406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 2

Tara Ka Chand by Dua Fatima

سفید رنگ کے دل فرنشڈ خوبصورت سے کمرے کے ایک طرف پڑے جہاز سائز بیڈ پر وہ لحاف میں دبکا اوندھے منہ پڑا ہوا تھا۔ اس کے سرخ گالوں پر معصومیت چھائی ہوئی تھی۔اس کے بھاری سانس کی مدھم سی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ کمرے کا ماحول بہت ہی پرسکون تھا لیکن کوئی تھا جو اس سکون کو برباد کرنے آ رہا تھا۔

ہانیہ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا برتن پکڑے آہستہ سے دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تھی اور چاند کو کسی شکاری کی طرح گھورتی آگے بڑھی تھی۔

“اوہ بے بی۔ کتنے مزے سے سو رہے ہو۔ ابھی تمہارا سارا مزا کرکرا کرتی ہوں۔”وہ اس کے قریب آ بولی اور برتن میں ہاتھ ڈال کر کوئی چیز برآمد کی۔ وہ ایک آئس کیوب تھی۔ جسے اس نے چاند کی گردن کے پچھلی جانب رکھ دیا تھا۔ چاند کو جب برف کی شدید ٹھنڈک محسوس ہوئی تو وہ ہڑبڑا کر چیختا اٹھ بیٹھا۔ ہانیہ اب اس سے ذرا دور کھڑی ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی۔ چاند کو جب سمجھ آئی کہ ہانیہ نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے اور وہ بھی اس کی نیند کے دوران تو اس کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا۔

“کالی بھوتنی۔ ٹھہرو تم۔ میں آج تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔”وہ بستر سے اچھل کر اس کے پیچھے بھاگا تو ہانیہ تیزی سے بھاگتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

“اب بھاگ کہاں رہی ہو بزدل!”وہ بھڑکتا ہوا کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ یکدم کسی نازک سے وجود سے ٹکرایا تھا۔ اسے ایسا لگا تھا جیسے کوئی پھول اس سے ٹکرایا ہو ۔ اور اس پھول کی خوشبو اس کے ارد گرد پھیل گئی ہو۔ اس سحر کے زیر اثر اس کی دھڑکنیں تھمی تھیں ۔ وہ کچھ پل ساکت سامنے کھڑی تارا کو دیکھنے لگا تھا۔

تارا چاچو سے ملنے یہاں آئی تھی اور لاؤنج کے دروازے سے نکل کر راہداری میں داخل ہوتے ہی اس پر کوئی افتاد ٹوٹ پڑی تھی۔ اس کا ناک چاند کے سینے سے بہت زور کا بجا تھا۔ درد کی شدت سے اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور جب اس نے پیچھے ہٹ کر ناک سہلاتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو سامنے بت بنے چاند کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر چمکی تھی۔ چاند اسے غصے میں آتا دیکھ کر ہوش میں آیا تھا۔

“ت….تارا…..دیکھو…..م…..میری کوئی غلطی……”وہ ہکلا کر بولتا پیچھے ہٹنے لگا تھا۔ تارا نے گہری سانس بھرتے ہوئے غصہ کم کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئی تو اس پر پل پڑی۔

“اندھے کہیں کے۔ آنکھیں ہیں یا ٹچ بٹن۔ “تارا نے اس کا کان مروڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا اور تھپڑوں سے اس کی تواضع کرنے لگی۔ چاند نے دونوں بازوؤں سے چہرہ تو چھپا لیا تھا لیکن اس کا سر اور کندھوں پر مسلسل ضربیں لگ رہی تھیں۔

“منہ سامنے کرو ذرا۔ تمہاری آنکھیں نکالوں۔ استعمال تو کرنی ہی نہیں کبھی۔ کیا فائدہ پھر؟”وہ اس کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہ رہی تھی اس لیے اس کے بازو پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ چاند نے کسی کچھوے کی طرف چہرے کو بازوؤں کے کور میں کیا ہوا تھا۔ تارا نے اس کے پیٹ میں مکا مارا۔

“آہ۔”وہ چہرے کی فکر چھوڑ کر پیٹ کے درد کو سہلانے لگا جب ایک تھپڑ اس کے خوبصورت سے بھربھرے گال پر پڑا۔ اس کا منہ دوسری جانب مڑ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر طانیہ بیگم کا دل دہل اٹھا تھا۔

“یہ کیا کر رہی ہو تارا؟”وہ چیخ کر بولی تھیں۔ تارا نے چاند کو چھوڑ کر چچی جان کی طرف دیکھا جو اسے غصے اور نفرت سے دیکھ رہی تھیں۔

“شرم نہیں آتی تمہیں چھوٹوں پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔”وہ اس کے قریب آ کر بولیں۔ تارا بحث کے موڈ میں نہیں تھی سو لب بھینچ کر خاموشی سے وہاں سے جانے لگی۔

“رکو تم ایسے نہیں جا سکتی۔ تمہیں بتانا پڑے گا کہ تم نے چاند کو کیوں مارا؟”

“اپنے بیٹے سے ہی پوچھیں۔”وہ چبا چبا کر بولتی چلی گئی۔

“بتاتی ہوں اس کے ماں باپ کو سب۔ کچھ زیادہ ہی چھوٹ دے دی ہے انہوں نے اسے۔ “طانیہ بیگم پیچھے سے بولیں۔

“ماما تارا کو کچھ مت کہیں۔ غلطی میری تھی۔”چاند نظریں جھکائے بولا تو طانیہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ دوپہر کا کھانا بنا رہی تھی جب چاند کچن میں داخل ہوا تھا۔ ہانیہ نے تھوک نگلا۔ صبح اس نے چاند کی گردن پر آئس کیوب جو رکھی تھی۔ اور پھر کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا تھا۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ پیچھے کیا ہوا۔ اب اسے لگ رہا تھا کہ چاند اپنا بدلہ ضرور لے گا۔ اس نے ڈرتے ہوئے چاند کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے فریج میں سے پانی کی بوتل نکال رہا تھا۔

“اللہ کرے اسے صبح والی بات بھول جائے۔”وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگی۔ اکثر ایسا ہوتا تھا۔ لڑائی کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد چاند صاحب سب کچھ بھول بھال کر اس سے کھیلنے آ جاتا تھا۔ آخر ایک ہی تو بہن تھی اس کی۔ لڑائی اپنی جگہ لیکن وہ اپنی بہن سے پیار بھی بہت کرتا تھا۔

“گلاس کدھر مر گیا ہے؟”چاند منہ بناتے ہوئے بڑبڑایا۔ اسے گلاس نہیں مل رہا تھا۔ ہانیہ نے تیزی سے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور گلاس ڈھونڈ کر اسے پکڑایا۔ چاند نے ایک نظر خفگی سے اسے دیکھا اور گلاس پکڑے کر کچن میں لگے چھوٹے سے ڈائننگ ٹیبل پر جا بیٹھا۔

“لگتا ہے ابھی تک ناراض ہے لیکن شکر ہے غصہ ٹھنڈا ہو گیا اس کا ورنہ اب تک بدلہ ضرور لے چکا ہوتا۔ “ہانیہ نے شکر کرتے ہوئے کہا اور پرسکون ہو کر کھانا بنانے لگی۔ تبھی اچانک گرم گھی کا ایک قطرہ اڑ کر اس کے بازو پر آ گرا ۔

“آہ۔” وہ چیخ مارتی بے ساختہ پیچھے ہٹی تھی۔ اس کی آواز سن کر پانی پیتے چاند کو زور سے اچھو لگا لیکن وہ اپنی پرواہ کیے بنا اس کی طرف بڑھا۔

“کیا ہوا ہانی؟”وہ اس کے قریب آ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا۔

“میرا بازو…..”وہ سوں سوں کرتی رونے لگی۔

“کیا ہوا بازو کو؟”چاند نے اس کے بازو پر دیکھا جہاں گرم گھی لگنے سے چھالہ بن چکا تھا۔ اپنی بہن کی تکلیف اس نے دل سے محسوس کی تھی۔

“گرم گھی گرا ہے بازو پر۔”وہ جتنی شرارتی تھی روتے ہوئے اتنی ہی معصوم لگ رہی تھی۔

“اوہو….. اچھا روؤ نہیں۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔ تم یہاں بیٹھو۔”چاند نے کسی بڑے کی طرح اسے چپ کروایا اور ڈائننگ ٹیبل پر لا کر بٹھایا۔

“برنال کہاں ہے؟”اس نے تیزی سے پوچھا۔

“وہاں۔”ہانیہ نے ایک کیبنٹ کی طرف اشارہ کیا تو وہ جلدی سے اس جانب بڑھا۔

“میں چاند کو کتنا تنگ کرتی ہوں لیکن وہ میری کتنی فکر کر رہا ہے۔ میرا پیارا بھائی۔”وہ سوچ کر مسکرائی تھی۔ چاند برنال کی ٹیوب لا کر اسے لگانے لگا۔

“لیکن تم اب جتنے بھی اچھے ہو میں خود کو تمہیں تنگ کرنے سے تو کبھی نہیں روک سکتی۔”اس نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ سوچا اور ہاتھ بڑھا کر چاند کے بال خراب کر دیے۔ چاند نے غصے سے سانس اندر کھینچتے ہوئے اسے گھورا۔

“باز آ جاؤ تم ہانی۔ یہ جو صبح تم نے مجھے تنگ کیا نا۔ اللہ نے اسی کی سزا دی ہے تمہیں۔ “

“واقعی؟”ہانیہ نے حیرت سے پوچھا۔

“جی ہاں۔ “وہ بولا۔

“اچھا اب میں تمہیں تنگ نہیں کروں گی۔”وہ شرمندہ لہجے میں بولی لیکن یہ جو ارادہ کر رہی تھی اس پر قائم رہنا اس کیلیے مشکل ہی تھا۔

“اچھا چاند بات سنو۔”چاند کچن سے نکلنے کی والا تھا کہ ہانیہ نے اسے پکارا۔

“کیا؟”اس نے پلٹ کر ہانیہ کو دیکھا۔

“میں آج ٹویشن نہیں جاؤں گی۔ تم تارا آپی سے کہنا میری طبیعت خراب یے۔”

“لیکن میں اکیلا کیسے جاؤں گا؟”وہ گھبرا کر بولا۔صبح والا واقعی اس کی آنکھوں کے سامنے گھوما تھا۔

“تم کوئی چھوٹے بچے ہو جو میرے بغیر نہیں جا سکتے۔ “وہ تنک کر بولی۔

“اگر تم میرے ساتھ نہ گئی تو میں تارا کو بتاؤں گا کہ تم جان بوجھ کر چھٹی کر رہی ہو۔”چاند نے دھمکی دی۔

“نہیں نا پلیز۔ مجھے لیسن نہیں آتا۔ اور میرے بازو پر چوٹ بھی لگی ہے تو مجھ سے پڑھنے بھی نہیں ہو رہا۔ “وہ بہانے بناتے ہوئے بولی ۔ چاند کو اس کی بات ماننی ہی پڑی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اسفر پاکستان پہنچ چکا تھا۔ عمران صاحب اور عرفہ بیگم اس سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ تارا نہیں آئی تھی۔ ماریہ کے پوچھنے پر عرفہ بیگم نے بتایا تھا کہ اس کے ایگزیمز قریب ہیں تو وہ پڑھ رہی ہے۔ اس لیے نہیں آ سکی۔ یہ بات سن کر اسفر کو برا لگا تھا۔ وہ اتنے عرصے بعد پاکستان آیا تھا۔ تارا کے نزدیک اس کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنی پڑھائی چھوڑ کر اس سے ملنے کی آ جاتی۔ وہ برے دل کے ساتھ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور پیچھے سے بڑے ان کی شادی کے بارے میں ڈسکس کرنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو یہ سوچ سوچ کر کشمکش میں پڑا ہوا تھا کہ تارا کا سامنا کیسے کرے گا، دروازہ کھولتے ہی اسے یکدم اپنے سامنے دیکھ کر بری طرح سٹپٹایا تھا۔ پہلے تو کبھی تارا نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔ زیادہ تر ملازمہ کھولتی تھی یا عرفہ بیگم۔ اس وقت تارا اپنے کمرے میں ہوتی تھی۔ آج پتہ نہیں کیوں اچانک اس کے سامنے آ گئی تھی۔ وہ تو صبح والا واقعہ یاد کر کے گھبرانے لگا تھا۔ تارا رک کر تعجب سے اس کے فیس ایکسپریشنز دیکھنے لگی تھی۔

“سلام کرنا نہیں آ رہا کیا؟”

“اسلام علیکم…..تارا!”چاند نے جھٹ سے سلام جھاڑا۔

“ہمم۔ وعلیکم السلام۔ اب اندر بلانے کیلیے اسپیشل انویٹیشن دینا پڑے گا؟”اس نے ابرو اچکائی۔ چاند نے نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں۔ “وہ جلدی سے اندر داخل ہوا۔

“ہانیہ نہیں آئی؟”تارا نے سخت لہجے میں پوچھا۔

“اس کی طبیعت خراب ہے۔”وہ اس سے نظریں ملائے بغیر بولا۔

“اس کی طبیعت تو میں ٹھیک کرتی ہوں جا کر۔ تم ذرا ٹیرس پر بیٹھو چل کے۔”وہ کہہ کر دروازے کے ذریعے دوسرے پورشن میں چلی آئی۔

ہانیہ جانتی تھی تارا اسے اتنی آسانی سے چھٹی نہیں دے گی اس لیے اس نے پہلے سے ہی پوری تیاری کر رکھی تھی۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر کسی لاغر مریض کی طرح پڑی تھی۔ چہرے پر تکلیف کے مصنوعی آثار موجود تھے۔

تارا نے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اس نے نقاہت سے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا۔

“تارا آپی؟”اس نے رونی صورت بنا کر تارا کو پکارا۔

“کیا ہوا ہے تمہیں؟”تارا اس کے قریب آئی۔

“سر درد کر رہا ہے اور چکر بھی آ رہے ہیں۔ لگتا ہے بلڈ پریشر لو ہو گیا ہے۔”اس نے کسی بوڑھے کی طرح کہا۔ تارا نے اسے تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے اس کی کلائی پکڑ کر نبض چیک کی۔ اس کی ہارٹ بیٹ ٹھیک تھی لیکن یہ نوٹس کرنے سے پہلے تارا کی نظر اس کے بازو کے زخم پر پڑ چکی تھی۔

“یہ کیا ہوا ہے؟”

“گرم گھی نے میرا بازو جلا دیا۔ بہت درد ہو رہا ہے۔”اس کی مسکین شکل دیکھ کر تارا کو اس پر ترس آ ہی گیا تھا۔

“اچھا ٹھیک ہے۔ آج تم آرام کرو۔ “وہ کہہ کر پلٹی تو پیچھے سے ہانیہ نے خوشی سے مسکراتے ہوئے یس کہا تھا۔ تارا کچھ یاد آنے پر اس کی طرف مڑی تو اس کے مسکراتے لب تیزی سے سکڑے اور چہرے پر پہلے جیسی بے چارگی چھا گئی۔

“میرے خیال سے کچھ دیر تک درد ٹھیک ہو جائے گا۔ سو کل کیمسٹری کے تھرڈ چیپٹر کا ٹیسٹ ہو گا۔ تیاری کر کے آنا۔”وہ حکم دے کر چلی گئی اور ہانیہ کا سارا مزا کرکرا ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تم ابھی تک پڑھنا شروع نہیں ہوئے؟”تارا کی آواز پر تیزی سے مڑا تھا۔

“وہ…..تائی جان نظر نہیں آ رہیں؟”وہ عرفہ بیگم کے بھی بہت قریب تھا کیونکہ وہ اسے طانیہ سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔ وہ جب بھی یہاں آتا عرفہ بیگم اس کی پسند کے فرنچ فرائز بنا کر دیتی تھیں۔

“وہ کہیں گئی ہوئی ہیں۔”تارا نے لاپرواہی سے بتایا تو چاند چونک اٹھا

“مطلب تم اکیلی ہو؟”اسے عجیب سے گھبراہٹ ہوئی تھی۔

“نہیں تو۔ تم بھی تو ساتھ ہو میرے۔”تارا نے تعجب سے کہا۔ اس کی بات پر چاند کا دل خوشی سے دھڑکا تھا۔ لب بے اختیار ہی مسکرائے تھے۔ تارا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔

“اب یہ مسکرایا کس بات پر جا رہا ہے؟”اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا تو چاند صاحب ہوش کی دنیا میں واپس آئے ۔

“نہیں ۔ میں تو نہیں مسکرا رہا۔”وہ بول کر لب بھینچ گیا ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بہت کیوٹ لگا تھا۔ تارا سر جھٹک گئی۔

“تم بیٹھ کر لیسن ریوائز کرو۔ میں ابھی آتی ہوں۔”وہ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ چاند نے ارد گرد دیکھتے ہوئے گہری سانس لی تھی جیسے خود کو تارا کے سحر سے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔

“وائے آر یو سو بیوٹی فل؟”وہ دل ہی دل میں تارا کو پکارتا کرسی پر آ بیٹھا اور بے دلی سے پڑھنے لگا۔ کچھ دیر بعد تارا ہال کے دروازے سے نکل کر ٹیرس پر آئی تھی اور اس کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کے پاس کوئی بک بھی تھی۔ جسے وہ انہماک سے پڑھنے لگی تھی۔ چاند نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا اور لب کاٹتے ہوئے کتاب پر نظریں جما دیں۔ اس کا دل کر رہا تھا تارا اس سے ڈھیر ساری باتیں کرے جیسے وہ پہلے کرتی تھی لیکن اب تو وہ ضرورت پڑنے پر ہی کوئی بات کرتی تھی۔

“تارا!”کچھ دیر بعد بالآخر اس نے دل کی مان کر تارا کو پکار ہی لیا۔

“ہمم۔”تارا مصروف سے انداز میں بولی۔

“س…..سوری۔”وہ جی کڑا کر کے بولا۔

“فار واٹ؟”تارا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی کالی آنکھیں جب بالاج سکندر کی براؤن آنکھوں سے ٹکرائیں تو کچھ پل کیلیے وقت تھما تھا۔ چاند کی آنکھوں میں پراسرار سی چمک تھی جبکہ تارا کی آنکھوں میں الجھن ابھری تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ بالاج کے دل کا حال پڑھ لیتی وہ تیزی سے نظریں پھیر گیا تھا۔

“آج صبح جو ہوا اس کیلیے۔”

“میرے خیال سے میں نے تمہیں تمہاری غلطی کی سزا دے دی تھی۔ اب تمہارا معافی مانگنا بنتا نہیں۔”وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔

“مطلب تم مجھ سے ناراض نہیں؟”وہ خوشی ہوتے ہوئے پوچھنے لگا۔ تارا نے دلچسپی سے اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

“نہیں۔” چاند کھل کر مسکرایا۔ تبھی تارا کے کمرے سے فون کے بجنے کی آواز آئی۔ وہ اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھی۔ اسفر کی کال تھی۔ تارا نے کال پک کر کے فون کان سے لگایا۔

“تم مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی؟”وہ تحکم بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا جو تارا کو ذرا بھی پسند نہیں آیا تھا۔

“میرا ملنا ضروری تھا کیا؟”

“میری فیانسی ہو تم۔”

“بیوی تو نہیں نا۔ میرے خیال سے ہمارا ملنا اب اتنا بھی ضروری نہیں۔”اس نے اسفر کی دلیل کو رد کیا۔

“میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے تم سے ملنا ہے ابھی اور اسی وقت۔ میں تمہارے گھر کے باہر کھڑا ہوں ۔ آ کر دروازہ کھولو۔”اس کی بات پر تارا کو غصہ چڑھا۔

“آپ پاگل تو نہیں ہو گئے۔ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ؟…….پلیز واپس چلے جائیں۔ میں آپ سے نہیں مل سکتی۔ “وہ کوئی ڈرپوک لڑکی تو نہیں تھی لیکن ہر لڑکی کی طرح اس میں بھی اپنے کردار کی عزت کا خوف تھا۔

“لیکن میں تو تم سے مل سکتا ہوں۔ “اسفر نے اس کی بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی اور فون بند کر دیا۔

“ہ….ہیلو…..اسفر۔”وہ دبی دبی آواز میں چلائی تھی۔ پھر فون کان سے ہٹا کر اسے دوبارہ کال کرنے لگی۔

“افف اللہ جی۔ اگر چاند نے اسفر کو دیکھ کیا تو کیا سوچے گا وہ میرے بارے میں۔”وہ بے چینی سے سوچنے لگی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ چاند کی نظر میں اس کا کیسا امیج ہے۔ وہ اس کی آئیڈیل تھی۔ چاند نے ہمیشہ اسے فالو کیا تھا۔ اب اگر وہ اسفر کو تارا کے ساتھ دیکھتا تو اس کی نظر میں تارا کا امیج خراب ہو جاتا جو کہ وہ بالکل بھی نہیں چاہتی تھی۔ کچھ سوچ کر وہ کمرے سے نکلی اور لاؤنج کی گلاس وال سے ایک نظر چاند پر ڈالی۔ یہاں سے اس کی پشت نظر آ رہی تھی۔ تارا چپکے سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی اور نیچے چلی آئی۔ ابھی اس نے داخلی درواز کھولا ہی تھا کہ اس کا سامنا اسفر سے ہو گیا۔ براؤن شرٹ اور جینز میں وہ کافی گڈ لکنگ لگ رہا تھا اور اتنے عرصے بعد اس کے سامنے آیا تھا لیکن نہ تو تارا کے دل کی دھڑکن تھمی تھی نہ ہی تیز ہوئی تھی۔ فی الحال غصے کا احساس ہر چیز پر غالب آیا ہوا تھا۔

“آپ اندر کیسے آئے؟”اس نے اسفر کو گھورتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا۔

“دیوار سے کود کر۔”اسفر نے مزے سے بتایا۔ تارا نے غصے سے سر جھٹکا۔

“اگر کوئی دیکھ لیتا تو؟”

“تو دیکھ لیتا۔ میری فیانسی ہو تم۔”

“لیکن یہ بات سب کو نہیں پتہ اور جب تک پتہ چلتی میری بدنامی تو چکی ہونی تھی نا۔ سب نے کہنا تھا میں نے خود آپ کو بلایا ہے اور …… ماما بابا کیا سوچتے میرے بارے میں؟ “اس کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے ۔ اسفر اس کا ایسا روڈ رویہ دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔

“کیا ہو گیا ہے تارا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میں ہوں نا۔ تم پر کوئی بات نہیں آنے دوں گا۔”اسفر نے کہتے ہوئے اس کے کندھوں کو تھامنا چاہا لیکن تارا پیچھے ہٹ گئی۔ پھر گہری سانس لے کر خود کو کول ڈاؤن کرنا چاہا۔

“گو۔”وہ سرد لہجے میں بولی تھی۔ اسفر کو بھی غصہ آیا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا۔ لیکن اسے اپنے قدم روکنے پڑے تھے۔

“تارا….!”یہ چاند کی آواز تھی۔ وہ شاید سیڑھیوں کے اوپر والے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ تارا نے خوفزدہ ہو کر اوپر دیکھا اور پھر اسفر کو ۔

“اسفر پلیز جائیں یہاں سے۔”

“یہ کون ہے؟”اسفر نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔ تارا نے صدمے سے اسے دیکھا تھا۔

“چاند ہے۔ “نا چاہتے ہوئے بھی اسے صفائی دینی پڑی۔ اسفر بھی مطمئن ہو گیا۔ اس کی نظر میں بھی چاند ایک چھوٹا سا اور معصوم سا بچہ تھا۔

“تارا کہاں چلی گئی ہو؟”چاند سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔ تارا نے ملتجی نگاہوں سے اسفر کو دیکھا۔

“میں نہیں جا رہا۔ چاند کو اوپر بھیجو۔”وہ اٹل لہجے میں کہہ کر ایک پلر کے پیچھے ہو گیا۔ تارا کو اتنا غصہ آیا تھا کہ حد نہیں۔

“تارا یہاں کیا کر رہی ہو؟”چاند تعجب سے پوچھتا اس کے قریب آیا تھا۔

“میں جو مرضی کروں۔ تمہیں اس سے کیا ہے۔ دفعہ ہو جاؤ اوپر ۔ نیچے آنے کو کس نے کہا تھا تمہیں۔”اسفر کا سارا غصہ اس نے چاند پر نکال دیا۔ چاند کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔ آنکھوں میں نمی ابھری تھی۔

“میں تو……”وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ جب اسے دائیں جانب کوئی کھٹکا محسوس ہوا۔ اس نے چونک کر پلر کی طرف دیکھا۔ تارا بھی سانس روک گئی تھی۔

“ی…. یہاں کوئی ہے۔”وہ ڈرتے ہوئے بولا اور تارا کے پیچھے چھپ گیا۔

“”کوئی نہیں ہے۔ تم اوپر جاؤ۔”تارا نے بے زار لہجے میں کہا۔ اسے ایسا لگا تھا جیسے یہاں کوئی بھوت ہو۔

“مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔”وہ منہ بسورتے ہوئے بولا۔

“اوہ گاڈ کہاں پھنس گئی۔”وہ روہانسی ہو گئی۔

“چاند مجھ سے مار نہ کھا لینا۔ شرافت سے میری بات مانو۔”وہ تنبیہہ کرتے ہوئے بولی۔ چاند مار کے لفظ پر ٹھٹکا جیسے اسے کوئی آئیڈیا ملا ہو۔ اس نے ارد گرد نظریں دوڑائیں ۔ ایک طرف میز پر شیشے کا گلدان پڑا ہوا تھا۔ اس نے بھاگ کر وہ گلدان اٹھایا اور پلر کی طرف بڑھا۔

“رکو چاند کیا کر رہے ہو؟”تارا پریشانی سے پوچھنے لگی۔

“شش۔”چاند نے ہونٹ پر انگلی رکھ کر اسے چل ہونے کا اشارہ کیا۔ تارا اضطراری کیفیت میں لب چبانے لگی تھی۔ دوسری جانب اسفر بھی پریشان ہو چکا تھا۔ اب وہ یہاں سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے لگا تھا۔ چاند دل ہی دل میں ڈر تو رہا تھا لیکن بظاہر خود کو مضبوط کیے پلر کے قریب جا رہا تھا۔ اسفر کھسک کر تھوڑا بائیں جانب ہوا تو اس کی نظر تارا پر پڑی تھی۔ اس نے جلدی سے سوئچ بورڈ کی طرف اشارہ کیا تو تارا نے سمجھ کر سر ہلایا اور جلدی سے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی۔

چاند آدھے پلر کے گرد گھوم چکا تھا لیکن اسفر اب بھی پلر کے دوسری جانب تھا کیونکہ وہ بھی مسلسل پلر کے گرد گھوم رہا تھا اسی لیے چاند کی نظروں سے چھپا ہوا تھا۔ یہاں سے دروازہ قریب تھا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ اس کے قدموں کی چاپ چاند کو سنائی دے گئی تھی۔ وہ پلر کے پیچھے سے نکلا تو اس کی نظر اسفر پر پڑ گئی تھی لیکن اگلے ہی پل لائٹ بند ہو گئی تھی۔ گپ اندھیرا تو نہیں ہوا تھا لیکن اتنا اندھیرا تھا کہ اسفر آرام سے بچ کے نکل سکتا تھا۔ چاند اس کی پوزیشن تو دیکھ ہی چکا تھا۔ اس نے وہیں سے گلدان کو اسفر کی طرف زور سے پھینکا تھا۔ گلدان اسفر کی کمر کے عین وسط میں لگا تھا۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی درد سے سنسنا اٹھی تھی۔ اس نے خود کو چیخ مارنے سے کیسے روکا تھا یہ وہی جانتا تھا۔ نیم اندھیرے میں تارا بھی گلدان اسفر کو لگتے دیکھ چکی تھی اور اور منہ پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔ وہ پریشانی سے اس کی جانب بڑھی تھی۔

“رکو……. کون ہو تم؟”چاند چلاتے ہوئے اس کے قریب آنے لگا۔ اسفر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ اٹھ کر بھاگ نکلا۔ پیچھے سے چاند جو تیزی سے بھاگتا اس کی طرف آ رہا تھا تارا سے بری طرح ٹکرا گیا۔ تارا کے ناک پر ایک دفعہ پھر سے درد اٹھا تھا۔ اور سر بھی چکرا کر رہ گیا تھا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور چیخ مارتی نیچے گر گئی۔ چاند بھی اس کے اوپر ہی گرا تھا۔ اس کی دھڑکنیں پھر سے تھمی تھیں ۔ کچھ پل تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ یہ ہوا کیا ہے۔ وہ تو اس شخص کے پیچھے تھا جو ابھی یہاں تھا۔ پھر وہ تارا سے کیسے ٹکرا گیا اور اب اس کے اوپر گر چکا تھا۔ یہ بات سوچتے ہی اسے ہوش آیا اور وہ تیزی سے اٹھ کر پیچھے کھسکا۔ تارا کے ساکن وجود میں ہل چل پیدا ہوئی تھی۔ گہرا سانس لیتے ہوئے جیسے اس نے اپنے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے دل و دماغ میں ابلتا جوار بھاٹا جب تک چاند پر نہ گرتا اسے سکون نہیں ملنا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر زمین پر ماری اور پھر آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھی۔ نیم اندھیرے میں بھی چاند کو تارا کی آنکھوں میں سے آگ کی چنگاریاں نظر آ گئی تھیں۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ اب اس کی خیر نہیں۔

“ت……تارا…..”وہ ہکلاتے ہوئے بیٹھے بیٹھے ہی پیچھے ہٹنے لگا۔ تارا چہرے پر سفاک سے تاثرات سجائے اس کی طرف بڑھی تھی ۔

“You are dead!”

اس کی غراہٹ سے چاند کا دل سہم گیا تھا۔

“د…..دیکھو…..م…..میں نے جان بوجھ کر یہ نہیں کیا۔ میرا یقین کرو۔”وہ ڈرتے ہوئے بول رہا تھا۔

“یقین کے بچے۔”تارا یکدم اس پر جھپٹی تھی جیسے کوئی چیل کسی معصوم سے پرندے کو اپنے پنجوں میں دبوچ لیتی ہے۔

“تارا!”وہ احتجاجاً بولا۔

“چپ ایک دم چپ۔ آج میں تمہیں سیدھا کر کے رہوں گی۔ آئیندہ ایسی غلطی کرنے کا سوچو گے بھی نہیں۔”وہ دھڑا دھڑ اسے پیٹنے لگی تھی۔

“میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔”وہ اپنا بچاؤ کرتے ہوئے بولا۔

“غلطی بتاؤں تمہاری میں ؟”تارا نے اس کا کان پکڑ کر مروڑا۔

“آہ……”وہ درد سے کراہنے لگا۔

“جب میں نے تمہیں ایک دفعہ کہہ دیا تھا کہ اوپر دفعہ ہو جاؤ تو تم نے میری بات کیوں نہیں مانی؟…. ہاں”

“و….. وہاں کوئی تھا۔”

“یہی …. یہی تو تمہاری غلطی تھی۔ تم نے اپنے بے وقوف دماغ کی بات مانی۔ “اب ک بار اس کے سر پر تھپڑ پڑا تھا۔

“لیکن میں نے اسے خود دیکھا تھا۔”وہ اسے یقین دلانے لگا۔

“پھر وہی ڈرامہ۔ “وہ اسے پانچ مارنے لگی۔ چاند کچھ دیر مار کھاتا رہا پھر تارا کی دونوں کلائیاں پکڑ کر اسے روک دیا۔ تارا نے سخت حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ چاند نے اسے مارنے سے روکا ہو۔

“تم بہت بری ہو۔”وہ اس کے بازو جھٹک کر کہتا اٹھا اور داخلی دروازے سے باہر نکل کر اپنے گھر چلا گیا۔ تارا حیران وہ پریشان سی دنگ بیٹھی رہ گئی تھی۔