Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 27
Rate this Novel
Sarab Episode 27
Sarab by Sara Arooj
ڈیڈ آج میرے فرینڈ کی شادی ہے آپ چلیں گے میرے ساتھ۔۔
وجدان جو کہ اسٹڈی میں بیٹھے کسی گہری سوچ میں کھوئے ہوئے تھے سعد کے سوال پوچھنے پر اس کی جانب دیکھا۔۔
کیا؟
میں پوچھ رہا ہوں۔۔اج آپ میرے ساتھ میرے دوست کی شادی پر چلیں گے۔۔
اس نے پوری فیملی کو انوائیٹ کیا ہے۔۔
بیٹا ۔۔تم چلے جاؤ مجھے کچھ ضروری کام ہے۔
ڈیڈ!۔مام سے پوچھا ہے وہ بھی منع کر رہی ہیں..اور اب آپ بھی۔۔
بیٹا بات کو سمجھو۔۔اگر میں مصروف نہ ہوتا تو ضرور تمہارے ساتھ جاتا۔۔
اوکے ڈیڈ۔۔ایز یور ویش۔۔
یہ کہتے ہی وہ اسٹڈی سے باہر چلا گیا۔۔
زارون بیٹا حیا اور ماہم کو آدھے گھنٹے بعد پارلر سے پیک کر لینا۔۔
جی مام میں کر لوں گا۔۔
روزی کیا رہی ہو؟
کچھ خاص نہیں بس سوٹ استری کر رہی تھی۔
کیوں بولو۔۔کوئی کام تھا؟؟
ارے ! اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔
کیوں؟
کیونکہ آج کے ریسیپشن میں تم یہ پہنو گی۔۔
زینی اس کی جانب ایک خوبصورت سی بلیک اور گولڈن رنگ کی ساڑھی کرتے ہوئے بولی۔
میں نے ہم دونوں کے لئیے ایک جیسی لیں ہیں ۔۔
یار اس عمر میں ایسے لباس پہنتے ہوئے اچھے لگیں گے۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔آخر دولہا اور دولہن کی مائیں ہیں اور خالہ بھی اچھی تو دیکھنی چاہیں۔۔وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔
ماشاءاللہ!!ماشاءاللہ!!
میری لائیف لائین اتنی خوبصورت لگ رہیں ہیں۔۔رستم زینی کو شیشے کے پاس کھڑے تیار ہوتے دیکھ ان کی جانب ائے۔۔
اور پیچھے سے گلے لگایا۔۔
اوف رستم! کیا کر رہیں ہیں اپ؟
آج آپ کے دونوں بیٹوں کی شادی ہے اور آپ کو رومینس سوج رہا ہے۔۔
وہ انہیں پیچھے کرتے ہوئے بولیں۔۔
بیگم اللّٰہ کے کرم سے شادی میرے بیٹوں کی ہے۔۔
میری تھوڑی۔۔جو میں اپنی شریکِ حیات سے پیار بھی نہیں کر سکتا۔۔۔
اس عمر میں آپ کو کس نے پوچھنا ہے۔۔شادی کے لئیے۔۔اس لئیے خواب زرہ کم دیکھیں۔۔
وہ ان کا مزاق اڑاتے ہوئے بولیں۔۔جبکہ آنکھوں میں شرارت نمایاں تھی۔۔
آج بھی میری پرسنیلٹی ویسی ہی ہے۔۔
لڑکیاں آج بھی مجھ پر فدا ہوتی ہیں۔۔
وہ اپنے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے صحیح کرتے اسٹائیل مارتے ہوئے بولے۔۔
لڑکیاں نہیں آنٹیاں بولیں۔۔۔
زنیرہ کی بات سن کر ان کی ہنسی مانند پڑی وہ جو انہیں چڑا رہے تھے۔۔
اب منہ بنا کر رہ گئے۔۔
جبکہ زنیرہ ان کا بنا ہوا چہرا دیکھ کر مسکرا دیں۔۔
آپ کہاں جارہے ہیں؟
رانیہ وجدان کو بیگ پیک کرتا دیکھ پریشانی کے عالم میں تیر کی تیزی سے اس تک پہنچی۔۔
بہت دور۔۔اس شہر سے۔۔اس ملک سے۔۔
جہاں پر تمہاری جیسی چالباز عورت کا وجود تک نہ ہو۔۔۔
وجدان یہ کہہ رہے ہو؟
تم تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہو۔۔
ادھر دیکھو۔۔میں رانیہ ہوں۔۔تمہاری رانیہ۔
وہ وجدان کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے ہوئے بولی۔
نہیں رانیہ۔۔اب وقت بیت چکا ہے۔۔
تمہاری وجہ سے دو زندگیاں برباد ہوئی ہیں۔۔
تم نے مجھ سے میری بیٹی چھینی
ایک عورت کا گناہگار بنایا۔۔
اس سب کے لئیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگا۔۔
وجدان۔۔نہیں۔۔۔پلیز۔۔اتنی بڑی سزا مت دو۔۔
میں مر جاؤں گی تمہارے بنا۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔بھائی۔۔۔؟؟؟
گل۔۔گل دیکھو تمہارے بھائی ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔انہیں بولو۔۔مت جائیں۔۔
پلیز۔۔
اتنی بڑی سزا مت دیں۔۔مجھے۔۔
گل جو کمرے میں بیٹھی تھی۔ شور کی آواز سن کر نیچے ائی۔۔
ہوا کیا ہے؟؟اور آپ کہاں جارہے ہیں بھائی۔۔
صرف اس عورت کی وجہ سے میں روزی کا گناہگار ہوا۔۔اس کے ساتھ ناانصافی کی میں۔۔۔
پر بھائی آپ گھر کیوں چھوڈ کر جا رہے ہیں۔؟
تھوڑے وقت کے لئیے سکون چاہتا ہوں۔۔
وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولے۔
اور واپس سمان پیک کرنے لگے۔
رانیہ وہیں لاؤچ میں صوفے پر ڈھہ سی گئی۔
میں نے کہا تھا نا۔۔
کہ سچ ذیادہ دیر تک چھپ نہیں سکتا۔۔
یہ کہہ کر گل اوپر کمرے میں چلی گئی۔۔
دوسروں کا گھر اجاڑ کر گھر بسانے والے زیادہ دن خوش نہیں رہ سکتے۔۔
اس کو روزی کے کہیے الفاظ یاد ائے۔۔
شہر کے خوبصورت ہوٹل کو بہت دلکش انداز میں سجایا گیا تھا۔ہر طرف لائیٹیں لگائی گئی تھیں جس سے رات میں بھی دن کا سماں لگ رہا تھا۔۔پورے ہوٹل میں میں پھولوں کی مہک چھائی ہوئی تھی۔
ہوٹل کے بیچ میں لگا بڑا سا فانوس ہال کی شان کو بڑا رہا تھا۔
تیرے لئیے دنیا چھوڑ دی ہے,
تجھ پہ۔ ہی سانس آہ کے رکے،
میں تجھ کو کتنا چاہتا ہوں،
یہ تو کبھی سوچ نہ سکے،
ایک دم ہوٹل کی تمام لائیٹس کو بند کر دیا گیا۔۔اور سپوٹ لائیٹس اون کی گئی۔سب نے اینٹرس کی جانب دیکھا جہاں سے حیا اور زارون۔ ، ماہم اور عون۔۔ اور دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔۔
سرخ گلاب کے پھولوں کی چادر پر چلتے ہوئے آہ رہے تھے۔
ماہم اور حیا نے ایک جیسے لال رنگ کے خوبصورت سے لہنگے زیب تن کیے تھے۔۔
اس پر مہارت سے کیا گیا میک اپ۔۔
انہیں اور دلکش بنا رہا تھا۔۔
جبکہ زارون اور عون بلیک رنگ کے کوٹ سوٹ میں ملبوس پورے ہال میں چھائے ہوئے تھے۔۔
کیمرہ مین پوری مہارت سے ان کی تصویریں کیمرے کی آنکھ میں قید کر رہا تھا۔۔
آنکھوں کی ہیں یہ خواہشیں ،
کہ چہرے سے تیرے نہ ہٹیں،
نینوں میں میری بسے رہیں،
ہاں خوابوں نے کی ہیں کروٹیں۔
وہ لوگ آہ کر خوبصورتی سے سجائے گئے اسٹیج پر بیٹھے۔۔اسٹیج پر بہت نفاست سے ان کے نام لکھے گئے تھے۔۔
حیا ویڈز زارون شاہ
ماہم ویڈز عون شاہ
ان کے بیٹھنے کے تقریباً پندرہ منٹ بعد لائیبہ اور وفا اسٹیج پر دودھ کی تھال لئیے حاضر ہوئیں۔۔
لو جی فقیرنیاں آہ گئیں۔
عون نے ان دونوں کو آتے دیکھ کہا۔۔
اپنا یہ منہ بند رکھو نہیں تو تمہارے دولہا ہونے کا لحاظ بھی نہیں۔ کرونگی۔۔سیدھا منہ توڑ دوں گی۔۔
یہ تم دونوں دوستوں کے ساتھ کیا پرابلم ہے جو ہر بات میں منہ توڑ دیتی ہو۔
چلیں بھئی دودھ پلائی کی رسم شروع ہونے جاتی ہے۔۔
وفا نے زارون کو جبکہ عون کو لائیبہ نے دیا۔۔
یہ کیا تم نے ہمیں بچہ سمجھا ہے۔جو دودھ اٹھا کر لے آئی ہو۔۔کوئی کولڈرنگ وغیرہ لاتی۔تو بھی سمجھ آتا۔۔
بیٹا یہ رسم ہے اب چپ چاپ پیو۔۔
چلیں اب نکالیں پیسے؟؟
دونوں کے دودھ پیتے ہی انہوں نے کہا۔۔
کتنے چاہیے ہیں؟
زارون نے کہا وفا سے۔۔
صرف پچاس ہزار۔۔۔
اووو!!
صرف پچاس ہزار۔۔
زارون اپنے منہ کو او کی شکل دیتا ہوا بولا۔۔
جی۔۔
کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔۔
نہیں!!!
اب جلدی سے دیں نا۔۔
ہم اتنی پیاری دلہن دی ہے۔۔اپ پچاس ہزار نہیں دے سکتے۔۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
وہ ایسا کرتی بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔
اوکے سالی صاحبہ یہ لیں۔۔زارون نے اپنے والٹ سے پیسے نکال کر وفا کو تھمائے۔۔۔
یا ۔۔۔ہو۔ووو۔۔۔!!!
اس نے خوشی سے نارہ لگایا۔۔۔
چلو اب تم نکالو۔
لائبہ نے عون سے کہا۔۔
میں نے نہیں کہا تھا کہ تم لا کر دو۔۔تم نے خود ہی دیا تھا۔۔
مطلب نہیں دو گے۔۔؟؟
ہاں۔۔
یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔؟؟
ہاں۔۔
سوچ لو۔۔
سوچ لیا۔۔
اوکے پھر اس کو بھی بھول جاو۔۔
وہ عون کے سامنے اس کا فون لہراتے ہوئے بولی۔۔
او۔۔میسنی چڑیل۔۔یہ تمہارے پاس کہاں سے ایا۔۔؟؟
اپنا اتنا قیمتی فون لائبہ کے ہاتھ میں دیکھ کر اس کا سر چکرا گیا۔۔۔
اب بتاو؟
دے رہے ہو۔۔یا پھر یہ فون میرا؟؟
رکو۔۔ڈاکونی دے رہا ہوں۔۔
اس نے جلدی سے پیسے نکال کر لائبہ کو دیے۔
اور اپنا فون لیا۔۔
جبکہ ہال میں سب کی ہنسی چھٹی تھی۔۔
فنکشن اپنے عروج پر تھا۔سب نے ان کو آکر مبارک باد دی اور تحائف دیے۔۔
فنکشن کے درمیان ان کا فوٹو شوٹ ہوا۔۔
اور رخصتی کا وقت ہوا۔۔
انگلی پکڑ کے تو نے،
چلنا سکھایا تھا،
دہلیز اونچی ہے یہ پار کرادے،
بابا میں تیری ملکہ،ٹکڑا ہوں تیرے دل کا،
ایک بار پھر سے دہلیز پار کرادے۔۔
ماہم کو آفندی نے قرآن کے سائے میں رخصت کیا۔۔جبکہ وہ اپنے باپ اور ماں کے گلے لگ کر بہت روئی۔۔
آفندی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اس کو گاڑی میں بیٹھایا۔۔
فصلیں جو کاٹی جائیں اگتی نہیں ہیں۔
بیٹیاں جو بیاہی جائیں مڑتی نہیں ہیں،
ایسی بدائی ہو تو،لمبی جدائی ہو تو
دہلیز درد کی بھی پار کرادے۔۔
اب حیا کی رخصتی کی رسم کی باری تھی۔۔اس رسم کو سعد نے ادا کیا اس کو قرآن کے سائے میں گاڑی تک بیٹھایا۔۔حیا اپنی ماں کے گلے لگ کر روئی۔۔اس کو آج شدت سے باپ کی کمی محسوس ہوئی تھی۔
رخصتی کے بعد سب اپنے اپنے گھروں میں روانہ ہو چکے تھے۔۔۔
زارون کہاں لے کر جارہے ہیں آپ؟
تھوڑی دیر حوصلہ رکھو بیگم۔۔
سرپرائز ہے۔۔
پر ہمیں تو ابھی گھر پر جانا چاہیے۔۔
حیا۔۔تھوڑی دیر انتظار کرو۔۔
یہ کہہ کر وہ ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ان کی گاڑی ایک خوبصورت فارم ہاؤس میں داخل ہوئی۔۔
واؤ!زارون یہ کس کا ہے؟
وہ فارم ہاؤس کو ستائیشی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
یہ مسسز زارون شاہ کا ہے۔۔یہ فارم ہاؤس میری طرف سے تمہارے لئیے شادی کا تحفہ ہے۔
کیسا لگا؟
بہت خوبصورت۔۔!!!
آؤ اندر سے بھی دیکھاوں۔۔جی۔۔
یہ کہہ کر اس نے ابھی پہلا قدم ہی لیا تھا کہ زارون نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
ایسے نہیں۔۔
پھر کیسے؟؟وہ بولی۔۔
ایسے۔۔اگلے ہی لمحے وہ اس کو اپنی بانہوں میں اٹھاتے ہوئے بولا۔۔
زا۔۔زارون۔۔م۔میں گر جاؤں گی۔۔
وہ گھبراتے ہوئے بولی۔
کبھی گرنے نہیں دوں گا۔۔بھروسہ رکھو۔۔
وہ حیا کو اپنی بانہوں میں اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔۔اور آرام سے اسے نیچے اتارا۔
کمرے کو دیکھ کر حیا ششدر رہ گئی۔۔
پورے کمرے کو کینڈل اور گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔
کمرے میں پھیلی گلاب کی مہک ایک خواب ناک ماحول بنارہی تھی۔۔
بیڈ کے اوپر حیا اور زارون کی مایوں کے فنکشن کی تصویر لگی ہوئی تھی۔
حیا کے دیکھتے ہی دیکھتے زارون گھنٹوں کے بل بیٹھا۔۔اور اپنی جیب سے گلاب کا پھول نکالا۔۔
“آج تمہارا یہ شوہر اپنے پورے
دل کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار
کرتا ہے۔۔
آئی لو یو حیا۔۔۔
گھٹنے کے بل بیٹھ کر
وہ ہاتھوں میں گلاب لئیے بولا۔۔
زارون شاہ تم سے عشق کرتا ہے۔
کیا تم میری محبت کو قبول کرتی ہو؟
ہاں۔۔۔حیا نے اسبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور زارون کے ہاتھ سے گلاب کا پھول تھاما۔۔
زارون نے کھڑے ہو کر اپنی محبت کو گلے سے لگایا اور اس کے ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔۔
بادلوں کی اوٹ میں چھپا چاند ان کے اس ملن پر مسکرا دیا۔۔
آج زندگی میں پہلی بار زارون اپنے آپ کو مکمل محسوس کر رہا تھا۔۔اور حیا اپنے محبت کرنے والے شوہر کے سنگ خوش تھی۔۔
عون جب کمرے میں داخل ہوا تو اس کی ساری خوشی مانند پڑی کیونکہ ماہم اس کے سارے ارمانوں پر بھری ہوئی پانی کی بالٹی پھینک چکی تھی۔
ہائے اللّٰہ جی۔۔۔
ہمارے وہ دن کب آئیں گے۔جب ہماری زوجہ ہمارے استقبال کے لئیے کھڑی ہوں۔۔ہم ان سے بات کریں اور وہ ہماری باتوں پر شرمائیں اور ہم ان کو اپنی ان حسین آنکھوں۔ سے شرماتا ہوا دیکھیں۔۔
وہ دہائیاں دیتا بیڈ پر چھلانگ لگا کر بیٹھ گیا۔۔
وہ جانتا تھا وہ جا گی ہوئی ہے۔۔جان بوجھ کر اس کو تنگ کر رہا تھا۔۔
کیا تکلیف ہے۔۔کیوں شور مچا رہے ہو ۔
سونے دو۔۔ایک تو ویسے ہی اتنا تھک گئی ہوں۔۔
وہ غصے سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔
اوو۔۔سوری تم سو رہی تھی ۔۔مجھے لگا جاگ رہی ہو۔۔
اور تم کس خوشی میں یہاں بیڈ پر ہو۔۔
جاؤ صوفے پر جاکر لیٹو۔۔
پہلی بات میں مابدولت آپ کا شوہر۔۔
دوسرا بیڈ کے علاوا مجھے نیند نہیں اتی۔۔کیونکہ یہ بیڈ یہ کمرا میرا ہے۔۔
اگر آپ می مینڈکنی کو کوئی تکلیف یا پریشانی ہے تو وہ رہا صوفہ ورنہ یہیں رہو۔۔میری طرف سے اجازت ہے۔۔
یہ کہہ کر وہ لمبا ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔
جبکہ ماہم بھی چپ کر کے عزت سے ادھر ہی لیٹ چکی تھ
منال لونگ بلو شرٹ پر ٹائیٹ جینس پہنے
ڈوپٹے سے بے نیاز بالوں کو کھلا چھوڑے
آنکھوں پر لگائے گئے گوگلز ،ایک کاندھے پر بیگ لٹکائے آفس میں داخل ہوئی۔
طلحہ تمہیں نہیں لگتا کہ اب ہمیں شادی کر لینی چاہیے۔
منال تم میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔جب دیکھو شادی شادی کی رٹ لگا کر بیٹھ جاتی ہو۔۔
طلحہ جو کہ لیپ ٹاپ پر بیٹھا کچھ کام کر رہا تھا
منال کی بات سن کر بولا۔۔
کیونکہ اب بہت عرصہ ہو چکا ہے۔۔تم مجھے دو سالوں سے ٹال رہے ہو۔۔
اب تو زارون نے بھی شادی کر لی ہے۔
تم آفس میں یہ بکواس کرنے کے لئیے آئی ہو؟
یہ میں بکواس کر رہی ہوں۔۔؟؟؟
میری باتیں تمہیں بکواس لگ رہی ہیں؟
تم مجھے آج ہاں یا ناں بتا ہی دو۔۔
کیوں میری اور اپنی زندگی برباد کر رہے ہو؟
ہہاہاہاہاہ۔۔۔میں زندگی برباد کر رہا ہوں؟؟
وہ بھی تمہاری۔۔۔
وہ کرسی سے کھڑا ہوتا ہنستے ہوئے اس تک آیا اور انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔
اپنی زندگی تم نے خود بر باد کی ہے۔
اور تم جیسی لڑکی سے میں شادی کروں ۔۔۔
تم جیسی لڑکی سے کیا مراد ہے؟
وہ غصے و تیش کے عالم میں بولی
تم ایک دوغلی اور بے وفا عورت ہو ۔۔۔
جو کہ اپنے اتنے محبت کرنے والے شوہر کو ,اتنے خلوص رشتوں کو چھوڑ ائی۔۔
اس عورت سے میں شادی کروں۔۔
لائیک سیریسلی !!
وہ ایک ائیںبرو اچکاتے ہوئے بولا۔۔
وہ سب میں تمہارے لئیے چھوڑ کر آئی تھی،طلحہ تمہاری محبت میں۔۔۔
جب تم اتنے محبت کرنے والے رشتوں کی سگی نہ ہو سکی تو میری کیا خاک ہو گی۔۔
یہ تم کیسی باتیں کر ہے ہو؟
کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے؟؟؟
وہ روتے ہوئے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔
دور ہٹو!!
خبردار جو آئیندہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا۔۔
ہاتھ کاٹ دوں گا۔۔
وہ انگلی اٹھاتے اسے وارن کرتے ہوئے بولا۔۔
تم جیسی لڑکیاں صرف ٹائیم پاس کے لئیے ہوسکتیں ہیں۔۔گھر بسانے کے لئیے نہیں۔۔
کیونکہ اگر تم میں گھر بسانے کے جراثیم ہوتے تو کب کا بسا چکی ہوتی ۔۔زارون کے ساتھ۔۔
اب جاؤ یہاں سے ۔۔۔
یوں کھڑے ہو کر میرا وقت برباد مت کرو۔۔
وہ اس کو کہتا واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔
جبکہ وہ روتی ہوئی باہر نکل گئی۔
آج اس کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔
وہ اپنے ہی خیالوں میں روڈ پر آنسوں بہاتی ہوئی چل رہی تھی کہ سامنے سے آتی گاڑی اس کو ٹکر ماری کر جا چکی تھی۔۔ہوا میں اس کی چیخ بلند ہوئی۔۔
