Tara Ka Chand by Dua Fatima NovelR50435 Tara Ka Chand Episode 8
Rate this Novel
Tara Ka Chand Episode 8
Tara Ka Chand by Dua Fatima
شام کا وقت ہونے والا تھا۔ ہانیہ اب تھک چکی تھی۔ آج وہ سارا دن مہمانوں کی خدمت کرتی رہی تھی۔ طانیہ نے اسے کمرے میں جانے سے منع کر دیا تھا اور مہمانوں کے ساتھ رہنے کا کہا تھا۔ وہ شروع سے ہی اپنے خالہ زاد کزنوں سے فرینک نہیں تھی۔ ایک تو ان کا گھر دور تھا جس کی وجہ سے ان کا بہت کم آنا جانا ہوتا اور دوسرا ثاقب کی بے باک نظروں سے وہ ہمشہ ہی خار کھاتی تھی۔ اس کے سامنے ہانیہ کو عجیب سی الجھن ہوتی تھی۔ آج بھی وہ اس کی وجہ سے کافی پریشان ہوئی تھی۔ اور جب وہ کمرے میں آئی تو سمعیہ وہاں گئی۔ وہ چپکو قسم کی لڑکی تھی۔ جب باتیں کرنا شروع ہوتی تو جان ہی نہیں چھوڑتی تھی۔ ہانیہ اکتا کر بیک گارڈن میں کچھ دیر سکون کی تلاش میں آ گئی لیکن یہاں بھی اسے سکون نہیں ملا تھا۔ ثاقب نے اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے اسے دیکھ لیا تھا اور اب اس کے پیچھے آ چکا تھا۔
“اے لڑکی ! بات سنو۔”وہ بڑے رعب سے بولا۔ ہانیہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر گھبرا گئی۔
“جی ثاقب بھائی؟”وہ منمنائی۔
“نہ بے بی۔ مجھے بھائی نہ کہنا۔ اتنی خوبصورت لڑکی مجھے بھائی کہے یہ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ “وہ خباثت سے بولا۔ ہانیہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔
“شرم نہیں آتی آپ کو اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے۔”وہ بھڑکی۔ ثاقب نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
“میرے سامنے زبان چلاتی ہو؟”وہ چبا چبا کر بولا تھا۔
“میرا ہاتھ چھوڑیں۔”ہانیہ خوف سے کانپنے لگی۔
“چھوڑنے کیلیے تھوڑی پکڑا ہے۔”اس نے گھٹا پسا ڈائیلاگ مارا۔ ہانیہ کا دل کیا اس کے منہ پر رکھ کر دو چار تھپڑ مارے۔ لیکن پھر ماما اور خالہ زارا کو کیا جواب دیتی سو خود پر ضبط کر گئی۔
“میں ماما سے آپ کی شکایت لگاؤں گی۔”اس کی دھمکی پر وہ ہنس پڑا۔
“جس کو مرضی شکایت لگاؤ۔ تمہاری کوئی نہیں سننے والا۔ سب میری ہی حمایت کریں گے۔ “وہ پراسرار سا مسکرایا۔ ہانیہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں سمجھ آئی ۔ چلو چھوڑو اس بات کو۔ کبھی نا کبھی تو آ ہی جائے گی سمجھ۔ ابھی میرے لیے چائے بنا دو اور کمرے میں لے آنا۔”وہ حکمیہ لہجے میں کہہ کر پلٹ گیا۔ ہانیہ نے نفرت اور غصے سے اسے جاتے دیکھا تھا۔
“جاہل انسان۔ تمہارے لیے چائے بناتی ہے میری جوتی”وہ بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تارا سے دور تو آ گیا تھا لیکن یہاں بھی اس کی یادوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے گروپ میں سب سے زیادہ ہنس مکھ اور شرارتی لڑکا تھا لیکن اب اسے یوں گم صم دیکھ کر سبھی فکر مند ہوئے تھے۔ زاہد نے اس کی خاموشی کی وجہ بھی پوچھنی چاہیے لیکن اس نے ٹال دیا اور خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ آج اسے پانچواں دن تھا یہاں۔ پرسوں اسے گھر واپس جانا تھا۔ پتہ نہیں تارا اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی۔ وہ تارا کی یادوں میں گم تھا جب اس کا فون بجا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو ماما کی کال تھی۔
“اسلام علیکم ماما۔”وہ فون کان لگا کر سست سے لہجے میں بولا ۔
“وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو؟”طانیہ بیگم نے پوچھا۔
“جی ٹھیک ہوں۔ “
“واپس کب آ رہے ہو؟”
“پرسوں۔”
“تمہاری خالہ آئی ہوئی ہے۔ کل آنے کی کوشش کرو۔”
“ماما مجھے نہیں پتہ۔ میں پرسوں ہی آؤں گا۔”
“میں کچھ نہیں سن رہی ۔ تم بس کل آ رہے ہو۔ پہلے بھی اپنی من مانی کر کے ٹرپ پر چلے گئے۔ اب میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں گی۔ شرافت سے کل گھر پہنچو۔”طانیہ بیگم نے غصے میں کر اسے دو چار سنا کر فون رکھ دیا۔ وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہانیہ باجی!”سمعیہ کی آواز پر ہانیہ نے کوفت سے سر جھٹکا۔
“سمعیہ میں نے تمہیں کل بھی کہا تھا مجھے باجی مت کہو۔ ایک سال ہی تو بڑی ہوں تم سے۔ آپی کہہ لو لیکن یہ باجی کا دم چھلا میرے ساتھ مت لگایا کرو۔”ہانیہ چڑتے ہوئے بولی تو سمعیہ نے دانت نکالے۔
“ارے آپ تو غصہ ہی کر گئیں۔ باجی اور آپی کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے نا۔ اچھا چلیں میں آپ کو آپی ہی کہہ لیا کروں گی۔ ” ہانیہ جواب دیے بنا آگے بڑھنے لگی۔
“ویسے آپ مصروف تو نہیں؟”
“ہاں بہت مصروف ہوں۔”وہ تیزی سے بولی۔ سمعیہ نے منہ لٹکا لیا۔
“اچھا میں آپ سے کیک بنانا سیکھنا چاہتی تھی۔”
“سوری۔ میرے پاس ابھی ٹائم نہیں۔”دوپہر کا کھانا بھی اسی نے تو بنانا تھا۔ اب وہ اس کے سر کھپانے سے تو رہی۔
“اچھا آپ کام کریں میں آپ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتی ہوں۔”وہ بولی تو ہانیہ نے اسے دل ہی دل میں کوسا۔
“نہیں دراصل میں تارا آپی کے پاس جا رہی ہوں۔ ہم بعد میں باتیں کریں گے۔”
“تو میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں نا۔”سمعیہ نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ لیا۔ ہانیہ نے دانت پیستے ہوئے آنکھیں بند کر گئی پھر چہرہ موڑ کر اسے دیکھ کر تحمل سے مسکرائی۔
“چلو۔”
کچھ دیر بعد وہ دونوں تارا کے کمرے میں موجود تھیں۔
“یہ میری کزن ہے ۔ سمعیہ ۔”ہانیہ نے تعارف کروانا ضروری سمجھا۔
“ہمم۔ جانتی ہوں میں اسے۔”تارا اسے تنقدی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی تھی۔کل عرفہ بیگم طانیہ کے پاس زارا سے ملنے گئی تھیں تو طانیہ بیگم نے انہیں بتایا تھا کہ وہ اپنے دونوں بچوں کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کر رہی ہیں۔ عرفہ بیگم نے یہ بات تارا کو بھی بتائی تھی۔ اب تارا اسے غور سے دیکھ رہی تھی لیکن وہ کہیں سے بھی چاند کے جوڑ کی نہیں لگ رہی تھی۔
“آپ کا کمرہ بہت خوبصورت ہے۔”سمعیہ ارد گرد دیکھتے ہوئے بولی۔
“جب کسی سے ملیں تو سلام دیتے ہیں۔”تارا نے نصیحت کی۔
“جی….. اسلام علیکم۔”وہ شرمندہ لہجے میں بولی۔
“وعلیکم السلام۔ کیسی ہو؟”
“جی ٹھیک۔”
“کتنا پڑھیں ہوئی ہو؟”تارا اس کا انٹرویو لینے لگی۔
“جی دس پڑھی ہوں۔”
“یہ جی جی کرنا تو بند کرو۔”تارا نے کہا تو وہ خفیف سا مسکرا دی۔
“جی…..”وہ بے دھیانی میں پھر جی بول گئی۔ شاید یہ اس کی عادت تھی یا وہ تارا کے سامنے اپنا اچھا امیج بنانا چاہتی تھی۔
ہانیہ یہاں بھی اس سے اکتا گئی تھی اور تارا آپی سے اپنی ہی باتیں چھیڑ کر بیٹھ گئی۔ سمعیہ لاتعلق سی ادھر ادھر دیکھنے لگی تبھی اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ایک تصویر پر پڑی جس میں چاند کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور تارا اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ ان دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ چمک رہی تھی۔ سمعیہ چاند کی من موہنی صورت دیکھ کر صدقے واری ہو گئی تھی جبکہ تارا کو اس کے ساتھ دیکھ کر اس کے ماتھے پر ناگواری کی لکیر ابھری تھی جو تارا اچھی طرح محسوس کر چکا تھی۔ وہ کر تو ہانیہ سے ہی باتیں رہی تھی لیکن اس کا دھیان سمعیہ کی طرف تھا۔ نجانے اسے کیوں برا لگا تھا کہ سمعیہ چاند کی تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ حالانکہ وہ چاند کی ہونے والی بیوی تھی۔
“چاند جی کتنے سوہنے لگ رہے ہیں۔”سمعیہ چاند کے خیالوں میں کھوئی بولی تو تارا دل ہی دل میں تلملا کر رہ گئی۔ ہانیہ نے بھی اسے تیکھی نظروں سے گھورا۔ وہ تو سمعیہ کو اپنی بھابھی کے طور پر بالکل بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔
“ماشاءاللہ کہہ دو۔ بچے کو نظر لگاؤ گی کیا۔ “تارا نے تصویر کو پکڑ کر الٹا کر دیا۔ سمعیہ شرمندہ ہو گئی۔ پہلی نظر میں وہ تارا سے مرعوب ہوئی تھی۔ اس کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی۔ پھر اس سے بات کر کے اسے تارا کا مزاج بھی اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا۔ وہ اپنی مرضی کے خلاف کچھ بھی پسند نہیں کرتی تھی۔ سمعیہ کو وہ بہت مغرور بھی لگی تھی اور تصویر میں اسے چاند کے ساتھ دیکھ کر اسے جیلسی بھی ہوئی تھی۔ اگر یہاں اس کے دیہات کی کوئی لڑکی ہوتی تو اب تک اس کے ہاتھوں ذلیل ہو چکی ہوتی۔ لیکن تارا کے سامنے اچھے اچھوں کی زبان گنگ ہو جاتی تھی تو پھر وہ کس کھیت کی مولی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اچانک ثاقب اس کے سامنے آ گیا۔ وہ یکدم رک گئی ورنہ اس سے ٹکرا جاتی۔ اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“میں نے تمہیں کل چائے کا کہا تھا۔ میرا حکم کیوں نہیں مانا تم نے؟”وہ کڑے تیوروں کے ساتھ پوچھ رہا تھا۔
“میں آپ کی ملازمہ نہیں ہوں۔”وہ نڈر لہجے میں بولی۔
“نہیں ہو تو کیا ہوا۔ بننے میں دیر ہی کتنی لگے گی۔” اس کی بات پر ہانیہ کو خوف آیا۔ دل میں خدشے ابھرنے لگے۔
“آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں آخر؟ دوسروں کے کو نیچا دکھا کر آپ کو کیا ملتا ہے؟”
“سکون۔”
“یہ سکون کہیں اور جا کر لیں۔ مجھے تنگ مت کریں۔”وہ کہہ کر جانے لگی جب ثاقب نے اس کی کلائی پکڑ لی۔
“ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔ ایک دفعہ میری دسترس میں آؤ پھر تمہیں جوتے کی نوک پر نہ رکھا تو نام بدل دینا میرا۔ میری پیاری باندی!”اس نے ہانیہ کی عزت نفس کر بری طرح مجروح کیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
“آپ کی دسترس میں جانے سے بہتر ہے میں زہر کھا کر مر جاؤں۔”وہ نفرت سے بولی تھی۔ ثاقب کا قہقہہ گونجا تھا۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ چاند لابی میں داخل ہوا اور ثاقب کو ہانیہ کی کلائی پکڑے دیکھ کر اس کی کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔ ثاقب نے جب اسے دیکھا تو جلدی سے ہانیہ کی کلائی چھوڑ دی۔ ہانیہ نے بھی چونک کر اسے دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
“بے غیرت انسان تمہاری جرات کیسے ہوئی؟….”چاند غصے سے کھولتا ثاقب کی طرف بڑھا اور ایک مکا رکھ کر اس کی ناک پر مارا۔ وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا۔ ہانیہ حیرت سے منہ پر ہاتھی رکھ گئی۔ چاند کو اتنے غصے میں اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس نے تو کبھی مچھر بھی نہیں مارا تھا اور اب ثاقب کے ناک سے خون نکال دیا تھا۔
“ارے آپ کو غصہ بھی آتا ہے مسیر جی۔”ثاقب ناک سے خون پونچھتے ہوئے ڈھیروں کی طرح مسکرا رہا تھا۔
“آئیندہ میری بہن سے دور رہنا ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمہاری۔”وہ اس وقت بڑی عمر کا سنجیدہ مرد لگ رہا تھا۔ ہانیہ ڈر رہی تھی کہ کہیں چاند اسے بھی غلط نہ سمجھ لے۔ وہ ثاقب کو وارن کر کے اس کی طرف پلٹا تو ہانیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“میرا کوئی قصور نہیں۔”وہ بمشکل دھمی آواز میں بول پائی تھی۔ چاند نے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچتا اس کے کمرے میں لے گیا۔ ہانیہ تو شرمندگی اور ڈر سے احتجاج بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ کمرے کے وسط میں لا کر چاند نے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔ ہانیہ نے ڈرتے ہوئے اسے دیکھا۔
“جب تک وہ لڑکا یہاں ہے تم اپنے کمرے میں ہی رہنا۔”وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔
“اگر ماما مجھے ان لوگوں کی مہمان نوازی کا نہ کہتی تو میں ان کے سامنے بھی نہ جاتی۔ میرا یقین کرو ۔ “وہ صفائی دینے لگی۔
“میں جانتا ہوں ۔ “چاند نے اس کا گال تھپکا۔ اس کا یقین پا کر ہانیہ کے دل کو سکون سا ملا تھا۔ اسے اپنے بھائی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چاند واپس آ گیا؟”تارا کو جب یہ پتہ چلا تو اسے خوشی بھی ہوئی اور ساتھ اس پر غصہ بھی آیا۔ وہ اسی وقت چاند کے گھر کی طرف بڑھی تھی۔
چاند اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھا اور ابھی ابھی شاور لے کر واشروم سے نکلا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے گیلے بال ماتھے پر چپکے ہوئے تھے اور اسے مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔ وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑے ہو کر کنگھی کر رہا تھا جب تارا دھڑ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اسے اتنے دنوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر چاند کے دل میں درد سا اٹھا تھا۔ وہ سپاٹ نظروں سے تارا کو دیکھنے لگا تھا۔
“آ گئے تم؟”وہ دانت کچکچاتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔ اس کے خطرناک تیوروں کو دیکھ کر چاند نے تھوک نگلا۔
“تارا…..!”اس سے پہلے کہہ وہ کچھ کہتا تارا کا ہاتھ اس کے سفید گال پر پڑتا اسے سرخ کر گیا تھا۔ یہ منظر اندر داخل ہوتی سمعیہ نے بھی دیکھا تھا۔ وہ ششدر سی دل پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔ اسے تارا پر سخت غصہ آیا تھا۔
“تارا کے بچے…… تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے اگنور کرنے کی ہاں؟”وہ دو مزید تھپڑ اس کے سر اور کمر پر مار چکی تھی۔ چاند خاموشی سے اس کے ہاتھوں پٹ رہا تھا۔
“بولو کیوں مجھ سے پوچھے بنا ٹرپ پر گئے اور میری کال بھی رسیو نہیں کی۔ “اب وہ اس کا کان مروڑ رہی تھی۔
“آہ…..”اسے کان کے کھینچنے سے بہت درد ہوتا تھا اور تارا اتنا ہی اس کا کان کھینچتی تھی۔
“یہ کیا کر رہی ہیں؟ چھوڑیں چاند کو۔”سمعیہ سے اب مزید برداشت نہیں ہوا تھا۔ وہ تارا کو چاند سے دور کرنے آئی تھی۔ تارا نے اسے دھکا دیا۔ وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑا گئی۔ چاند نے تعجب سے اپنی حمایتی لڑکی کو دیکھا جو اس کی کزن تھی لیکن اسے کچھ خاص اچھی نہیں لگتی تھی۔
“ہمارے معاملے سے دور رہو لڑکی….. اور تم ۔ جواب دو میری بات کا۔”تارا سمعیہ کو وارن کر کے چاند کی طرف مڑی۔
“سوری۔”چاند نے نظریں جھکا کر کہا۔ تارا کا سارا غصہ اڑن چھو ہو گیا۔ چاند نے سمعیہ کے سامنے اس سے معافی مانگ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ اس کیلیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ تارا نے جتاتی نظروں سے سمعیہ کو دیکھا۔ سمعیہ بھی حیران تھی ۔ وہ چاند کو اتنا مار رہی تھی اور چاند اس سے معافی مانگ رہا تھا۔ ان کا یہ تعلق سمعیہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
“ہمم…..ٹھیک ہے۔ معاف کیا تمہیں لیکن آئیندہ ایسی غلطی کی نا تو بہت پٹو گے تم مجھ سے۔”وہ سینے پر بازو باندھتے ہوئے بولی تھی۔ چاند نے شکر کیا اس کا غصہ اترا تھا۔ وہ اس سے خفا تھا لیکن پھر بھی اس کی ناراضگی کی پرواہ کر رہا تھا۔
“چاند جی آپ ٹھیک تو ہیں نا؟ کہیں لگی تو نہیں؟”سمعیہ بڑے میٹھے لہجے میں بولتی چاند کے قریب آئی۔ چاند نے سٹپٹا کر تارا کو دیکھا جو تیکھی نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔وہ دل ہی دل میں سمعیہ کو کوس کر رہ گیا۔
“آپ تو میری بات کا جواب بھی نہیں دے رہے اور مجھے آپ کے آنے کا کتنا انتظار تھا۔”۔وہ دوپٹے کو مروڑتے ہوئے لاڈ سے بولی۔ چاند اب اسے کیا جواب دیتا۔
“مجھے پتہ ہے آپ ان کی وجہ سے مجھ سے بات نہیں کر رہے ۔ کوئی بات نہیں۔ میں بعد میں آ جاؤں گی۔ “وہ خوامخواہ ہی شرما رہی تھی اور تارا کو زہر لگ رہی تھی۔
“اوہ خدایا ۔ اس نمونے کے ساتھ چاند کا کیسے گزارا ہو گا۔”تارا بڑبڑا کر رہ گئی۔
“میں نے آپ کیلیے ایک تحفہ بھی لے کر رکھا ہے۔ “سمعیہ کہہ کر منہ میں دوپٹہ ڈالتی وہاں سے بھاگ گئی۔ چاند تارا سے نظریں چرانے لگا۔
“خبردار چاند جو اگر تم نے اس لڑکی سے باتیں کیں اور اس سے تحفہ لیا تو۔ بہت برا حشر کروں گی میں تمہارا۔ ابھی تم چھوٹے ہو۔ ان خرافات میں مت پڑو۔”تارا سخت لہجے میں کہتی واک آؤٹ کر گئی۔ چاند نے گہرا سانس خارج کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماما !” ہانیہ نے طانیہ بیگم کو پکارا۔
“کیا ہے ہانیہ؟ دیکھ نہیں رہی میں مصروف ہوں۔”طانیہ بیگم اپنی بہن کیلیے نت نئے کھانے بنانے میں مصروف تھی۔ اس کے پاس اپنے بچوں کیلیے ٹائم ہی نہیں تھا۔
“میں بھی تو کب سے آپ کے فارغ ہونے کا ویٹ کر رہی ہوں۔ اب میری بات سن بھی لیں۔”ہانیہ ضدی لہجے میں بولی۔
“بولو۔”وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولیں۔
“ماما یہ جو ثاقب بھائی ہیں نا…..”وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ طانیہ نے اس کی بات کاٹی۔
“بھائی نہیں ہے وہ تمہارا۔ عقل کی اندھی۔ تمہارا ہونے والا شوہر ہے۔”طانیہ بیگم تو جیسے خود کی سب کچھ سوچ کر بیٹھی تھیں۔ ہانیہ صدمے سے کچھ دی کیلیے گنگ رہ گئی تھی۔
“میں اس جاہل انسان سے بالکل بھی شادی نہیں کروں گی۔”وہ یکدم بھڑکی۔ طانیہ نے کھینچ کر تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔ وہ ایسی ہی ماں تھی۔ بیٹے پر وہ اتنی سختی نہیں کرتی تھیں لیکن بیٹی کو ذرا ذرا سی غلطی پر مارتی تھیں۔ تبھی ہانیہ کو ان سے پیار نہیں تھا۔
“تمہاری شادی ثاقب سے ہی ہو گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے اور تم جانتی ہو میرا فیصلہ کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ تمہارے بابا بھی نہیں ۔ سو چپ چاپ میری بات مانو۔ اگر سکندر تم سے اس رشتے کے بارے میں پوچھیں تو تم نے ہاں میں جواب دینا ہے۔ میری عزت مٹی میں ملائی تو اچھا نہیں ہو گا ۔”وہ کرخت لہجے میں کہہ کر چلی گئیں۔
طانیہ بیگم کو اپنا وقت بھول گیا تھا۔ وہ جوانی میں بھی بہت ضدی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پسند سے شادی کی تھی اور ان کے ماں باپ ان کی ضد کے آگے کچھ بول بھی نہیں سکے تھے۔ اور جب شادی ہوئی تو سکندر صاحب بھی ان کے فیصلے کو ہی ترجیح دینے لگے جس سے انہیں مزید شہہ ملی ۔ وہ سکندر کے سامنے ایک اچھی عورت تھیں۔ انہوں نے ہمشہ سکندر کے سامنے اپنا امیج برقرار رکھا تھا اسی لیے سکندر اس کی بات کو اہمیت دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ جو بھی فیصلہ کر رہی ہیں ٹھیک ہی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے معاملے میں کبھی بھی طانیہ کے فیصلے کی تردید نہیں کی تھی۔ یہ بات ہانیہ اچھی طرح جانتی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ماں اس کیلیے ایسا شوہر منتخب کرے گی جو عورتوں کو کچھ سمجھتا ہی نہیں۔ اس نے اپنی شادی کے حوالے سے بہت خواب دیکھے تھے۔ ہر لڑکی کی طرح وہ ایسا شوہر چاہتی تھی جو اس سے محبت بھی کرے اور سب سے بڑھ کر اس کی عزت کرے۔ لیکن ہر کسی کی خواہش پوری ہو جائے یہ ممکن نہیں۔ وہ اپنی قسمت پر رونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا نے سکندر کے سامنے ہی طانیہ سے ثاقب اور ہانیہ کے رشتے کی بات کی تھیم ۔ طانیہ تو جی جان سے راضی تھی اس لیے اسے انکار کا خدشہ نہیں تھا۔ سکندر صاحب نے بھی طانیہ کے فیصلے کو سراہا تھا۔ ثاقب ان کے سامنے بہت مؤدب جو بنا رہا تھا۔ اس کے کرتوت ان کو معلوم ہی نہیں تھے۔ وہ تو بس اپنی بیوی کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے تھے۔ بیٹی کے رشتے کا انتہائی اہم کام میں بھی انہوں نے سارا معاملہ بیوی پر چھوڑ دیا تھا۔ ہانیہ اپنی قسمت پر روم کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
یہ بات جب چاند کو پتہ چلی تو اس کا دماغ ہی گھوم گیا تھا۔
“یہ میں کیا سن رہا ہوں ماما؟”وہ اس وقت ماما بابا کے کمرے میں موجود تھا اور بہت غصے سے یہ سوال پوچھ رہا تھا۔
“کیا؟”طانیہ بیگم کو سخت حیرت ہوئی۔ آج سے پہلے اس نے کبھی ان سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔
“آپ ہانیہ کی شادی ثاقب سے کر رہی ہیں؟”
“ہاں تو؟”وہ تعجب سے بولیں جبکہ سکندر صاحب جو ٹی وی دیکھ رہے تھے انہوں نے اس کی طرف ایک نظر دیکھا تھا۔
“آپ ہانیہ کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں؟”
“کوئی ظلم نہیں کر رہی میں اس کے ساتھ۔ گھر بسا رہی ہوں اس کا۔”
“گھر بسائیں لیکن اسے یوں اپنے سر سے کسی بوجھ کی طرح تو مت اتاریں۔ وہ ثاقب کہیں سے بھی اس کے قابل ہے ؟”
“یہ فیصلہ کرنا تمہارا کام نہیں ہے کہ ہانیہ کے قابل کون ہے اور کون نہیں۔ ثاقب میرا بھانجا ہے۔ دیکھا بھالا ہے۔ ہانیہ کو خوش رکھے گا۔ میں نے سوچ سمجھ کر ہی یہ رشتہ جوڑا ہے۔ “
“آپ کو بھانجھا نظر آ رہا ہے اور اپنی بیٹی نظر نہیں آ رہی؟”وہ ان کی سوچ پر افسوس کرتے ہیں بولا۔
“چاند یہ کس لہجے میں تم اپنی ماما سے بات کر رہے ہو؟” سکندر صاحب کو اس کا لہجہ سخت ناگوار گزرا تھا۔
“بابا آپ بھی؟”وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
“بیٹا تمہاری ماما نے غلط فیصلہ نہیں کیا۔”وہ دھیمے لہجے میں بولے تو چاند نے اکتا کر سر جھٹکا۔ انہیں پہلے ماما کی کوئی بات غلط لگی تھی جو اب لگتی۔
“آج کل کے زمانے میں کون اپنے بچوں سے پوچھے بغیر ان کا رشتہ طے کر دیتا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہی۔”
“ہانیہ سے پوچھ کر ہی یہ رشتہ طے ہوا ہے۔ تم خوامخواہ اس مسلے میں مت پڑو۔”طانیہ بیگم نے سفید جھوٹ بولا تو وہ غصے سے انہیں دیکھتا کمرے سے نکل گیا۔ وہ جانتا تھا کہ ہانیہ اس رشتے سے خوش نہیں ۔ اس سے جتنا ہو سکا تھا وہ اس کے حق میں لڑا تھا۔ لیکن جب مان باپ کو ہی احساس نہیں تھا تو وہ کیا کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ کو یہ یقین ہو چکا تھا کہ اب اس کی قسمت میں ثاقب لکھا جا چکا ہے۔ وہ رو کر اپنی قسمت کو بدل نہیں سکتی تھی۔ اس نے اس بات سے سمجھوتا کر لیا تھا۔ وہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ کتنے خواب تھے اس کے اپنی نئی زندگی کے بارے میں۔ اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ صرف خواب ہی تھے۔ کبھی حقیقت نہیں بن سکتے تھے۔ اب اسے خوابوں سے نکل کر تلخ حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔ وہ بے دردی سے اپنے آنسو پونچھنے لگی تھی۔ تبھی اچانک اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔ اس نے چونک کر دیکھا تو سامنے ثاقب دنیا جہان کی خباثت اپنے چہرے پر سجائے کھڑا تھا۔ اس کی شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر ہانیہ کے دل میں اس کیلیے نفرت کی آگ بڑھی تھی۔ وہ اسے شرر بار نظروں سے گھورتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”وہ غصے سے پوچھنے لگی۔
“اپنی ہونے والی بیوی سے ملنے آیا ہوں۔”وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بولا تھا۔
“شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ۔”وہ دبی دبی آواز میں چیخی تھی۔ ثاقب تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
“اپنے ہونے والے شوہر کو انگریزی میں گالیاں نکال رہی ہو؟”ثاقب غصے سے اس کی طرف بڑھا۔ اسے انگلش کی بالکل سمجھ نہیں آئی تھی۔ ہانیہ حیران ہوئی تھی۔ خالہ زارا تو بتا رہی تھیں کہ ثاقب نے ایف اے کیا ہوا ہے۔ اسے اتنی انگلش بھی نہیں آتی تھی تو پھر اس نے پڑھا کیا تھا۔
“جاہل انسان۔ دفع ہونے کا بول رہی ہوں آپ کو یہاں سے ۔”وہ بولی تو ثاقب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے ایک قدم کا فاصلہ ختم کر کے ہانیہ کو کھینچتے ہوئے اپنے قریب کیا۔ ہانیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ وہ اس کی حرکت پر سر تا پا سلگ اٹھی تھی۔ وہ شدید غصے کے عالم میں ثاقب کو دیکھنے لگی تھی۔ اس کی نظروں میں حوس کو محسوس کر کے ہانیہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔ہتک سے اس کا چہرہ سرخ ہو اٹھا تھا۔
“اتنا غصہ مت کرو بے بی۔ یہ نہ ہو بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے۔ اور یہ نخرے کسی اور کو دکھانا۔ میں ہوں ذرا الٹے دماغ کا بندہ۔ چمڑی ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں جو مجھ سے بدتمیزی کرے۔ “وہ اس کے کان کے قریب پھنکار رہا تھا۔ ہانیہ اس وقت اذیت کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ نجانے یکدم اسے کیا ہوا کہ وہ اپنی ساری ہمت مجتمع کر کے ثاقب کو دھکا دے گئی۔ ثاقب اسے الگ ہو کر ایک قدم پیچھے کی جانب لڑکھڑایا تھا۔ اور دوسرے ہی لمحے ہانیہ کا نازک ہاتھ اس کے گال پر پڑا تھا۔ ثاقب کو اتنا درد تو نہیں ہوا تھا لیکن جو بے عزتی اور ذلت اسے محسوس ہوئی تھی وہ حد سے بڑھ کر تھی۔ اس کا دل کیا تھا ہانیہ کی جان لے لے۔ ایک دفعہ اس کا ہاتھ اٹھا بھی تھا لیکن وہ خود کو روک گیا تھا۔ وہ کام خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر کسی کو پتہ چل جاتا کہ اس نے ہانیہ پر ہاتھ اٹھایا ہے تو اس کا رشتہ جو پکا ہو چکا تھا اسے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگنی تھی ۔ ایک دفعہ شادی ہو جاتی پھر وہ جتنا چاہے اس پر تشدد کرتا کوئی اسے روکنے والا نہیں تھا۔ اور یہ اس کی خام خیالی ہی تھی۔
“ابھی تو چھوڑ رہا ہوں میں تمہیں لیکن یا رکھنا شادی کے بعد اس تھپڑ کا سو گنا بڑھ کر بدلہ لوں گا۔ کر لو موج شادی تک جتنی کرنی ہے۔ “وہ غصے سے کھولتا باہر نکل گیا۔ ہانیہ کانپتے دل کے ساتھ گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
