Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 20
Rate this Novel
Sarab Episode 20
Sarab by Sara Arooj
ماضی۔۔
وہ اس وقت ہسپتال کے کوری ڈور میں مسلسل چکر کاٹ رہا تھا۔۔اندر اس کی بیوی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔
وجدان بیٹھ جاؤ تم کب سے ادھر ادھر گھوم رہے ہو۔ایسے کیسے بیٹھ جاؤں رانیہ،اندر میری بیوی زندگی اور موت کے بیچ کھڑی ہے۔۔۔۔۔وہ جھنجھلائے ہوئے بولا۔۔۔
جبکہ وہ وجدان کی روزی کے لئیے اتنی فکر دیکھ کر جل بھن گئی۔۔۔
ڈاکٹر میری وائیف۔۔۔؟؟؟وہ ڈاکٹر کو آئی سی او سے باہر آتے دیکھ ان سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
مبارک ہو ۔۔آپ کو بیٹی ہوئی ہے ۔۔اور آپ کی وائف بھی بلکل ٹھیک ہیں۔۔انہیں تھوڑی دیر میں ورڈ میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔۔بٹ مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ آپ کی وائف اب ماں نہیں بن سکتیں۔۔۔
ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہہ کر جا چکی تھیں۔۔۔۔
او لگ دی لاہور دی اہ۔۔
جس حساب نال چل دی اہ۔۔۔
او لگ دی پنجاب دی اہ۔۔
جس حساب نال تقدی اہ۔۔۔۔۔۔
ماہم جو لائیبریری میں اپنا فون بھول گئی تھی،وہ لے کر واپس جا ہی رہی تھی کہ اس کو اپنے عقب سے گانے کی آواز سنائی دی۔۔جہاں دو لڑکے کھڑے اس کو دیکھ کر اپنی طرف سے ناکام ہیرو بنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
ماہم نے پیچھے موڈ کر غصے سے انہیں دیکھا ۔،
ہائے۔۔بیبی تو غصے میں اور قیامت ڈھاتی ہیں۔۔۔
پہلے لڑکے نے دوسرے کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔
عون جو ماہم کو ڈھونڈتا اوپر آیا تھا ،یہاں کا منظر دیکھ اس کا دماغ گھوم گیا۔۔۔
وہ غصے میں ان دونوں پر جھپٹا ،ایک تو جان بچا کر بھاگ چکا تھا جبکہ دوسرا اس کے ہتھے چڑھ چکا تھا۔۔۔تیری ہمت کیسے ہوئی…اس کے بارے میں ایسے فقرے بولنے کی……
وہ اس لڑکے پر جھکا ۔۔اس پر مکوں ،تھپڑوں کی برسات کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔
عون ہٹو اس پر سے۔۔۔۔پاگل ہو گئے ہو۔۔۔دماغ ٹھیک ہے تمھارا۔۔۔تم ہوتے کون ہو اس کو اس طرح مارنے والے۔۔
وہ عون کو اس لڑکے کہ اوپر سے اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔
اس نے خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔ایک پل کے لئیے تو ماہم کا دل لرزا۔۔۔
جب کہ اب عون اس لڑکے کو چھوڑ ماہم کی جانب بڑھا۔۔۔
اور وہ لڑکا اپنی جان بخشی پر دم دبا کر بھاگا تھا۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟میں ۔میں کون ہوتا ہوں؟؟؟
وہ اس کو دیوار کے۔ساتھ پین کرتا ،خود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
ہا۔۔ہاں۔۔۔
اگر تم بھول رہی ہو تو میں یاد کروا دیتا ہوں کہ میں تمہارا شوہر ہوں۔۔۔۔۔۔۔سمجھی۔۔
وہ اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اور۔دوسری چیز۔۔۔آئندہ تم مجھے اس قسم کے واحیات لباس میں نظر نہ آو۔۔
وہ اس کے ٹاپ اور جینس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کیوں؟؟تمھیں کیا تکلیف ہے؟؟
میں جس قسم کا بھی لباس پہنوں۔۔۔
ابھی صرف نکاح ہوا ہے۔۔رخصتی نہیں۔۔جو تم۔اس طرح مجھ پرحکم جھاڑ رہے ہو۔۔۔۔
وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔
وہ اس کی بات سن کر مسکرایہ۔۔۔
نکاح کے وقت ہی تمھارا نام میرے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔۔۔اب تم میری عزت ہو۔۔۔یعنی عون شاہ کی۔۔۔او میں نہیں چاہتا کہ میری عزت کی طرف کوئی بھی غلط نگاہ سے دیکھے۔۔۔۔وہ ایک ہاتھ دیوار پر رکھے دوسرے سے اسکا چہرہ دبوچے آنکھوں میں غّصہ سموئے بولا۔۔۔
ماہم کو وہ کہیں سے بھی شرارتی ،تنگ کرنے والا عون نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
سمجھی۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں۔۔۔
اب جاو۔۔۔
وہ اس کو آزادی بخشتے ہوئے بولا۔۔۔۔
جنگلی،بدتمیز،جہاز کہیں کا۔۔۔
وہ دل ہی دل میں اس کو کئی القابات سے نوازتے جا چکی تھی
ماضی۔۔۔
کیسی ہو روزینہ ؟؟رانیہ پھول لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔اور روزی سے مخاطب ہوئی۔۔۔
تمھیں پتہ ہے آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔
ارے یہ مت سمجھنا کہ میں اس بچی کی پیدائش پر خوش ہوں۔۔۔
بلکہ وجدان نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔۔کہ وہ تمھاری ڈیلوری کے ایک ہفتے بعد مجھ سے شادی کرے گا۔۔۔۔۔۔
جب کہ رانیہ کی بات سن کر روزی نے بڑی مہارت سے اپنے آنسوں کو بہنے سے روکا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ اس سب کے لئیے پہلے سے تیار تھی۔۔۔۔لیکن اتنی جلدی یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔۔۔
آج بات کان کھول کر سن لو۔۔۔وجدان تم سے نہیں مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔وہ تو تمہارے ساتھ بس مجبوری کا رشتہ نبھا رہا ہے۔۔۔۔عزت سے اس کی زندگی سے چلی جاو۔۔۔ورنہ مفت کی زلت اٹھانی پڑے گی۔۔۔
بھابھی۔۔۔۔۔۔بھابھی۔۔۔۔
اس سے پہلے رانیہ کچھ اور کہہ کر روزی کے دل کو ٹھیس پہنچاتی۔۔گل کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔
گل نے رانیہ کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔۔اور اس کو نظر انداز کرتی ہوئی روزی کی جانب ائی۔۔۔
جبکہ وہ خود کے نظرانداز کیے جانے پر جلتی کڑتی باہر چلی گئی۔۔
اپ کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔وہ اس کے گال چومتی ہوئی بولی۔۔تمہیں بھی۔۔۔
اچھا بھابھی یہ بتائیں کیا ہوا ہے؟؟؟
تم ہوئی ہو ۔۔۔ ۔۔
میں۔۔۔مطلب۔۔لڑ۔۔لڑکی۔۔۔۔۔۔یا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خوشی کے مارے نارا لگایا۔۔۔
پری ہے کہاں؟؟؟
نرس لے کر گئی ہے۔۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے میں اتنی ایکسائیٹڈ تھی کہ یونی سے سیدھا یہاں آئی ہوں۔۔
ہممم پتہ ہے۔۔۔۔مجھے۔۔۔اپنی اس گل کا۔۔۔
یار وفا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔
حیانے۔۔۔وفا سے کہا۔ ۔۔۔
ہائے۔۔۔۔اللہ میں کون سی دیوار سے اپنا سر پھوڑوں؟؟
وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔
اب تمہیں کیا ہوا؟؟؟ لڑکیا ایسے موقع پر شرماتی ہیں۔۔۔اور تم ادھر مریضہ بنی پھر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
نکاح کے وقت تمہیں مٹھائی کی جگہ نا ڈیسپرین دوں گی۔۔۔
اب چپ کر کے بیٹھو اور میکپ مکمل کرنے دو۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد اس نے حیا کو تیار کیا تھا۔۔۔۔
واؤ !ماشاءاللہ نظر نہ لگے میری جان کو۔۔۔۔۔۔۔
اتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔
حیا پیچ کلر کی اوپن میکسی میں ملبوس،لائیٹ میکپ کے ساتھ،سر پر حجاب کیے۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔
اور بھی زیادہ حسین لگو گی اگر اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لو اور یہ اینگری برڈ والا فیس ہٹا دو تو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسسز رستم آئیں میں آپ کو دلہن کی ماں سے ملاتی ہوں۔۔
ایکسیوز می۔۔۔۔مس روزینہ۔۔۔
میٹ مائی فرینڈ زنیرہ رستم شاہ۔۔۔
اینڈ زنیرہ میٹ مائی ان لو۔۔روزینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
زینی۔۔۔
روزی۔۔۔۔۔
جبکہ ان دونوں کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ساکت تھیں۔۔۔۔
زینی نے آگے بڑھ کر روزی کو خود میں شدت سے بھینچ لیا۔۔۔
آنسوں دونوں کی آنکھوں سے رواں تھے۔۔۔
۔۔۔۔
کیا آپ لوگ ایک دوسرے کو جانتی ہیں؟؟؟
انہیں یوں ایک دوسرے کو تکتا پا کر۔۔۔اور گلے لگا دیکھ مسسز زمان نے کہا۔۔۔
جی۔۔۔جی۔۔۔ہم ہم دونوں بچپن کی دوستیں ہیں۔۔۔
ارے یہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔۔۔۔۔
چلیں آپ لوگ بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں۔۔ اور جا کر لڑکی کو لے آئیں نکاح شروع کرواد یتے
زینی آؤ تمہیں میں اپنی بیٹی سے ملاتی ہوں۔۔۔
روزی اسے اوپر کمرے میں لے گئیں۔
ماضی ۔۔۔۔
روزی کو گھر شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔۔سب اس ننھی پری کی آمد پر بہت خوش تھے ۔سوائے مسسز نتاشہ کے کیونکہ انہیں بیٹے کی خواہش تھی۔۔۔۔
بھابھی اس کا نام کیا سوچا ہے آپ نے؟؟؟
میں نے تو ابھی تک نہیں سوچا۔۔۔تم بتاؤ اگر تمہارے ذہن میں کوئی پیارا سا نام ہے تو۔۔۔۔
حیاء۔۔
میں نے تو حیا نام سوچا ہے آپ بتائیں کیسا نام ہے۔۔۔
ماشاءاللہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔
تو پھر حیا ہی رکھ لیتے ہیں۔۔۔۔
آسلام علیکم۔۔۔۔
زینی ایک ہاتھ میں کیک دوسے میں پھول اور شوپر لئیے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔
کیا چل۔رہا ہے؟؟
کچھ نہیں آپی ہم تو گڑیا کا نام۔سوچ رہے تھے۔۔۔۔
تو پھر کیا نام سوچا ہے ۔۔۔۔؟؟اس نے بچی کو گود میں اٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔حیا۔۔
ہمم پیارا نام ہے بہت۔۔۔
ارے روزی یہ دیکھ یہ تو تمہاری کاپی ہے۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔بٹ اس کی آنکھیں گل اور اپنے پاپا کی طرح ہیں۔۔۔۔لائیٹ براون۔۔
اچھا روزی میری بات سنو۔۔
کل ہمارے گھر پر پارٹی ہے۔۔۔بھائی نے ایک ڈیل فائینل کی ہے۔۔۔اس کے بعد میں ابورڈ چلی جاؤں گی۔۔۔
کیا۔۔۔۔تم باہر جا رہی ہو۔۔۔۔؟؟
ہاں یار بھائی کی وش ہے ورنہ میرا تو بلکل بھی دل نہیں ہے۔۔۔۔
یار میں دیکھوں۔۔گی۔۔۔اگر میری طبعیت ٹھیک ہوئی تو۔۔۔
دیکھو روزی تمہیں میری قسم ہے تم آؤ گی۔۔
پاگل۔۔ہو تھپڑ لگاؤں گی ایک۔۔۔قسم کیوں دے رہی ہو۔۔۔
کیونکہ تم نے ایسے آنا نہیں ہے۔۔۔
اس کے بعد ناجانے ہم کب ملیں پلیز۔۔۔منع مت کرنا میں انتظار کروں گی۔۔۔
چلو اب چلتی ہوں۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔۔
یار نکاح کب شروع ہو گا؟؟؟؟
یہاں میری جان پر بنی ہے اور تمہیں نکاح کی پڑی ہے۔۔۔۔حیا نے غصے سے کہا۔۔۔
یار میں تمہارے لئیے ہی بول۔رہی ہوں کہ ایک بار نکاح ہو جائے گا نہ تو تمہارا سارا ڈر جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور کہتی کہ ان کو اپنی ماں کے ساتھ ایک خوبصورت درمیانی عمر کی خاتون آتی دیکھائی دی۔۔۔
حیا اور وفا ان سے ملو یہ میری بچپن کی دوست،زنیرہ ہیں۔۔۔
اسلام وعلیکم۔۔۔۔
ماشاءاللہ سے بہت پیاری بچیاں ہیں۔۔۔۔
زنیرہ ان کو دیکھ کر حیرت کا شکار ہوئی تھی لیکن وہ جلد ہی اپنی حیرت پر قابو پا چکی تھیں۔۔۔
جبکہ حیا کو وہ خاتون کہیں دیکھی دیکھی لگیں۔۔۔۔
چلو نیچے چلیں نکاح کا ٹائیم ہو چکا ہے۔۔سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
حیا تو آج اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جن کو چہرے پر آج ایک الگ ہی خوشی تھی۔۔۔۔
نکاح کا انتظام لان میں کیا گیا تھا۔۔۔پیارا سا پھولوں سے سجا اسٹیج بنایا گیا تھا۔۔۔اسٹیج کے بیچ میں ایک خوبصورت سا جالی کا پردہ لگایا تھا۔۔۔۔ایک طرف حیا دوسری طرف فیض(دلہے)کو بٹھایا گیا تھا۔۔۔
روزینہ اور زنیرہ حیا کی طرف کھڑی تھیں۔۔۔
روزی کو اپنے اوپر کسی کی نظریں محسوس ہوئیں تو اس نے ارد گرد نظریں گھمائیں لیکن سب کو اپنے کام میں مشغول دیکھ اس نے واپس اپنا دھیان حیا کی طرف لگا لیا۔۔۔
نکاح شروع کریں مولوی صاحب۔۔
حیا وجدان آپ کا نکاح فیض زمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔۔
ان میں ایک شخص ایسا تھا جو حیا وجدان کے نام سے شوکڈ تھا۔۔۔۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے؟
جی۔۔۔قبول ہے۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے؟
جی۔۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ آگے کے الفاظ کہتی کوئی داخلہ دروازے سے داخل ہوا۔۔۔
سب نے اندر آنے والی ہستی کو دیکھا جو کہ ایک نوجوان اور خوبصورت سی لڑکی تھی۔۔۔
اس لڑکی کو دیکھ مسٹر زمان کی فیملی کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔
وہ لڑکی آگے بڑی اور کھینچ کر فیض کے منہ پر تھپڑ لگایا۔۔۔۔۔پورے لان میں یکدم سناٹا چھا گیا۔۔۔۔
مجھے میکے بھیج کر یہاں تم شادی کر رہے ہو۔۔
کی کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟؟
روزی کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
مطلب یہ صاحب زادے۔۔۔بیٹے کے لئیے شادی کر رہے ہیں۔۔۔
اس لڑکی کی بات سن کر دو نفوس کے دماغ پر ماضی کا سیہ لہرایا۔۔۔۔۔۔
ایک کی آنکھوں میں ندامت اور پچھتاوا تھا جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں دکھ اور کرب۔۔۔۔۔
محبت ،اور پیار کے بڑے وعدے کیے تھے۔۔کہاں گئے وہ وعدے وہ قسمیں۔۔۔۔؟؟؟اور آنٹی آپ کیا کہتی ہیں۔۔۔؟؟بیٹیاں نہیں چاہیں..بیٹے چاہئیے ہیں؟؟؟
شائید آپ بھول رہی ہیں آپ بھی ایک بیٹی ہیں۔۔ایک عورت ہیں۔۔۔۔اور اس دنیا میں مرد اور عورت جس سے پیدا ہوتے ہیں وہ بھی عورت ذات ہے۔۔۔۔
عورت کا مقام بہت بلند ہے۔۔۔۔۔عورت کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔
جہاں خدا نے مرد کو مقام دیا ہے وہاں عورت کو بھی دیا ہے۔۔۔۔
مسٹر زمان کی فیملی اپنے آپ کو زمین میں گرتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
مام مجھے نہیں کرنا کوئی نکاح۔۔۔۔اور
تم چلو میرے ساتھ۔۔۔فیض دعا کھینچتا اپنے ساتھ اندر لے جا چکا تھا۔۔۔
روزینہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔وہ وہیں لان میں رکھے صوفے پو بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔۔اور آنسوں ان کی آنکھوں سے رواں تھے۔۔
زینی۔۔میری بیٹی کو کس گناہ کی سزا ملی ہے۔۔۔
اس کی زندگی ہی خراب ہو گئی۔۔۔۔سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔وہ منا بھی کر رہی تھی لیکن میں نے اس کے ساتھ زبردستی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئیے میں کسی امیر خاندان میں شادی نہیں کر رہی تھی اس کی۔۔۔
حوصلہ رکھو جان ۔۔۔۔۔۔۔
کیسے رکھ لوں ۔۔تم جانتی ہو جس لڑکی کی بارات چلی جائے اس سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا۔۔۔۔اب کون کرے گا میری بیٹی سے شادی؟؟؟
میرا بیٹا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
روزی نے ایک دم سے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔تم رونا بند کرو میں اپنے بیٹے سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔۔
مام میں یہ شادی کیسے کرسکتا ہوں۔؟
پلیز بیٹا دیکھو تمھاری ماں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہے ۔۔
میں اپنی دوست کو زبان دیے چکی ہوں۔۔سب کے سامنے میں نے ہامی بھری ہے۔۔
اگر تم نے اس سے شادی نہ کی تو پھر میں عون سے کہہ دیتی ہوں۔۔
مام۔۔۔۔؟؟اس نے بےبسی سے کہا۔۔۔اور ایک نظر اسٹیج کی جانب نظر دوڑائی جہاں لڑکی دلہن کے لباس میں موجود تھی مگر گھونگھٹ اور جالی کے باعث چہرہ واظہے نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
میں تیار ہوں۔۔
کچھ وقفے کی خاموشی کے بعد وہ بولا۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اسکا بھائی اپنی منکوحہ سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔وہ آج اپنے بھائی کی وجہ سے اس نکاح کے لئیے تیار ہوا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تھوڑی دیر میں نکاح طے پایا جس میں اس نے اپنے تمام حقوق کسی اور کے نام لکھ دیے۔۔۔
جبکہ دوسری جانب دلہن بنی لڑکی خالی خالی نظروں سے سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔کہ قسمت نے اس کے ساتھ کیسا کھیل کھیلا تھا۔۔۔۔۔۔
