Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 12

Sarab by Sara Arooj

زنیرہ یہ دیکھو کتنا پیارا موسم ہے۔یہاں کا

اور یہ ہریالی کتنا سکون دیتی ہے۔اور اوپر سے یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں۔۔۔۔۔۔

طبیعت خوشگوار ہو جاتی ہے۔ کیا دیکھ رہیں ہیں اپ؟

رستم صاحب نے جب ان کی نظر دو بچوں کی جانب دیکھی جو فوٹ بال کھیل رہے تھے۔۔

یہ دیکھ رہی ہوں کہ وقت کتنی جلدی بیت گیا ہے۔ہمارے بچے بھی اب ماشاءاللہ سے بڑے ہو گئے ہیں۔

ایسے ہی ہوتے تھے دونوں بھائی۔۔

ہممم بس دعا کرو ہمارے بچے ہمیشہ خوش

رہیں۔۔

امیں۔۔

چلیں اب ہم آپ کو اپنی پسند کی شاپنگ کروائیں گے۔

زنیرہ مسکرا دیں۔

چلیں۔۔

یہ کہہ کر وہ گاڑی کی جانب چل دیے

ماضی

۔۔۔۔

صبح اس کی آنکھ آزانوں کی آواز سے کھلی۔۔وہ جلدی سے اٹھی وضو کیا جائے نماز کے لئیے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔لیکن کہیں نظر نہیں ائی۔۔پھر ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی اپنے شوہر کے پاس ائی۔۔

سنیں۔

سنیں۔۔

اب کیا کروں یہ تو آٹھ ہی نہیں رہے۔۔

اس نے اس کے ہاتھ کو ہلا کر اٹھایا

بات سنیں۔۔

وجدان نے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو سامنے ہی اس کی چھوٹی سی بیوی سفید شلوار قمیض میں اوپر گلابی دوپٹہ نماز اسٹائیل میں لیے کھڑی اس کو اٹھا رہی تھی۔

ہوں۔۔

کیا ہوا۔۔؟

وہ مجھے جائے نماز چاہیے۔۔

جائے نماز۔۔؟؟

ٹائیم کیا ہو رہا ہے؟

پانچ بج رہے ہیں۔۔

اووو ۔۔۔

وہ بھی جلدی سے کھڑا ہوا۔۔پہلے اس کو جائے نماز دی پھر خود وضو کر کے نماز ادا کی۔۔

حال۔۔

ویسے رستم صاحب آپ نے بہت گھمایا ہے۔۔۔زنیرہ رونی صورت بنا کر بولیں۔۔ کیونکہ رستم شاہ پورے دو گھنٹے مال میں گھومے اور مشکل سے جو چند چیزیں پسند آئیں وہ لیں۔۔

ہاں نہ تو کیا ۔۔

اتنا بڑا مال کھولا ہے کام کی ایک بھی چیز نہیں ہے۔

خدا کا خوف کریں رستم کیا بول رہے ہیں اتنا اچھا تو تھا سب کچھ۔اپ کو ہی چیزیں مشکل سے پسند آتی ہیں۔ آئیں اب ڈینر کریں پھر گھر چلیں گے۔

ہمم ۔۔جلدی میں تو تھک گئی۔۔

مما یہ دیکھیں۔۔

جبکہ روزینہ سامنے ریسٹورنٹ کو دیکھ کر ساکت تھیں۔۔

کیسے بھول سکتیں تھیں اس جگہ کو جہاں سے ان کی زندگی کی تلخ اور خوشگوار یادیں جڑیں تھیں۔۔

کیا ہوا مما چلیں۔۔

ہممم وہ سو چون کے گھیرے سے باہر ائیں۔۔

لیکن آج یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ کسی اپنے سے ملنے والی تھیں۔۔

مما بیٹھیں۔

کیسا لگا اچھا بہت اچھا۔۔

میم اوڈر۔۔

کیا کھائیں گی مما۔۔

کچھ بھی منگوا کو۔۔

چکن کڑھائی اور تین نان اور اورنج جوس ۔اور سادہ پانی کی بوتل

اوکے میم ۔

حیا نے اپنی ماں کی من پسند کڑھائی منگوائی

زنیرہ وہاں رکیں میں گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے آتا ہوں۔جی۔۔

چلیں زنیرہ۔۔

وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور کارنر ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔

ویسے جگہ کافی پر سکون ڈھونڈی ہے آپ نے۔۔

ظاہر اپنی ملکہ عالیہ کے ساتھ آ رہے ہیں ۔۔۔جگہ تو پر سکون ہی لینی پڑے گی کہ ملکہ بے آ رام نہ ہوں وہ شرارت بھرے انداز میں بولے۔

۔۔۔اب جلدی سے کچھ منگوا دیں ۔۔۔یا اج باتوں سے کام چلانا پڑے گا۔؟

ہاں ہاں منگوارہا ہوں بولیں کیا کھائیں گی۔؟

پاستہ کھاؤں گی میرینڈا کے ساتھ۔۔۔اچھا جی۔۔

ویٹر۔۔۔۔

انہوں نے ویٹر کو بلا کر اور لگوایا

جب سے واقف ہوا ہوں کسی ہرجائی سے،

تب سے محروم ہیں لب قوت گویائی سے

کوئی پوچھے کہ ہے کیا تم سے علوی کا تعلق

بس اسے بتادو جو آنکھوں کا ہے بینائی سے

۔۔۔۔

سر ۔۔۔

رستم شاہ جو زنیرہ کو دیکھتے ہوئے شعر بول رہے تھے کہ ویٹر کے بلانے سے برا سا منہ بنایا ۔۔جبکہ زنیرہ اپنی ہنسی دبانے لگئیں۔۔