑکے کی تصویر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگی تھی۔

“سنبھالو خود کو ہانی۔ وہ تمہارے نصیب میں نہیں ہے۔ جو ہے اسے قبول کرو۔”اس نے خود کو ڈپٹتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج زارا کی کال آئی تو طانیہ نے ہانیہ کی رخصتی کے حوالے سے بات چھیڑ دی۔ زارا بھی ایسا ہی چاہتی تھی لیکن وہ ساتھ سمعیہ کا کام بھی کرنا چاہتی تھیں۔

“ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ اب بچوں کی رخصتی ہر دینی چاہیے لیکن اگر رخصتی کے ساتھ ساتھ سمعیہ اور بالاج کا نکاح بھی ہو جاتا تو بہتر ہوتا۔”زارا کی بات سن کر طانیہ نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ وہ جان گئی تھی جب تک وہ بالاج کا نکاح سمعیہ سے نہ کرتی اس وقت تک ہانیہ رخصتی نہیں ہونی تھی۔

“ہاں ٹھیک ہے۔ میں چاند سے بات کر کے پھر بتاتی ہوں آپ کو۔ “طانیہ کو یہ پریشانی تھی کہ کہیں چاند انکار نہ کر دے۔ جیسے ہانیہ کی دفعہ اس نے ہنگامہ کھڑا کیا تھا اب بھی کہیں ایسا ہی نہ کرے۔ لیکن وہ جتنا بھی انکار کرتا طانیہ بیگم نے کرنی تو اپنی ہی تھی۔

“ارے بالاج سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ بچہ ہے۔ اسے کیا پتہ اس کیلیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔”زارا جو بھی یہی پریشانی تھی کیونکہ بالاج نے کبھی سمعیہ کی طرف دھیان نہیں دیا تھا۔ حالانکہ سمعیہ نے اس کی توجہ پانے کیلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا۔

“پھر بھی اسے آگاہ کرنا تو ضروری ہے نا۔ تم فکر مت کرو۔ وہ میری ہر بات مانتا ہے۔ انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور پھر سمعیہ بھی اتنی اچھی لڑکی ہے۔ کوئی پاگل ہی ہو گا جو اس سے شادی کرنے سے انکار کرے گا۔”وہ چاپلوسی سے بولیں تھیں۔ اس بات سے بے خبر کے چاند وہی پاگل ہے جو سمعیہ سے شادی سے انکار کر سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میکال مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہا تھا جب سکندر صاحب کی نظر اس پر پڑی۔

“ارے تم میکال ہو نا۔ حسن کے بیٹے؟”وہ خوشگوار حیرت سے پوچھنے لگے۔

“جی۔”میکال بھی انہیں پہچان گیا تھا۔ وہ ڈیڈ کے ایک بزنس فرینڈ تھے۔ وہ ایک دو دفعہ پہلے ان سے مل چکا تھا۔

“ماشاءاللہ کتنے بڑے ہو گئے ہو۔”وہ مسکرا کر بولے۔ میکال بھی مسکرا دیا۔

“آپ سنائیں کیسے ہیں؟”

“میں ٹھیک ٹھاک ۔ الحمدللہ۔ تم آؤ نا میرے ساتھ گھر۔ ڈنر اکٹھے کرتے ہیں۔”انہوں نے اسے آفر کی۔

“ارے اس کی ضرورت نہیں۔ ایکچولی میں نے ابھی کھانا کھایا ہے۔”اس نے ٹالنا چاہا۔

“اچھا چلو چائے ہی پی لو۔ اتنے عرصے بعد ملے۔ ایسے ہی تو نہیں جانے دے سکتا نا تمہیں میں۔ “وہ بہت مہمان نواز اور نرم مزاج کے شخص تھے۔ میکال کو ان کا انداز اچھا لگا تھا۔ وہ انہیں انکار نہیں کر پایا تھا۔

“اوکے۔”

“یہ پاس ہی میرا گھر ہے۔”وہ گلی میں ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے تو میکال ٹھٹکا۔ وہ اس گھر کی طرف ہی اشارہ کر رہے تھے جس میں اس نے ہانیہ کو دیکھا تھا۔ وہ اس کے قریب جانے والا تھا۔ اس کا دل خوشی سے دھڑک اٹھا تھا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے ۔

“یہ میرے دوست کا بیٹا ہے میکال۔ ابھی ابھی سٹڈی کمپلیٹ کر کے آیا ہے امریکہ سے۔ “سکندر صاحب طانیہ سے میکال کا تعارف کروا رہے تھے۔ طانیہ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ اس سے ملی تھی۔

“اور سناؤ بیٹا! آگے کا کیا ارادہ ہے؟”طانیہ بیگم میکال اور سکندر کے لیے چائے بنانے گئیں تو سکندر صاحب اس سے مخاطب ہوئے۔

“اپنا بزنس سیٹ اپ کرنے کا سوچ رہا ہوں۔”اس کی نظریں ہانیہ کو تلاش کر رہی تھیں لیکن وہ نجانے کیوں اس کے سامنے نہیں آتی تھی۔

“ارے تو حسن کا بزنس کون سنبھالے گا۔ میرے خیال تمہیں اس کا آفس جوائن کرنا چاہیے۔”وہ تعجب سے بولے۔ میکال کچھ دیر کیلیے خاموش ہوا تھا۔

“نہیں میں اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا ہوں۔”

“صحیح۔ “انہوں نے بھی زیادہ نہیں کریدا تھا۔ پھر وہ بہت دیر بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے۔ طانیہ بھی کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی تھی۔ بالاج بھی آج یہیں شفٹ ہو چکا تھا۔ میکال کو اپنے گھر دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔ میزبان ہونے ک ناطے اسے بھی کچھ دیر میکال کو کمپنی دینی پڑی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں اسے پتہ چلا کہ میکال بابا کے دوست کا بیٹا ہے اور اسی محلے میں رہتا ہے تو اسے بے چینی ہونے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور میکال ہانیہ کے انتظار میں سوکھ کر کانٹا ہوتا رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ تارا کے پاس تھی۔ اس کا اب اپنے گھر میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔ وہ تو سونا بھی تارا کے پاس ہی چاہت تھی لیکن دو سال کی دوری کی وجہ سے اس کے اور تارا کے تعلق میں ایک جھجھک سی آ گئی تھی۔ وہ پہلے کی طرح برملا اپنی خواہش کا اظہار نہیں کر پائی تھی۔

رات کے آٹھ بج چکے تھے جب وہ اپنے گھر آئی تھی۔ تارا کے گھر اور ان کے گھر کے درمیان والے ڈور سے گزر کر وہ ابھی کچھ قدم ہی چلی تھی کہ کسی سے ٹکرا گئی۔

وہ میکال تھا جو بہت دیر ہانیہ کا انتظار کرنے کے بعد مایوسی سے واپس جا رہا تھا۔ یہ جانے بغیر کہ قسمت اس پر مہربان ہون والی تھی۔ آدھے لان کے بعد جہاں اندھیرا تھا وہیں اس کی ٹکر ہانیہ سے ہوئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ جیسے وہ نرم سے بادلوں سے ٹکرایا ہو جبکہ ہانیہ کو ایسا لگا تھا جیسے کسی سخت چٹان سے ٹکرا گئی ہو۔ میکال نے پھرتی سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے اسے نیچے گرنے سے بچایا تھا اور چاند کے ہلکی سی روشنی میں مبہوت سا اسے دیکھنے لگا تھا۔ اس لڑکی کی وجہ سے میکال کی ہارٹ بیٹ تیز ہوئی تھی۔ اور ہانیہ جو ڈر کے مارے آنکھیں بند کر گئی تھی خود کو کسی کی گرفت میں پا کر جھٹ سے آنکھیں کھول گئی تھی۔ یہ تو وہی لڑکا تھا جسے دیکھ کر ہانیہ کی دھڑکنیں تھمی تھیں۔ اس وقت وہ دور تھا۔ اب وہ اس کے بہت پاس تھا۔ اسے یوں اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں۔وہ یک ٹک سی اسے دیکھتی معصوم سی ہرنی لگ رہی تھی۔

“قاتل نگاہوں والی۔”وہ دل ہی دل میں بڑبڑاتا نظریں پھیر گیا۔ ہانیہ بھی ہوش میں آ کر سیدھے ہوتے ہوئے اس سے دور ہٹی تھی لیکن جب اسے بالوں پر کھنچاؤ محسوس ہوا تو درد کے باعث اس کے لبوں سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ وہ بے اختیار رک گئی تھی۔ اس کے بال جو جوڑے میں بندھے تھے میکال کی گھڑی میں پھنس چکے تھے۔

“ہے گرل ۔ رونا نہیں۔ میں نکالتا ہوں۔”میکال تو اس کی ذرا سی چیخ پر پریشان ہو گیا تھا۔ ہانیہ نے اس کا اپنے لیے پریشان ہونا شدت سے محسوس کیا تھا۔ میکال لب بھینچ کر اپنی گھڑی اس کے بالوں سے نکالنے لگا تھا لیکن وہ تھی کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ گھڑی کی سٹرپ ہی کچھ اس ڈیزائن کی تھی۔ میکال نے گھری کھول کر اس کی کلائی پکڑی اور پیچھے لے جا کر گھڑی اس کے ہاتھ میں پکڑائی۔

“ایسا کرو یہ تم ہی رکھ لو۔ بعد میں آرام سے اتار لینا۔ میرے اتارنے سے تمہیں درد ہو گا۔”وہ اپنی اتنی مہنگی گھڑی بڑے آرام سے اسے دے چکا تھا۔ ہانیہ انکار کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی۔ وہ بس ہونق سی بنی اسے دیکھ رہی تھی۔ میکال نے اس کا مبہوت ہو کر خود کو دیکھنا محسوس کر لیا تھا۔ اسے انجانی سی خوشی ہوئی تھی۔

“بائی دا وے میرا نام میکال ہے ۔ تمہارا نام کیا ہے؟”وہ فرینک ہوا۔ ہانیہ نے گھبرا کر اسے نظریں ہٹائیں اور اس کی بات کا جواب دیے بنا اندر کی جانب بھاگ گئی۔

“نام تو بتا دیتی۔”میکال نے مڑ کر اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے لب بے اختیار مسکرانے لگے تھے۔ وہ جس سے ملنے کو بہت بے تاب تھا وہ کہاں اسے آ ملی تھی۔ اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔