Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 26

Sarab by Sara Arooj

آج کی صبح بہت خوبصورت تھی،آسمان پر چھائے بادلوں اور فضا میں چلتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے ماحول کو اور خوشگوار بنادیا تھا۔ایسے میں شاہ والا کے لان میں بیٹھے وہاں کے مکین گرم گرم بھاپ اڑاتی چائے کے ساتھ لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔

رستم آپ نے پھول والے کو بلایا۔۔۔

نہیں !! اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔فنکشن کی ساری ارینجمنٹس میں نے ایک بندے کے ہینڈ اوور کر دیا ہے۔

او!!! یہ تو اچھا کیا آپ نے۔۔

روزی تم اتنی خاموش کیوں ہو؟

زینی نے روزی سے پوچھا۔۔

کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرا کر بولیں۔۔

_________________________________

ہیلو کون؟

وجدان صاحب جو آفس میں داخل ہورہے تھے ان کے فون پر کسی انجان نمبر سے کال ائی۔۔

یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ میں کون ہوں۔۔

بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔

کیا چاہتے ہو؟؟

اور کا ل کیوں کی ہے؟؟؟وجدان صاحب نے کہا۔۔

راز!!!!

ایک راز کو فاش کرنے کے لئیے۔۔مقابل نے کہا۔۔۔

کیا مطلب کون سا راز؟؟

اگر جاننا چاہتے ہو تو ایک کال ریکارڈنگ بھیج رہا ہوں۔اسے سن لینا۔۔

ہیلو!ہیلو!!

اس سے پہلے کے وجدان صاحب کچھ کہتے مقابل فون رکھ چکا تھا۔۔

ٹرن۔۔ٹرن۔۔۔

وجدان صاحب کے نمبر پر کوئی وائس نوٹیفیکیشن ایا۔۔

انہوں نے ریکارڈنگ اوپون کی۔۔اور جیسے جیسے وہ ریکارڈنگ سن رہے تھے۔۔

ان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔

_________________________________

آج مہندی مایوں کا فنکشن تھا لان کو ہر طرف لائٹوں اور موتیے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔لان کے بیچوں بیچ دو جھولے لگائے گئے تھے جنہیں خوبصورت پھولوں سے سجایا تھا اور ان پھولوں سے اٹھتی مہک ماحول کو اور خوشگوار بنارہی تھی۔۔

ماہم اور حیا لال ڈوپٹے کے سائے میں دھیمے دھیمے قدم اٹھاتئیں اسٹیج کی طرف آہ رہی تھیں۔۔دونوں نے ایک جیسی پیلے اور ہرے رنگ کے امتیاز کی کلیوں والی فراک پہنی تھیں۔۔اپنے خوبصورت بالوں کو فرینچ چٹیا میں مقید کیے وہ بہت حسین لگ رہی تھیں۔اور پیچھے سے چلتا بیگ گراؤنڈ سونگ۔اس منظر میں رنگ ڈال رہا تھا۔۔جبکہ۔اسٹیج پر بیٹھے ان کے دولہے اپنے اپنے دل تھامے بیٹھے تھے۔۔

ان دونوں کو لاکر اسٹیج پر سجے جھولوں پر بیٹھایا گیا۔۔

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو،

اے جانِ جاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو۔

#_(احمد فراز)

بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔!!!۔

زارون نے حیا کے بیٹھتے ہی اس کے کان کے پاس ہلکے سے جھک کر سرگوشی نما آواز میں کہا۔۔

جب کہ حیا اس کی محبت سے لبریز سرگوشی نما آواز سن کر سر نیچے کیے مسکرادی۔

دوسری طرف عون ماہم کو اپنی نظروں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔

مینڈکنی یار تم تو ماہم لگ ہی نہیں رہی۔۔۔

قسم سے۔۔۔۔۔!!!

ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی چڑیل کو میرے ساتھ بیٹھا دیا ہو۔۔۔

آنکھوں میں شرارت ہونٹوں پر مسکان سجائے عون نے ماہم سے کہا۔۔

ماہم نے اس کے چڑیل کہنے پر غصّے سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔

اگر میں چڑیل لگ رہی ہوں تو تم یہاں سے بھاگ کیوں نہیں گئے۔۔

میں نے تو تمہاری عزت رکھی ہے۔۔لوگ کہیں گے کہ دیکھو بیچارہ دولہا دلہن کو دیکھ کر بھاگ گیا۔۔

وہ آہستہ سے ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

تم۔۔۔بھوت کہیں کے۔۔۔مجں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔۔۔

ماہم لڑنے کے انداز میں بولی۔۔۔

ہاہاہہاہاہہا۔۔۔۔جل گئی۔۔۔

جلے میری جوتی۔۔۔یہ کہہ کر وہ منہ موڑ گئی۔۔۔

اے!!!یہ تم دونوں لڑ کیوں رہے ہو؟؟

یہ یونی نہیں ہے۔۔۔

کم ازکم اپنے دولہا اور دولہن ہونے کا ہی لحاظ کر لو۔۔لائیبہ اسٹیج پر آتے ہوئے بولی۔۔

ویسے بھی رسم شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر گئی۔۔۔اور باری باری سب لوگوں نے آہ کر رسم ادا کی۔۔۔

________________________________

رانیہ ماضی میں جو کچھ ہوا کیا اس سب میں تمہارا ہاتھ تھا؟

رانیہ جو کہ کتاب پڑھنے میں مشغول تھی ایک دم سے وجدان صاحب کی جانب دیکھا۔۔

کیا مطلب!! میں سمجھی نہیں؟ کون سا ماضی۔۔۔اور کس معاملے کے بارے میں بات کر رہے ہو۔؟

انجان مت بنو۔۔۔مجھے سب سچ بتاو۔۔

کیوں کیا تھا تم نے ایسا۔۔۔

میں کیا کیا۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آہ رہی۔۔۔

وہ انجان بنتے ہوئے بولی۔۔حالانکہ معاملہ وہ سمجھ چکی تھی۔۔

کیا میرے اور روزی کی طلاق کی وجہ تم ہو؟

یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔

میں کیوں کرواؤں گی طلاق۔۔ مجھے تمہاری طلاق کروا کر کیا ملنا تھا

اور ویسے بھی تم جانتے ہو طلاق کی اصل وجہ۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔چٹاخ۔۔۔۔

رانیہ کے الفاظ مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک شدت سے بھرپور تھپڑ وجدان کے ہاتھ سے رانیہ کو پڑا تھا۔۔

نہیں رانیہ۔!!!۔۔۔وہ اصل حقیقت تو میں اب جانا ہوں۔۔۔

وہ غصّے کے عالم میں چیختے ہوئے بولے۔۔

جبکہ رانیہ صدمے سے منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔

تم۔۔تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔وجدان۔۔

ہاؤ ڈیر یو۔۔۔

وہ ان کے کالر پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔

وجہ جاننا چاہو گی۔۔۔ تو پھر سنو یہ۔۔۔۔

اس کے ہاتھ کالر سے جھٹکتے ہوئے۔۔۔انہوں نے ریکاڈنگ نکال کر اسے سنائی۔۔۔۔

ہیلو کون ہے؟

رانیہ جو پارٹی میں جانے کے لئیے اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی۔۔

اپنے فون پر کال آتے دیکھ کال اٹھائی۔۔۔

وہی جس کے ساتھ اپنے شوہر کی سابقہ بیوی کو بدنام کروایا تھا۔۔

کی۔۔کیا۔۔۔میں نے کسی کو بدنام نہیں کروایا۔۔۔رونگ نمبر۔۔۔

وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔۔

ہاہہاہاہا۔۔۔جبکہ اس کی بات سنے مقابل شخص کا قہقہ گونجا۔۔نو۔۔۔مسسز وجدان

اتنے عرصے بعد ہی تو رائیٹ نمبر ملا ہے۔۔

وہ ویٹر ملا ہوا تھا۔۔۔اس کو تو کب کا جہنم واصل کر چکا ہوں۔۔اب تم بچی ہو۔۔

کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے بولی۔۔۔

وجہ جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔کہ ایسی کیا وجہ تھی جو تم نے ہم دونوں کے ساتھ ایسے کیا۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔

مجھ پر جھوٹ نہیں چلے گا رانیہ بی بی۔۔میں وجدان نہیں ہوں۔۔

میں آفندی ہوں۔۔۔

سب سچ بتاؤ ورنہ تمہارے شوہر کو سب بتا دوں گا۔۔۔

نہ۔۔نہیں رکو۔۔۔میں بتاتی ہوں۔۔

اسے کچھ مت بتانا۔۔۔

میں وجدان سے پیار کرتی تھی۔۔۔وجدان مجھ سے شادی کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔۔مگر روزی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔اسلئیے میں نے وہ سب کیا۔۔

کیونکہ کوئی بھی لڑکی شراکت داری برداشت نہیں کرتی۔۔اور وہ بھی تب جب وہ شخص آپ کی محبت ہو۔۔۔

اوو!! تو تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ روزی لڑکی نہیں تھی۔۔یا پھر وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے تھے۔۔

جو بھی ہو۔۔وہ ہم دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔۔۔

بیچ میں وہ نہیں تم آئی تھی۔۔

آفندی نے کہا۔۔

میں کوئی بیچ میں نہیں آئی تھی۔۔

تم تو یہ بھی جانتی ہو وہ کتنی پاکیزہ اور معصوم تھی پھر بھی تم نے اس کے ساتھ وہ سب کیا۔۔!!!

جان لیا جو جاننا تھا۔۔۔

ہممم۔۔۔بیسٹ اوف لک۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔

جبکہ رانیہ نے ایک لمبی سانس ہوا میں چھوڑی۔۔

ریکاڈنگ سن کر رانیہ کا چہرہ فق ہوا تھا۔۔

اب کے ہم بچھڑے تو شائید کبھی خوابوں میں لیں،

جس طرح سوکھے ہوئے بھول کتابوں میں ملیں۔

_________________________________

جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین ۔۔اج ہم اس خاص موقع پر ہم ایک کھیل کھیلیں گے۔۔

سعد نے مائیک پر ببولتے ہوئے کہا۔۔

کیسی گیم؟؟

سب نے کہا۔۔۔

جی تو گیم یہ ہے کہ اس باکس میں دولہے کے لئیے چیٹ ہیں۔۔انہوں نے کوئی ایک چیٹ اٹھانی ہے۔۔۔

اگر اس میں گانا آتا ہے۔۔تو شروع دولہا کرے گا۔۔۔اور دولہے کے رکتے ہی ہماری دلہن نے گانا ،گانا ہے۔۔۔

یا اگر۔۔۔شاعری کی چیٹ نکل آتی ہے تو۔۔۔دولہے نے کوئی شعر بولنا ہے۔۔اور اس کے جواب میں دلہن جی بھی بولیں گی۔۔

جی۔۔تو کیا آپ سب تیار ہیں۔۔۔؟؟؟

جی۔پورے لان میں شور گوجا۔۔

شروع کرتیں ہیں زارون بھائی سے۔۔۔۔

بھائی اٹھئیں۔۔۔!!!!

اوور!!

بھائی۔۔۔جی تو ہمارے یہ ڈیشینگ سے بھائی آپ کو اپنی بیوی کے لئیے شعر سنائیں گے۔۔

آہٹ سی آئے تو لگتا ہے تم ہو،

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے تم ہو،

جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں,

شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے تم ہو۔۔

اووو.!!!!…ہوووو!!!!

سب یونگ نے ہوٹنگ کی۔۔

بھابھی اب آپ کی باری۔۔۔

کچھ ایسا کر کے دکھانا چاہتی ہوں،

اسے اس سے چرانا چاہتی ہوں،

جسے دیکھا کھلی آنکھوں سے ،

وہی ایک خواب چاہتی ہوں۔۔۔

حیا کے شعر بولنے کے بعد پورے ہال میں تالیوں کی آواز گونجی۔۔۔

اب عون کی باری ۔۔۔۔۔۔۔

اووو جی تو ان مسٹر اینڈ مسز عون ہمیں گانا سنانے والے ہیں۔۔۔

تم جو کہہ دو تو چاند تاروں کو توڑ لاؤں گا میں،

ان ہواؤں کو ان گھٹاؤں کو موڑ لاؤں گا میں،

میری جان میرے دلبر میرا اعتبار کر لو،

جتنا بے کرار ہے دل خود کو بے کرار کر لو۔۔۔

میری دھڑکنوں کو سمجھو ۔۔۔

تم بھی مجھ سے پیار کر لو۔۔۔

تم بھی مجھ سے پیار کر لو۔۔۔۔

وہ مسلسل ماہم کو اپنی نظروں کے اظہار میں رکھتے ہوئے گا رہا تھا۔۔۔اپنے گانے کے ذریعے پیغام ماہم تک پہنچا رہا تھا۔۔۔

پہلی بار ماہم کی دل کی دھڑکن عون کی نظروں کی تپش سے تیز ہوئی تھی۔۔۔

کیسے اعتبار کر لوں،؟

کیسے اقرار کر لوں،؟

اپنی دھڑکنوں کو کیسے اتنا بے قرار کر کوں؟؟

……………….

کیسا منظر ہے میری آنکھوں میں کیسا احساس ہے،

پاس دریا ہے دور صحرا ہے پھر بھی کیوں پیاس ہے۔۔۔۔

عون کے خاموش ہوتے ہی ماہم نے گانا شروع کیا۔۔۔

گانا گاتے وقت ماہم کے آنکھوں میں موتی چمکے تھے۔۔۔۔لیکن بہت مہارت سے اس نے انہیں باہر آنے سے روکا تھا،کیونکہ وہ سب کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔

لیکن عون کی نظروں سے وہ مخفی نہ رہے۔۔

پورے لان میں ہوٹنگ اور تالیوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔

باقی سب نے اپنے بچوں کی نظر اتاری۔۔

یوں فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔

.___________________________________

یہ کیا کر رہی ہو؟؟

زارون جو ابھی کمرے میں آیا تھا حیا کو یوں اسٹول پر بڑا دیکھ کر کہا۔۔۔

جو ناجانے اسٹول پر چڑی الماری میں سے کیا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

وہ میں ۔۔۔۔۔

اہہہہ۔۔۔۔۔

ابھی اس نے آدھی بات بھی نہیں کہی تھی،کہ اس کا پاؤں مڑا اور اسٹول سے نیچے گری۔۔۔۔

اس پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی زارون کے مضبوط ہاتھوں نے اسے تھاما تھا۔۔۔

آنکھیں کھول لو۔۔۔ !!!

وہ جو گرنے کے ڈر سے آنکھیں آنکھیں بھینچے ہوئے تھی۔۔

زارون کی آواز سے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔۔۔۔

جبکہ حیا کی آنکھیں کھولنے پر زارون کو ان آنکھوں میں اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا۔۔۔

اس نے جلدی سے خود کو کمپوز کر کے حیا کو آہستہ سے خود سے دور کیا۔۔

جبکہ وہ شرمندہ سی اس سے دور ہوئی۔۔۔

ویسے تم اس اسٹول پر چڑی کر کیا رہی تھیں؟؟؟

اس نے اپنی سبکی مٹانے کے لئیے کہا۔۔

وہ میں اپنی ناول کی بک ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔

تم ناول پڑھتی ہو؟؟وہ حیرت سے بولا۔۔

جی۔۔۔

اوو۔۔اچھی بات ہے۔۔پڑھنے چاہیے۔۔

ویسے ابھی ناول نہیں ملیں گے۔۔تم سو جاو۔۔پھر صبح جلدی اٹھنا بھی ہے۔۔