Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 13

Sarab by Sara Arooj

بیگم آپ بیٹھیں میں بل پے کر آتا ہوں۔۔

رستم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

جی۔۔۔

آپ جائیں میں یہاں ہی بیٹھی ہوں۔۔

رستم صاحب کے جانے کے بعد زنیرہ ریسٹورنٹ کو اور اس کی اینٹیر ڈیزائینگ دیکھ رہی تھیں اور اس کے ڈیزائینر کو سراہا رہی تھیں۔۔ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھیں کہ ایک جگہ ان کی نظریں ساکت رہ گئیں جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔۔

ان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔مقابل شخصیت اس وقت ریسٹورنٹ سے باہر جارہی تھی۔۔

روزی۔۔۔۔۔

روزی۔۔۔۔

سنو۔۔

روزینہ۔۔۔۔۔

وہ تیز چلتے ہوئے اس کے پاس جارہی تھیں۔۔لیکن وہ جاچکی تھی۔۔۔

ان کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے۔۔۔۔

ان کی جان سے بھی عزیز دوست اسی شہر میں ہے اور انہیں معلوم ہی نہیں۔۔

زنیرہ زنیرہ کیا ہو گیا ہے کہا ں جارہی ہیں۔۔؟؟

جب رستم شاہ زنیرہ کو لینے ٹیبل پر آئے تو انہیں وہاں نہ پاکر پریشان ہوئے لیکن ان کی نظر اینٹریس پر گئی جہاں وہ کسی کے پیچھے تیز چلتی ہوئے جارہی تھیں۔۔

رستم میں نے اسے دیکھا میں نے ۔۔میں نے اپنی ۔۔روزی کو دیکھا وہ ادھر ہی ہے اسی شہر میں۔۔ہے رستم صاحب۔۔

میں گناہگار ہوں اس کی ۔۔۔ووہ سب میری غلطی تھی۔۔۔

ہوش میں آئیں زنیرہ کیا بولی جارہی ہیں آپ ۔چلیں آئیں گاڑی میں بیٹھیں۔۔وہ

اگر اسی شہر میں ہیں تو ہم مل کر ڈھونڈ لیں گے اور بھول جائیں وہ سب ۔۔ایسا اس کی قسمت میں تھا ۔خود کو تکلیف نہ دیں۔۔

اب یہ لیں اور جلدی سے آنسو صاف کریں۔۔

یہ کہہ کر رستم نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے

حیا اور اس کی مما ابھی ریسٹورنٹ سے نکل رہے تھے کہ روزینہ کو ایسا لگا کہ کسی نے ان کو آواز دی ہو۔۔

کیا ہوا مما؟؟

بیٹا کچھ نہیں بس ایسے لگا کہ کسی نے مجھے آواز دی ہو۔۔

کسی نے آپ کو آواز۔۔مما جی یہاں اس شہر میں ہمارا اپنا تو کوئی ہے نہیں جو ہمیں بلائے گا۔۔۔لیکن روزینہ نے پھر پیچھے موڈ کر دیکھا لیکن بھیڑ کی وجہ سے کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔۔

ماضی

گڈ مارننگ بھابھی ۔۔۔بھائی کہاں ہیں اور یہ کیا آج آپ کی شادی کا پہلا دن ہے اور آپ نے یہ کیا پہنا ہے۔۔؟؟

اتنا سادہ ۔۔۔

گڈ مارننگ گل تمہارے بھائی واشروم میں ہیں۔۔۔

اور اس سوٹ میں کیا برائی ہے۔۔

اووو بھابھی آپ دلہن ہیں۔۔۔

آپ کو تیار ہو کر رہنا چاہیے۔۔

رکیں میں آپ نکال کر دیتی ہوں۔۔۔۔

گل کہتے ہی الماری کی طرف گئی اور روزینہ کے لئیے ڈریس سیلیکٹ کرنے لگی۔۔

اممم۔۔۔۔کون سا دیا جائے۔۔۔؟؟

وہ ایک ہاتھ اپنے گال پر رکھتے ہوئے سوچنے کے انداز میں بولی۔۔۔۔

ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔

کیوں بھابھی۔۔۔۔

گل نے بہت خوبصورت سی گلابی شفون کی کلیوں والی لانگ فراک نکال کر دی جس پر سیلور کا کام ہوا تھا۔۔۔

اب یہ لیں اور ایک کام کریں جلدی سے آپ اور بھائی فلم کے ہیرو اینڈ ہیروئین کی طرح سیٹیوں سے اترتے ہوئے آنا ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔ہم نیچے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔

اور آپ کے نانا جی بھی آئے ہیں۔۔۔

کیا نانا آئے ہیں اور تم مجھے اب بتارہی ہو؟

روزینہ کہتے ہی نیچے جانے لگی۔۔۔

ایکا سیکنڈ ایک سیکنڈ۔۔۔

کدھر۔۔۔

گل نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

نانا سے ملنے۔۔۔

میری معصوم سی بھولی سی بھابھی۔۔۔۔ابھی تو بولا تھا کہ آپ اور بھائی نیچے ساتھ آئیے گا اور ہاں ہلکا سا میکپ بھی کر لینا۔۔۔

اب میں چلتی ہوں۔۔

ان کی گاڑی شاہ والا میں داخل ہوئی۔۔

بیگم اپنا موڈ ٹھیک کریں بچے اندر ہوں گے وہ کیا سمجھیں گے کہ باپ ماں کو لے کر گیا اور رلا کر لے ایا۔۔

ان کی بات سن کر وہ مسکرانے لگیں۔۔

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے انہیں کیچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آئیں زنیرہ جانے لگیں لیکن رستم صاحب نے روک لیا۔۔ آ پ جائیں فریش ہوں میں دیکھتا ہوں کس کو اتنی رات میں کک بنے کا شوق ہے۔۔۔

جی۔۔۔یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئیں اور رستم صاحب دبے پاؤں سے کیچن میں۔۔اور جیسے ہی وہ کیچن میں داخل ہوئے انہیں اپنا سر گھومتا محسوس ہوا کہاں ان کی بیگم ہر چیز کو نفاست سے رکھنے والی ۔۔اور اس وقت کیچن ۔کیچن کم کباڑ خانے زیادہ لگ رہا تھا۔۔کیونکہ پورے کیچن میں پانی پانی ،پتیلی زمین پر گری اپنی نا قدری پر رو رہی تھی اور عون صاحب اس وقت اپنی موم کی طرح آ تا گوندھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔جو کہ آٹا کم 14 اگست پر جس سے جھنڈیاں لگاتے ہیں وہ ملیدہ ذیادہ لگ رہا تھا۔۔

کھوتے کے پتر یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟؟ اور یہ کیا حال بنایا ہوا ہے اگر ابھی تمہاری ماں نے دیکھ لیا نہ تو تمہاری شامت پکی اور اب میں بھی نہیں بچاؤں گا ۔۔۔جلدی سے سمیٹو یہ سب۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔۔۔

بھوک لگ رہی تھی۔۔۔۔

کھانا بنا تو ہے فریج میں نکال کر کھا نہیں سکتے تھے اور میڈ ہے کواٹر میں اس کو بول دیتے۔۔ڈیڈ کھانے میں اروی ہے جو میں نہیں کھاتا اور میڈ گئی ہے آج اوف لے اسلئیے۔۔۔۔۔۔

تو کم عقل انسان اور کر لیتے۔۔۔۔۔

ڈیڈ آج اپنے ہاتھ کا کھانا کھانے کا دل کر رہا تھا۔۔

کھا لیا ہو گیا شوق پورا۔۔اب سمیٹو سب۔۔۔اور ویسے بھی یہ سب تم ہی سمیٹو گے کیونکہ میری بیوی تھکی ہوئی ہے۔۔۔سمجھے۔۔

اب جلدی سے لگ جاؤ کام پر۔۔۔

میں آتا ہوں ابھی۔۔۔عون کو کہہ کر رستم صاحب کمرے میں چلے گئے۔۔۔

عون بیٹے چل شروع ہو جا۔۔ صاف کر یہی سزا ہے تیری ۔۔۔کیا ضرورت تھی ہیرو بننے کی۔۔

۔۔۔۔اس وقت عون کے ہاتھ میں موپ اور جھاڑو تھا ۔۔۔عون یہ بھی دن آنے تھے تیرے۔۔وہ خود کی حالت دیکھتے ہوئے بولا۔۔

اور پورے آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد کیچن پہلے جیسا تو نہیں بلکہ بہتر حالت میں تھا۔۔۔

کیچن صاف کرنے کے بعد کو جلدی سے نکلا اور کمرے میں بھاگا۔۔

کمرے میں داخل ہو کر جلدی سے الماری سے سوٹ نکالا سوٹ نکال کر جیسے ہی موڑا وہ ساکت ہو گیا اور پھر یک دم اس کے منہ سے ہنسی کا فوارا نکلا۔۔۔کیونکہ اس وقت وہ خود کو شیشے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کے کپڑے گیلے ہو رہے تھے ،اس کے بالوں اور کپڑے پر آٹا لگا تھا چہرے پر مٹی وہ کہیں سے بھی عون نہیں لگ رہا تھا۔

وہ جلدی سے کپڑے لے کر واشروم میں چلے گیا۔۔۔

وہ صوفے پر بیٹھی تھی کہ وجدان واشروم سے باہر آیا ۔۔

وہ اس وقت ڈارک بلو جینس اور اس کے اوپر بلیک شرٹ میں ملبوس تھا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں کنگھا کر رہا تھا ۔۔۔

جاؤ تیار ہو جاؤ ۔۔بعد میں فرصت سے دیکھ لینا یہیں ہوں۔۔وہ خود پر پرفیوم سے اسپرے کرتا ہوا بولا۔۔

جی ۔۔۔وہ شرمندہ سے انداز میں بولی اور اپنا ڈریس لے کر باتھروم میں چلی گئی۔۔

تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ اس خوبصورت لباس میں ملبوس باہر آئی ۔۔وہ جو صوفے پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا اس کو باتھ روم سے باہر آتا دیکھ نظریں ساکت ہو گئیں وہ محبوت سا اس کو تکنے لگا۔۔

گوری شفاف رنگت،اس پر قدرتی گھنی ائیبرو ،ڈارک براؤن آنکھیں اور درمیانی مگر موڑی ہوئی پلکیں۔۔وہ واقعی کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔۔وہ چلتی ہوئیشیشے کے سامنے آئی ہلکی سی گلابی رنگ کی لپ اسٹک لگائی۔اور سر پر دوپٹہ لیا۔۔۔اور منہ دیکھائی میں دی گئی انگوٹھی پہنی۔۔اور ایک میں چوڑیوں کا سیٹ۔۔۔

اور آہستہ سے چلتی اس تک آئی ۔۔۔چلیں۔۔؟؟

وہ جو اس کے قدرتی حسن میں کھویا تھا اس کی آواز سے ہوش میں آیا ۔ہمم چلو۔۔

وہ لوگ چلتے ہوئے نیچے آئے انہوں نے سب کو سلام کیا اور سب سے باری باری ملے۔۔واو کیا مکمل کپل لگ رہا ہے۔۔۔

ہم نظر نہ لگے۔۔

روزینہ جاکر اپنے نانا سے ملی۔۔۔۔

کیسی ہے میری پری؟

ٹھیک ہوں نانا جان آپ کیسے ہیں؟

میری پری ٹھیک ہے تو اس کے نانا بھی ٹھیک ہی ہیں۔۔۔

چلیں آئیں سب ناشتہ لگ گیا ہے۔۔۔ناشتہ کر لیتے ہیں۔ ۔۔وجدان کی ماں نے کہا۔۔۔

جی چلیں سب۔۔اور وہ سب ڈائیونگ ٹیبل کی جانب چل دیے۔۔⁦

زنیرہ آپ ابھی تک سوچ رہی ہیں سو جائیں۔۔۔

میں اللہ سے ہر دعا میں زینی کی سلامتی مانگی ہے۔۔۔میں اس کے مل جانے کی دعا مانگی ہے۔۔

بیگم بس سمجھ جائیں آپ کی دعائیں رنگ لانے والی ہیں۔۔ہم جلد ہی اس تک پہنچ جائیں گے۔۔۔اپ صبر رکھیے۔

اب آپ دوائی لیں اور سکون سے سو جائیں۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔اور میں لان میں ہوں۔۔

ہممم۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ باہر لان میں چلے گئے

زارون کمرے میں اپنا بیگ پیک کر رہا تھا اس کی کل لنڈن کی فلائیٹ تھی۔بیگ پیک کر ہی رہا تھا کہ اسکے فون پر کال ائی۔۔ وہ فون سنے ٹیریسا پر چلا گیا۔

ہیلو دانش کیسا ہے؟

میں ٹھیک ہوں ۔۔ زارون تو سنا۔۔۔

کب کی فلائیٹ ہے۔۔؟ یار ابھی کچھ پکا نہیں ہے۔۔۔جب ہو گا پھر بتاؤں گا۔۔۔

ویسے تو نہ بہت بے وفا ہے۔۔۔تو۔۔

میں؟ پر کیوں۔۔

تو نے کہا تھا تو اس ویکینڈ پر آئے گا۔کہا تو تھا بٹ اب بیزی ہوں۔۔

اور تو بتا بھابھی اور بچوں کا ۔۔؟

وہ بھی ٹھیک ہیں۔۔۔چل پھر بعد میں بات ہوگی ۔ابھی جا رہا ہوں ڈینر پر ۔۔۔نہیں تو تیری بھابھی نے ناراض ہو جانا ہے۔۔

چل ٹھیک ہے بائے۔۔

ہمم۔۔۔

۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دانش عون کا بچن کا دوست ہے۔۔وہ اسکول اور یونیورسٹی وغیرہ میں بھی ساتھ پڑھتے تھے۔۔دانش ابھی اپنی فیملی کے ساتھ اس وقت لندن میں سیٹل ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زارون فون سے بات کر کے اچھی اندر جارہا تھا کہ اس کی نظر لون میں گئی جہاں رستم صاحب کوئی کتاب پڑھنے میں محو تھے ۔۔

وہ نیچے لون میں ان کے پاس اگیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔

ہاں بولو زارون ۔۔۔۔۔کوئی کام تھا ۔۔نہیں ڈیڈ آپ کو کون میں دیکھا تو آپ کے پاس اگیا۔۔

اچھا چلو اچھا کیا۔۔

یہ بتاؤ آفس میں سب ٹھیک چل رہا ہے۔۔جی ڈیڈ۔

سب اے ون ہے۔۔اور آپ بتائیں ٹرپ کیسا رہا۔۔۔عون بتا رہا تھا کہ آپ دونوں گھومنے گئے ہیں۔۔۔مزہ آیا پھر۔۔

ہم مزہ تو ایا۔۔۔

مام کہاں ہیں سو گئیں کیا؟ ہاں وہ تھکی ہوئی تھی سو گئی ہے۔۔۔

اووو۔۔۔ڈیڈ میری کل صبح کی لندن کی فلائیٹ ہے۔۔۔بزنس کے سلسلے میں ایک مہینے تک واپس آہ جاؤں گا۔۔۔

آپ موم کو بتا دینا۔۔۔

میں نے آپ کو انفورم کر دیا ہے۔۔

چلیں اب پیکنگ بھی کمپلیٹ کرنی ہے میں چلتا ہوں گڈ نائیٹ۔۔

ہم گڈ نائیٹ۔۔