Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 4
Rate this Novel
Sarab Episode 4
Sarab by Sara Arooj
ہیلو ڈیر فرینڈ ۔۔۔میٹ مائن برو۔۔
زارون شاہ
۔اینڈ برو میٹ مائ فرینڈ سحد
۔۔ہیلو۔۔۔کیسے ہو۔؟
فاین بھائی۔۔
آپ کیسے ہیں۔۔
جی شکر ہے خدا کا۔۔۔۔
بھائ پارٹی کیسی لگی۔۔؟؟ ہم اچھی ہے۔۔۔
ڈیکوریشن بہت بہترین انداز میں ہوئی ہے۔۔۔
ماہم تم کہاں گم ہو۔۔؟؟
کہیں نہیں ۔۔لایبہ آ و۔۔اسسے مل کر آ تے ہیں۔۔
کس سے۔۔؟؟
یار وہ جو سامنے کھڑا ہے(۔زارون شاہ) ۔۔
اوو۔۔
تمہیں کیا اس کا ایٹیٹیوڈ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ وہ تم سے بات کرے گا۔۔
آج تک ایسا کوئ ہے نہیں جس نے ماہم کو اگنور کیا ہو۔۔
ہم ویسے کہ تو تم تھیک رہی ہو ۔
زارون جو سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔
اس پری پیکر کو آتا دیکھ محبوت سا تکنے لگا۔۔۔
)
حیا جو ابھی اندر ہول ہیں داخل ہوئی تھی۔۔ زارون کی نظروں کا مرکز بنی)۔۔
حیا کہاں رہ گئ تھی اتنی دیر لگا دی۔۔۔
یار اگر تم ایسے رہو گی تو ہم تمہارے جہاں سکندر کو کیسے ڈھونڈیں گے۔۔؟؟
وفا۔۔
یار مزاق کر رہی تھی۔۔۔
۔۔تم نہ سدھر جاوحیا مصنوعی غصے کے ساتھ بولی۔۔۔
میں سدھر گئ تو تمہارا کیا ہو گا۔۔؟؟
وفا شرارتی مسکان کے ساتھ بولی۔۔
حیا بھی مسکرا دی اس بات سے ے خبر کے اس کی اس مسکراہٹ نے کسی کو گھائل کیا ہے۔۔
زارون جو حیا کو دیکھ رہا تھا اس کے مسکرانے سے اس کی ایک بیٹ مس ہوئ۔
۔۔۔ہیلو
مسٹر۔ائ ایم ماہم آ فنندی
اینڈ یو ۔۔
زارون شاہ۔۔
زارون نے بے رخی سے جواب دیا جیسے اس کا بلانا ذیادہ پسند نہ آ یا ہو۔۔
Excuse me..
یہ کہ کر وہ وہاں سے اٹھ گیا۔۔
ہمم ایٹیٹیوڈ۔۔
ججتا بھی ہے۔۔
لیکن اس کا سارا موڈ خراب ہو چکا تھا۔۔
آخر ماہم کو فرسٹ ٹائم کسی لڑکے نے اگنور کیا تھا۔۔
زارون جب وہاں سے اٹھا تو نظریں بے اختیار اس پری پیکر پر ٹھر گئ ۔۔پھر خود کو جھڑکتا باہر نکل گیا۔۔۔
حیا کو اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو اس نے دیکھا تو سب اپنی باتوں میں مصروف تھے۔۔
حیا کیا ہوا۔؟
Is everything alright?
No..
کیا ہوا۔۔۔؟؟ یار وفا مجھے ایسا لگ رہا ہے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔
کون۔۔؟؟
پتہ نہیں۔۔
اچھا پارٹی انجوائے کریں۔۔۔
زارون شاہ جو کہ حیا کہ سادگی کے حسن میں کھویا تھا ۔اس کو کنفیوز دیکھ کر مدھم سا مسکرایا
وفا یار گھر چلو۔۔
کیوں یار کیا ہوا۔۔؟؟
مجھے گھبراہٹ ھو رہی ہے۔۔۔
چلتیں ہیں تھوڑی دیر میں۔۔
پلیززززز۔۔
اچھا چلو۔۔
ہائ مینڈکنی۔۔۔کیسی ہو ؟ اور وہ تمہاری چیلی کدھر ہے۔۔۔
تمیز سے بات کرو۔۔ماہم نام ہے میرا۔۔سمجھے اور چیلے تمھارے ہوں گے ۔۔۔میری دوست ہے وہ۔۔ماہم کی دوست۔۔اور آئندہ اپنی یہ سڑی ہوئی شکل لے کر میرے سامنے مت آ نا۔۔یہ کہہ کر ماہم تم فن کرتی وہاں سے نکل گئ۔۔
یہ کیا تھا۔۔؟؟ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ابھی عون کچھ اور سوچتا اس کو اپنے پیچھے سے قہقہہ سنائی دیا۔۔جہاں سحد کھڑا اس پر قہقہہ لگا رہا تھا۔۔
کوئ بات نہیں بیٹا ہوتا ہے۔۔ہوتا ہے۔۔۔
چل یا یونہی صدمے میں رہے گا۔۔
