Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 23

Sarab by Sara Arooj

وہ کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت پر بیٹھی آنسوں بہارہی تھی۔کہ رانیہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔

تچچچچ۔۔۔۔بہت افسوس ہو رہا ہے تمہیں اس حال میں دیکھ کر۔۔۔۔۔!!!!

میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ عزت سے وجدان کی زندگی سے چلی جاو۔۔

پر کیا ہے نا تمہیں عزت راس نہیں آئی۔۔

وجدان کی نظر میں تم بہت۔۔۔۔ معصوم تھیں۔

وہ بہت کو لمبا کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔۔بہت تعریفیں کر رہا تھا تمہاری۔۔۔وہ تو تمہیں طلاق دینے کے لئیے تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔

اس لئیے مجبوراً مجھے یہ سب کرنا پڑا۔۔۔

یہ۔۔۔سب۔۔تم نے کیا ہے۔۔؟؟وہ حیرت سے ڈوبی آواز میں بولی۔۔۔

کوئی شک؟؟؟

میں وجدان کو بتاؤں گی۔۔۔تم نے۔۔۔۔یہ سب کیا ہے۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی۔۔

ہاہاہہاہاہاہہا۔۔۔۔اس کی بات سن کر اس نے قہقہہ لگایا۔۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے وہ تمہاری بات پر یقین کر لے گا۔۔۔۔۔۔

چلو مانا اگر وہ تمہاری بات پر یقین کر بھی لیتا ہے۔۔۔تو اب کوئی۔۔۔فائدہ نہیں ہے۔۔۔کیونکہ طلاق تو ہو ہی چکی ہے۔۔۔

اس کی اس بات پر روزی نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا جو اس کو تمسخر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

پر کیا ہے نا مجھے شراکت داری بالکل بھی برداشت نہیں ہے۔۔اب تم جہاں بھی رہو خوش رہو۔۔اور ہاں۔۔۔

۔۔۔ہماری شادی میں لازمی آنا۔۔۔

اگلے ہفتے شادی ہے ہماری!!! میری اور وجدان کی۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ جانے لگی۔۔

میں اپنا فیصلہ اپنے اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔۔

بے شک خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔

روزی کی بات سن کر وہ جاتے جاتے پلٹی۔۔۔لیکن اس کی بات کو نظر انداز کیے وہ کمرے سے باہر چلے گئ۔۔۔اس بات سے بے خبر کہ کوئی وجود باہر کھڑا ان کی تمام باتیں سن چکا ہے۔۔۔

منال یہ تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے؟

تم نے کس قسم کا لباس پہننا شروع کر دیا ہے۔۔

کیوں کیا ہوا ہے اس لباس کو؟

وہ اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

مطلب اگر تمہیں اچھے لگتے ہیں تو گھر میں پہنا کرو باہر ایسے لباس پہن کر مت جایا کرو۔۔۔

زارون پلیز اس وقت میرا موڈ بلکل بھی لڑنے کا نہیں ہے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلے گئی۔۔۔

منال بیٹا کہیں جارہی ہو؟

زنیرہ نے اسے باہر جاتے دیکھ سوال کیا۔۔۔

جی۔۔۔دوست کی طرف جارہی تھی۔۔۔

آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔

بیٹا دراصل آج کچھ مہمان آہ رہے ہیں۔۔تو تم آج گھر پر رک جاو۔

آئین سوری انٹی۔۔میں نہیں رک سکتی۔۔۔اور آپ اپنے مہمانوں کو اپنے تک رکھیں۔۔مجھ تک نہ لائیں۔۔۔وہ نہایت بدتمیزی سے بولی۔۔

منال۔۔!!!!۔۔۔۔۔یہ تم کس طرح مام سے بات کر رہی ہو۔۔؟؟

زراون جو سیڑیوں سے نیچے اتر رہا تھا۔منال کو زنیرہ سے بدتمیزی کرتے دیکھ بولا۔۔کیوں کیا بولا ہے میں نے۔۔۔۔۔

اگر تم نے نہیں رکنا تو تمیز سے بھی بول سکتی ہو۔۔یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔۔

سوری بولو۔۔۔وہ اگنور کرتے جانے لگی کہ زارون نے یکدم اس کا بازو کھینچا۔۔۔

سنائی نہیں دیا۔۔میں نے کہا سوری بولو۔۔

زارون بیٹا رہنے دو۔۔۔نہیں موم۔۔۔

بولو۔۔۔

سوری!!!!

وہ بناتے ہوئے بولی۔۔اور اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر نکلتی چلی گئی۔۔۔

بھابھی۔۔۔!!!!

کیا ہوا ۔۔۔؟؟؟ آپ کے اور بھائی کے بیچ۔۔

رانیہ کے جانے کے بعد گل کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

گل۔سب ختم ہو گیا۔۔۔کچھ بھی نہیں رہا۔۔۔۔

وجدان نے مجھے طلاق دے دی۔۔۔وہ روتے ہوئے گل کے گلے رکھتے ہوئے بولی۔۔۔

گل کو مانو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آہ رہا تھا۔۔۔

کیا؟؟؟

بھائی نے آپ کو سچ میں طلاق دے دی۔۔

پر کیوں؟؟؟

وہ۔۔۔۔۔۔۔اس نے گل کو تمام بات بتا دی۔۔۔کل پارٹی سے لے کر رانیہ تک۔۔۔۔

#حال۔۔۔۔

حیا۔۔۔

جی۔۔؟؟یہ مما نے تمہارے لئیے بھجوائے ہیں۔۔اس نے خوبصورت سا ہار کا سیٹ اس کی جانب بڑایا۔۔میرے لئیے؟؟

ہم تمہارے لئیے۔۔۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی بہو کے لئیے ہے۔۔۔

پر یہ میں کیسے لے سکتی ہوں۔۔۔مطلب یہ تو اتنے مہنگے ہیں۔۔انہیں میں کیسے سنبھالوں گی۔

وہ نہایت معصومیت سے بولتی ہوئی اس کو بہت پیاری لگی۔۔

اسے تم لوک آپ میں سنبھال کر رکھ لو کسی فنکشن یا پارٹی میں پہننا ۔۔۔اوکے۔۔۔

اب یہ لو۔۔۔وہ بوکس اس کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے بولا۔۔۔

شکریہ۔۔

بات سنیں۔۔!!!!

ہم کہو؟؟؟؟

کیا میں اپنی یونی جوائین کر سکتی ہوں؟؟وہ جھجکتے ہوئے بولی۔۔

ہاں ضرور۔۔کرسکتی ہو۔۔بلکہ مجھے خوشی ہوگی۔۔۔تم اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہو۔۔

کل سے میں تمہیں پک اینڈ ڈراپ دے دوں گا۔۔

اوکے۔۔

جی شکریہ۔۔

سنیں،زینی کی کال۔ائی تھی کل انہوں نے لنچ میں اینوائیٹ کیا ہے۔۔کہہ رہی تھی کہ کچھ ضروری بات بتانی ہے۔۔۔

اچھا۔۔!!!!!

تو آپ کل آفس سے جلدی آہ جائیے گا۔۔۔

ہممم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔

ماضی۔۔۔۔

وجدان چھوڑو۔۔تم نے کیوں اپنا منہ بنایا ہوا ہے۔۔تم تو غصہ مت ہو۔۔۔میں نے پہلے ہی کہا تھا۔۔۔وہ معصوم ہونے کا ناٹک کر رہی ہے۔۔۔اس کے معصوم چہرے کے پیچھے۔۔۔بہت شاطر چہرہ ہے۔۔

وہ دیکھو جا رہی ہے۔۔وہ۔۔۔۔

اس نے سیڑیوں سے اترتی روزینہ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔جس کہ ایک ہاتھ میں بیگ اور ایک ہاتھ میں حیا تھی۔۔۔

لال آنکھیں سوجی ہوئی آنکھیں کافی دیر رونے کی چغلی کھا رہی۔ تھیں۔۔

وہ اترتی ہوئی ان دونوں کی جانب ائی۔۔۔

وجدان!!!

جس دن آپ پر حقیقت آشکار ہو گی،تب آپ بالکل خالی ہاتھ ہوں گے۔۔۔تب آپ کے پاس صرف پچھتاوا ہو گا۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔،،،،،

بھری دنیا میں خود کو تنہا محسوس کرینگے آپ خود کو۔۔۔۔

وہ سنگدل اس کی بات سنے اپنا منہ موڑ چکا تھا۔۔۔

اور تم مس رانیہ۔۔۔۔جو دوسروں کی خوشیوں اور گھر کو برباد کر کے گھر بسانے جارہی ہو نا۔۔۔۔۔

کبھی خوش نہیں رہ سکو گی۔۔۔

اینڈ بائے دا وے۔۔۔۔۔۔۔

آپ دونوں کو شادی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں آنسوں ہونے کے باوجود ان کو باہر آنے سے روکتی،خود پر جبر کرتی،اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کیے بولی۔۔۔۔

جبکہ روزینہ اس گھر کو ہمیشہ کے لئیے خیرباد کہہ کر جا چکی تھی

حیا تم ریڈی ہو؟؟

جی بس حجاب کرنے دیں۔۔۔

ہم میں نیچے گاڑی میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں۔۔جلدی آہ جاو۔۔

جج۔۔جی۔۔۔۔وہ جلدی سے حجاب کر کے پارکنگ میں پہنچی ۔۔۔zaroon نے پہلے سے ہی اس کے لیے فرنٹ ڈور کھولا تھا۔۔۔اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے گاڑی یونی کی جانب روانہ ہوئی۔۔اور تھوڑی دیر میں گاڑی یونی کے دروازے کی جانب کھڑی تھی۔۔

حیا اترنے لگی کہ زارون نے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔رکو۔۔۔

حیا نے حیران کن نظروں سے زارون کی جانب دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کی جانب۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔زارون نے جلدی سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔

یہ رکھ لو۔۔۔اس نے اپنے والٹ سے کچھ پیسے نکال کر اس کی جانب بڑھائے۔۔

نہیں شکریہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

دیکھو حیا جو بھی ہے اب تم میری بیوی ہو،میری ذمہداری ہو۔۔۔تمہاری ہر چیز کا خیال رکھنا میرا فرض ہے۔۔۔۔۔اور ضروری نہیں کہ انسان ضرورت کے تحت ہی پیسے رکھے۔۔۔۔کبھی بھی کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔

جی شکریہ۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب روانہ ہو گئی۔۔اور زارون نے گاڑی آفس کی جانب موڈ لی۔۔

تمہیں شرم نہیں ائی۔۔۔بھیا اور بھابھی کی طلاق کرواتے ہوئے۔۔۔رانیہ جو ابھی باہر سے آکر بیٹھی تھی۔۔۔گل کے ایک دم دروازہ کھول کر آنے سے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔۔

تمیز نہیں ہے۔۔۔تمہیں۔۔۔اندر آنے سے پہلے ناک کرتے ہیں۔۔۔

تم۔۔۔۔تم مجھے تمیز سیکھا رہی ہو۔۔جسے خود تمیز کے ت تک کا نہیں پتہ۔۔۔۔۔

کیا ملا تمہیں بھائی اور بھابھی کی طلاق کروا کر۔۔

سکون۔۔۔۔۔۔

ہنہہہ۔۔۔۔یی سکون نا صرف وقتی ہے۔۔۔۔طلاق کروانی نا شیطان کا کام ہوتا ہے۔۔۔۔

گل ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

یہ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔تمہارے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔میں شیطان ہوں۔۔

جو جیسا سمجھے۔۔۔اور ویسے بھی تم خود یہ کہہ رہی ہو۔۔

تمیز سے بات کرو ہونے والی بھابھی ہوں تمہاری۔۔۔۔

ہاہاہہاہاکاہاہ۔۔۔

تم اور میری بھابھی۔۔۔۔اچھا مزاق ہے۔۔۔۔

میں ابھی جاکر بھائی کو سب سچ بتاتی ہوں۔۔۔۔کہ وہ سب کارنامہ تمہارا تھا۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔!!

گل جو جانے لگی تھی کہ اس کی آواز پر دوبارا پلٹی۔۔۔۔

بتانے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ اس کے بعد تمہارا کیا انجام ہو گا۔۔۔

تم کسی کو پسند کرتی ہو…..

یونی میں پڑھتا ہے وہ تمہاری۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔!!!!!!!

کیا نام تھا۔۔۔۔۔وہ ماتھے پر ہاتھ رکھے سوچنے کی ادا کاری کرتے ہوئے بولی۔۔۔

ہاں۔۔عرش۔۔عرش ہی نام ہے نا اس کا۔۔۔۔

تم اس سے دو دفع ریسٹورنٹ میں بھی مل چکی ہو۔۔۔

جبکہ رانیہ کی بات سنتے گل کا رنگ فق ہوا تھا۔۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہاہہا۔۔۔بڑا مزا آہ رہا ہے تمہارا یہ چیرا دیکھ کر۔۔۔

اونہہ !بتانے چلی تھی میرے خلاف۔۔۔

تم اپنا منہ بند رکھو۔۔۔میں اپنا منہ بند رکھونگی۔۔۔

زارون اپنے دوست کے بلانے پر ریسٹورنٹ جا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک گاڑی پر گئی۔۔جس میں منال اور طلحہ بیٹھے تھے۔۔۔( طلحہ،دانش,زارون تینوں بچپن کے دوست تھے۔۔ایک ساتھ تعلیم حاصل کی۔۔۔لیکن ان میں ایک دوست آستین کا سانپ ہے۔۔۔اور وہ ہے طلحہ جو شروع سے زارون سے حسد کرتا ہے)

وہ کال کرتا اپنے دوست کو نہ آنے کی اطلاع دیتا اس گاڑی کے پیچھے گیا۔۔۔۔

وہ گاڑی ایک فلیٹ کے سامنے رکی۔۔۔جو کہ طلحہ کا فلیٹ تھا۔۔۔

وہ ان کا پیچھا کرتے کرتے تقریبآ پندرہ منٹ میں وہ اوپر تک ایا۔۔

جہاں وہ دونوں اندر جا چکے تھے۔۔۔۔

جب زارون آہستہ سے فلیٹ کا دروازہ کھول کر داخل ہوا تو اس کے سر پر جیسے ساری چھت آہ گری ہو۔۔۔اس کو یقین ہی نہیں آہ رہا تھا۔۔جہاں اس کی بیوی ۔۔اس کے دوست کی بانہوں میں تھی اس کے بے حد قریب۔۔۔۔

وہ تیز کے عالم میں آگے بڑا اور کھینچ کر دونوں کو الگ کیا۔۔۔

اور کھینچ کر چماٹ منال کو منہ پر دیا۔۔۔۔