Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 22
Rate this Novel
Sarab Episode 22
Sarab by Sara Arooj
ماضی۔۔۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کو اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ایک طائیرانہ نظر اپنے کمرے کی جانب دوڑائی۔اور اپنے ذہن کو بیدار کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔کہ یکدم اس کی آنکھوں کے سامنے کل رات کا منظر جھلملایا۔۔
شٹ۔۔۔!!!!یہ میں نے کیا کیا۔۔۔۔؟؟!!!
وہ اپنے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے نوچتے ہوئے بولا۔۔۔
وہ کیا سوچ رہی ہو گی میرے بارے میں۔۔۔۔؟؟
کل تو میں نے ڈرنک بھی نہیں کی۔۔۔پھر وہ سب۔۔۔؟؟؟
وہ جوس۔۔۔۔۔ویٹر۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دماغ نے یکدم کام کیا۔۔۔!!!!
اس ویٹر سے بعد میں نمٹنے کا سوچ وہ فریش ہونے چلے گیا۔۔
زینی گڑیا جلدی کر لو۔۔لیٹ ہورہے ہیں۔۔۔10 بجے کی فلائیٹ ہے اور ٹائیم دیکھو۔۔۔9:10 ہو رہے ہیں۔۔۔وہ اپنی گھڑی کی جانب نظریں دوڑاتا ہوا بولا۔۔۔
جی بھائی بس آہ گئی۔۔۔وہ کمرے سے نکلتے ہوئے بولی۔۔۔۔
بھائی پہلے ہم روزی کے گھر جائیں گے۔۔مجھے اس سے ملنا ہے۔۔۔۔
وہ پارکنگ میں جاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ہم الریڈی لیٹ ہو رہے ہیں۔۔ اسلیئے سیدھا ہم ائیرپورٹ جائیں گے۔۔۔وہ سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
جبکہ حقیقت تو یہ تھی ۔۔۔کہ اس میں روزی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔
وہ اداسی سے جاکر گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔۔
سر مے آئی کم ان؟؟
وجدان جو آفس میں موجود لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا۔۔سیکٹری کی آواز پر اس کو جواب دیا۔۔۔
یس کم ان۔۔۔۔
سر یہ آپ کا پارسل آیا ہے۔۔۔
سیکٹری نے ایک سیل باکس وجدان کو تھمایا۔۔
یہ کس نے دیا ہے۔۔۔؟؟
وجدان نے باکس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔
معلوم نہیں سر۔۔۔اس پر بھیجنے والے کا نام نہیں ہے۔۔۔ایک لڑکے نے کہا کہ یہ باکس آپ کو دے دوں۔۔۔
اوکے تم جاو۔۔۔
وہ سیکٹری کو حکم دیتے ہوئے بولا۔۔۔
جی سر۔۔۔
یہ کہہ کر وہ باہر چلے گیا۔۔۔۔
اور وجدان نے باکس کھولا۔۔اس میں کچھ تصویریں تھیں۔۔۔اس نے جیسے ہی تصویریں دیکھیں وہ اپنی جگہ سن ہو گیا۔اس کو اپنی انکھوں پر یقین نہیں ایا۔۔۔۔ایک دم اس کی آنکھوں سے غّصہ عیاں ہونے لگا۔۔
وہ جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔اور گھر کی جانب روانہ ہوا۔۔
حال۔۔۔۔۔
مام بھائی ابھی تک آئے نہیں؟؟
وہ سارے اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ عون نے کہا۔۔۔
ہاں وہ۔۔۔۔۔۔۔
لو آہ گئے۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ زنیرہ کچھ کہتیں انہیں وہ دونوں نیچے آتے نظر ائے۔۔
ان کہنے پر عون نے سیٹیوں کو جانب دیکھا۔۔۔
وہ برک رفتار سے کھڑا ہوا۔۔۔۔
وہ زارون کے ساتھ حیا کو دیکھ کر شوکٹ تھا۔۔۔۔۔
حیا جو نظریں نیچے کیے آہ رہی تھی۔۔۔اسلئیے وہ عون کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔
اسلام وعلیکم…
ان دونوں نے سلام کیا۔۔۔۔
جبکہ عون جو کہ صدمے میں تھا۔۔۔سلام کا جواب بھی نہ دے سکا۔۔۔۔
عون ان سے ملو یہ تمہاری بھابھی حیا ہیں۔۔۔اور بیٹا یہ آپ کے پاگل سے دیور عون ہیں۔۔
جبکہ حیا نے اب نظر اٹھا کر عون کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اس کا حال بھی عون سے کم نہ تھا۔۔۔۔
مام۔یہ سب۔۔۔؟؟؟؟
بیٹا وہ دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے کل رات ہوا واقع عون کے گوشو گوار گزار دی۔۔۔
اووو۔۔۔۔۔۔عون نے اپنے ہونٹوں کو “o “کی شکل میں گول کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بھائی۔۔۔آپ دونوں کو میری طرف سے بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور اپنے بھائی کے گلے ملا۔۔۔۔
چلیں اب سب ناشتہ کر لیں سب۔۔۔پھر حیا کے گھر چلیں گے۔۔۔
زنیرہ نے کہا۔۔۔اور پھر سب ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
ماضی۔۔۔۔
آسلام علیکم۔۔۔آج آپ جلدی آہ گئے؟؟
وجدان کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ روزی نے کہا۔۔۔
کیوں میں نہیں آہ سکتا۔۔؟؟یا تمہیں برا لگا ہے۔۔؟؟
نہیں۔۔مجھے برا کیوں لگے گا۔۔۔
ادھر آؤ..!!!!
اس نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور روزی کو اپنے پاس بلایا۔۔۔
جی بولیں۔۔۔
وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
کل تم پارٹی میں کہیں گئی تھی؟؟
نہیں تو۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔کسی سے ملی تھی۔۔؟؟؟
نہیں میں تو صرف زینی کے ساتھ تھی۔۔۔۔
مطلب کل تم کسی کے ساتھ نہیں گئی تھی۔۔۔صرف زینی کے ساتھ تھی۔۔۔
ہے نا۔۔؟؟اس نے یقین دہانی چاہی۔۔
جج۔۔جی۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔
ایک زناٹے دار تھپڑ روزی کے چہرے پر پڑا تھا۔۔۔تھپڑ اتنی زور کا تھا کہ اس کو اپنا سر گھومتا محسوس ہوا۔۔۔
تم آفندی کے ساتھ تھی کل۔۔۔۔بولو۔۔
کب سے چل رہا ہے یہ سب؟
میں ۔میں کچھ نہیں جانتی۔۔؟؟
جھوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہہہہہ۔۔۔اس نے ایک دم اس کے بالوں کو مٹھیوں میں
جکڑا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے تو اتر بہہ رہے تھے۔۔
سچ۔۔سچ بتاؤ مجھے۔۔
اور یہ جھوٹ موٹ کے آنسوں کہیں اور جا کر بہانا۔۔
میں سچ ہی کہہ رہی ہوں۔۔۔
اوو تو تم سچ کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟
وہ طنزیا انداز میں بولا۔۔۔
تو یہ سب کیا ہے۔؟؟اس نے اپنے موبائل میں موجود تصویریں اسے دیکھائیں۔۔۔
تصویروں کو دیکھ کر اس کے پاؤں تلے زمین کھینچی جیسے اسے تپتے صحرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا ہو۔۔۔
ی۔۔ی۔یہ۔۔
کیا ہوا اب بولتی کیوں بند ہو گئی۔؟؟اب بھی بولو نا کہ یہ بھی نکلی ہیں۔۔۔
میں تم جیسی بدکردار لڑکی کے ساتھ اب ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔۔۔
اس نے روزی کو دھکا دیا ۔۔جوکہ دھکا لگنے کی وجہ سے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹکرائی تھی۔۔اور اس کے ماتھے پر خون کی لکیر نمودار ہوئی۔۔
میں وجدان سلمان اپنے پورے حوش و حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔
نہیں۔۔نہیں وجدان خدا کے لئیے مجھ پر رحم کریں میں کہاں جاؤں گی۔طلاق دیتا ہو۔۔نہیں۔۔۔۔میرا اس دنیا میں آپ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔۔میں حیا کو لے کر کہاں جاؤں گی۔۔
ہم پر رحم کریں۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔اس کے آخری دفع کہنے سے روزی نے درد سے آنکھیں بھینچیں۔۔۔
اور زمیں پر ڈھے سی گئی۔۔۔۔
کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس سامان باندھو اور نکلو یہاں سے ۔۔کل جب آؤں تو تمہارے یہ منحوس وجود مجھے نظر نا آئے سمجھی۔۔۔
روزی نے آنکھ اٹھا کر اسے دیکھا کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں درد ،تڑپ،تکلیف،دکھ۔۔لیکن وہ سنگدل اپنی بات کہہ کر ان سب کو نظر انداز کرتا نکلتا چلا گیا۔۔۔
حال۔۔۔۔
حیا اور زینی اس وقت۔۔۔حیا کے گھر پر موجود تھیں۔۔کہ روزی نے زینی سے کہا:
زینی میں نے اپنے جگر کا ٹکڑا تمہیں سونپا ہے۔۔تم اس کا خیال رکھنا۔۔۔۔میں نے حیا کی رخصتی نہیں کرنی تھی۔۔پر تمہارے اسرار پر میں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔۔
روزی۔۔تمہاری بیٹی میری بیٹی ہے۔۔میں وعدہ کرتی ہوں آپنی جان سے بڑھ کر اس کا خیال رکھوں گی۔۔۔
میں اس دنیا میں صرف تم پر بھروسہ کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔
ہممم۔اور یہ بھروسہ انشاللہ ہمیشہ قائم رہے گا۔۔۔۔
آمین۔۔۔
روزی تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔۔یہاں اکیلے رہ کر کیا کرو گی۔۔؟؟
نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔ویسے بھی میں نے اوپر والا پورشن کرایے پر دے دیا ہے۔۔۔گھت میں رونق رہے گی۔۔۔۔تم لوگ فکر مت کرنا۔۔
مما،انٹی۔۔۔۔یہ لیں چائے۔۔۔
حیا نے چائے لاکر ان کے سامنے پیش کی۔۔۔
حیا جاکر اپنا ضروری سامان پیک کر لو۔۔۔۔
جی۔۔۔وہ فرمانبرداری سے کہتی اٹھ کر سامان پیک کرنے چلے گئی۔
اسلام وعلیکم مامی۔۔۔!!!!
وعلیکم السلام۔۔۔عون خیریت۔۔۔۔
جی مامی وہ ماہم کا پوچھنے آیا تھا۔۔کہاں ہے وہ ؟؟ آج یونی نہیں آئی ۔۔۔۔
بیٹا وہ اپنے روم میں ہے۔۔۔دراصل اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔
اوو۔۔۔۔کیا ہوا اس کو؟؟
وہ تفکر سے بولا۔۔۔۔
کچھ نہیں بس موسمی بخار اور سر میں درد ہے۔۔
جاؤ جا کر مل لو۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے کہتی کیچن میں چلی گئیں جبکہ عون اوپر ماہم کے کمرے کی جانب۔۔۔۔
وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اور سامنے کا منظر دیکھ اس کے ہوش اس گئے۔۔۔۔جہاں ماہم بیڈ پر الٹی لیٹ کر کانوں میں ہند فری لگائے۔۔گانا سننے میں مصروف تھی۔۔اور ساتھ میں رکھے بال سے چیپس اٹھا اٹھا کر کھارہی تھی۔۔۔وہ آہستہ سے چلتا ہوا سائیڈ پر ایا۔۔اور اپنی جیب سے مطلوبہ چیز نکالی اور آرام سے بنا آواز پیدا کیے اس باؤل پر رکھ دی۔۔۔۔
ماہم نے بے دھیانی میں باؤل میں رکھی وہ چیز منہ میں ڈال لی۔۔اس کو عجیب سی چیز اپنے منہ میں محسوس ہوئی تو فون سے نظریں ہٹا کر فوراً اس نے وہ چیز تھوکی۔۔۔۔
اور یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں باہر آنے کو تھیں کہ وہ کچھ اور نہیں بلکہ
چھپکلی تھی۔۔۔۔
چھپکلی کو دیکھ کر اس کی ایک مردوں کو ژندہ کرنے والی چیک کمرے میں گونجی۔۔۔
اہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہہاہاہاہاہاہہہاہاہاہہا۔۔۔۔۔۔
ماہم کو اپنے پیچھے سے قہقہہ سنائی دیا۔۔۔جہاں عون پیچھے کھڑا اپنے پیٹ کو پکڑے اس پر ہنسنے میں مصروف تھا۔۔۔اعر یہ دیکھ کر اس کا سارا خوف غصے میں بدل گیا۔۔۔۔
پہلی ۔۔۔پہلی بار دیکھ رہا ہوں کسی
مینڈکنی کو چھپکلی سے ڈرتے ہوئے۔۔۔۔وہ بھی اس چھپکلی سے جو نکلی ہو۔۔۔۔۔وہ اس کا مزاق اڑاتا ہوا بولا۔۔۔اور چھپکلی اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی۔۔۔
تم جہاز کہیں کے۔۔تمہیں اندر کس نے آنے دیا۔۔۔۔
ابھی میں مما کو بتاتی ہوں جوتے مار کر نکالیں گی وہ تمہیں۔۔۔۔
مجھے ساسو ماں نے ہی بھیجا ہے۔اور ویسے بھی میں شوہر ہوں تمہارا۔۔تم سے ملنے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔مامی۔۔۔وہ تو کہہ رہی تھیں کے تمہاری طبیعت خراب ہے۔۔۔پر مجھے تو تم ایک دم فٹ لگ رہی ہو۔۔۔وہ اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ایک سیکنڈ ۔۔۔۔تم جس نکاح کا بھرم دیکھا رہے کو نا وہ وقتی کے۔۔۔وہ زبردستی کا ہے۔۔۔۔مجبوری میں کیا ہے میں نے۔۔ اس کی بات سن کر عون کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔سمجھے۔۔اور ویسے بھی میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔۔۔بہت جلد تم سے خلع لے لوں گی۔۔۔
اس کی یہ بات سن کر مانو اس کا دماغ ہی گھوم گیا۔۔۔۔۔اس نے اس کے دونوں بازو پکڑ کے اپنی جانب کھینچے۔۔۔۔۔
کیا کہا؟؟؟زبردستی,مجبوری۔۔۔؟؟؟
کسی نے گن پوائنٹ پر نکاح نہیں کروایا تھا۔۔تمہارا۔۔۔۔تم خود اپنے ہوش وحواس میں مجھے قبول کیا تھا۔۔۔۔سمجھی۔۔۔۔اور جہاں تک بات ہے۔۔۔۔محبت کی۔۔۔۔۔وہ اب تم صرف مجھ سے یعنی عون سے ہی کرو گی۔۔۔اور طلاق۔۔۔وہ تو میں تمہیں کبھی بھی نہیں دونوں گا۔۔۔تم اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات فٹ کر کو کہ تم اب سے صرف عون شاہ کی ہو۔۔۔۔۔اور کسی کا خیال بھی تمہارے اس دلو دماغ میں نہیں انا چاہیے۔۔۔۔۔
اچھے خاصے موڈ میں آ یا تھا۔۔سارے موڈ کا ستیاناس کر دیا۔۔۔وہ اس کو چھوڑتے ہوئے۔۔۔بولا۔۔۔اور کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
