Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 29 (Last Episode)
Rate this Novel
Sarab Episode 29 (Last Episode)
Sarab by Sara Arooj
ایم سوری ہم نے پوری کوشش کی پر انہیں کوما میں جانے سے نہیں بچا پائے۔
کیا کوما؟
جی شیشے ان کے دماغ میں چلے گئے تھے جس کی وجہ سے ہمیں ارجنٹ سرجری کرنی پڑی جس کی وجہ سے وہ کوما میں جا چکے ہیں۔۔
بس آپ لوگ دعائیں کریں انشاللہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔۔ہو سکتا ہے وہ ایک ہفتے بعد ہوش میں جائیں۔ایک مہینے بعد ،یا پھر کبھی نہیں۔یہ سب قسمت پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔۔ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہتے جا چکا تھا۔
جبکہ ڈاکٹر کی بات سن کر وہاں بیٹھے تمام نفوس پر گویا پورے ہسپتال کی چھت آن گری ہو۔۔
ن۔۔نہیں یہ نہیں ۔ہو سکتا۔۔
ماہم چیخ چیخ کر روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
ماہم۔۔چپ ہو جاؤ بیٹا تم رو کر اپنی طبیعت تو نہ خراب کرو۔۔
پھوپھو۔۔!!
دیکھیں نا ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں۔۔
۔۔پھو۔۔پھو۔۔پھوپھو۔۔۔
مام آپ اس کو گھر لے جائیں اور خود بھی ریسٹ کریں۔۔
نہیں۔۔میں یہیں رہوں گی ۔۔میں کہیں نہیں جاونگی۔۔
وہ روتے ہوئے بولی۔
بیٹا ابھی گھر چلو صبح آہ جانا۔
نہی۔۔یں۔۔نہیں۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔
جبکہ زنیرہ اور رستم عون کو دیکھ کر پیار کر کے جا چکے تھے۔۔کیونکہ ان کےبس سے باہر تھا اپنے خوبرو جوان بیٹے کو اس حال میں دیکھنا ۔۔۔
_________________________________
رستم صاحب لوگوں کے جانے کے بعد ماہم روم میں آئی جہاں اس کو تنگ کرنے والا،شراتیں کرنے والا،اس کا خیال اس سے محبت کرنے والا۔عون پٹیوں اور مشینوں کے بیچوں بیچوں کسی بے جان وجود کی طرح پڑا تھا۔
اسے اس حال میں دیکھ کر ماہم کا دل کٹ رہا تھا۔۔ہاں۔اس سب کی زمہ دار وہی تو تھی۔۔اس کی باتیں سن کر ہی تو وہ گھر سے نکلا تھا۔۔کاش وہ اس کی پوری بات سن لیتا۔۔یا کاش وہ اس وقت وہاں نہ اتا۔یا۔۔کاش وہ ۔وہ بات ہی نہ کہتی۔۔
اب بس صرف ایک کاش ہی رہ گیا ۔۔۔
ج۔۔جہاز۔۔دیکھو۔۔تمہاری مینڈکنی تم سے معافی مانگتی ہے۔۔پلیز۔۔۔مجھے۔۔م۔ع۔معاف کر دو۔۔۔اتنی بڑی سزا تو نہ دو۔۔۔
ع۔۔عون۔۔اٹھ جاؤ۔۔نا
۔
وہ روتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑے اس سے معافی مانگ رہی تھی۔۔اسے بلا رہی تھی۔۔لیکن جواب ندارا۔۔
چاروں سو خاموشی ۔۔!!!
وہ وہیں اس کے بیڈ کے پاس سر رکھے بیٹھ چکی تھی۔۔
_________________________________
زینی۔۔عون کی طبعیت کیسی ہے؟
زنیرہ اور رستم کے گھر آتے ہی روزی نے پوچھا۔۔
وہ کوما میں چلا گیا ہے روزی اب دعا کرو۔۔بس۔۔سب کی دعاوں کی ضرورت ہے میرے بیٹے کو۔۔۔
ہمارے گھر کو ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔۔
وہ روتے ہوئے روزی کے گلے لگتے ہوئے بولی ۔۔
وہ جو کب سے ہسپتال میں اپنے آنسوں روکے ہوئے تھیں۔۔روزی کے پوچھتے ہی ان کا ضبط جواب دے گیا۔۔۔
_________________________________
تین مہینے بعد۔۔
وقت کا کام ہے گزرنا ۔۔اور وقت اپنی تیز رفتار کے ساتھ پر لگائے اڑ رہا تھا۔۔
ایم سوری ہَبی مجھے معاف کر دینا۔۔آج مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔کہتے ہی ایک لڑکی سادہ شلوار سوٹ، سر پر نفاست سے ڈوپٹہ اوڑھے ہاتھوں میں کچھ سامان لئیے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔
جوکہ سامنے بیڈ پر موجود اس وجود سے مخاطب ہوئی جو دنیا اور جہاں دونوں سے بیگانہ تھا۔۔
عون دیکھو اب تو کافی وقت ہو گیا ہے۔۔اب تو واپس آہ جاو۔۔تمہاری ماہم تمہارا دل سے انتظار کر رہی ہے۔۔اچھا ایک راز کی بات بتاوں۔۔وہ اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے بولی۔۔
کہ میں تمہیں اپنے دل و جان سے اپنا شوہر قبول کر چکی ہوں۔۔
نماز کا ٹائیم ہو رہا ہے۔۔میں تم سے آہ کر بات کر تی ہوں۔۔وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولی۔۔اور نماز پڑھنے چلی گئی۔۔
ان گزرے تین مہینوں میں یہ اس کا روز کا معمول تھا یونی سے آنے کے بعد وہ عون سے باتیں کیا کرتی تھی۔
وقت اور حالات نے ماہم کو بدل کر رکھ دیا تھا۔کہاں وہ اپنے میں مگن رہنے والی لڑکی آج اپنے خدا اور اپنے شوہر کے بہت قریب تھی۔ جس نے کبھی کسی چیز کی فکر نہیں کی تھی۔۔آج اس کی تمام تر فکری صرف خدا اور عون تک محدود تھیں۔۔
۔۔اس نے اپنا سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا تھا۔۔وہ خدا کی تلاش میں نکل چکی تھی۔۔
اے بنی آدم ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے،
گر کرے تو وہی جو میری چاہت ہے۔۔
تو عطا کروں گا تجھے وہ جو تیری چاہت ہے،
گر تو وہ نہ کرے جو میری چاہت ہے،
تو میں تھکا دوں گا تجھے اس میں جو تیری چاہت ہے۔۔۔
وہ یہ چیز جان چکی تھی کہ اگر وہ خدا کی تلاش میں نکلے گی خدا کو راضی کر لے گی تو خدا اس کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔۔نماز پڑھنے کے بعد وہ عون کے پاس آئی ۔۔کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر اس سے باتیں کرتی کرتی وہیں سو چکی تھی۔
_________________________________
ماہم صبح یونی جانے کے لئیے تیار ہو رہی تھی کہ اس کی نظر شیشے میں سے اس پار عون کی جنبش کرتی پلکوں پر پڑی۔
عون۔۔۔وہ پلٹتے ہوئے اس تک آئی۔۔
پھوپھو۔۔حیا۔۔۔
دیکھیں۔۔عون کو ہوش آہ رہا ہے۔۔
ماہم خوشی کے مارے چلاتے ہوئے باہر ائی۔۔جہاں وہ سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے۔۔ماہم کی بات سن کر سب اس کی طرف ائے۔۔۔
زارون ڈاکٹر کو کال کریں۔۔جلدی سے۔۔۔
حیا نے کہا تھا۔۔
یا اللہ تیرا شکر۔۔۔
زنیرہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا۔۔
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آہ چکے تھے عون کا چیک اپ کرنے کے بعد وہ باہر آئے جہاں وہ سب بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
ان کو ہوش آہ چکا ہے۔۔بس کو شش کریں کہ انہیں کسی قسم کا اسٹریس نہ دیں۔۔اور ان کی ڈائیٹ کا خاص خیال رکھیں۔۔اور یہ میڈیسن ہیں ان کو وقت پر کھلائیے گا۔۔
ڈاکٹر کہہ کر جا چکے تھے۔۔جبکہ سب خوشی سے محال ہورہے تھے۔۔رستم صاحب نے یتیم خانے میں شکر گزاری کی نیاز بھی بانٹیں تھی۔۔ماہم نے سب سے پہلے جاکر شکر گزاری کے نفل ادا کیے تھے۔۔
سب باری باری اس سے آہ کر ملے۔۔۔
_________________________________
عون یہ دیکھو میں تمہارے لئیے سوپ لے کر آئی ۔۔ماہم ہاتھوں میں سوپ کا بال لئیے کمرے عون کے پاس آئی جو بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔
عون نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا جو گرین رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔۔ یہ ماہم بہت بدل چکی تھی۔۔اس کو وہ کہیں سے بھی وہ والی ماہم نا لگی جو ہر بات پر اس سے لڑتی تھی۔۔اسنے ماہم پر سے نظریں ہٹا لیں۔۔
کس نے بنایا ہے؟
میں نے بنایا ہے خود اپنے ہاتھوں سے ۔۔
او۔۔مطلب باتیں بنانے کے علاؤہ تمہیں اور بھی کام آتے ہیں۔۔
عون۔۔۔
مجھے نہیں چاہیے لے جاؤ واپس۔۔وہ کہتا واپس لیٹ چکا تھا۔کیونکہ ماہم کو دیکھ کر گزرے تمام منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومے تھے۔۔۔جب کہ ماہم کی آنکھوں سے ایک دم آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے۔۔کتنی محنت اور کتنی محبت سے اس نے اس کے لئیے بنایا تھا۔۔اور وہ سنگدل بنا بیٹھا تھا۔۔
جبکہ اس کو سنگدل بنانے والی بھی وہ خود تھی۔
عون میری۔۔۔
ماہم جاؤ یہاں سے۔۔۔جسٹ لیو می الون۔۔۔
ماہم روتی ہوئی اسٹڈی میں چلی گئی تھی۔۔
عون کی طبعیت ٹھیک ہوئے پورا ہفتہ ہو چکا تھا لیکن اس نے ایک دفعہ بھی ماہم سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
عون کیوں کر رہے ہوئے میرے ساتھ ایسا
اتنی بے رُخی نہ برتو کہ میں مکمل طور پر ٹوٹ جاؤں ۔
سیریسلی ماہم تمہیں میری بے رُخی سے فرق پڑتا ہے۔۔
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
آف کورس پڑتا ہے۔۔
اور۔۔یہ معجزہ کب ہوا؟
عون تم شرمندہ کر رہے ہو۔۔۔
نہیں ماہم میں تمہیں شرمندہ کیسے کرسکتا ہوں۔
رکو۔۔تمہیں تمہارا تحفہ دینا ہے۔۔
یہ کہہ کر وہ الماری کی جانب گیا اور وہاں سے اینولیب نکالا۔۔اور ماہم کو تھمایا۔۔
ی۔۔یہ ک۔۔ک۔۔کیا ہے؟؟؟
تمہاری چاہت۔۔۔
مطلب۔۔؟؟
وہ نا سمجھی کے عالم میں بولی۔۔
کھول کر دیکھ لو۔۔
جیسے ہی ماہم نے وہ اینولیب کھول کر دیکھا اس کے پیروں تلے زمین کھینچی۔۔۔
عون یہ تو؟وہ صدمے کے عالم میں بولی۔۔
ہاں طلاق کے کاغذات ہیں۔تم بھی یہی چاہتی تھی نا۔تمہاری یہ خواہش میں نے پوری کر دی ہے۔وہ اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بولا۔۔
ہاں اور فکر نہیں کرنا تمہارا اوپر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں آئے گا۔
ادھر دو میں سائین کر دوں اور اس کے ہاتھوں سے کاغذات لیتے ہوئے بولا۔
جب کہ وہ ابھی تک سن کھڑی تھی۔
عون جیسے ہی ان پر سائین کرنے لگا ماہم احساب فوراً سے بیدار ہوئے اور اسنے عون کے ہاتھوں سے کاغذات اچک لئیے اور ان کے ٹکرے ٹکرے کر دیے۔۔
اب کیا تکلیف تھی۔۔کر تو رہا تھا سائین کیوں پھاڑا اس کو۔۔
عون تم میری ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا دو گے۔۔وہ روتے بوئے بولی۔۔
اس میں سزا کیسی ہے ماہم؟
وہ تھکے ہوئے انداز میں بولا۔۔
یہ سزا نہیں تو اور کیا ہے ۔۔اپنا نام چھین رہے ہو محض ایک غلطی
عون میں جانتی ہوں میں غلط تھی نادان تھی۔لیکن مجھے بس ایک موقع دے دو۔
عون مجھے خود سے دور مت کرو۔
تم نہیں جانتے یہ تین مہینے میں نے کیسے انگاروں پر گزاریں ہیں ہر رات یہ سوچ کر سوتی تھی کہ تم کل صبح اٹھ جاؤ گے۔۔
عون تمہاری یہ ماہم تم سے محبت کرنے لگی ہے۔۔وہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔
جب کہ اس کے محبت کے اظہار پر عون کا دل باغ باغ ہو گیا۔۔ ایک ہلکی سی مسکان نے اس کے لبوں کو چھوا تھا۔لیکن جلد ہی وہ اپنی مسکراہٹ پر قابو پا گیا جسے ماہم
گلے گلے ہونے کے باعث نہ دیکھ پائی۔
_________________________________
چھوڑو مجھے میں پاگل نہیں ہوں۔۔
طلحہ کو میں مار دوں گی۔۔زارون زارون کہاں ہو۔۔تم۔۔؟؟میں پاگل نہیں ہوں۔۔
منال جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا چوٹ دماغ پر لگنے کی وجہ سے وہ نیم پاگل سی ہو چکی تھی۔ہوش۔میں آنے کے بعد وہ بس ایک ہی بات دہرائی جارہی تھی۔۔
ہمارے معاشرے میں بھی ایسی لڑکیوں کا کچھ ایسا ہی حال ہوتا ہے جو کہ اپنے سے مخلص اور محبت کرنے والوں کو دھوکہ دے جاتے ہیں۔۔دھوکہ دیتے وقت انسان کے ذہن میں یہ بات لازمی ہونی چاہیے کہ جو وہ بو رہا ہے وہی کاٹے گا بھی دھوکہ دے گا تو آگے سے بھی دھوکہ ہی پائے گا۔۔۔۔دنیا مقافتِ عمل ہے۔۔اور منال اپنے گناہوں کا خمیازہ دنیا میں ہی بھگت چکی تھی۔
_________________________________
بھائی اب تو میں ٹھیک ہو گیا ہوں آپ کو نہیں لگتا کہ ہمیں ہنی مون پلین کرنا چاہیے۔۔
ہاں بات تو تم نے پتے کی ہے۔۔۔
تو پھر کون سی جگہ بیسٹ ہے؟؟
ہنی مون کے لئیے۔۔
ناران ۔۔چلیں کیا۔۔؟؟
نہیں ناران نہیں ۔۔ناران تو ویسے بھی یونی ٹریپ میں گئے تھے۔عون نے کہا۔۔
تو پھر۔۔؟؟
سوات کیسا ہے؟؟
ہاں سوات چلتے ہیں وہاں کبھی نہیں گئے۔۔
میں نے وہاں کے گیلیکسی ہوٹل کے بارے میں سنا ہے کافی خوبصورت ہے۔۔
مجھے تو بہت شوق ہے سوات کا۔۔
تو پھر کیا خیال ہے۔۔سوات ڈن کریں۔۔
زارون نے عون سے پوچھا۔۔
جی بھائی۔۔
آپ ٹکٹ بک کرائیں ہم اپنی اپنی وائفی کو سرپرائز دیں گے۔
_________________________________
دو دن بعد۔۔
سوات پاکستان کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ وہ سارے اس وقت سوات کے مشہور ہوٹل گیلیکسی ہوٹل میں موجود تھے ۔
زارون ۔۔زارون ۔۔دیکھیں باہر برف باری ہو رہی ہے۔آئیں باہر چلتے ہیں۔وہ ناشتہ چھوڑتے ہوئے بولی ۔کتنا پیارا موسم لگ رہا ہے۔۔وہ گلاس کی کھڑکی میں سے باہر کا منظر دیکھتے ہوئے بولی۔۔
حیا۔۔ناشتہ تو کرو پہلے۔۔نہیں بس۔۔آپ کریں جب تک میں ماہم اور عون کو بلا کر آتی ہوں۔۔ارے رکو۔۔میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔کہتے ہی وہ اس کے پیچھے عون لوگوں کے کمرے کی طرف گیا۔۔
عون تم ابھی بھی ناراض ہو کیا؟
ماہم اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی۔
نہیں مینڈکنی میں ناراض نہیں ہوں۔
وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔
عون کیا ہم ماضی بھلا کر حال کو شروع نہیں کر سکتے ۔۔
ہر کسی کا ماضی ہوتا ہے ۔۔اچھا ،برا۔۔خوبصورت یادیں یاد رکھنی چاہیں جبکہ بری یادوں کو بھلا دینا چاہیے تاکہ وہ آپ کی آگے کی زندگی کو تلخ نا بنا سکیں۔۔۔۔۔ ہم بھی سب بھلا دیتے ہیں۔آج سے نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔۔
کیا ان سب میں تم میرا ساتھ دو گی۔؟
عون نے ہاتھ آگے کر کے اس سے وعدہ لینا چاہا۔۔
اپنی آخری سانس تک۔۔وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
عون نے اس کو اپنے بانہوں کے گھیرے میں لیا اور محبت کا پہلا لمس کی پیشانی پر چھوڑا۔
ٹھک۔۔ٹھک۔۔۔کک۔۔!!!
لگتا ہے بھائی لوگ ہیں۔۔؟
عون صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔
عون جلدی سے تیار ہو جاؤ باہر جا رہے ہیں۔۔اور ماہم سے بھی بول دو۔۔
بھائی ہم تو تیار ہی ہیں۔۔بس جیکٹ پہنی ہے۔۔
وہ دونوں سے جیکٹ پہنے زارون اور حیا کے ساتھ باہر روانہ ہو چکے تھے۔
واؤ! کتنا پیارا لگ رہا ہے۔۔وہ پہاڑوں پر چڑتے ہوئے بولی جس نے ہر چیز کو برف سے ڈھکا ہوا تھا۔۔وہاں اور بھی لوگ اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور کچھ ان کی طرح ہنی مون ٹرپ پر ۔۔
ماہم او سنو مین بناتے ہیں۔۔وہ ماہم کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی ۔۔
پر اس کے لئیے ہمیں گاجر بھی چاہیے،لکڑیاں اور بٹن۔۔اس کا انتظام کہاں سے کریں گے۔
یہ دیکھو۔۔وہ اپنی جیکٹ کی جیب سے گاجر نکلتے ہوئے بولی۔
اوو!!
مطلب سارا انتظام پہلے سے ہوا تھا۔۔
عون ان کی جانب آتے ہوئے بولا۔۔
ہاں۔۔ظاہر ہے۔میری یہ خواہش بچپن سے تھی۔ابھی اللّٰہ نے پوری کی ہے۔۔تو اپنا شوق کیوں نہ پورا کروں۔
ماہم چلو۔۔بنانا شروع کرتے ہیں ۔وہ برف جمع کرتے ہوئے بولی۔۔
ان دونوں نے مل کر برف جمع کرنا شروع کی اور تھوڑی بہت محنت کے بعد ان کا سنو مین تیار تھا۔۔
سو فائینلی ! ہمارا سنو مین ریڈی ہے۔
حیا ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی ۔
زارون ہماری تصویریں کھینچیں۔۔
حیا سنو مین کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔
بھائی ہماری بیویاں بچی بنی ہوئی ہیں۔۔
عون نے زارون کے کام میں سرگوشی کی۔
ہاہاہہا۔۔یہ تو صحیح کہا۔۔
مجھے کہیں سے نہیں لگ رہا ہم ہنی مون پر آئے ہیں۔۔
آپ لوگ کیا خسر پسر کر رہے ہیں۔۔حیا ان کو سرگوشی کرتے دیکھ بولی۔
کچھ نہیں۔ میں بھائی کو بول رہا تھا فیلٹر اچھا سا استعمال کرنا۔۔
زارون اور عون مل کر ان کی تصویریں لینے لگے۔۔
عون فون میں گیم کھیل رہا تھا کہ ماہم چپکے سے اس کے پیچھے آئی اور چھوٹا سا برف کا گولا اٹھا کر عون کی جیکٹ میں ڈالا۔۔عون جو گیم کھیلنے میں مگن تھا اس کو اپنی کمر میں کچھ ٹھنڈا ٹھنڈا سا محسوس ہوا۔اس نے اپنے آپ کو دائیں بائیں کی سمت حرکت دی۔۔
ہاہاہہاہاہاہہاہاہا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بات سمجھتا اس کو اپنے پیچھے سے حیا اور ماہم کے قہقے سنائی دیے جو اس کی حالت پر پیچھے کھڑی ہنس رہی تھیں۔۔
ان کو ہنستے دیکھ اس کو پوری بات سمجھ آئی فون جیب میں رکھتا ان کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس نے بھی برف کے گولے اٹھائے اور دونوں کے اوپر گولوں کی برسات کر دی۔۔
بھائی آپ وہاں کھڑے کیا دیکھ رہے ہیں بچائیں ان چڑیلوں سے۔۔ستھ دیں اپنے بھائی کا ۔۔۔
آپ کو قانون کی قسم۔۔۔ہیلپ می ان دا نیم اوف لو۔۔وہ موٹو پتلو کے انسپکٹر چیونگم کی طرح بولا کے نا چاہتے ہوئے بھی زارون کا قہقہ نکلا۔۔
اب سین کچھ یوں تھا کہ ماہم اور حیا۔۔
زارون اور عون یہ چاروں ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے گولوں سے کھیل رہے تھے۔۔
وہ دیکھیں ہادی کتنے رومینٹک کپل لگ رہے ہیں۔۔ہائے قسمے۔۔نظر نہ لگے۔۔
ہادی جو فون میں مگن تھا خضرا کی بات سن کر اس سمت دیکھا جہاں وہ چاروں کھیلنے میں مصروف تھے۔۔
تم بھی چلی جاو۔۔وہ شانے بے نیازی سے بولا۔۔
ہائے اللہ سچی۔۔وہ خوشی کے مارے چیختے ہوئے بولی۔۔وہ ان کی جانب جانے لگی۔۔
پاگل ہو ۔۔میں تو ایسے ہی بول رہا تھا۔۔
کیوں ان کی گیم خراب کرو گی۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔اور اس کو واپس اپنی جگہ پر لاکر کھڑا کیا۔
ہادی تم کتنے ان رومینٹک انسان ہو۔۔لوگ اپنی بیویوں کی تعریف کرتے ہیں ان سے پیار کرتے ہیں۔۔تمہارے منہ پر تو ہر وقت بارہ ہی بجے رہتے ہیں۔ہنس لیا کرو کبھی تمہارے ہنسے پر ٹیکس نہیں لگے گا۔۔وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
ہائے اللہ میری ہی قسمت میں یہ پیس لکھنا تھا۔۔وہ دوہائی دیتے ہوئے بولی۔
خضرا کے دہائی دینے پر ہادی کو ہنسی تو بہت آئی لیکن وہ اپنی ہنسی پر قابو پا گیا۔۔گو کہ اگر خضرا اس کو ہنستے ہوئے دیکھ لیتی تو مبادا غصے میں سر ہی نا پھاڑ دے۔۔
خضرا اور میر ہادی کی لوو میرج تھی۔خضرا میر ہادی کی نیلی آنکھوں پر اپنا دل ہار بیٹھی تھی جبکہ ہادی خضرا کی شرارتوں پر۔۔اس کی معصومیت پر۔
پر میر نے آج تک اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا۔وہ کچھ سنجیدہ سا رہتا جس کی وجہ سے خضرا کچھ خفا سی ہو جاتی تھی۔
جبکہ میر ہادی نے خضرا کو اپنی بانہوں میں اٹھایا ۔
ی۔یہ کیا کر رہے ہو؟
تمہاری تمام شکایتوں کو دور کر رہا ہوں۔۔!!
پاگل ہو گئے ہو چھوڑو مجھے۔۔سب دیکھ رہے ہیں۔۔
میری بلا سے دیکھیں۔۔ائی ڈونڈ کیر۔۔
وہ کہتا ہوٹل کی جانب روانہ ہوا۔
بس ۔۔بسس بہت ہو گیا۔۔اب تھک گئے۔وہ چاروں اپنی اپنی جگہ تھک کر بیٹھ چکے تھے۔اور ایک دوسرے کی حالت پر ہنس رہے تھے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہوٹل کی جانب روانہ ہو گئے۔
________________________________
مجھے اس بات کا احساس کو چکا ہے کہ میں گزرے ان دو سالوں میں صرف ایک سراب کے پیچھے بھاگی ہوں
وہ تو کسی اور کا ہے اس کا نصیب کسی اور کے ساتھ ہے۔
خدا جو کرتا ہے ۔انسان کی بہتری کے لئیے کرتا ہے۔ہمیں اس کے ہر فیصلے کو قبول کر چاہیے۔میں آج خدا کے فیصلے پر اپنے محرم کے ساتھ خوش ہوں۔
ماہم ۔۔؟؟؟
ماہم جو سوچوں میں گم تھی عون کی آواز سے ہوش میں ائی۔۔
ہم بولو۔۔
یہ لو۔۔!!
یہ کیا ہے۔۔؟؟منہ دیکھائی کا تحفہ۔۔
سچی۔۔؟؟مچی۔۔۔
عون نے لال رنگ کے ایک خوبصورت سے باکس میں سے نفیس سا بریسلٹ نکال کر اس کے ہاتھوں میں پہنایا۔۔
بہت خوبصورت ہے۔۔۔وہ بریسلٹ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔تم سے ذیادہ نہیں۔۔
اجازت ہے ۔۔وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔۔
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا اور شرما کر سر عون کے سینے پر رکھ دیا۔
