Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 15

Sarab by Sara Arooj

ماضی۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کی نظر روزی کی جانب گئی۔جوکہ زیور سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے دروازے کو لاک کیا اور قدم اس کی جانب بڑھائے۔ جبکہ دوسری طرف وہ شیشے میں سے اس کو اپنے پاس آتے دیکھ سانس روکے کھڑی تھی۔۔

دولہن کو تیار کیوں کیا جاتا ہے؟

وہ عین اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کے کان کے پاس جھک کر پوچھا۔۔

جبکہ اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس کی جان ہوا ہورہی تھی۔۔

بولو۔۔۔۔

اس کو یونہی سر جھکائے خاموش کھڑے دیکھ اس نے کہا۔۔

شو شوہر کے لئیے۔۔۔

ہم پھر آپ میرے آنے سے پہلے یہ سب کیوں کر رہی تھیں؟۔۔

اس کا اشارہ زیور اتارنے کی کوشش کی جانب تھا ۔

وہ ۔۔وہ۔۔

کیا وہ؟؟

ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ اُس کو اس کی انگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس ہوا.۔

یہ لو اتنی سی بات تھی۔۔

اس نے اس کا ہار گلے سے نکال کر اس کی جانب بڑھایا۔۔۔

پھر اس کا رخ اپنی جانب موڑ کر اس کے ماتھے پر عقیدت بھرا لمس چھوڑا۔

جب کہ وہ شرمائی گھبرائی سی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔

جاؤ چینج کر لو۔۔۔اس نے اس کے گال تھپکتے ہوئے

کہا۔۔

اور وہ اس کی بات سن کر۔یوں بھاگی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔جبکہ وہ مسکراتا ہوا۔۔

صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔

حال۔۔۔

روزینہ میں نے تم سے کہا تھا حیا کے رشتے کے متعلق تو کیا سوچا تم نے۔؟؟

سعدیہ آپا میں کیا سوچوں امیر گھرانے میں شادی کروانے سے دل گھبراتا ہے۔کہیں کوئی اوچ میچ نہ ہو جائے۔

بیٹی کی ماں ہوں ۔۔ ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتی نا۔۔

روزی میری مانو تو ہاں کر دو دیکھو تمھارا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔تمھارے بعد حیا کا کیا ہوگا۔

ویسے بھی ان کو شریف اور مڈل کلاس کی لڑکی چاہیے۔

ماشاءاللہ سے حیا تو پڑھی لکھی ہے۔

ہممم۔۔ حیا کی ماں سوچنے کے انداز میں بولی۔۔

کب آنا ہے ان نے۔؟؟ان نے سعدیہ سے پوچھا۔

وہ تو آج بھی آنے کے لئیے تیار ہیں۔تم بتاو؟

آ پا آپ انہیں کل کا بول لیں۔۔

چلو یہ ٹھیک ہے۔۔میں انہیں کل کا کہہ دوں گی۔

اب میں چلتی ہوں حیا کی ماں کھڑے ہوتے ہوئے بولیں۔

حیا گھر پر اکیلی ہے پھر کل ملاقات ہو گی۔

خداحافظ۔

اسلام وعلیکم بھابھی .

ارے زینی تم لوگ ۔۔وعلیکم اسلام !

کیسی ہو؟ میں ٹھیک ہوں بھابھی آپ بتائیں۔؟

میں بھی ٹھیک ہوں۔بس کرم ہے مالک کا۔۔

جبکہ عون کی نظریں سب باتوں سے بے نیاز اپنی لڑاکو مینڈکنی کو ڈھونڈ رہی تھیں جسکے لئیے وہ آیا تھا۔

بھابھی بھائی اور ماہم نہیں نظر آہ رہی۔؟

ماہم کے نام پر عون کے کان کھڑے ہوئے اور وہ فوراً ان کی طرف متوجہ ہوا۔

ہاں وہ نہا رہے ہیں ۔اتفاق سے آج جلدی آفس سے آ ہ گئے تھے۔

اور ماہم میڈم اپنے روم میں ہیں میں بلاتی ہوں اس کو بھی ۔۔

زکیہ(میڈ)جی میڈم ۔۔

جاکر حیا کو بولا کر لاؤ بولا آپ کی پھوپھو آئیں ہیں۔۔

جی میڈم ابھی کہتی ہوں۔۔یہ کہہ کر وہ ماہم کے کمرے کے جانب چل دی۔۔۔

دل تو ہی بتا کہاں تھا چھپا

کیوں آج سنی تیری دھڑکن پہلی بار

دل تو ہی بتا کہاں تھا چھپا

کیوں آج سنی تیری دھڑکن پہلی بار

وہ زارون شاہ کے خیالوں گم گانا سننے میں مصروف تھی۔

اسے اس بات کی خوشی تھی کہ وہ اس کا اپنا کزن ہے۔

وہ اسے آرام سے مل جائے گا۔

وہ اپنی محبت کی دنیا میں کھوئی تھی کہ کسی نے اسکے روم کا دروازہ ناک کیا۔۔

چچچچچچ۔۔

کیا مصیبت ہے سکون سے رہنے نہیں دیتے ۔۔کون ہے آ جاؤ۔

اجازت ملتے ہی میڈ اندر داخل ہوئی۔۔

میم اپ کو نیچے میڈم نے بلوایا ہے۔اپ کی پھوپھو کی فیملی آئی ہے۔۔

کیا ؟؟

پھوپھو کی فیملی۔۔وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔تم جاؤ میں ابھی آتی ہوں۔۔

جی بہتر۔۔میڈ یہ کہتے ہی باہر چلے گئئ۔۔

پھوپھو کی فیملی مطلب زارون شاہ بھی آ یا ہو گا۔۔

میری محبت میری چاہت۔۔۔

واہ ماہم آج تو دیدار ِیار ہو گا۔۔۔وہ شیشے کے سامنے آئی اپنی حالت درست کی اور مسکراتے ہوئے نیچے کی جانب چل۔دی۔

اسلام وعلیکم۔۔

اس نے سب کو سلام کیا !۔

وعلیکم السلام کیسی ہے میری بیٹی ؟

زنیرہ نے ماہم کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا۔۔

میں ٹھیک ہوں پھوپھو آپ کیسی ہیں؟وہ اپنی پھوپھو کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

ماہم پڑھائی کیسی جارہی ہے آپ کی؟رستم نے پوچھا۔بہت اچھی جارہی ہے انکل۔۔

جب کہ ان سب باتوں میں وہ عون کو ایسے نظر انداز کی ہوئی تھی جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو…۔وہ بار بار باہر کی جانب دیکھ رہی تھی کہ شاید زارون باہر لان میں گیا ہو۔۔

پھوپھو زارون نہیں آئے کیا؟

نہیں بیٹا زارون دراصل آج لندن گیا ہے میٹینگ کے سلسلے میں۔۔

او اچھا۔۔جبکہ اس کا دل ایک دم اداس ہوا جس کے لئیے وہ آئی تھی وہ ہی نہیں تھا۔۔۔

چلیں پھوپھو میں چلتی ہوں ۔میں نے یونی کا کام بھی کرنا ہے۔۔وہ بہانا بناتے ہوئے بولی۔۔۔

چلو ٹھیک ہے۔۔جاو تم کام کرو خدا تمہیں کامیاب کرے۔۔

ارے ماہم کھانا تو کھا لو ۔۔ماہم کی ماں نے بولا۔۔

نہیں مما۔ابھی بھوک نہیں ہے۔۔

یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلی گئی۔

ماضی۔۔۔

ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی آنکھ کھڑکی سے پڑتی سورج کی روشنی سے کھلی۔اس نے اپنا سر دیکھا جو کہ وجدان کے بازو پر رکھا ہوا تھا ۔

وہ جلدی سے کھڑی ہوئی۔۔ہائے اللہ آج اتنی دیر سے آنکھ کیسے کھلی نماز بھی نکل گئی۔۔اب قضا پڑھ لوں گی۔۔

اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جہاں نو بج رہے تھے۔۔۔اور آج ان کی گیارہ بجے کی فلائیٹ تھی مری کی۔۔جو

ان کو نانا کی طرف سے شادی کے تحفے کے طور پر دی گئی تھی۔وہ جلدی سے اٹھی منہ ہاتھ دھو کر تیار ہوئی۔اور پھر وجدان کو اٹھایا۔۔

وجدان ۔۔۔وجدان۔

اٹھیں دیکھیں نو بج گئے ہیں۔۔۔گیارہ بجے کی فلائیٹ ہے۔وہ اس پر جھکی اپنے مزاجی خدا کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔جلدی سے اٹھ جائیں میں نے آپ کے کپڑے نکال دیے ہیں۔۔۔میں نیچے جارہی ہوں ۔۔۔

وجدان نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا جو کہ تیار کھڑی تھی اور اپنے کپڑے لیتا واشروم میں چلے گیا۔۔

آسلام و علیکم۔۔

اس نے سب کو سلام کیا ۔۔ماشااللہ جیتی رہو۔۔

آغا جان نے اس کو پیار دیتے ہوئے کہا۔۔۔

روزی وجدان اٹھا کہ نہیں؟جی وہ اٹھ گئے ہیں نہا رہے ہیں۔۔

بیٹا کہاں جارہی ہو؟وجدان کی ماں نے اس کو کیچن میں جاتے دیکھا تو بولیں۔۔۔

انٹی ناشتہ لگانے کا رہی ہوں۔۔اچھا ۔۔

۔۔۔۔۔بھابھی آپ کو میری طرف سے ہنی مون بہت بہت مبارک۔۔روزینہ جو اپنی دھن میں ناشتہ لگا رہی تھی گل کے ایک دم نازل ہونے پر ڈر گئی۔

کیا گل تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔۔

اوو میری چھوٹی سی بھابھی آپ ڈرتی بہت ہیں۔۔

بھابھی ویسے یہ دیکھیں میں کیسی لگ رہی ہوں؟

گل جس نے جامنی رنگ کی فراک پہنی تھی جس کے گلے پر موتی لگے تھے اور ساتھ میں دوپٹہ لئیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔

بالکل پری لگ رہی ہو۔۔

تھینک یو سو مچ بھابھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔ناشتہ لگا دیا کیا؟؟ روزی اور گل جو باتوں میں مگن تھیں وجدان کی جانب دیکھا جو کہ کیچن میں داخل ہوا تھا۔

جی لگا رہی ہوں آپ بیٹھیں۔۔بھابھی آپ لوگ ناشتہ کریں میں باہر لان میں ہوں پھر ہم ائیرپورٹ کے لئیے نکلیں گے۔

یہ کہہ کر وہ لان میں چلی گئی۔۔

اور وجدان اور روزی ناشتہ کرنے لگے۔۔۔۔۔

کیا ہوا تم کہاں جارہی ہو؟گل جو کہ لان میں جارہی تھی اپنی ماں کے پکارنے پر ان کی جانب دیکھا اور بولی ۔لان میں جارہی ہوں۔۔

ادھر آؤ تم کیا سارا دن ادھر سے ادھر کہاں گھومتی رہتی ہو۔۔کوئی کام وام ہے بھی یا نہیں۔۔

جاؤ میرے کمرے میں جاؤ میں ۔اپنا سوٹ نکال کر آئی ہوں استری کرو اس کو ابھی پہن کر جانا ہے۔۔

مما میں تیار ہوئی ہوں۔۔

تو میں کون سا تمھیں صفائی کا بولا ہے جو تمہارے کپڑے گندے ہو جائیں گے۔۔جلدی کرو۔

جی۔۔وہ معصوم سا منہ بنا کر بولی اور کمرے کی جانب چل دی۔

……….

حال۔۔

کیا مجھے حیا کا رشتہ وہاں کرنا چائیے؟؟

مما آپ کہاں گئی تھیں؟

روزینہ جو اپنے کمرے میں بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔حیا کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔۔

ہاں او حیا میں ابھی تمھارے پاس ہی آنے والی تھی ۔۔اچھا ہوا تم آہ گئی۔۔

کیوں خیریت۔۔

ہاں گڑیا خیریت ہی ہے۔۔۔

بیٹا میری بات تم غور سے سننا بیچ میں مت بولنا۔۔

آج میں سعدیہ آپا کے گھر گئی تھی ۔۔ان نے تمہارے رشتے کی بات کی ہے کوئی فیملی ہے۔۔وہ تمھیں کل دیکھنے آہ رہی ہے۔۔۔۔

مما۔۔۔؟؟اپ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ جانتی ہیں میری ابھی پڑھائی چل رہی ہے۔۔

پھر بھی آپ میری شادی کا کیسے سوچ سکتی ہیں۔۔

میں ابھی شادی نہیں کرسکتی۔۔۔

بیٹا ابھی شادی تھوڑی کر رہے ہیں ابھی تو وہ صرف تمھیں دیکھنے آہ رہے ہیں۔۔۔

بیٹا میں تمہاری ذمہداری سے سبکدوش ہونا چاہتی ہوں۔۔مرنے سے پہلے تمھیں تمھارے گھر کا ہوتا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔کیونکہ میرے بعد تمھارا کوئی نہیں ہے۔۔

مما آپ ایسی باتیں تو نہ کریں۔۔وہ روتے ہوئے بولی۔۔

بیٹا حقیقت چھپائی نہیں جاتی۔۔۔اس سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔۔وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولئیں۔۔

چلو اب سو جاؤ اور کل یونی سے اوف کر لینا۔۔

جی مما۔۔یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

رستم میری بات سنیں۔۔۔

رستم جو کہ موبائیل پر وڈیو دیکھنے میں محو تھے ان کی جانب متوجہ ہوئے۔۔

جی کہہیے۔۔۔۔۔۔

میں کیا سوچ رہی تھی کیوں نا ہم ماہم کو اپنی بیٹی بنا کر اس گھر میں لے ائیں۔۔

زنیرہ آپ کا دماغ ٹھیک ہے آپ اس عمر میں اپنے بھائی کی بیٹی کو اِڈاپٹ کریں گی۔۔

وہ شرارت بھرے انداز میں بولے۔۔

رستم صاحب مذاق مت کریں میں سیرس ہوں۔۔۔

خدا نہ کرے کہ آپ کبھی سیریس ہوں ابھی تو آپ نے لمبی عمر جینی ہے۔۔

جائیں آپ مزاق اڑا لیں میرا میں نہیں بولتی آپ سے۔۔اس عمر میں بھی آپ کو مذاق سوج رہا ہے۔۔

اچھا ناراض کیوں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔ادھر دیکھیں۔۔۔وہ زنیرہ کا رخ اپنی جانب موڑتے ہوئے بولے۔۔

اب بولیں۔۔میں کہہ رہی ہوں ہم ماہم کو اپنے عون کی دلہن بنا کر اس گھر میں لے آتے ہیں۔۔

ہمم ویسے اپنے گھر کی بچی ہے تم عون سے پوچھ لینا اگر اس کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ہم اگلے ہفتے جاکر بات کر لیں گے۔

جی میں پوچھ لوں گی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لندن۔۔

وہ اس وقت لندن کے مشہور ہوٹل

The Savoy

میں اپنے جگری دوست کے ساتھ موجود تھا۔

زارو۔۔تو نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا۔۔؟؟

یار اگر تجھے سچ بتاتا۔۔تو تیرے ایکسپریشن کا مزا کیسے لیتا۔۔

وہ بڑا ہی وہ ۔۔۔۔۔۔ڈیش ڈیش انسان ہے تو۔۔۔دانش نے کہا۔۔

ہاں دیکھ کے بیٹا جو بھی ہوں تیرا ہی دوست ہوں۔۔۔۔۔یار ٹائیم بہت ہوگیا ہے اب نکلتے ہیں۔۔ …۔۔۔وہ دونوں کہتے ہی بیل پے کر کے وہاں سے نکلے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فلیٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔۔