Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 11

Sarab by Sara Arooj

ماضی

اس کو تھوڑی دیر پہلے اس کی ساس بیٹھا کر گئیں تھئیں۔اس خوبصورت سے کمرے میں جس کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔

اس وقت وہ اناری رنگ کے لہنگے میں اس پر خوبصورت سا میکپ وہ کوئی پری لگ رہی تھی۔وہ وجود کمرے میں بیٹھا اپنے نئے بنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی ۔۔جس کے نام ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے اپنی زندگی کے تمام حقوق لکھے تھے۔اس شخص کو اس نے دیکھا نہیں تھا ۔جس کے کمرے میں بیٹھی اس کے آنے کی منتظر تھی۔

ابھی کچھ اور سوچتی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آ ئی ۔وہ جو پہلے ڈری بیٹھی تھی اپنے گھونگھٹ کو اور نیچے کیا۔

بیٹا تم ابھی کمرے میں نہیں گئے؟۔

وجدان کی ماں نے اس کو لاؤنچ میں سوچوں میں گم بیٹھے دیکھا تو اس کی ماں نے پوچھا۔

جی ماما ابھی جا ہی رہا تھا۔جی میرا بچا جیتے رہو۔

وہ ماں کو دیکھتا مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا گلاب کی بھینی بھینی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔بیڈ پر بیٹھے وجود کو دیکھ کر اس نے ایک لمبی سانس کی اور اس کی جانب ایا۔ اسلام وعلیکم!

وعلیکم السلام اس نے ہلکی اور ڈری ہوئی آواز سے جواب دیا۔

اس نے جب اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو مجبوت سا اس کو تکنے لگا۔۔وہ پری پیکر اس کے دل کے تار چیر گئی تھی

ماشاءاللہ۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔وہ جو پہلے اس کی نظروں سے کنفیوژ ہو رہی تھی اس کی تعریف پر نظریں جھکا گئی۔

یہ دیکھو تمہاری منہ دیکھائی۔اس نے بہت ہی خوبصورت سی انگوٹھی اس کی انگلی میں پہناتے ہوئے کہا۔جب کہ وہ اس کا کانپنا نوٹ کر رہا تھا۔اس کی بیوی نے ایک بار بھی سر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا تھا۔

تم تھک گئی ہو گی نہ جاؤ فریش ہو جاو۔

جی۔۔

یہ وہ پہلا الفاظ تھا جو اس نے اب تک بولا تھا۔

حال

مما آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟

بیٹا تم سو رہی تھی تھکی ہوئی تھی اسلیے۔ میں نے نہیں اٹھایا۔مما جانی آپ جلدی سے تیار ہوں میں بھی تیار ہو رہی ہوں پھر ہم چلتے ہیں۔وہ اپنی ماں کے گلے لگے بولی۔یہ بول کر جلدی سے اپنے کمرے میں گئی۔

واہ مام آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔ڈیڈ تو آج گئے۔

اوو مام یو آ ر بلشنگ۔۔۔

چل بدمعاش۔۔انہوں نے اپنی جھنپ مٹانے کے لئے کہا۔

ویسے اتنی تیاری کس لئیے۔؟ کہیں جارہی ہیں اپ؟

ہم دونوں جارہے ہیں۔گھومنے اور ڈینر کرنے ۔اس سے پہلے کہ مسسز زنیرہ جواب دیتیں۔رستم صاحب نے جواب دیا۔

ویسے تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟

ایسے ہی مام کو تیار دیکھا تو پوچھ لیا۔۔چلیں بیگم ۔

جی چلیں۔۔۔

ہاں ہاں چلیں دیر ہو جائے گی۔یہ کہتے ہی عون بھی ساتھ چلنے لگا۔

ایک سیکنڈ تم کدھر ہاں؟ رستم صاحب نے سوال کیا۔

آپ لوگوں کے ساتھ۔کس سے پوچھ کر ۔۔

اپنے دل سے ۔

کوئی ضرورت نہیں ہے۔سمجھے صرف میں اور زنیرہ جائیں گے۔تمہیں اتنا شوق ہے نہ تو تمہاری بھی شادی کرودیتے ہیں ۔۔اپنی بیوی کے ساتھ جانا۔۔

نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔

چلیں بیگم ۔نہیں تو یہ کھوتا پھر سے پیچھے لگ جائے گا۔۔

بیسٹ آف لک موم اینڈ ڈیڈ۔۔

میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو

بیت جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آہ تو چلی اہ۔۔

یہ کہتا عون گنگناتا ہوا کمرے میں چلے گیا

ماضی

۔۔۔۔

وہ فریش کو کر باہر آئی تو وہ بیڈ پر کی بیٹھا تھاا۔۔۔۔۔وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگی ۔۔کھلے بال اوپر سے دھلہ چہرا اور مٹا مٹا میکپ وہ کافی دکش لگ رہی تھی۔

وہ خود پر اس کی نظریں محسوس کر کے گھبرا رہی تھی۔۔ وہ بیڈ سے اٹھا اور چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا۔۔گھبرا کیوں رہی ہو ؟ شوہر ہوں محرم ہوں کوئی غیر نہیں یہ کہتے ہی الماری سے سوٹ نکال کر واشروم میں چلا گیا جب کہ آہ ہ۔۔ اس نے ایک لمبی سانس لی۔۔اور بستر پر آکر لیٹ گئی۔۔

جبکہ تھوڑی میں جب وہ بھی فریش ہو کر آیا تو اس کو لیٹے دیکھ خود بھی لائیٹس آف کر کے لیٹ گیا۔۔

مما چلیں۔۔

میں ریڈیو ہو گئی ہوں۔۔

ہاں بس نکلتے ہیں کمرے سے میری چادر لے او۔۔جی اچھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔

یہ لیں مما آپ کی چادر اب نکلیں۔۔۔ہاں۔۔

یہ کہ کر وہ گھر سے روانہ ہو گئیں۔۔

صبح اس کی آنکھ فجر کی اذانوں سے کھلی۔۔جلدی سے اٹھی وضو کیا ۔جائے نماز ڈھونڈنے لگی۔۔جائے نماز کہاں ہو گی؟؟

پھر ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی اپنے شوہر کے پاس ائی۔۔سنیں۔۔

سنہیں۔۔

وہ اتنی ہلکی آواز میں بولی کہ بامشکل ہی وہ سن پاتا۔۔۔

کیا کروں۔۔۔

کیسے اٹھاؤ۔۔۔

بات سنیں۔۔۔وہ اس کا بازو ہلا کر اس کو اٹھانے لگی۔۔

وجدان نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا جہاں وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس سر پر نماز اسٹائیل میں دوپٹہ باندھے کھڑی اسے اٹھا رہی تھی۔۔۔

ہوں۔۔۔۔

جائے نماز کہاں ہے؟؟

جائے نماز۔۔۔؟؟

اوو ٹائیم کیا ہو رہا ہے ؟ جی پانچ بج رہے ہیں۔۔۔

اچھا۔۔ہٹو۔۔

وہ اٹھا اس کو جائے نماز دی پھر خود وضو کر کے نماز ادا کی۔۔۔۔