Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 28
Rate this Novel
Sarab Episode 28
Sarab by Sara Arooj
حیا کی آنکھ کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے کھُلی اُس کا سر زارون کے بازو پر رکھا ہوا تھا۔رات کے اُس خوبصورت منظر کے بارے میں سوچ کر حیا کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔جب زارون نے اس کو اپنی محبت اپنی اپنایت کا احساس دلایا تھا۔
حیا زارون کے چہرے کو مسرمرائیز ہو کر دیکھ رہی تھی وہ بالکل انگلش فلموں کے ہیرو کے جیسے دیکھتا تھا۔گوری شفاف رنگت، پوائنٹڈ آئیز ،کھڑی مغرور ناک،گھنی مونچھوں تلے کٹاؤ دار لب۔۔۔حیا نے جلدی سے اس پر سے اپنی نظریں ہٹائیں مبابدہ کہیں اس ہی کی نظر نا لگ جائے۔۔
وہ جیسے ہی اٹھ کر جانے لگی زارون نے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا دیا وہ اس لمحے کے لئیے تیار نہ تھی اس لئیے سیدھا اس کے اوپر آہ گری۔۔
کیا ہے زارون؟ وہ شرم اور غصّے کے باعث بولی۔۔۔
جبکہ زارون اس کا شرم اور غصّہ کے باعث لال بھبھوکا چہرہ دیکھ مسکراہٹ دبائے بولا۔
کیا۔۔کیا ہے؟؟وہ اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا۔۔
یہ۔۔۔۔!!!
وہ اس کے ہاتھ کھینچ کر گرانے والی حرکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
اووو!!!!
مطلب میری وائفی مجھے چوری چوری دیکھ سکتی ہے۔۔اور میں تھوڑا سا پیار بھی نہیں کر سکتا۔۔
وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔۔
جب کہ حیا اپنی چوری پکڑے جانے پر نظریں چرانے لگی۔۔
میں۔۔میں۔تو نہیں دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اپنا بھرم رکھتے ہوئے بولی۔۔
اچھا!!
مطلب آپ مجھے نہیں دیکھ رہیں تھیں۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔!!
تو اب دیکھ لو۔۔۔
وہ اس کے دوسرے گال پر بھی پیار کرتے ہوئے بولا۔۔۔
زا۔۔زارون۔۔
وہ اس کی ٹون بدلتے دیکھ ہکلاتے ہوئے بولی۔۔
بولو۔۔۔جانِ زی۔۔
مجھے فریش ہونا ہے۔۔۔
وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی۔
جاؤ۔۔
وہ اس کا روہانسی چہرہ دیکھ اس کی جان بخشتا ہوا بولا۔۔
وہ جان بخشے جانے پر جلدی سے واشروم میں جاکر بند ہو گئی۔
جبکہ اس کو اپنے پیچھے زارون کا جاندار قہقہ سنائی دیا۔۔
_________________________________
ماہم کی صبح آنکھ اپنے اوپر وزن محسوس کر کے کھلی۔اس نے مندھی مندھی آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔تو عون صاحب کی دائیں ٹانگ ماہم پر تھی۔۔
اس نے غصّے سے اس کی ٹانگ کو اپنے اوپر سے ہٹا کر بیڈ پر پٹخا۔اور کروٹ لئے منہ پر کشن رکھ کر لیٹ گئی۔۔
ابھی وہ نیند میں جانے ہی والی تھی کہ اس کو زور دار جھٹکا لگا۔۔
کیونکہ عون نے اپنے دائیں کو ڈھیلا کر کے اس کے اوپر رکھا جو کہ ماہم کو بہت زور سے لگا تھا۔۔
اس نے پیچھے مڑ کر خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھا جو کہ کسی معصوم بچے کی طرح سوتا بنا تھا اور کروٹ لئیے نیند میں ہی اس کی جانب سرکا تھا۔۔وہ اس سے دور ہونے کے لئیے پیچھے کے جانب ہوئی اور سیدھا دھڑام کی آواز کے ساتھ بیڈ سے زمین بوس ہوئی۔۔
ہاہہاہاہہاہاہاہہا۔۔۔۔مینڈکنی گر گئی۔
عون جو کب سے نیند کا ناٹک کر کے ماہم کو تنگ کر رہا تھا۔۔
ماہم کے زمین بوس ہونے پر اس کا قہقہ نا چاہتے ہوئے بھی نکلا۔۔
تم جہاز کہیں کے ۔۔!!تمہیں تو ابھی بتاتی ہوں۔۔کب سے اٹھے مجھے پریشان کر رہے تھے۔
وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔اور اس کے بال پکڑ کے نوچے۔۔۔
آہہہ۔۔۔۔ پاگل چڑیل،مینڈکنی ،یہ کیا کر رہی ہو۔۔
چھوڑو۔۔۔کیوں مجھ بیچارے کو گنجا کرنا ہے۔۔اگر میں گنجا ہو گیا تو لڑکیاں تو مجھ غریب کو دیکھیں گی نہیں،اگر لڑکیاں نہیں دیکھیں گی تو دوسری شادی کیسے کروں گا۔۔۔۔
ہائے اللہ کوئی بچائے اس ظالم سے۔۔۔۔
تم دوسری شادی کرو گے؟
وہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔۔ماہم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔اس کی دوسری شادی کی بات پر۔۔اس کے بالوں پر اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑی۔۔
ہاں۔۔ظاہر ہے۔۔جب پہلی بیوی نہ عزت کرتی ہے نہ پیار۔۔تو دوسری شادی تو کرونگا نا۔۔
ویسے تم کیوں پوچھ رہی ہو؟تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہو گی نا؟
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
بھلا مجھے کیا تکلیف ہونی ہے۔۔میری بلا سے تم دوسری کرو ،چوتھی کرو یا پھر دسویں۔۔
میری جان چھوڑو۔۔وہ بیزاری اور غصّے سے بولی۔۔۔
وہ جو ماہم سے کچھ اور جواب سننے کا منتظر تھا۔۔اس کی بات سن کر اس کا دماغ گھما۔۔
تمہاری جان تو میں مرتے دم تک نہیں چھوڑونگا۔۔چاہے میں دوسری شادی کروں ،چوتھی یا پھر دسویں۔وہ دو۔ پل میں اپنے اور ماہم کے بیچ کا فاصلہ طے کرتا اس تک پہنچا اور اپنا چہرا اس کے چہرے کے قریب کرتا بولا۔۔
سمجھی۔۔!!
جبکہ ماہم اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر سٹپٹا گئی۔۔
________________________________
جی مما بس ہم نکلنے والے ہیں۔۔آدھے گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔۔اوکے
خدا حافظ۔۔۔
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی تصویر،
ہم جہان میں میں تیری تصویر لئیے پھرتے ہیں۔۔
زارون شیشے کے سامنے تیار ہوتی حیا کی جانب آیا۔جو کہ لال رنگ کے سوٹ میں اپنے لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے کھڑی تھی۔۔اس نے شیشے میں سے اس کے ہوش روبا حسن کو دیکھتے ہوئے گھمبیر آواز میں شعر کہا۔۔
حیا نے شیشے میں سے زارون۔ کی جانب دیکھا جو اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
زارون نے اس کے کھلے بالوں کو آگے کی جانب کیا۔۔اور اپنی پاکٹ سے ایک خوبصورت سا وائیٹ پینڈنٹ نکال کر حیا کی گردن کی زینت بنایا۔۔جوکہ اس کی سرائی دار گردن میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔پینڈنٹ پہنانے کے بعد اس نے اپنے لب حیا کے گردن پر رکھے۔۔زارون کے لب اپنی گردن پر محسوس کر کے حیا کی جان فنا ہوئی تھی۔۔
زا۔۔زارون۔۔۔وہ ہکلاتے ہوئے بولی
ششش۔۔۔۔۔۔
زارون نے اس کا رخ اپنی جانب موڑ کر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
یہ تمہاری منہ دیکھائی کا تحفہ تھا۔
جو میں کل دینا بھول گیا تھا۔۔اس کو ہمیشہ اپنے گلے کی زینت بنائے رکھنا۔۔
اب جلدی سے تیار ہو جاؤ میں باہر انتظار کر رہا ہوں۔۔مما لوگ ویٹ کر رہے ہیں۔۔
وہ کہتا محبت بھری گستاخی کر کے جا چکا تھا۔۔جب کہ حیا ابھی تک اس لمحے کے صحر میں تھی۔۔
وہ جلدی سے تیار ہو کر باہر آئی جہاں زارون اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔حیا کے گاڑی میں بیٹھتے ہی زارون نے گاڑی اسٹارٹ کر لی اور وہ لوگ شاہ مینشن کی جانب روانہ ہوئے۔
________________________________
میری منہ دیکھائی کہاں ہے؟
ماہم نے عون سے پوچھا جو کہ مزے سے صوفے پر بیٹھا موبائیل میں گیم کھیل رہا تھا۔
کون سی منہ دیکھائی؟؟
عون نے گیم سے اپنی نظریں ہٹا کر ماہم کی جانب دیکھا جو کہ ڈارک بلو جینس پر شوکینگ پینک کُرتا پہنے کھڑی تھی۔۔
وہی جو سب دلہنوں کو ملتا ہے۔
اوو!!! مطلب تمہیں اپنے اس سڑے ہوئے بھوتنی جیسے چہرے کی منہ دیکھائی چاہیے ہے۔۔
نہیں مطلب تم خود کو دلہن کہہ رہی ہو۔۔جس نے ابھی تک دلہنوں والا ایک کام بھی نہیں کیا۔۔
نہ مجھ سے صحیح سے بات کی نہ میرا انتظار کیا جو میں تمہیں منہ دیکھائی دیتا۔۔
وہ اسے تپاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
میں اپنی دوستوں کو کیا منہ دکھاؤں گی۔۔؟؟ وہ بیچاری سی شکل بنا کر بولی۔۔
یہہی والا دیکھا دینا۔۔تھوڑا سا پینٹ(میک اپ ) کر کے۔۔
میری بے عزتی ہو جائے گی!!
لو مطلب۔۔ابھی بھی اپنی عزت کی پروا ہے۔۔میری نہیں۔۔اتنا لمبا لیکچر میں نے اس لئیے ہی دیا تھا ۔۔کہ میری کم عقل بیوی کو شائید عقل کی اجائے۔۔
پر یہاں تو عقل سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آہ رہا۔۔۔
یہ لو۔۔وہ اس کے سامنے ایک باکس کرتے ہوئے بولا۔۔
واؤ۔۔ماہم خوشی سے پکڑنے لگی۔۔ایک دم عون نے باکس اچھال کر دوسری جانب کر کیا۔۔
پکڑ سکتی ہو تو پکڑ لو۔۔وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔۔
عون۔۔۔وہ کھیجتے ہوئے بولی۔۔
کیا۔۔میں تو دے رہا ہوں۔۔اب تمہارا ہاتھ نہیں پہنچ رہا تو اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔وہ اس کی ہائیٹ پر چوٹ کرتے ہوئے بولا۔۔
یہ منہ دیکھائی کا تحفہ تمہیں تب ملے گا۔۔
جب تم مجھے دل و جان سے اپنا شوہر مانو گی۔۔مجھ سے محبت کرنے لگو گی۔۔
اور۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔میری عزت کرو گی۔۔
عون کی بات سن کر وہ اچھی خاصی تپ چکی تھی۔۔
رکھو۔۔یہ سڑا ہو تحفہ مجھے نہیں چاہیے۔۔
مرو جا کے۔۔
وہ کام نہ بنتا دیکھ واپس آپنی ٹون میں آتی بولی۔۔
اس بات سے بے خبر کہ کبھی کبھی منہ بولی باتیں قبول ہو جایا کرتیں ہیں۔۔اسلئیے ہمیشہ اچھا سوچنا اور اچھا کرنا چاہیے۔۔۔
اور وہ فن کرتی کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
جل گئی ہاں جل گئی۔۔
میری باتوں سے تو جل گئی۔۔
جبکہ عون بھی ہنستا ہوا اس کے پیچھے گانا گنگناتا ہوا گیا۔۔
_________________________________
ماشاءاللہ میری پری کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔۔زنیرہ ماہم کو آتے دیکھ پیار کرتے ہوئے بولی۔۔
کیا ہوا؟ہماری پری اتنی اداس کیوں لگ رہی ہے؟؟
رستم صاحب نے اس کے بنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
انکل وہ۔۔
ڈیڈ یہ نا مجھ سے کس مانگ رہی تھی۔۔میں نے نہیں دی اسلیئے ناراض ہو گئی۔۔
عون کی اس بے باکی پر جہاں سب کے قہقے گونجے تھے۔۔وہیں ماہم کا چہرا خفقت کے مارے سرخ ہوا تھا۔۔۔اسے کہاں امید تھی کہ وہ اس بے باکی کا مظاہرہ کرے گا۔۔
وہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ انہیں باہر پارکنگ میں گاڑی کی آواز آئی۔۔
لگتا ہے بچے آہ گئے ہیں۔۔
ہمم۔۔۔
اسلام وعلیکم! زارون اور حیا نے بآواز بلند سب کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام۔۔
جیتے رہو۔۔۔خوش رہو۔۔
سب ان سے باری باری ملتے ہوئے بولے۔۔
ماہم کی نظریں ان دونوں کی جوڑی کا طواف کر رہی تھیں۔۔وہ دونوں کتنے مکمل لگ رہے تھے۔۔وہ حسرت سے حیا کو دیکھ رہی تھی۔کہ وہ لڑکی کچھ نہ کر کے بھی اس انسان کو حاصل کر چکی تھی۔۔
مام بھابھی کتنی کیوٹ لگ رہی ہیں۔۔
وہ حیا کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
ماشاءاللہ بہت روپ آیا ہے۔۔ہماری بیٹی پر۔۔زنیرہ اور روزی نے ایک ساتھ کہا تھا۔۔
_________________________________
اوئے سعد تیرے پاس آطف کا گانا تھا نا۔۔
وہ بھیج۔۔واٹس ایپ سے۔۔۔
تم بھیجتا ہوں۔۔چیک کر۔۔
چل بھیج کرتا ہوں۔
حیا۔تمہارا یہ لاکٹ کتنا پیارا لگ رہا ہے۔۔
ماہم اس کے گلے میں پہنے لاکٹ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
ہاں۔۔یہ زارون نے مجھے منہ دیکھائی کے تحفے میں دیا ہے۔۔
وہ پیار سے لاکٹ کو چھوتے مسکراتے ہوئے بولی۔۔
کاش یہ پیار میرے نصیب میں بھی ہوتا۔۔
وہ اداسی اور حسرت سے سوچتے ہوئے بولی۔۔
حیا تم بہت لکی ہو ۔۔جو تمہیں زارون جیسا شوہر ملا ہے۔۔
ہم۔ لکی تو تم بھی کم نہیں ہو۔۔آخر اتنا پیارا فنی،پیار کرنے والا شوہر تمہیں بھی تو ملا ہے۔۔
حیا کی بات سن کر ماہم مدہم سا مسکرا دی۔۔
وہ سارے ناشتہ کے بعد ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے باتوں میں ۔مشغول تھے۔۔
کہ ان کی نظر اندر آنے والی شخصیت کی جانب گئی۔جن کو دیکھ کر کچھ لوگ شاکڈ ہوئے۔۔
ڈیڈ۔۔۔؟؟
سعد کھڑا ہو کر بولا۔۔
جب روزی ساکت نظروں سے ان کی جانب دیکھا رہیں تھیں۔۔وہ بلا۔شبہ آج بھی مکمل وجاہت رکھتے تھے۔۔
وہ چلتے ہوئے روزی کی جانب ائے۔۔
روزی۔۔
روزینہ۔۔نام ہے میرا۔۔وہ تلخی سے بولیں۔اور۔منہ موڑ گئیں۔۔
مجھے۔۔ما۔۔ معاف کر دو۔می۔۔می۔میں۔۔تمہ۔۔ا۔۔را۔۔۔ تمہارا اور حیا کا گناہگار ہوں۔۔
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولے۔۔
ہال میں موجود بڑوں کے علاؤہ سب بچے نا سمجھیں سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔
مجھے رانیہ کی سچائی پتہ چل چکی ہے۔۔
تم نے صحیح کہا تھا جس دن ۔جھے حقیقت کا معلوم ہو گا۔۔میں بہت پچھتاؤ گا۔۔
واقعی آج بہت پچھتاؤ رہا ہوں ۔خود کو بے بـسں اور تنہا محسوس کر رہا ہوں۔۔
پلیز مجھے بس معاف کر دو اور اس بوجھ سے آزاد کر دو۔۔۔
میں یہاں تم سے صرف معافی مانگنے آیا ہوں۔۔
روزی نے ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں واقعی پچھتاوا نظر آہ رہا تھا۔۔
وجدان صاحب میں روزینہ آپ کو آپ کی کی گئی تمام ترغلطیوں کے لئیے معاف کرتی ہوں۔۔
مما۔۔یہ کیا کر رہیں ہیں آپ ۔۔اتنی آسانی سے کیسے معاف کر سکتیں ہیں۔۔آپ وہ سب اتنی جلدی کیسے بھول سکتیں ہیں ۔
کب سے خاموش کھڑی حیا ایک دم چیختے ہوئے بولی۔۔
اس کے تو پاپا ہی نہیں ہیں۔۔
او یہ تو یتیم ہے۔۔۔
اس کی ماں کی ہی غلطی ہو گی۔۔
رخصتی کے وقت باپ کی کمی کا محسوس ہونا۔۔باپ کی محبت کی تلاش کرنا۔۔
باپ کے نام پر ماں کی آنکھوں میں دکھ دیکھنا ۔
بچپن سے لے کر اب تک کے سب تلخ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔۔۔
بیٹا۔۔وجدان صاحب جیسے ہی اس کے سر پر پیار دینے کے آگے آئے حیا نے فوراً اپنا سر پیچھے کی جانب کر لیا۔۔
نہیں مسٹر وجدان۔۔میری ماں نے بے شک آپ کو معاف کر دیا ہے۔۔پر میں نے نہیں کیا۔۔میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔پتہ نہیں لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ معافی حاصل کر کے سکون مل جائے گا۔۔
اتنے عرصے تڑپانے کے بعد آہ جاتے ہیں معافی مانگنے۔۔
اگر حقیقت پہلے معلوم کرنے کی کوشش کی ہوتی تو شائید سب کچھ بہتر ہوتا۔۔
مگر۔۔یی خیال تو سب کو بڑھاپے میں اتا ہے۔۔
آپ کی بے اعتباری کی وجہ سے میری ماں اور مجھے اتنے تلخ دن دیکھنے پڑے۔۔
ہر کوئی میری ماں کو برا کہتا تھا۔۔صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔
مجھے یتیم ہونے کے تانے ملتے رہیں ہیں۔۔کس کی وجہ سے آپ کی وجہ سے۔۔اپنی رخصتی پر باپ کی چاہ کی تھی۔پر میرا باپ وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی۔۔
بیٹا میں جا رہا ہوں۔۔ایک بار خود کو محسوس کرنے دو گلے لگانے دو۔۔وہ بھی روتے ہوئے بولے۔۔
نہیں۔۔میں یتیم تھی,ہوں ,اور رہونگی۔۔
وہ کہتے ہوئے بھاگتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔
جبکہ وہ بھی ہار ہوئے جواری کی طرح بوہر کی جانب چل۔دیے۔۔
ڈیڈ۔۔ڈیڈ۔۔یہ سب کیا تھا۔۔؟؟
سعد وجدان صاحب کے پیچھے گیا۔۔
بیٹا حیا تمہاری بہن ہے۔۔وہ میری اور روزی کی بیٹی ہے۔۔میں ان دونوں کا گناہگار ہوں۔۔وہ مجھے معاف نہیں کرے گی۔۔اس کا غصہ بالکل مجھ پر گیا ہے۔۔
وہ سعد کے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔
ڈونٹ وری ڈیڈ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
_________________________________
یار پتہ نہیں کیا ہوا ہے گھر میں۔۔
شائید حیا کے فادر تھے۔۔کیا۔۔
حیا کے فادر ۔ہاں۔۔ایسا ہی کچھ سین تھا۔۔
اچھا چھوڑو تم بتاو۔۔تمہارے اور عون کے بیچ سب ٹھیک ہے۔۔؟
لائیبہ تمہیں کیا لگتا ہے۔۔کیسا ہو گا۔۔سب۔۔
میں تو اس شادی کے لئیے راضی ہی نہیں تھی۔۔
پاگل لڑکی۔۔تم نے دیکھا۔۔زارون بھائی اور حیا اپنی لائیف میں خوش ہیں۔زارون بھائی تمہارے لئیے صرف ایک سراب ہیں تم انہیں کبھی حاصل نہیں کر سکتی ۔
بہتر ہے تم اپنی لائیف میں خوش رہو۔۔
ایک سراب کے پیچھے جانا چھوڑ دو۔۔
عون دیکھو کتنی محبت کرتا ہے تم سے۔۔
یار میں بھی تو وہی بول رہی ہوں۔۔
میرا دل عون کے لئیے بدلنا شروع ہو گیا۔۔
بے شک میں نے زارون سے محبت کی تھی۔۔
میں اس شادی پر راضی نہیں تھی ۔عون سے مجھے ایک چیڑ سی تھی۔مین اس سے طلاق ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتی دروازے کے پاس کھڑے عون کو دیکھ کر اس کی زبان کو بریک لگی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے کیا سنا کیا نہیں پر عون کی آنکھوں۔ میں اسے دکھ اور تکلیف نظر آیا تھا۔۔اس کی آنکھیں حد سے زیادہ لاک ہو رہیں تھی ۔۔
وہ وہیں سے پلٹتا جا چکا تھا۔۔
لایبہ میں تم۔سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔
عون۔۔عون۔۔
ماہم اس کے پیچھے گئ تب تک وہ گاڑی وہاں سے لے کر جا چکا تھا۔۔۔
شٹ۔۔۔مجھے کیا ضرورت تھی ۔۔وہ سب کہنے کی۔۔وہ خود کے بالوں کو نوچتے ہوئے بولی۔۔
________________________________
شام۔ہونے کو تھی سورج کی تپش کم ہوتی جارہی تھی۔ایسے میں عون بے مقصد سڑکوں پر رش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔اس وقت اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔۔اس کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھا۔۔اس نے جان سے بڑھ کر ماہم کو چاہا تھا۔۔اور ۔ماہم نے اس کے ساتھ کیا۔۔کیا۔۔
اس کے فون پر بار بار ماہم کی کال آہ رہی تھی۔۔لیکن وہ سب کچھ نظر انداز کر رہا تھا۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کہیں گہرے غفا میں جا کر چیخ چیخ کر روئے۔۔
وہ اس سے نہیں اس کے بھائی سے محبت کرتی ہےیہ سوچ سوچ کر اس کا سر پھرے جارہا تھا۔۔۔۔وہ یہ سب سوچتے ہوئے جا رہا تھا کہ سامنے سے آتے ٹرک سے اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا۔۔اس کا سر گاڑی کے شیشوں کو چیرتا باہر کو نکلا۔۔اور خون ایک فواراے کی مانند بہنے لگا۔
آنکھیں بند کرنے سے پہلے اس نے آخری منظر جو دیکھا تھا کہ لوگ اس کو ہسپتال لے کر جانے کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔
ماہم۔۔گنودگی میں جانے سے پہلے اس نے آخری نام اپنی متاع جان کا لیا تھا۔۔اور ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گیا۔۔
_________________________________
ہیلو۔۔اسلام و علیکم!!
آپ ماہم بات کر رہیں ہیں۔۔؟
آپ عون کو جانتی ہیں؟
جی..ہزبینڈ ہیں۔وہ میرے مگر ۔۔آپ کون۔۔؟؟
میم دراصل آپ کے ہزبینڈ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔ہے۔
کیا۔۔؟؟
جی میم۔۔لاسٹ کال آپ کی تھی۔۔اس لئیے آپ کو فون کیا۔۔
ہاسپٹل کا ایڈریس آپ کو سینڈ کر دیتا ہوں۔۔
جج۔ج۔۔جی۔۔۔ماہم کپکپاتی آواز سے بولی۔۔
پھوپو۔۔انکل،آنٹی،زارون۔
کیا ہوا بیٹا۔۔؟؟
پھوپو۔ عو۔۔و۔۔عون کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔وک ہسپتال میں ہے۔۔
کیا۔۔ہائے اللہ رحم۔۔وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔۔
زارون جلدی سے چلو۔۔بیٹا میرا دل۔گھبر ا رہا ہے۔۔۔
وہ لوگ سارے ہسپتال کے لئیے روانہ ہوئے۔۔
_________________________________
وہ لوگ سارے اس وقت کوریڈور میں بیٹھے ڈاکٹر کے منتظر تھے اندر عون کا اوپریشن چل رہا تھا۔۔
ماہم۔بیٹا رونا بند کرو ۔۔دعا کرو بے شک اللّٰہ سب بہتر کرے گا۔۔
ہا ں۔۔دعا۔۔
مجھے دعا کرنی ہے۔۔یہ کہتے ہی وہ پریر روم کی جانب چلی گئی۔۔
یا اللّٰہ!آج آپ کی یہ گناہ گار بندی کافی عرصہ کے بعد آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ہے۔میری غلطی کی اتنی بڑی سزا نہ دیں۔۔عون کو صحت یاب کر دیں۔۔بے شک مجھے آپ اپنے پاس بلا لیں۔۔لیکن عون کو صحت دے دیں۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔۔
وہ روتے ہوئے خدا سے دعا کر رہی تھی۔۔۔
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا،
تمہیں ہم نے چاہا تم ہی ملتے تو اچھا تھا۔۔
ڈاکٹر میرا بھائی۔۔کیسا ہے۔۔؟؟
زارون ڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ فوراً ان کی جانب گیا۔۔۔
ائیم۔سوری۔۔ہم نے بہت کوشش کی۔۔مگر۔۔
