Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 25

Sarab by Sara Arooj

حیا زارون بھائی کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ؟

وفا اور حیا یونی گیٹ کے پاس کھڑی زارون کا انتظار کر رہی تھیں کہ وفا نے کہا۔۔

اچھا ہے۔۔۔وہ تو بہت خیال رکھتے ہیں۔۔

لیکن۔۔

لیکن کیا۔۔۔

ان کی یہ دوسری شادی ہے۔۔۔

کیا۔۔!!!!

ان کی پہلی بیوی ان کے ساتھ رہتی ہے۔

وفا نے حیرت کے عالم میں پوچھا۔۔ن

نہیں۔۔۔ان کی طلاق ہو چکی ہے ۔

اوو!!!

پھر کیوں ٹینشن لے رہی ہو۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ویسے بھائی ہیں بہت ہینڈسم۔۔۔!!!

وہ حیا کو شرارت بھرے انداز میں آنکھ مارتے ہوئے بولی۔۔

وہ باتیں کر رہی تھیں کہ زارون کی گاڑی ان کے پاس آکر رکی۔۔

چلو اب میں چلتی ہوں اللہ حافظ۔۔

وہ وفا سے ملتی گاڑی میں جا بیٹھی۔۔۔

_____________________________________

یہ آپ کہاں لے کر جارہے ہیں؟؟

وہ زارون کو گاڑی گھر کے راستے کے بجائے کہیں اور لے جاتے دیکھ کر بولی۔۔

شاپنگ پر۔۔۔!!!

شاپنگ؟پر کیوں۔۔۔

میرے پاس ڈریس ہیں تو صحیح۔۔۔

ہاں مانا تمہارے پاس بہت سے ڈریس ہیں پر

ہمیں آج رات کو ایک پارٹی میں جانا ہے۔۔۔

تو اس کے حساب سے میں تمہیں ڈریس لے کر دوں گا۔۔۔۔

چلیں اتریں۔۔۔

وہ مال کے پاس گاڑی روکتے ہوئے بولا۔۔۔

جی۔۔۔

اور وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتی ہوئی اس کے ساتھ مال میں داخل ہوئی۔۔

How can i help you?

( میں آپ کی مدد کس طرح کر سکتی ہوں)

جب وہ ایک شاپ میں داخل ہوئے تو سیلز گرل نے کہا۔۔

Yes sure!!

جی ضرور!!

Please show me some new latest design of dresses..

برائے مہربانی مجھے آپ نئے اور جدید قسم کے لباس دیکھا دیں۔۔

Which kind of??

کس قسم کے؟؟

I wanna party dresses…

ہمیں پارٹی ڈریس چاہیے ہیں۔۔

Ohh ok wait please..

اوو۔۔۔پلیز تھوڑا انتظار کیجئیے۔۔

Look at sir..

یہ دیکھیں سر۔۔۔

سیل گرل انہیں دو تین طرح کے ڈریس دیکھاتی ہوئی بولی۔۔

یہ والا دیکھائیں۔۔۔وہ ایک خوبصورت گرے کلر کی میکسی کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔جس پر گولڈن کلر کے نگوں سے کام ہوا تھا۔۔

یہ والی میکسی فائینل کر دیں۔۔

چلو۔۔۔اب کہاں؟؟

حیا نے پوچھا۔۔۔

میچنگ اسکارف،جولئیری،وغیرہ بھی تو لینی ہے۔۔۔

وہ دونوں جولئیری شاپ میں داخل ہوئے۔۔

جہاں سے انہوں نے میچینگ کی جولئیری خریدی۔۔

اور بھی تمام چیزیں لینے کے بعد وہ گھر کی جانب روانہ ہوئے۔۔

___________________________________

یا اللّٰہ!میں اپنی بیٹی کے نصیب اس کی زندگی کا فیصلہ سب تجھے سونپتی ہوں۔۔

بے شک آپ نے اسے اچھا ہم سفر دیا ہے۔۔۔

بخشیں کہ ان کے اس رشتے کو کسی کی بتی نظر نہ لگے۔۔عہ تاحیات ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔۔ہم بے شک بہت گناہ گار ہیں۔۔ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما۔۔۔

تو رحیم وکریم ہے،سپنے لوگوں کو معاف کرنے والا۔۔۔

روزی کمرے میں بیٹھی اپنے رب کے حضور سجدے میں تھی۔۔

ٹنگ۔۔۔۔ ٹنگ۔۔۔!!!

ابھی وہ نماز پڑھ کر اٹھی تھی،کی دروازے کی بیل کی آواز سے دروازہ کھولنے گئیں۔۔

اسلام وعلیکم!!

وعلیکم السلام!!! زینی تم۔۔۔آو!!!

حیا نہیں آئی ساتھ۔۔

نہیں میں اکیلی ہی آئی ہوں۔۔حیا یونی گئی تھی۔۔

وہ اندر کی جانب بڑھتے ہوئے بولیں۔۔

کیا لو گی۔۔۔جوس چائے ۔۔

کچھ نہیں بس تمہارا تھوڑا سا وقت۔۔۔

اچھا۔۔۔جی۔۔۔

تو وہ مسکراتے ہوئے زینی کے ساتھ بیٹھ گئیں۔۔

تمہیں یہ بتانے آئی تھی کہ ہم نے اس اتوار کو حیا زارون۔۔اور اپنے دوسرے بیٹے عون کا ریسیپشن کا سوچا ہے۔۔۔

اچھا۔۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔

ہاں اچھی بات تو ہے۔۔پر ذیادہ اچھی بات تب ہو گی۔۔۔جب تم ہمارے ساتھ آہ کر رہو۔۔

ان تمام فنکشن کے دوران۔۔۔۔

کیسا۔۔۔؟؟؟

کتنا اچھا لگے گا۔۔مطلب حیا تمہیں مس بھی کرتی ہے۔۔۔

تو میں تمہیں لینے آئی ہوں اور کچھ سالوں سے دل میں چھپے سوال کا جواب بھی لینے آئی ہوں۔۔۔

کیسا سوال۔۔۔؟؟؟

دیکھو پلیز تم اداس مت ہونا۔۔۔۔اور ناراض بھی مت ہونا۔۔۔

کیا ماضی میں ہوئی تمہاری طلاق کا باعث میرا بھائی تھا؟

روزی نے فوراً سے زینی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ۔۔۔؟؟

روزی نے کہا۔۔۔

کیونکہ۔۔۔۔

جب میں اپنی پڑھائی مکمل کر کے باہر سے آئی تھی۔۔تو اپنے گھر پے جانے سے پہلے تمہارے گھر گئی تھی۔۔۔

روزی ۔۔۔روزی۔۔۔۔

کہاں ہو تم۔۔۔۔؟؟؟

زینی روزی کو پکارتے ہوئے سلمان ولا میں داخل ہوئی۔۔۔

تم کیا شور مچاتی ہوئی اندر داخل ہو رہی ہو؟

کوئی روزی نہیں رہتی۔۔۔

اندر سے رانیہ نے نکل کر کہا۔۔۔

زینی تو اسے ۔ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے وجدان کے کمرے سے نکلتے دیکھ شوکٹ تھی۔۔کیا مطلب وہ یہاں نہیں ہے۔۔۔یہی تو گھر ہے اس کا۔۔۔۔

یہ گھر ہے نہیں تھا۔۔۔

طلاق مل چکی ہے اس کو۔۔

کیا۔۔۔

پر کیوں۔۔؟؟

ایک نمبر کی بدچلن لڑکی تھی تمہاری دوست۔۔۔

شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی۔۔۔غیر مردوں سے تعلق قائم کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔

رانیہ حقارت بھرے انداز میں بولی۔۔

یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔۔۔میری روزی ایسی نہیں ہے۔۔۔

او۔۔۔سچی۔۔۔!!!!

تمہاری دوست کے تعلقات تمہارے بھائی کے ساتھ تھے۔۔۔۔اخر تم بہن ہو۔۔۔کیسے نہ جانتی کو گی اپنے بھائی کو۔۔۔

جبکہ زینی کو اپنی سماعتوں پر گویا بم پھٹتا محسوس ہوا۔۔۔

یہ۔۔یہ نہیں ہوسکتا۔۔تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔

وہ کہلاتے ہوئے بولی۔۔

لو بھلا میں کیوں جھوٹ بولوں گی۔۔۔۔

اب جاؤ یہاں سے ۔۔یا یہیں روگ منانے کا ارادہ ہے۔۔۔

رانیہ کہتے ہی اندر چلی گئی۔۔۔

جبکہ زینی باہر کی جانب ہو لی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن جب پارٹی پر مجھ پر جوس گرا تھا۔۔

تو میں واشروم گئی تھی تو وہاں رانیہ نے مجھے اندر لاک کر دیا تھا۔۔اور تمہارے بھائی کو جوس میں ڈرگس ملا کر دیے تھے۔۔۔

پھر۔۔۔۔اس نے شروع سے آخر تک کا واقع زینی کو سنا دیا۔۔

رانیہ کے گناہوں کی سزا دیکھنا ایک دن اسے ضرور ملے گی۔۔۔

یار تم یہاں کیسے شفٹ ہوئی۔۔؟؟

اسکے بعد میں تمہارے گھر بھی گئی تھی مگر وہاں تـالا لگا تھا۔۔۔

میری مدد آغا جان نے کی تھی۔۔انہوں نے وہ گھر بیچ کر مجھے یہاں یہ گھر لے کر دیا تھا۔۔۔

اور اس بارے میں ان کی فیملی میں سے کوئی بھی نہیں جانتا۔۔۔

خدا انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔۔۔

اوو۔۔۔۔!!!

چلو اب گھر چلتے ہیں۔۔۔بچے انتظار کر رہے ہونگے ۔۔۔

شام ہو گئی ہے۔۔میں دوپہر سے نکلی ہوئی ہوں۔۔

تم اپنا سامان لے لو۔۔پھر چلتے ہیں۔۔۔

____________________________________

رانیہ ساری تیاریاں مکمل ہیں نا؟؟؟

جی۔۔۔جی۔۔سب تیار ہے۔۔۔

ہمم گڈ۔۔

سعد کہاں گیا۔۔وہ ابھی تک آیا نہیں ہے کیا۔۔

اسے کہا بھی تھا نا۔۔۔کہ پھوپھو آرہی ہیں۔۔ہمارے ساتھ اس نے بھی انہیں پیک کرنے جانا ہے۔۔۔

ہاں میں نے بتایا تھا مگر وہ کہہ رہا تھا رات میں مل لے گا۔۔

رات میں نہیں اسے ابھی فون کر کے بلاو۔۔۔!!

وہ حکم دیتے ہوئے لاؤنچ میں چلے گئے۔۔۔

جبکہ رانیہ اپنا غصہ ضبط کرتی سعد کو کال کر نے لگی۔۔

___________________________________

اوئے عون بیٹے…

تیری دیو داس کہاں تک پہنچی۔۔۔۔؟؟؟

ابے مت پوچھ یار۔۔۔یہ مینڈکنی بڑی ٹیری چیز ہے۔۔

ایک تو میڈم میں اکڑ بہت ہے۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہاہہا۔۔۔۔عون۔۔۔

اب تو, تو اسے مینڈکنی کہنا چھوڑ دے۔۔۔

کیونکہ اب وہ مسسز جہاز بن چکی ہے۔۔۔وہ اس کا مزاق اڑاتا ہوا بولا۔۔۔

عون نے اسے غصے سے آنکھیں دیکھائی۔۔۔

ہاں اگر تو اسے مینڈکنی بولنا چاہتا بھی ہے تو۔۔

تو تو پھر مینڈک ہوا نا۔۔

ابے سالے۔۔تیری تو،عون نے اس کی کمر پر ایک دھموکہ رسید کیا۔۔۔

تو نہیں سدھرے گا نا۔۔۔،،،

یہاں میری کو اسٹوری کی بینڈ بجا رہی ہے،،اور تو میرا مذاق اڑا رہا ہے۔۔۔

یہاں بھی ہو گا وہاں بھی ہو گا،

اب تو سارے جہاں میں ہو گا۔

کیا؟؟

میرا ہی جلوا جلوا۔۔۔

اے رک۔۔۔مام کی کال آہ رہی ہے۔۔۔

ہیلو !!کہاں ہو تم؟

جی مام۔۔۔عون کے ساتھ ہوں۔۔۔

تمہاری پھوپھو آرہی ہیں انہیں پیک کرنا ہے

میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ رات میں مل لوں گا۔۔۔

مجھے نہیں پتا تم جلدی پہنچو ۔۔تمہارے ڈیڈ مجھ پر غصہ کر رہے ہیں۔۔۔

جی مام۔۔۔۔

__________________________________

میم آپ کے ہزبینڈ آہ چکے ہیں۔۔

بیوٹیشن کی ایسیٹن نے آہ کر حیا کو بتایا۔۔

حیا پارلر سے باہر آئی تو اسے زارون گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا نظر ایا۔۔

جبکہ دوسری طرف زارون حیا کو دیکھ کر ۔۔۔محبوت رہ گیا۔۔

گرے کلر کی میکسی پر اس سے ملتا جلتا اسکارف کیے۔۔نفاست سے کیے گئے میکاپ میں وہ کوئی حور معلوم ہو رہی تھی۔۔۔زارون کو اپنے جذبات کنٹرول کرنا مشکل لگا۔۔

وہ اس کے اس روپ سے نظریں چراتا گاڑی میں بیٹھ گیا اگر تھوڑی دیر اور دیکھتا تو جذبات کو سلانا مشکل ہو جاتا۔۔۔۔

حیا کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی ہوٹل کی جانب بڑھا دی۔۔۔تھوڑی دیر کی مسافت کے بعد وہ ہوٹل پہنچ چکے تھے۔۔۔

چلیں۔۔؟؟

حیا اترنے لگی کہ اس کی نظر میڈیا کی جانب گئی۔۔۔تو وہ گاڑی سے اترتے اترے رک گئی۔۔۔

کیا ہوا؟؟

رک کیوں گییں۔۔؟؟؟

میڈیا۔میڈیا ۔۔بھی ہے۔۔۔!!

ہاں تو کیا ہوا۔

پر۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا اور میرے ساتھ میں ہوں نا۔۔۔۔

زارون نے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔۔

زارون حیا کے ساتھ کھڑا ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے اندر کی جانب داخل ہوا۔۔۔اس کے ایسا کرنے سے حیا نے زارون کی جانب دیکھا تبھی کیمرے کی آنکھوں میں یہ خوبصورت منظر سیو ہو گیا۔۔

سب کی نظریں ان کی جانب تھیں۔۔ جبکہ ان کو اندر داخل ہوتا دیکھ میڈیا کے نا ختم ہونے والے سولات شروع ہو چکے تھے۔۔۔

مسٹر زارون شاہ یہ کون ہیں۔۔ آپ کے ساتھ۔

یہ میری وائف ہیں۔۔

مسسز حیا زارون شاہ۔۔۔

یہ بات ہم کیسے مان لیں۔۔کیونکہ آپ کی شادی کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہے۔۔۔۔یا پھر یہ ایک خفیہ شادی ہے۔۔۔؟؟

ایک نیوز ریپوٹر نے کہا۔۔۔

جبکہ ان کے اس سوال سے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔

دیکھیں آپ کو ماننا ہے مانیں نہیں ماننا نہ مانیں۔۔۔ہمیں کچھ پرسنل ایشو کی وجہ سے نکاح کرنا پڑا ۔۔اس ویکینڈ پر ہمارا ریسیپشن ہے آپ لوگ ضرور آئیے گا۔۔۔

کیا اب اجازت ہے۔۔۔یا کچھ اور بھی رہتا ہے۔۔

ہیلو مسٹر اینڈ مسسز ہمایوں۔۔۔

آپ لوگوں کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔یہ ان سے ملیے یہ میری وائف حیا ہیں۔۔۔اور حیا ان سے لو۔۔۔یہ مسٹر اور مسسز ہمایون ہیں۔۔۔ہمارے بزنس پارٹنر۔۔۔

آسلام علیکم۔۔۔

حیا نے انہیں سلام کیا۔۔۔

آپ سے مل کر اچھا لگا۔۔۔

مجھے بھی۔۔۔حیا نے مسکرا کر کہا۔۔۔

آپ لوگ پارٹی انجوائے کریں ہم جب تک دوسرے گیسٹ دیکھ لیں۔۔۔

یا شیور۔۔

کیسا ارینجمیٹ ہے؟؟

زارون نے حیا سے پوچھا۔۔

بہت اچھا ہے۔۔وہ چاروں جانب نظر دوڑا کر بولی۔۔۔

آخر تم بھی شادی کر ہی لی۔۔۔!!!

حیا اور زارون کو اپنے عقب سے ایک آواز سنائی دی جو کسی لڑکی کی تھی۔۔۔

ہاں تو تمہیں کیا لگا تھا کہ تمام عمر تمہارا سوگ مناتا رہوں گا۔۔۔

زارون نے کہا۔۔۔۔

جبکہ حیا اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ اس کو پہچان چکی تھی۔۔عہ منال تھی زارون کی پہلی بیوی۔۔۔

بیوی ہی ہے نا؟؟؟

طلحہ نے رازداری سے کہا۔۔۔

ہاہاہہاہ۔

جبکہ منال کا قہقہہ گونجا تھا۔۔۔

حیا کا چہرہ خفقت سے سرخ ہوا تھا۔۔۔

کیوں ہر کسی کو تم دونوں نے اپنے جیسا سمجھا ہے کیا۔۔۔

ویسے جو بھی ہو۔۔۔لڑکی کمال ہے۔۔۔

وہ حیا کو اوپر سے نیچے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔

حیا کو اس کی نظریں اپنے اندر دھاتی محسوس ہوئیں۔۔۔وہ زارون کے پیچھے ہو گئی۔۔۔

یو باسٹرڈ!!!!

اپنی ان غلیظ نظروں کو میری بیوی سے دور رکھو ۔۔۔سمجھے ورنہ ان آنکھوں سے محروم ہو جاؤ گے۔۔۔وہ اس کو انگلی اٹھاتا وارن کرتے ہوئے بولا۔۔۔

اور حیا کا ہاتھ پکڑے دوسری جانب لے گیا۔۔۔

ڈانس کرو گی۔۔۔وہ حیا کو اسین کی جانب لاتے ہوئے بولا۔۔۔

نہیں مجھے نہیں آتا۔۔اور ویسے بھی سب دیکھ رہے ہیں۔۔

کچھ نہیں ہوتا او میں بتاتا ہوں۔

ہم بس سمپل کپل ڈانس کریں گے۔۔۔

اور اس کا پکڑتا اسٹیج پر لے ایا۔۔

پیچھے سے بیگ گراؤنڈ میوزک پلے ہوا۔۔۔

ملے ہو تم ہمکو ،بڑے نصیبوں سے،

چرایا ہے میں نے،قسمت کی لکیروں سے،

زارون نے حیا کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما،جبکہ اپنا دوسرا ہاتھ حیا کی کمر میں ڈالا۔۔

اور آگے پیچھے کو موو ہو کر آہستہ آہستہ ڈانس کرنے لگے۔۔

جبکہ حیا اس سب میں بہت پزل ہو رہی تھی۔۔۔

اوو ہو۔۔۔۔حیا سب بھول جاو۔۔جسٹ فوکس اون می۔۔۔۔۔

تیری محبت سے سانسیں ملیں ہیں،

صدا رہنا دل میں قریب ہو کے,

ملے ہو تم ہمکو ،

بڑے نصیبوں سے،

چرایا ہے میں نے،

قسمت کی لکیروں سے۔،

زارون نے اگلے مصرعے پر حیا کو گول گھمایا ،اور اپنے اور حیا کے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر جا کر پین کیے۔۔اس کی پشت اپنے سینے سے لگائ۔۔۔

بانہوں میں تیری اب یارا جنت ہے،

مانگی خدا۔سے تو وہ منت ہے،،

تیری وفا کا سہارا ملا ہے۔۔

تیری ہی وجہ اب میں زندہ ہوں۔۔۔

ملے ہو تم ہمکو بڑے نصیبوں سے،

چرایا ہے میں نے قسمت کی لکیروں سے۔

زارون نے حیا کو واپس گھما کر اپنی جانب کیا۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوئے۔۔اپنا حالِ دل بیان کر رہے تھے۔۔۔

کہ ہال میں یکدم تالیوں کا شور اٹھا جس سے وہ دونوں ہوش میں ائے۔۔۔

حیا شرمندہ سی ہو گئی،،

جبکہ زارون مسکرا دیا۔۔۔۔

اس کی اس مسکراہٹ کو کسی نے نفرت سے دیکھا تھا۔۔۔