Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 8
Rate this Novel
Sarab Episode 8
Sarab by Sara Arooj
اس وقت پورے کراچی میں بارش کا موسم تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔جلد یا دیر بارش ہونے کے امکانات ہیں۔۔
حیا!جی مما۔۔۔
بیٹا آج یونی سے اوف کر لو۔
بارش کا موسم ہو رہا ہے۔۔
اگر بارش ہو گئی تو کیا کرو گی۔۔
پھس نہ جاو۔
مما یونی سے بھی اوف نہیں کر سکتی ۔اور ایکڈمی بھی جانا ہے بچوں کے پیپر ہیں۔۔
۔۔اچھا چلو دیہان سے جانا اور ایک شال احتیاط کے لیے لے جانا
جی مما۔۔۔
چلیں خداحافظ نکلتی ہوں۔۔
ہمم خدا کی امان میں جاو۔
بیگم آپ کو ہمارا سرپرائز کیسا لگا تھا۔۔
رستم شاہ اور ان کی بیگم اس وقت لون میں بیٹھے موسم سے لطف اندوز ہو تے ہوئے ساتھ چائے پی رہے تھے۔
بہت اچھا۔۔۔
میری لائف کا سب سے اچھا سرپرائز تھا۔۔
اچھا ایک بات بتائیں۔
جی پوچھیں؟
آپ نے مجھے یہ کیوں کہا تھا کہ آپ کا دوست اور ان کی فیملی آ رہی ہیں۔؟
ان کا سوال سن کر رستم شاہ مسکرانے لگے۔۔
بیگم آپ کے بچے جوان ہو چکے ہیں۔لیکن آپ ابھی تک معصوم ہی ہیں۔۔
کیا مطلب آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔؟
نہیں میں مزاق نہیں اڑا رہا۔۔
دیکھیں اگر میں بتا دیتا کہ میرا دوست عرف آپ کا بھائی آرہا ہے تو سرپرائز کیسا رہتا۔
ہم بتاہیں۔۔
آپ کے چہرے کی وہ خوشی کیسے دیکھتا۔۔
ہم یہ تو ہے۔۔
آپ بھائی کے ساتھ کونٹیک میں تھے کیا؟
نہیں۔۔۔
تین دن پہلے جب میں مال گیا تھا تو میری ملاقات آفندی سے ہوئی تھی کیونکہ اس وقت وہ بھی وہیں موجود تھا۔۔بھابھی کے ساتھ۔
دراصل وہ ایک سال پہلے ہی آیا ہے ملائیشیا سے۔۔اور وہ ہمارے پرانے گھر گیا تھا مگر ہم ہوتے تو ملتے۔۔۔۔۔ہم نے گھر ہی چینج کر لیا ہے۔۔
مال میں ہماری ملاقات اتفاق سے ہوئی تھی۔۔
او اچھا۔۔۔
بھائی ویسے اتنے سال تک بیرون ملک میں رہے اور کوئی کونٹیک بھی نہیں کیا۔۔
اور بھائی نے وجہ بھی نہیں بتائی۔۔
اس کے بارے میں بعد میں بات ہو گی۔۔
تم ایک کام کرو میرا کوئی ڈریس نکال دو آج آفس کا بھی راؤنڈ لگا لوں۔۔
جی ابھی نکال دیتی ہوں آپ فریش ہو جائیں۔۔
کلاس جیسا کہ آپ سب نے گروپ لیسٹ دیکھ لی ہو گی
اب اسی کے حساب سے آپ کی پریزینٹیشن اور اسائمنٹ ہوں گی۔۔۔
آج آپ سب کو پریزینٹیشن کا ٹوپیک دے دیا جائے گا۔۔سو اسی کے حساب سے آپ سب نے پریزینٹیشن اور اسائمنٹ بنانی ہے ۔۔۔
نیکسٹ ویک سے پریزینٹیشن سٹارٹ ہے۔۔
اسایمنٹ جمع کروادیں آج سب۔۔Previous
اوکے سر۔۔۔
اب ہر گروپ کا لیڈر ائے اور یہ پیپر اٹھائیں ۔۔اس میں اسائمنٹ کا ٹوپیک ہے۔۔
۔۔۔۔
مسسز وجدان(حیا کی مما) آج صحن میں بیٹھے پرانا ایلبم دیکھ رہی تھیں۔۔جس میں وہ اور ان کی نانی نانا ٫ان کی دوست٫تھی۔۔
اگلی تصویر ان کی شادی کی تھی جس میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ تھیں۔۔
کتنی مکمل تصویر تھی۔۔۔
کتنی خوش لگ رہی تھیں وہ۔۔
لیکن وہ خوشیاں وقتی تھیں۔۔۔
بیتے دن یاد کر کے ان کی آنکھوں سے اشک بہنے لگے۔۔
یہ وہ ایلبم تھی جسے انہوں نے کتنے عرصے سے سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔۔انہوں نے آج تک یہ ایلبم حیا کو بھی نہیں دکھائی تھی۔۔
ایلبم دیکھنے کے بعد انہوں نے اس کو لوک میں رکھا۔۔
ٹھک ٹھک۔۔۔ٹھک ٹھک۔۔۔
ابھی وہ ایلبم رکھ کر بیٹھی تھیں کہ کسی نے دروازہ بجایا۔۔۔۔
ماہم مجھے لگ رہا ہے بارش ہو گی۔۔
لائیبہ صرف تمہیں نہیں سب کو ہی لگ رہا ہے۔۔
پر۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی سر کی آواز ائی۔۔
چلیں اب جلدی سے سب گروپس میں بیٹھ جائیں۔۔اور پریزینٹیشن کی تیاری کریں۔۔
ہم لو ۔۔کر لو بات۔۔
اتنا پیارا موسم ہے اور سر کو پریزینٹیشن کی پڑی ہے۔۔۔
ایک تو سر بھی بورنگ ہے۔۔۔
یہ نہیں کہ بچوں کو بولیں کہ جاؤ موسم انجوائے کرو۔۔۔پریزینٹیشن بناو۔۔
وہ سر کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔۔
لائیبہ ہم یونی میں ہیں۔۔۔اسکول میں نہیں کی ٹیچر انجوائے کروانے گراؤنڈ میں کے جائیں۔۔۔
ماہم اینڈ لائیبہ آپ لوگ کون سی سوچوں میں گم ہیں۔ابھی تک گروپ میں نہیں بیٹھیں۔۔
سر بس جاہی رہے ہیں۔۔جی جلدی جاہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب بیٹھ گئے گروپ میں۔۔۔؟لو بھلا اب سر کی نظر اتنی بھی کمزور نہیں کہ ہم نظر ہی نہ ائیں۔۔وفا نے کہا۔۔
وفا۔۔انسان بنو۔۔حیا نے کہا۔
تمہیں میں کیا نظر آہ رہی ہوں۔۔؟
پاگل ۔۔۔کیونکہ تم نے سر کی آدھی ادھورہ بات سنی ہے۔۔حیا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
کسی کو کوئی کنفیوشس؟
نو سر ۔۔۔
اوکے سٹارٹ کریں۔۔۔
جی تو میں آپ کا لیڈر ہوں۔۔
عون شاہ۔۔
پتہ ہے کام کی بات پر آؤ۔۔
ماہم نے منہ بنا کر کہا۔۔مینڈکنی کام کی ہی بات بتارہا ہوں۔۔
عون نے دانت کی نمائیش کرتے ہوئے کہا۔۔
اچھا ٹوپیک بتائیں۔۔
حیا نے کہا ۔۔
مبادا کہ پھر لڑائی پر اتر آ ئیں۔۔
ہنہہ۔۔۔جہاز کہیں کہا۔۔
ماہم نے منہ میں میں کہا۔۔
جی تو ہمارا ٹوپیک ۔۔
Equilibrium ( توازن )
۔۔او اتنا آ سان ٹوپیک۔۔حیا نے کیا۔۔
ہیں۔۔؟اسان کب ہے۔۔؟؟۔
سر نے کیا ہے پورا ڈیفائن کرنا ہے۔۔اوکے اس چیپٹر کو سمجھتے ہیں ۔۔اور ٹاپیک بانٹ لیتے ہیں۔۔۔
اور اس ٹاپیک پر گھر جاکر ریسرچ کریں گے۔۔
اور اس کے حساب سے پیک کلییکٹ کر کے اچھی سی پریزینٹیشن دے دیں گے۔۔۔
ہممم نوٹ آ بیڈ آ ئیڈیا۔۔۔۔۔
ویسے ابھی صرف 5 منٹ رہ گئے ہیں بریک ہونے میں۔۔۔
جی۔۔تو میں ٹوپیک ڈیسٹیبیوٹ کروں گا۔۔۔
عون نے کہا۔۔
۔۔جی تو اس کی اسٹیٹس میری پیاری سی کزن مینڈکی یعنی ماہم بتائیں گی۔۔۔
واٹ۔۔؟؟؟
ماہم تمہاری کزن۔۔۔
ماہم تم نے بتایا نہیں۔۔؟؟ بے وفا دوست
لائیبہ تو ماہم پر چڑھ دھوڑی۔۔
بدتمیز عون تم نے مجھے بھی نہیں بتایا۔۔۔
کیسے ہو تمام لوگ۔۔۔
جبکہ ماہم عون کو ملامت کر رہی تھی۔۔۔
اور عون ماہم کی شکل دیکھ کر لطف اندوز۔۔۔جبکہ حیا اور وفا ان کے ڈرامے۔۔۔۔
یار ہمیں بھی کل پتہ چلا ہے۔۔۔کہ ہم کزن ہیں۔۔۔
عون نے کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔
عون نے کل کا واقعہ ان کو بتایا۔۔۔۔
اووووو۔۔۔۔
Congratulations…
ماہم عون تمہارا کزن ہے۔۔۔
لائیبہ نے کہا۔۔
بدقسمتی سے۔۔
ماہم نے کہا۔۔۔
جبکہ۔۔۔عون کا منہ لٹک گیا۔اور سعد کا قہقہہ نکلا۔۔۔
عون بیٹے تیری تو کہیں بھی عزت نہیں ہے۔۔۔
ہمیں بھی ٹوپیک بتا دو۔۔۔
جی۔۔لائیبہ۔۔ایسٹیٹس کی
Example
بتائیں گی۔۔۔
حیا ڈیریویشن۔۔۔
وفا۔۔۔laws…بتائیں گی۔۔۔
سعد ڈائیگرام بنائے گا۔۔۔
اسٹارٹئکون کرے گا۔۔۔
میں یعنی عون۔۔۔
تم اتنا آ سان کیوں لو گے۔
کیونکہ۔۔اس پریزینٹیشن کو بنانا بھی میں نے ہے۔۔۔
اوکے۔۔
اب سب اپنے اپنے نمبر دو اور واٹس ایپ پر گروپ بناؤں گا۔۔۔
اگر کسی کو کسی سے کچھ پوچھنا ہوا تو پوچھ سکتا ہے۔۔
ایک شرط پر۔۔۔کہ گروپ میں فضول چیٹ نہیں ہو گی۔۔ڈن۔۔۔
حیا ایک کام کرو تم بنا کو گروپ اچھا۔۔۔چکو ٹھیک ہے۔۔
حیا چلو یار ۔۔۔
گراؤنڈ میں چلیں۔۔بریک ہو گئی ہے۔۔
ہمم چلو۔۔۔
کیا ہم بھی جوائین کر سکتے ہیں۔۔؟؟
یس شیور۔۔۔جبکہ۔۔وفا نے منہ بنایا۔۔۔
وہ چاروں گراؤنڈ میں چلی گئیں۔۔۔جبکہ عون اور سعد کلاس میں ہی رہے۔۔۔
وہ اس وقت آفس میں گلاس ونڈو کے پاس کھڑا نیچے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔افس کے سامنے ہی ایک مشہور اور خوبصورت سا ریسٹورنٹ تھا۔۔
جس میں شہر کے امیر لوگ اپنی فیملی کے ساتھ آرہے تھے اور ساتھ موسم بھی انجوائے کر رہے تھے۔۔۔۔ابھی وہ دیکھ رہا تھا کہ ریسٹورنٹ میں سے نکلنے والی ہستی کو دیکھ کر اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچی۔۔۔۔۔
منال جو کہ اپنی دوستوں کے ساتھ موسم انجوائے کرنے کے لئے شاپنگ پر آئی تھی۔۔
شاپنگ کے بعد ان نے آئیس کریم کا پلان بنایا۔۔۔ابھی آئیس کریم کھانے کے بعد وہ ریسٹورنٹ سے نکل رہی تھی۔۔کہ زارون کی نگاہ کا مرکز بنی۔۔۔
منال اس وقت جینس کے اوپر شورٹ کڑتی پہنے ۔۔ڈوپٹے سے بے نیاز بالوں کو کھولے جو کہ سٹیپ کٹینگ میں تھے کھولے۔۔۔اپنی دوستوں کے ساتھ گاڑی کی جانب جا رہی تھی۔
زارون نے نفرت سے اس کی ڈریسنگ کو دیکھ کر منہ موڑا۔۔
زارون کو وہ وقت یاد آیا کس طرح وہ پہلے شلوار قمیض میں سر پر دوپٹہ رکھتی تھی۔۔
دوگلی۔۔۔
زارون نے کہتے ہی۔۔نخوت سے سر جھٹکا۔
