Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 24

Sarab by Sara Arooj

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔؟؟؟

جیسے تمہاری ہمت ہوئی میری عزت ،میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی۔۔۔۔

یہ صلہ دیا ہے تم نے میرے اعتبار ،میرے بھروسے کا۔۔۔۔۔وہ دکھ اور غصے کے عنصر میں بولا….

کون سی محبت۔۔؟؟

میں کوئی محبت نہیں کرتی تم سے۔۔۔۔سمجھے۔۔

تم ایک سائیکو انسان ،ٹیپیکل آدمی ہو۔۔۔۔

اچھا ہوا تم نے خود یہ سب دیکھ لیا۔۔۔

میں اور طلحہ محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔۔۔

وہ طلحہ کی جانب قدم بڑھاتے اس کے ساتھ کھڑی ہوتی بولی۔۔۔۔

اور تم۔طلاق دو مجھے،۔۔۔۔۔میں نہیں رہنا چاہتی تمہارے ساتھ۔۔۔

اووو۔۔۔۔۔سلام ہے تم دونوں کو۔۔۔۔دونوں ہی،دوغلے ،بے وفا ہو۔۔تم دونوں ایک دوسرے کو ڈیسرو کرتے ہو۔۔۔۔کیونکہ ایک بے وفا دوسرے بے وفا کے لائق ہوتا ہے۔۔۔

طلاق کے کاغذات کل تک پہنچ جائیں گے۔۔۔

یہ کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

آفی

دراصل ہم نے آپ لوگوں کو اسلیئے بلایا تھا کہ آپ کو کسی بات سے آگاہ کر دیں۔۔۔

وہ سارے ڈائیونگ ہال میں بیٹھے تھے کہ رستم نے کہا۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟

کیسی بات؟؟؟

آفندی بولا۔۔۔۔۔۔

کل ہم اپنے دوست کی شادی میں گئے تھے اور وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

جبکہ زارون کی شادی کا سن ماہم کی آخری امید بھی ٹوٹیں تھی۔۔۔اسے اپنا دل کٹتا محسوس ہوا۔۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔

او۔۔!!!!۔مسسز آفندی پوری بات سن کر بولیں ۔

اب ہمیں بیٹی دیکھا بھی دیں ۔۔کم بھی دیکھیں وہ کون خوش قسمت ہے۔۔۔جس کا نصیب ہمارے زارون سے جڑا ہے۔۔۔۔

آفندی مسکرا کر بولے۔۔۔۔

جی۔۔۔وہ اوپر ہیں ابھی ابھی بلا کر لاتی ہوں۔۔۔

ماہم کو بھی اس لڑکی کو دیکھنے کی آرزو ہوئی جو کہ زارون شاہ کی زندگی میں راج کرنے کے لئیے آہ چکی تھی

تم گئی نہیں نیچے؟زارون جو ابھی واشروم سے نکلا تھا۔گرے پینٹ پر ڈارک بلو شرٹ پہنے۔جو کہ اس کی گوری رنگت پر کافی جچ رہی تھی۔۔۔

اس نے حیا سے پوچھا۔۔۔۔

نہیں۔۔آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

ہمم اچھا کیا۔۔۔۔

اس نے شیشے میں سے حیا کے وجود کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔جو سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس نفاست سے سر پر دوپٹہ اوڑے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔

زارون کو وہ بہت معصوم اور صاف دل لگی تھی۔

ٹھکک ٹھک۔۔!!!!

وہ جو اس کو بے خودی کے عالم میں تک رہا تھا۔۔۔دروازے کے کھٹکنے سے ہوش میں ایا۔۔

چلو۔۔او لگتا ہے کوئی بلانے آیا ہے۔۔۔۔

جی۔۔۔۔

بیٹا تم لوگ نیچے آہ جاو۔۔۔بھائی لوگ کب سے آئیے ہو ہیں۔۔۔دروازے کے کھلتے ہی زنیرہ نے کہا۔۔

جی موم ہم بس آہ ہی رہے تھے۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ نیچے کی جانب چل دیے۔۔

اسلام وعلیکم!!!

انہوں نے سب کو سلام کیا۔۔۔

زارون آفندی صاحب سے بگل گیر ہوا۔۔۔۔

مبارک ہو بیٹا۔۔۔انہوں نے مسکرا کر کہا۔۔۔

خیر مبارک ماموں۔۔

حیا کو زارون کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر ماہم کو دھچکا لگا۔۔۔۔

حیا۔۔۔

وہ ایک دم سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔جبکہ حیا ماہم کے اس ریکشن کے لئیے پہلے تیار تھی۔۔

کیا ہوا ماہم تم حیا کو دیکھ کر کھڑی کیوں ہو گئی؟؟؟

مام یہ۔۔۔۔۔۔

ہم لوگ کلاس فیلوز ہیں۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ماہم کچھ بولتی۔۔عون نے جلدی سے کہا۔۔۔۔

ارے واہ!!!!!

ماشاءاللہ۔۔۔یہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔۔۔

وجدان لان میں بیٹھا میگزین پڑھ رہا تھا۔۔کہ رانیہ بھی اس کے ساتھ آکر سامنے والی کرسی پر بیٹھی۔۔۔

رانیہ۔۔۔گُل کی کال آئی ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ آرہی ہے۔۔۔دو دن بعد۔۔۔

رانیہ کے بیٹھتے ہی۔۔۔وجدان نے کہا۔

گیسٹ روم صاف کروادینا۔۔۔

جی میں کروادوں گی۔۔

سعد کہاں ہے؟؟

وہ اخبار پڑھتے ہوئے بولے۔۔۔

وہ باہر ہے اپنے دوستوں کے۔ساتھ۔۔۔۔

رانیہ تم نے اسے بہت ڈیل دی ہوئی ہے۔۔۔

جوانی کے دنوں میں تمہاری آوٹنگ ختم نہیں ہوتی تھی۔۔اور اب سعد کی۔۔۔

وجدان یہ ہی تو دن ہوتے ہیں بچوں کے زندگی گزارنے کے۔۔۔

جو بھی ہے پر مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔۔۔وہ کہتے ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور اندر کی جان۔ چل دیے

ماضی۔۔۔

بیٹا روزینہ کہاں ہے؟وہ نظر نہیں آہ رہی۔۔۔۔

سب بڑے ابھی شادی سے واپس آئے تھے ۔۔کہ مسسز نتاشہ نے گل سے پوچھا۔۔۔

چلی گئیں ہیں وہ!!!!

ہمیشہ کے لئیے چھوڑ کے ہمیں۔۔۔

کیا مطلب کہاں گئی ہے وہ۔۔۔۔۔

طلاق دے دی ہے آپ کے ان لاڈلے نے انہیں۔۔۔

کیا۔۔۔؟؟؟؟

سب شاکڈ کے عالم میں کھڑے تھے۔۔

کہ ایک زور دار تھپڑ کی آواز پورے والا میں گونجی۔۔۔

چٹاخخخخخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

جو کہ کو آغا جان سے وجدان کو پڑا تھا۔۔۔

وجدان اپنے گال پر ہاتھ رکھے۔۔۔صدمے سے آغا جان کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔جنہوں نے آج تک اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اور اج۔۔۔۔۔!!!

کس سے پوچھ کر طلاق دی تم نے اس کو؟؟؟

شائید تم یہ بھول گئے تھے کہ فیصلہ کرنے کے لئیے ہم یہاں موجود ہیں۔۔۔

تم پر مان تھا ہمیں۔۔اسلئیے بیاہ تھا اسے تمہارے ساتھ۔۔پر آج تم نے ہمارا وہ مان توڑ دیا ہے ۔۔۔وجدان۔۔

انکل وجدان نے ایک دم ٹھیک کیا ہے۔۔۔وہ ایک بد کردار لڑکی ہے۔۔۔

لڑکی تم بیچ میں مت بولو۔۔۔۔۔

آغا جان نے وجدان سے کہا۔۔۔

تم نے اس لڑکی سے شادی کرنے کے لئیے کیا ہے نا سب۔۔۔۔اب ہم اس شادی میں شامل نہیں ہونگے۔۔۔

آغاجان۔۔۔

۔ہم کچھ نہیں سننا چاہتے۔۔

اس سے پہلے کہ وجدان انہیں کچھ بتاتا۔۔۔وہ کہتے ہوئے اندر چلے گئے۔۔۔

اور وجدان نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں تھیں۔۔

باقی سب بھی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔

حال۔۔۔۔

بھائی میں ایک بات بولوں۔۔؟؟

وہ سب بیٹھے تھے کہ زینی نے کہا۔۔۔!!!!

ہاں بولو گڑیا۔۔۔

بھائی دیکھیں میں بول رہی تھی کہ ہم ماہم کی رخصتی لے لیں۔۔۔؟؟

پر گڑیا اتنی جلدی؟؟

جبکہ ماہم کا چہرہ سفید ہوا تھا۔۔۔رخصتی کا سن کر۔۔۔

مطلب میں کہہ رہی تھی ماہم،عون،حیا ایک یونی ایک ہی کلاس میں ہیں۔۔۔۔

ایک ساتھ گھر میں آہ جائیں گے کتنا اچھا لگے گا۔۔۔

اور ویسے بھی ماہم کی رخصتی کے وقت ہم ان چاروں کے فنکشن ساتھ رکھ لیں گے۔۔۔

کیونکہ ہم نے زارون اور حیا کا ریسیپشن کرنا ہی ہے۔۔۔تو عون اور ماہم کا بھی ساتھ کر لیتے ہیں۔۔۔

ہمم کہہ تو ٹھیک رہی ہو۔۔۔

تم کیا کہتی ہو ؟؟

آفندی نے اپنی بیگم سے پوچھا۔۔۔

جی بالکل جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔تاریخ بتا دو۔۔

ویسے بھی کل بھی کرنی ہے آج بھی کر لیتے ہیں۔۔۔

اس اتوار کو رکھ لیتے ہیں۔۔

بتائیں۔۔۔!!

کیا بولتے ہیں رستم۔۔۔

ہاں ۔۔۔مناسب ہے۔۔ویسے بھی اتوار کا دن ٹھیک ہے۔۔۔

ان کی بات سن کر عون تو کافی خوش تھا جبکہ ماہم کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔۔

چلیں اب لنچ پر آہ جائیں کھانا لگ چکا ہے۔۔

وہ سب ڈائیونگ ٹیبل پر چلے گئے۔۔۔

پھر زینی اس ہفتے شاپنگ شروع کر دیتے ہیں۔۔

جی بھابھی۔۔۔!

جبکہ ماہم کا دل اکتاہٹ کا شکار تھا۔۔۔

لنچ کے بعد وہ لوگ اپنے گھر روانہ ہو چکے تھے۔۔۔

جبکہ باقی سب اپنے کمروں میں۔۔

حیا الماری میں سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی کہ اس کے نظر ایک تصویر پر پڑی۔۔جو کی کسی لڑکی اور زارون کی تھی۔۔جس میں وہ بہت خوش نظر آہ رہے تھے۔۔وک لڑکی کافی حسین اور خوش شکل معلوم ہو رہی تھی۔۔

کیا دیکھ رہی ہو؟؟؟

زارون جو ابھی باتھ روم سے نہا کر نکلا تھا۔

حیا کو تصویر دیکھتا بولا۔۔

۔بلیک ٹراؤزر پر وائیٹ شرٹ پہنے۔۔۔تو لئیے سے بال رگڑتا۔۔ کافی پر کشش لگ رہا تھا۔۔۔

حیا نے اس کو دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔

اس کے نظریں بدلنے پر زارون کے مونچھوں تلے عنابی لب مسکرائے تھے۔۔۔

یہ۔۔۔؟؟؟

پہلی بیوی تھی میری!!!!!

جبکہ اس کی پہلی بیوی کہنے پر حیا ہونکوں کی طرح اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

کیا مطلب ..آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔؟؟؟؟

جی المحداللہ!میں شادی شدہ ہوں۔۔میری ایک بیوی ہے۔۔۔۔

جبکہ حیا کا منہ رونے والا ہو گیا تھا۔۔۔جو اپنے آپ کو اس رشتے کو لئیے تیار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔پر یہ سب۔۔۔۔!!!

آپ کی بیوی کو برا نہیں لگا ہو گا۔۔۔اپ نے مجھ سے شادی کی۔۔۔۔؟؟؟؟

وہ روتے ہوئے بولی۔۔۔۔

ارے پگلی تو کیوں رہی ہو؟؟؟

وہ اسے روتے دیکھ بولا۔۔جوکہ اس کی بات سنتے رونے لگی تھی۔۔۔۔

یہ میری سابقہ بیوی ہے طلاق ہو چکی ہے۔۔۔

وہ اس کے آنسوں صاف کرتا تلخی سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

کیا آپ اس سے بہت محبت کرتے تھے؟؟؟

ہممم ۔۔۔۔پر وہ اس محبت کے قابل نہیں تھی۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ سے تصویر لیتا اس کو لائیٹر سے جلاتے ہوئے بولا۔۔۔جاو شاباش اب فریش ہو جاؤ اور سو جاو۔۔صبح یونی بھی جانا ہے۔۔۔۔

وہ کہتا۔۔بستر پر لیٹ چکا تھا۔۔۔جبکہ وہ بھی تمام سوچوں کو جھٹکتے فریش ہونے جا چکی تھی۔۔