Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 7

Sarab by Sara Arooj

اس وقت ایک گاڑی آکر شاہ ولا میں آکر رکی۔۔۔

رستم صاحب جو کہ لان میں فون پر کسی سے محو گفتگو تھے۔۔گاڑی میں سے اترنے والی ہستی کو دیکھا اور لمحوں میں اس تک پہنچ کر بگل گیر ہوئے۔۔

اسلام وعلیکم آتی کیساہے۔؟

رستم شاہ نے پوچھا۔۔۔

وعلیکم السلام میں ٹھیک رستم تم سناو۔؟

اسلام وعلیکم بھابی۔۔واعلیکم ۔۔۔۔۔۔بھائی صاحب۔۔

آئیں اندر آئیں نا۔۔ہاں چلو۔۔

یہ ماہم ہے نا۔۔

ہاں۔۔۔افنندی نے جواب دیا۔۔

اسلام وعلیکم انکل۔۔

وعلیکم السلام بیٹا ۔۔

کافی بڑی ہو گئی ہو۔۔

جب دیکھا تھا تب تو بہت چھوٹی تھی۔۔

ان کی بات پر ماہم مسکرادی۔

زنیرہ یہ دیکھیں کون آ یا ہے

۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔کون۔۔

زنیرہ جو کہ کمرے میں تھیں ۔۔رستم صاحب کے بلانے پر باہر آئیں ۔۔باہر موجود ہستی کو دیکھ کر ان کے باقی کے الفاظ منہ میں رہ گئے۔۔

بھائی۔۔۔۔۔۔

اسلام وعلیکم بھائی ۔۔کیسے ہیں آ پ کہاں چلے گئے۔ تھے آپ لوگ۔۔ہم نے آپ کو کتنا مس کیا۔۔

وہ آنسو بہاتے اپنے بھائی کے گلے لگے تو رہی تھیں۔۔۔

آفندی صاحب نے بھی اپنی بہن کو بانہوں کے گھیرے میں لیا۔۔۔

۔۔زنیرہ ہم سے نہیں ملو گی۔۔

او سوری بھابھی۔۔۔کیسی ہیں۔۔اپ۔۔

مسسز آفندی نے زنیرہ کو گلے لگایا۔۔۔

میں ٹھیک ہوں بھابھی۔۔۔

۔۔۔ان سب کو یوں ایموشنل ہوتا دیکھ ماہم بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

بھابھی یہ ماہم ہے نا۔۔

ہاں۔۔

۔کیسی ہو ماہم۔؟

میں ٹھیک انٹی آپ کیسی ہیں۔۔؟؟

انٹی نہیں ماہم۔۔؟

پھوپھو۔۔بولو۔۔

پھوپھو۔۔؟؟

ہاں یہ تمہاری پھوپھو۔۔ہیں۔۔

او اچھا۔۔

واؤ موم دیٹس گریٹ۔۔۔

بھابھی بچے کہاں ہیں۔۔نظر نہیں آ رہے؟؟

ہاں میں بلاتی ہوں۔۔

آپ بیٹھیں میں ذرہ آتی ہوں۔۔یہ کہ کر زنیرہ کچن میں ا گئی۔اور میڈ کو ریفریشمنٹ کا بول کر باہر اگئی۔۔

اب ان کا رخ زارون کے روم کی طرف تھا۔۔

زارون ۔۔کیا کر رہے ہو جلدی آ جاؤ نیچے گیسٹ ا چکے ہیں۔۔

جی موم ۔۔بس ایا۔۔

جلدی آؤ بہت خاص گیسٹ ہیں۔۔۔

مام کون سے خاص گیسٹ ہیں جن کے آنے پر آپ اتنی خوش ہیں۔ ۔۔۔

بیٹا نیچے او پھر بتاتی ہوں۔۔

اوکے فائیں۔۔

آئیں اب۔۔

اچھا زاری یہ بتاو۔۔عون کہاں ہے ۔؟؟

مام اپنے روم میں ہو گا۔۔

بول رہا تھا کہ تیار ہونا ہے اس نے اچھا۔۔؟؟

پر وہ باہر نہیں ایا۔۔

اچھا مام آپ چلیں نہیں اسے کے کر آتا ہو۔۔

اچھا بیٹا جلدی انا۔۔۔

جی موم۔۔۔

کیا ہوا زنیرہ بچے نہیں آ ئے۔۔؟

بھابھی وہ آ ہ رہے ہیں۔۔

او۔۔اچھا۔۔

ماہم سٹڈی کیسی جا رہی ہے۔۔؟

جی اچھی جارہی ہے ۔۔۔

چلو اچھا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

عون۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو ؟

تم یہاں گانے سن رہے ہو باہر گیسٹ آ چکے ہو۔۔

او نو ۔

عون نے یہ کہتے ہی بستر سے چھلانگ لگائی۔اور مرر کے سامنے کھڑے ہو کر بال سیٹ کرنے لگا۔۔

عون اگر ڈرانے ہو گئے ہوں تو چلیں۔۔

ہمیں انھیں سی اوف کرنے نہیں جانا۔۔۔

زارون جو کافی دیر سے کھڑا عون کے ڈرامے دیکھ رہا تھا۔۔

تپ کر بولا۔۔

کیا بھائی۔۔

آپ بھی نا۔۔

چلو اب ۔۔۔

چل تو رہا ہوں۔۔

عون معصوم سا منہ بنا کر بولا۔۔

..

اسلام وعلیکم۔۔

دونوں نے ڈرائینگ روم میں پہنچ کر بآواز بلند سلام کیا۔۔ عون اور زارون کو دیکھ کر ماہم کو 440 والٹ کا جھٹکا لگا۔۔

جبکہ ابھی تک عون کی نظر ماہم پر نہیں پڑی تھی۔

وعلیکم السلام۔۔

کیسے ہو بچوں۔۔

زارون اور عون دونوں آفندی صاحب سے بگل گیر ہوئے۔۔

عون آفندی صاحب کے ساتھ بڑے صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ زارون سینگل صوفے پر۔۔

۔عون جیسے ہی صوفے پر بیٹھا اس کی نظر ماہم پر پڑی۔۔او مائی گوڈ۔۔

ماہم۔۔۔!تم۔۔؟؟

ماہم جو زارون کو دیکھ رہی تھی عون کے چلانے پر اس کی جانب دیکھا۔۔

جبکہ باقی سب بھی اس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔

کیا ہوا بیٹا ۔۔۔؟

اور تم ماہم کو کیسے جانتے ہو؟

مام ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں۔۔

او یہ تو اچھی بات ہے۔۔

خاک اچھی بات ہے ماہم نے دل میں سوچا مگر اس وقت صرف مسکرا دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا مطلب تم ڈیڈ کے فرینڈ کی بیٹی ہو۔۔ہماری ریلیٹیو۔۔

واو۔۔۔

بیٹا ریلیٹیو تو ہیں ۔۔۔بٹ ۔۔

میرے دوست کے ساتھ یہ تمہاری ماموں بھی ہے۔۔

واٹ۔۔؟؟

اب کی بار زارون کی بھی آواز ائی۔۔

جبکہ ماہم ان دونوں کے مقابلہ میں ماہم پر سکون تھی۔۔

وہ تھوڑی دیر پہلے یہ سب فیس کر چکی تھی۔۔

مطلب سگے ماموں موم کے بھائی۔۔۔

مطلب ہم سگے ریلیٹیو ہیں۔۔

مگر موم ہمیں یہ سب کیوں نہیں پتہ تھا۔۔بیٹا وہ سب بعد میں بتائیں گے۔۔

بیٹا وہ کچھہ پرسنل ایشو کی وجہ سے۔۔۔او۔۔۔

چلیں آپ لوگ بیٹھیں میں کھانا لگا لوں۔۔

زینی رکو میں بھی آتی ہوں۔

شہر کے مشہور ریسٹورنٹ میں پارٹی چل رہی تھی جس میں سب کپلز آئے ہوئے تھے۔۔۔

طلحہ۔۔

ہمم۔۔۔

تم میرے سے شادی کب کرو گے۔؟؟

کر لوں گا ڈئیر۔۔

کر لو کر لو۔۔ دو سالوں سے صرف تم یہی بول رہے ہو۔۔

اب ہر جگہ تمہارے ساتھ ایسے پارٹیز میں جانا۔۔۔وہ بھی بنا رشتے کے۔۔اچھا نہیں لگتا۔۔

او کم ان منال۔۔

Don’t be typical!!!!

میں ٹیپیکل نہیں ہو رہی۔۔

لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔۔منال لوگوں کا کام ہوتا ہے باتیں کرنا۔۔

اور کچھ نہیں سو ان کو کرنے دو۔۔

اور اب پارٹی انجوائے کرو اور مجھے بھی کرنے دو میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔۔

۔۔۔۔۔۔منال میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں تمہیں اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں۔۔میں نہیں چاہتا کہ لوگ کسی قسم کی باتیں کریں۔۔۔۔

منال کو اس وقت زارون کہے الفاظ یاد ائے۔۔

ماہم کال سننے باہر لان میں آئی تو اس کو اپنے تعاقب میں سے آواز ائی۔۔

مینڈکنی اب تو ہم کزن بھی ہیں۔۔

کتنی دفع بولا ہے میرا نام ماہم ہے۔۔

مجھے معلوم ہے مگر میں تو تمھاری بڑی آنکھوں کی وجہ سے بولتا ہوں۔

تمھیں بولنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔

اوووو۔۔۔۔۔پر میں تو بولوں گا۔۔۔ہمم بول لو۔۔

پہلے تو عون حیران ہوا لیکن اس کی انگلی بات سے اس ہی حیرانی صدمے میں بدل گئی۔۔۔

جب ماہم نے اس کو جہاز بولا۔۔

واٹ۔۔

میں ۔۔میں تمہیں جہاز کہاں سے لگتا ہوں۔۔اپنی ناک سے۔۔

عون کو تو اپنی کھڑی خوبصورت ناک کے بارے میں جہاز لفظ سن کر صدمہ ہی لگ گیا تھا۔۔۔

اگر اب تم نے مجھے مینڈکنی کہا تو میں بھی تمھیں جہاز ہی کہونگی۔۔۔۔۔

اوو تو ایسا ہے۔۔

ہممم۔

بچوں اندر او کھانا لگ گیا ہے۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے ان کو مسسز آفندی کی آواز ائی۔۔

چلیں مینڈکنی؟؟؟

عون مسکرا کر آنکھ مارتا اندر نکل گیا۔۔

جب کہ وہ پیچھے دانت پیستی رہ گئ۔۔