406.4K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tara Ka Chand Episode 18

Tara Ka Chand by Dua Fatima

تارا نے جس یونیورسٹی میں لیکچرار کی جاب کیلیے اپلائی کیا تھا وہاں اسے ہائر کر لیا گیا تھا۔ بالاج اور ہانیہ بھی وہیں پڑھتے تھے۔ وہ تینوں اکٹھے ہی یونی گئے تھے۔ اسفر جو کب سے تارا کے گھر سے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا اس کے ساتھ بالاج کو دیکھ کر اپنے منصوبے پر عمل نہیں کر سکا تھا۔ اسے پھر کچھ اور سوچنا پڑا تھا۔

تارا اس وقت تھرڈ پیریڈ میں لیکچر دے رہی تھی جب ایک سٹوڈینٹ نے دروازے پر نمودار ہوتے ہوئے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ تارا نے سر اثبات میں ہلا کر اسے اندر آنے کا اشارہ دیا۔

“سر وسیم آپ کو اپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔”لڑکے نے پیغام دیا تو وہ حیران ہوئی۔ پہلے دن ہی آفس سے بلاوا آ گیا تھا۔ اللّٰہ خیر ہی کرے۔ وہ سوچتی ہوئی ان کے آفس میں گئی۔

“آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔ گیسٹ روم میں چلی جائیں۔”سر وسیم مصروف سے لہجے میں بول کر اپنا کام کرنے لگے۔

“مجھ سے ملنے کون آ گیا؟”وہ زیر لب بڑبڑاتی گیسٹ روم میں آ گئی۔

اسفر جو اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا قدموں کی چاپ سن کر مڑا اور تارا کو ساکت کر گیا تھا۔اسے اسفر سے خوف محسوس ہوا تھا لیکن غصے کا احساس زیادہ تھا۔

“اب کیا لینے آئے ہیں۔ مجھے بیچ کر بھی سکون نہیں ملا کیا؟”وہ دبی دبی آواز میں چلائی تھی۔ اسفر اس کے غصے سے محظوظ ہوتا دو قدم اس کے قریب آیا۔

“تمہیں صحیح سلامت اور خوش باش دیکھ کر مجھے بھلا کیسے سکون مل سکتا ہے مائی ڈیئر ایکس وائف۔”

“مطلب ابھی بھی مجھے مزید برباد کرنے کا ارادہ ہے آپ کا؟”وہ طنزیہ لہجے میں پوچھنے لگی۔

“ہمم۔ یہی سمجھ لو۔ “اسفر نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے جیب سے فون نکالا۔

“یہ تصویریں تو تمہیں یاد ہی ہوں گی۔”اسفر نے فون آن کر کے سکرین اسے دکھائی جہاں اس کی اور میکال کی پکچرز تھیں۔ تارا کا سانس رکتا تھا۔ ابھی تو لوگ ثبوت دیکھے بنا اسے بدکردار کا لقب دے چکے تھے اگر یہ تصویریں دیکھ لیتے تو کیا کرتے ۔ وہ ایک دفعہ پھر سے خود کو اسفر کے سامنے بہت بے بس محسوس کرنے لگی تھی۔

“اسفر آپ کو خدا کا واسطہ میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ اب تو مجھے سکون سے جی لینے دیں۔ میں نے آپ کی ہر بات مانی ہے۔ اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”وہ نم آنکھوں سے ملتجی ہوئی تھی۔

“بس ایک اور بات مان لو پھر تم میری طرف سے آزاد ہو گی۔”وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔

“کیا؟”

“یہاں نہیں بتا سکتا۔ تمہیں مجھ سے کہیں اور ملنا پڑے گا۔”

“میں کہیں نہیں جاؤں گی۔”وہ دو ٹوک لہجے میں بولی تھی۔ ابھی پچھلا سبق نہیں بھولا تھا اسے۔

“سوچ لو۔ کچھ وقت دے رہا ہوں میں تمہیں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یہ تصویریں تمہارے ساتھ خاندان کے سوشل اکاؤنٹس پر نشر ہو جائیں گیں۔ پھر مجھ سے شکوہ مت کرنا۔”وہ بے حسی سے کہہ کر چلا گیا۔ تارا کے آنسو گالوں پر بہہ نکلے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکرین پر چلتی ویڈیو دیکھ کر بالاج کی رگیں غصے سے تن گئی تھیں۔ اس نے ضبط سے مٹھی بھینچ لی تھی۔

وہ میکال کی گاڑی کے ڈیش کیم کی ویڈیو تھی۔ جب میکال نے ہانیہ کو بچانے کیلیے گاڑی روکی تھی تو اتفاقاً ہی اس کی گاڑی کا رخ وہاں ہو گیا تھا جہاں ثاقب نے ہانیہ کو تھپڑ مارا تھا۔ میکال کے زہن میں یہ بات آئی تو اس نے تیزی سے ڈیش کیم کی ویڈیوز نکالیں اور خوقسمتی سے اسے یہ ویڈیو مل گئی۔ اس نے وہ ویڈیو بالاج کے نمبر پر سینڈ کر دی۔

بالاج نے بھی ثاقب کے بارے میں بڑی حد تک معلومات اکٹھی کر لی تھیں۔ اس کے ایک دوست کو پیسے دے کر اس کے بارے میں سب کچھ اگلوا لیا تھا۔ گاؤں کے کچھ لوگوں سے بھی اس کے بارے میں پوچھا تھا اور سب نے یہ بتایا تھا کہ وہ ایک اوباش لڑکا ہے۔ اوپر سے اسے وہ ویڈیو موصول ہو گئی جسے دیکھ کر اسے سخت طیش آیا تھا۔ اس نے سب ثبوت جا کر سکندر صاحب کے سامنے رکھ دیے تھے۔ وہ شاکڈ تو ہوئے تھے لیکن ساتھ اللّٰہ کا شکر بھی کیا تھا کہ انہیں بروقت ثاقب کی اصلیت پتہ چل گئی۔ انہوں نے بالاج کو خلع کے پیپرز تیار کروانے کا حکم دے دیا۔ یہ سب کچھ انہوں نے طانیہ بیگم کو بے خبر رکھ کر کیا تھا۔ خلع کے پیپرز لے کر بالاج گھر آیا تو سیدھا ہانیہ کے کمرے میں گیا تھا۔ توقع کے مطابق وہ کتاب سامنے رکھے چپ چاپ سی تھی۔

“ہانی۔”بالاج اس کے سامنے آ بیٹھا۔

“ہمم۔ کیا ہوا؟”ہانیہ خیالوں سے چونک کر باہر نکلی۔

“کیا تم میری ایک بات مانو گی؟”

“کونسی بات؟”ہانیہ نے سوالیہ ابرو اچکائی۔

“ان پیپرز پر سائن کر دو۔”بالکل نے اس کے سامنے فائل رکھی۔

“یہ کیا ہے؟”ہانیہ نے تعجب سے پوچھا۔

“خود دیکھ لو۔”بالاج کہہ کر اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا تھا۔ ہانیہ نے فائل کھول کر دیکھی ۔ اس کی بھنویں کچھ پل کیلیے سکڑی تھیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔ اس نے حیرت سے بالاج کو دیکھا تھا۔

“کیا تم ایسا نہیں چاہتی؟”وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اسے اپنے سوال کا جواب پہلے سے پتہ ہو۔ وہ کچھ پل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر الجھ کر بولی تھی۔

“ہاں پر ماما……”

“تم انہیں چھوڑو۔ بابا ایسا چاہتے ہیں۔ تم بے فکر ہو کر ان پیپرز پر سائن کر دو۔”اس نے کہا تو ہانیہ ک آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

“انہیں یہ خیال کیسے آیا؟”وہ شاکی لہجے میں بولی تھی۔

“شکر کرو آ تو گیا نا۔ اس موقع کو حیرت میں ضائع مت کرو۔ جلدی سے سائن کر دو۔”

“لیکن ….. اگر لوگوں نے مجھے بھی ایسے ہی باتیں سنائی جیسے تارا آپی کو تو میں کیسے اب کا سامنا کروں گی؟”یہ سوچ کر اس کا دل ڈر رہا تھا۔

“میں منہ توڑ دوں گا ان لوگوں کا ۔ تمہیں کچھ کہہ کر تو دیکھیں۔ بھئی ہماری مرضی ہم جو چاہیں کریں۔ “بالاج نے کچھ اس انداز میں کہا تھا کہ ہانیہ ہنس پڑی تھی۔ آج اس کی ہنسی کھوکھلی نہیں تھی۔ زندگی سے بھرپور تھی۔ بالاج نے دل ہی دل میں اس کے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسفر نے تارا کو ابھی ایڈریس سینڈ نہیں کیا تھا

۔ تاکہ وہ پہلے سے کسی کو بتا نہ دے۔ اس نے کہا تھا جب وہ اس کے پاس آنے کیلیے راوی ہو گی تب وہ ایڈریس کی بجائے سٹیپ بائے سٹیپ روٹ بتائے گا ۔ اس نے تارا کو مزید تین دن کا وقت بھی دیا تھا۔ اب تارا سخت پریشان تھی کہ کیا کرے۔ اگر وہ نہ جاتی تو اس کی تصویریں سب کو پہنچ جانی تھیں اور اگر جاتی بھی تو اسے پتہ تھا اس کی عزت محفوظ نہیں رہنی تھی۔ بالاج نے اس کی پریشانی محسوس کر کے وجہ بھی پوچھی لیکن اس نے بالاج کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ آج بھی اسے ایک کمزور لڑکا سمجھتی تھی اور نہیں چاہتی تھی کہ اس کی خاطر وہ کسی لڑائی جھگڑے میں پڑے۔ لیکن میکال اتنا پاور فل تھا کہ وہ اس سے مدد لے سکتی تھی۔ کچھ سوچ کر اس نے میکال کو فون کیا اور ایک منٹ بعد ہی میکال اس کے سامنے موجود تھا۔

“جی فرمائیں۔ غلام حاضر ہے۔”وہ سر تسلیم خم کرتے ہوئے شرارت سے بولا تھا۔

“مجھے تمہاری مدد چاہیے۔”تارا بے چینی سے بولی تھی۔

“تم پریشان لگ رہی ہو؟ خیریت ہے؟”وہ سنجیدہ ہوا۔

“خیریت ہی تو نہیں ہے۔ اسفر پاکستان آ چکا ہے اور یہاں بھی اس نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔”

“واٹ؟…… تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”وہ تو اسفر کو امریکہ میں ڈھونڈ رہا تھا۔ وہاں اسے ڈھونڈنے کیلیے اس نے کچھ لوگ ہائر کیے ہوئے تھے ۔ اسی لیے وہاں اسفر نہیں مل رہا تھا کیونکہ وہ پاکستان آ چکا تھا۔

“اس نے مجھے دھمکی دی ہے……” تارا نے روتے ہوئے اسے ساری بات بتا دی۔

“یہ تو اور بھی اچھا ہوا۔ وہ خود چل کر میرے قریب آ گیا۔ اب اسے پکڑنے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی۔ “

“مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ اگر اس نے وہ تصویریں…..”

“یار تم روؤ تو نہیں۔ میں ہوں نا۔ اپنی وجہ سے میں تمہیں کبھی بدنام نہیں ہونے دوں گا اور نہ تمہیں اسفر کے سامنے بے بس ہونے دوں گا۔ ……اچھا سنو میرے پاس ایک پلان ہے۔”وہ بولتے بولتے یکدم چونکا۔

“کیا؟”تارا نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔

“تم اسفر کی بات مان لو۔…..”اس نے کہا تو تارا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ پھر میکال نے اسے سارا منصوبہ سمجھایا تو وہ اس کی بات سے متفق ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کورٹ نے ثاقب کے گھر خلع کا نوٹس بھجوا دیا تھا۔ ثاقب کو تو آگ لگ گئی تھی۔ اسے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا تھا ۔ اس نے جو چاہا تھا پا لیا تھا لیکن ہانیہ جیسی کمزور سی لڑکی کیسے اس کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ کیسے اسے انکار کر سکتی تھی۔ اس بات نے ثاقب کی انا کو گہری ضرب لگائی تھی۔ ثاقب کا باپ اکرم بھی یہ خبر سن کر غصے میں آ گیا تھا۔ اسے بھی بہت بے عزت محسوس ہوئی تھی کہ کسی نے ان کے بیٹے کو ریجیکٹ کیا۔ زارا کی بھی شامت آ گئی تھی۔ آخر طانیہ اس کی ہی بہن تھی۔ زارا کو لگا تھا کہ اس کی طلاق والی بات پر طانیہ نے ایسا کیا ہے لیکن طانیہ بیگم کو تو خود نہیں پتہ تھا کہ ان کے شوہر اور بیٹے نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ وہ تو جب زارا نے فون پر ان سے پوچھ گچھ کی تو وہ شاکڈ رہ گئی تھیں۔ اتنا سب کچھ ہو گیا تھا اور انہیں پتہ تک نہیں تھا۔ انہوں نے طیش کے عالم میں فون بند کیا اور سٹڈی روم میں آئیں جہاں بالاج اور سکندر صاحب دونوں بیٹھے بزنس کے کسی مسلے پر ڈسکس کر رہے تھے۔

“یہ میں کیا سن رہی ہوں؟….. کس سے پوچھ کر آپ نے خلع کا نوٹس ثاقب کو بھجوایا؟”وہ اونچی آواز میں چیخی تھیں۔ ثاقب نے چاہے ہانیہ کے ساتھ برا کیا تھا لیکن انہیں اپنی انا سب سے زیادہ پیاری تھی۔ اگر ہانیہ کو طلاق ہو جاتی تو عزت ان کی بھی خراب ہونی تھی۔

“ہانیہ سے پوچھ کر۔”سکندر صاحب پہلی دفعہ طانیہ کے فیصلے کے خلاف گئے تھے۔

“کیوں؟”انہوں نے تو ثاقب کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ کہیں ہانیہ نے تو نہیں بتایا تھا کہ وہ اس پر تشدد کرتا ہے۔ یہ بات ان کے ذہن میں آئی تھی۔

“خود دیکھ لو یہ۔ پھر تمہیں اپنے کیوں کا جواب مل جائے گا۔”سکندر صاحب مے میز پر ثبوت پھینکتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔ بالاج پاس پی بیٹھا سکون سے کافی کے سپ بھر رہا تھا۔ طانیہ نے ثاقب کے کرتوت دیکھ کر نظریں چرائیں۔

“جوابدہ تو تمہیں میرا ہونا چاہیے تھا۔ تم میری معصوم بچی کو اپنے بدکردار بھانجے کے حوالے کرنے جا رہی تھی۔ “وہ غصے سے بولے تھے۔

“مجھے کیا پتہ تھا وہ ایسا نکلے گا۔”وہ روہانسی ہو گئیں۔

“لیکن اب تو پتہ چل گیا نا۔ اب بھی تم اپنی بیٹی کی بجائے اپنی بہن اور بھانجے کی سائیڈ لو گی؟”

“نہیں میں ان کی سائیڈ نہیں لے رہی لیکن اگر ہانیہ کو طلاق ہوئی تو ہانیہ کے ساتھ ساتھ ہماری بے عزتی بھی ہو گی۔ “انہیں ابھی بھی اپنی عزت کی پڑی تھی۔

“تو بندہ پہلے ہی سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتا ہے نا۔ میں نے کتنا روکا تھا آپ کو کہ یوں ان لوگوں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں لیکن نہیں۔ آپ نے تو اپنی ہی کرنی تھی۔اب بھگتیں۔”بالاج نے سنجیدگی سے کیا تھا۔

” اور تم نے مجھ سے یہ جھوٹ کیوں بولا کہ ہانیہ اس رشتے سے خوش ہے۔ اگر وہ خوش ہوتی یوں خلع کے پیپرز سائن نہ کرتی۔ تم نے اپنی میں کی خاطر ہانیہ کی خوشیوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔ کیا تم ماں کہلانے کے لائق ہو؟”سکندر صاحب تو کچھ زیادہ ہی غصے میں آ گئے تھے۔ وہ جو ان سے جواب مانگنے آئی تھیں اب خود لاجواب سی کھڑی تھیں۔

“اور میں بھی کتنا پاگل ہوں۔ جو تم نے فیصلہ کیا۔ اسے چپ کر کے مان لیا۔ کاش میں نکاح سے پہلے ہی ثاقب کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتا تو آج یہ نوبت نہ آتی لیکن خیر اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ خلع کا آپشن اسی لیے رکھا ہے اللّٰہ نے۔ میں اپنی بیٹی کا گھر تو اجاڑ سکتا ہوں لیکن اس کی پوری زندگی نہیں۔ کرنے دو لوگوں کو باتیں جو کرتے ہیں۔ مجھے پرواہ نہیں۔ ہانیہ کی شادی اب ثاقب سے کسی صورت نہیں ہو گی۔یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔”وہ اٹل لہجے میں بولے تھے۔ طانیہ بیگم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے میں آجاؤں گی آدھے گھنٹے تک۔”تارا فون کان سے لگائے بے تاثر لہجے میں بولی تھی۔ دوسری طرف اسفر فاتحانہ انداز میں مسکرایا تھا۔

“لیکن پھر اس بات کی کیا گارینٹی ہو گی کہ آپ وہ وہ تصویریں ڈیلیٹ کر دیں گے؟”

“بے بس تم ہو میرے سامنے میں نہیں۔ تو میرے خیال سے تمہیں ایسی شرطیں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ پھر بھی میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ میں وہ تصویریں ڈیلیٹ کر دوں گا۔ تم اگر یقین نہ بھی کرو تو مجھے پرواہ نہیں ۔ کیونکہ نقصان تو تمہیں ہی ہونا ہے۔”وہ مزے سے بولا تھا۔ تارا سلگ کر رہ گئی تھی۔ اس نے غصے سے کال کاٹ دی تھی۔ اسفر نے اسے ایک چوک کا نام سینڈ کیا تھا۔ اسے پہلے وہاں جانا تھا۔ پھر پتہ نہیں اس نے کہاں بلانا تھا۔

گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے خود کو کول ڈاؤن کیا اور وارڈروب سے بلیک شال نکال کر اپنے ارد گرد لپیٹے ہوئے میکال کو کال ملائی۔

“میں جا رہی ہوں اسفر کے پاس۔”وہ اپنے گلے میں پہنے لاکٹ کو انگلی سے چھوتے ہوئے بولی تھی۔ دراصل اس لاکٹ میں ایک مائیکرو کیم تھا جو ویڈیو اور آڈیو کے ساتھ ساتھ لوکیشن کے بار میں بھی ساری معلومات دے سکتا تھا۔ اس کا لنک میکال کے فون سے جڑا تھا۔

“ہمم۔ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ گھبرانا نہیں۔ “میکال نے اسے ہدایت دی۔ وہ بھی پوری طرح تیار تھا۔

تارا فون بند کر کے کمرے سے نکلی اور سیڑھیوں سے نیچے آئی تو بالاج سے سامنا ہو گیا۔ وہ تھوڑا گڑبڑا گئی تھی۔

“کہیں جا رہی ہو؟”بالاج نے پوچھا۔

“ہاں۔ ایک دوست سے ملنے ۔”وہ تیزی سے کہہ کر اس کے پاس سے ہوتی گزرنے لگی۔

“میں لے جاتا ہوں۔”

“نہیں اس کی ضرورت نہیں۔….. میں میکال کے ساتھ جا رہی ہوں ۔”اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔ دراصل وہ اکیلی جا رہی تھی ۔ ڈرائیور کو بھی ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی اس لیے اس کا بہانہ بھی نہیں بنا سکتی تھی۔ کیونکہ بالاج کی نظریں پورچ تک بھی جا سکتی تھیں۔

بالاج کو سخت برا لگا تھا اس کا میکال کے ساتھ جانا۔ وہ اسے روک دینا چاہتا تھا لیکن دو سال کی دوری سے ان کے رشتے میں ایک جھجھک سی آ گئی تھی۔ وہ پہلے کی طرح اس سے ضد نہیں کر سکتا تھا۔ وہ میکال پر غصے ہوتا باہر آیا تو تارا گلی سے نکل کر سڑک پر جا رہی تھی ۔ بالاج کو حیرت ہوئی ۔ اگر اس نے میکال کے ساتھ جانا تھا تو یہیں سے میکال کی گاڑی میں بیٹھ جاتی۔ سڑک پر کیوں جا رہی تھی۔ وہ تشویش سے سوچتا اس کے پیچھے گیا ۔ تارا نے اس وقت تک ٹیکسی روک لی تھی اور اس میں بیٹھ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ تارا تک پہنچتا گاڑی سٹارٹ ہو چکی تھی۔

“تارا نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا۔”وہ الجھ گیا۔ پھر جلدی سے ارد گرد دیکھا۔ محلے کے ایک لڑکے کا موٹر سائیکل وہاں موجود تھا۔ وہ ساتھ ہ کھڑا اپنے کسی دوست سے گپیں مار رہا تھا۔

“عادل یار کچھ دیر کیلیے بائیک چاہیے تمہاری۔ ارجنٹ ہے۔ “وہ ملتجی ہوا۔ عادل نے لاپرواہی سے چابی اس کی طرف اچھال دی جو بالاج نے ایک ہاتھ سے ہی کیچ کی اور بائیک پر بیٹھ کر کک ماری۔ فل ریس دیتے ہوئے اس نے بائیک کو ٹیکسی کے پیچھے لگا دیا۔

تارا نے ٹیکسی والے کو پہلے ایک ایڈریس بتایا ۔ جب وہ وہاں پہنچے تو اسفر نے دوسرا ایڈریس سینڈ کر دیا تھا۔ اسی طرح تارا ایک سنسان سڑک پر بنی بڑی سی عمارت کے سامنے پہنچ گئی تھی۔ اس نے ٹیکسی رکوائی اور عمارت کی جانب بڑھ گئی۔ اس عمارت کے کئی فلورز تھے لیکن نچلا فلور پورچ کی طرح تھا جس میں بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں اور چار پانچ ستون بھی تھے ۔ بالاج نے بھی بائیک سڑک کے کنارے روکی اور اس کے پیچھے ہو لیا۔ تارا ایک لفٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔

“یہ یہاں کیا کرنے آئی ہے؟”بالاج بڑبڑاتا ہوا تیزی سے آگے بڑھا ۔ تارا نے مڑ کر ایک دفعہ پیچھے دیکھا تو وہ ستون کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ پھر سے اس کے پیچھے جانے ہی لگا تھا کہ تارا کی آواز پر اس کے قدم کچھ پل کیلیے رکے تھے۔

“دیکھیں میں نے آپ کی شرط پوری کر دی۔ اب میری پکچرز ڈیلیٹ کر دیں۔”اس کا لہجہ التجائیہ تھا۔ بالاج ٹھٹکا تھا۔

“اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔ ایکس مسز۔”اسفر قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ بالاج اس کی آواز پہچان گیا تھا۔ اس کے رگ و پے میں ایک آگ سی جل اٹھی تھی۔ وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر ستون کی اوٹ سے نکلا اور تارا کی طرف بڑھا تھا۔ اسفر کے ساتھ کھڑے چار اسلحہ بردار آدمیوں نے اس پر پسٹلز تان لی تھیں لیکن وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بنا تارا کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا اور شرارے اگلتی آنکھیوں سے اسفر کو دیکھنے لگا تھا۔ تارا کو اسے یہاں دیکھ کر حیرت بھی ہوئی تھی اور پریشانی بھی۔

“چاند…….تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”وہ دبی دبی آواز میں اس سے پوچھنے لگی۔

“اور تم یہاں کیا کرنے آئی یو؟”بالاج نے چہرہ موڑ کر اس سے غصے سے پوچھا تھا ۔ تارا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

“تو تم نے میری شرط پوری نہیں کی۔ میں نے تمہیں کسی کو بتائے بغیر اکیلے آنے کا کہا تھا۔ “اسفر کی آواز پر دونوں نے اسے دیکھا۔

“اسفر مجھے نہیں پتہ یہ میرے پیچھے کیسے آ گیا۔ میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔ آپ اسے جانے دیں۔”وہ بالاج پر تانی گئی پسٹلز سے خوفزدہ ہوتی بولی تھی۔

“میں تمہیں یہاں اکیلے چھوڑ کر بالکل بھی نہیں جاؤں گا۔”وہ اٹل لہجے میں بولا تھا۔

“اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ “اسفر کہہ کر اپنے ایک ساتھی سے پسٹل پکڑنے لگا تھا۔ تارا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی کچھ پل کیلیے ساکت رہ گئی تھی۔ اس کا دل ڈر کے مارے کانپنے لگا تھا۔ اسفر نے پسٹل بالاج کی پیشانی کی سیدھ میں تان لی۔ تارا حواس باختگی سے بالاج کو اپنے سامنے سے ہٹانے لگی تھی۔

“چاند تمہیں خدا کا واسطہ چلے جاؤ یہاں سے۔”وہ حد سے زیادہ گھبرا رہی تھی۔ لیکن بالاج اپنی جگہ پر جم کر کھڑا اسفر کو گھور رہا تھا۔

“میرے ہوتے ہوئے تم تارا کو اب مزید بے بس نہیں کر سکتے۔”

“چلو تمہیں مار کر تو کر سکتا ہوں نا۔”اسفر نے مزے سے کہا تھا۔ تارا کھینچ کھینچ کر سانس لینے لگی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے مدد مانگنے لگی تھی۔

“اسفر نہیں پلیز۔”اسفر نے ٹریگر پر انگلی رکھی تو تارا گڑگڑائی۔ اگلے ہی لمحے گولی کی آواز فضا میں گونج اٹھی۔ تارا نے چیختے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ ساتھ ہی تڑا تڑ فائرنگ ہونے لگی تھی۔ اسفر اور اس کے آدمیوں کی چیخیں سن تارا نے حیرت سے آنکھیں کھولیں ۔ اسفر کے سارے آدمی گر چکے تھے۔ ان کے اوپری دھڑ خون سے لت پت تھے جبکہ اسفر کے اس بازو پر گولی لگی تھی جس سے اس نے پسٹل پکڑی ہوئی تھی۔ اس کی پسٹل اب نیچے گری پڑی تھی اور وہ زخمی بازو پر ہاتھ رکھے کراہ رہا تھا۔

اس کے پیچھے ایک دوسری لفٹ میں میکال اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ پسٹل تانے کھڑا تھا۔ وہ بلیک ڈریس پینٹ اور شرٹ پر بلیک کوٹ پہنے کسی سیکیورٹی گارڈ کی طرح لگ رہا تھا۔ جبکہ اس کے دائیں بائیں کھڑے چار سیکیورٹی گارڈز ایک سیکیورٹی کمپنی کے لوگ تھے جو اس نے اسفر کو قابو کرنے کیلیے ہی ہائر کیے تھے۔ انہوں نے اسفر ک آدمیوں پر فائر کیے تھے جبکہ میکال نے اسفر پر۔

بالاج کو تو صرف حیرت ہوئی تھی لیکن اس قدر خون خرابہ دیکھ کر تارا بہت خوفزدہ ہو چکی تھی۔ وہ بالاج کا بازو پکڑے کانپنے لگی تھی۔ بالاج نے اس کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔ میکال تیزی سے ان کے قریب آیا۔

“بالاج تم تارا کو لے کر گھر چلو میں یہاں سنبھال لوں گا۔ سڑک کی دوسری جانب میری گاڑی کھڑی ہے۔”وہ بالاج کو اپنی گاڑی کی چابی دیتا حکمیہ لہجے میں بولا تھا۔ بالاج تو اسفر کو ابھی سبق سکھانا چاہتا تھا لیکن تارا کی حالت کے پیش نظر اس نے میکال کی بات مان لی اور تارا کو لے کر وہاں سے لے کر چلا گیا۔

میکال اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا اسفر کی طرف متوجہ ہوا جو درد کے باعث منہ کے زاویے بگاڑ رہا تھا اور اپنی پسٹل دوبارہ پکڑنے کی کوشش میں تھا۔ میکال نے ہاتھ کا مکا دے کر اس کے منہ پر مارا تھا۔ وہ پلٹی کھا کر نیچے گرا تھا۔ بس پھر کیا تھا میکال تو شروع ہو گیا اپنا پسندیدہ کام کرنے۔ مار مار کر اسفر کا حشر بگاڑ دیا اس نے۔ اس کے آدمی اسفر کے آدمیوں کو اٹھا کر لے گئے تھے۔ اب وہ دون وہاں اکیلے رہ گئے تھے۔

“م….. مجھے چھوڑ دو۔ میں آئیندہ کبھی تارا کو تکلیف نہیں دوں گا۔”اسفر اس کے سامنے گڑبڑایا تو وہ استہزائیہ ہنسا۔

“میں تمہیں اس قابل چھوڑوں گا تو تم کچھ کر پاؤ گے نا۔ “وہ غرایا تھا۔ تبھی اس کے دو آدمی اس کے پاس آ چکے تھے۔

“اسے کتوں کے سامنے ڈال دو۔”وہ سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا جبکہ اسفر کی آنکھیں خوف سے پھٹنے والی ہو گئی تھیں۔ وہ خود کو بچانے کیلیے چیخنے چلانے لگا تھا لیکن میکال کے آدمیوں کے سامنے اس کی ایک نہیں چل سکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ کیا تھا؟ ذرا بتانا پسند کرو گی ؟”بالاج غصے سے پوچھ رہا تھا۔ تارا جو اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی کھڑکی سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھنے لگی۔

“تم اسفر کے پاس کیوں گئی تھی؟”بالاج ڈرائیونگ کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔

“اس نے مجھے دھمکی دی تھی۔”تارا نے اسے ساری بات بتا دی۔ بالاج کے ہاتھ کی گرفت سٹئیرنگ پر سخت ہوئی تھی۔ایک تو اسے اسفر پر غصہ آیا۔ پھر تارا پر کہ اس نے اس کی بجائے میکال سے مدد مانگی اور میکال پر اس لیے غصہ آیا کہ اس نے اسفر کو پکڑنے کیلیے تارا کو استعمال کیا۔ حالانکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اسفر کو پکڑنے کیلیے تارا کا اس کے پاس جانا ضروری تھا۔ اس کے گلے میں موجود ہار نے میکال کو ساری رپورٹ فراہم کر دی تھی ۔ وہ تارا سے ایک پل کیلیے بھی غافل نہیں ہوا تھا۔

“اسفر کو کسی اور طریقے سے بھی پکڑا جا سکتا تھا۔ تمہیں میکال کی بات نہیں ماننی چاہیے تھی۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو۔”وہ ابھی تک غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔

“ہوا تو نہیں نا۔ میکال نے جو کیا وہ ٹھیک ہی کیا۔ اس نے اسفر نامی مصیبت سے میرا پیچھا چھڑوا دیا۔ اور مجھے کیا چاہیے۔”

“تمہیں میرے علاوہ باقی سب ہی ٹھیک لگتے ہیں۔”وہ شاکی لہجے میں سوچنے لگا تھا۔

“تم مجھے بھی اپنی پریشانی بتا سکتی تھی۔ اس میکال سے تو مدد مانگ لی تم نے؟ مجھ سے کیوں نہیں مانگی؟”وہ بچوں کی طرح شکوہ کرنے لگا۔ تارا مسکرا دی۔

“کیونکہ تم ابھی بچے ہو نا۔”تارا نے اس کے بال بگاڑے۔

“ڈونٹ ٹریٹ می لائک آ کِڈ۔”وہ چڑ کر بولا تھا۔ وہ جتنا بھی میچور ہو جاتا تارا نے ہمیشہ اسے بچہ ہی سمجھنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس واقعے کے بارے میں گھر کے کسی فرد کو نہیں بتایا گیا تھا۔ میکال نے اسفر کو ہینڈل کر لیا تھا اور بالاج نے تارا کو سنبھال لیا تھا لیکن بالاج کو اسفر پر جو غصہ تھا وہ اسے سزا دیے بنا ختم نہیں ہونا تھا۔ اسی وجہ سے بالاج اس وقت میکال کے گھر میں موجود تھا۔

“یہ لو اپنی گاڑی کی چابی اور مجھے یہ بتاؤ کہ اسفر کہاں ہے؟”وہ چابی کو میز پر رکھتے ہوئے بولا تھا۔

“اسفر وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے تھا ۔”میکال نے کندھے اچکائے۔ تارا نے اسے فون کر کے منع کر دیا تھا کہ بالاج کو اسفر کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔

“سیدھی طرح جواب دو پوچھا ہے۔”بالاج کو تپ چڑھا۔ میکال نے مسکرا کر اس کے غصے کو مزید بڑھایا۔

“اجازت نہیں ہے اس بات کا جواب دینے کی۔”وہ بے چارگی سے بولا۔

“مطلب؟”بالاج نے بھنویں سکیڑیں۔

“مطلب تو تم تارا سے ہی پوچھنا۔”اوہ تو یہ تارا کا حکم تھا۔ بالاج گہری سانس بھر کر رہ گیا تھا۔

“دیکھو مجھے بتا دو وہ کہاں ہے۔ یہ نہ ہو اس کا غصہ میں تم ہر اتار دوں۔”اس کی بات پر میکال ہنسا۔

“ارے تو اتارو نا۔ میں بھی دیکھوں تم میں کتنی ہمت ہے۔ ویسے بھی مجھے بہت شوق ہے فائٹنگ کا۔ ہو سکتا ہے تم ایک اچھے مقابل ہو ثابت ہو جاؤ میرے لیے۔ وہ کیا ہے نا کہ مجھے اپنے سے کم لیول کے لوگوں پر داؤ پیچ آزما کر مزا نہیں آتا ۔ اور کوئی میرے لیول کا مجھے ملتا بھی نہیں۔ “وہ اپنی تعریفوں کے پل باندھتا تھکتا نہیں تھا۔ بالاج بے زار سی شکل بنائے اسے دیکھ رہا تھا۔

“ٹھیک ہے مت بتاؤ۔ میں خود ڈھونڈ لوں گا اسے۔”وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

“ابھی کچھ دن رک جاؤ۔ وہ اس قابل نہیں کہ تمہارا غصہ برداشت کر سکے۔ بے چارہ پہلے ہی بہت زخمی ہے۔ اور جتنے تم نازک مزاج ہو اسے دیکھ کر ہی تمہیں قے آ جائے گی۔”میکال کی بات وہ بس دانت کچکچا کر ہی رہ گیا تھا۔