Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 18
Rate this Novel
Sarab Episode 18
Sarab by Sara Arooj
آج پورے آفندی والا کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ہر طرف پھولوں کی مہک اور رونق چھائی ہوئی تھی کیوں کہ آج اس گھر کی اکلوتی بیٹی کا نکاح تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔نکاح کے فنکشن کا انتظام ڈائیٹنگ حال میں کیا گیا تھا۔
عون اور زارون نے ہم رنگ بلیک کوٹ سوٹ پہنا تھا۔اس پر جیل سے سیٹ کیے گئے بال وہ دونوں پوری محفل میں چھائے ہوئے تھے۔۔
بھائی میں تو کہتا ہوں موقع اچھا ہے۔ہریالی بھی کافی ہے آپ بھی مام ڈیڈ سے کہہ کر کام کر لیں اپنا….
وہ زارون کو آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔
زارون جو کہ کولڈ ڈرنک پی رہا تھا اس کو یک دم عون کی بات سے اچھو لگا۔۔۔
عون۔۔ن..ن۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔جبکہ عون صاحب اپنے دانت نکالے ہنسے میں مصروف تھے۔۔
تمہاری حرکتوں سے کہیں سے بھی تم مجھے دولہے نہیں لگ رہے ہو۔۔
بھائی میں نئے دور کا دولہا ہوں۔۔ائی میں 2021 کے ورژن کا۔۔۔
تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا وہ یہ کہتے ہی صوفے سے کھڑا ہو گیا۔
واؤ ماہم تم پر تو بہت پیارا روپ آیا ہے۔۔۔۔
ماہم جس نے گولڈن رنگ کا لہنگا پہنا تھا اس پر کیا گیا نفیس سا میک اپ اور چہرے پر چھائی خوشی اسے اور خوبصورت بنا رہی تھی۔
۔۔۔۔ماہم یہ پہن لو انٹی نے دی ہے۔۔۔اس نے لال رنگ کی چنری اس کو تھماتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ دونوں باتوں میں مشغول تھیں کہ مسسز آفندی کمرے میں داخل ہوئیں۔۔
ماشاءاللہ ہماری پری تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔بالکل اپنے نام کی طرح چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہو۔وہ اس کو پیار کرتی ہوئیں بولیں۔۔۔
پھر اس کو ساتھ لے کر نیچے چل پڑیں۔۔
صبر رکھ بیٹے۔۔آہ جائے گی۔ حو صلہ رکھ۔۔۔۔
سعد نے عون کو سرگوشی میں کہا جو کہ بار بار سیٹڑیوں کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
آہ ہی تو نہیں رہی….
ابھی وہ کچھ اور بولتا کہ ماہم اس کو لائیبہ اور اپنی ماں کے سنگ نیچے آتی دیکھائی دی۔۔۔جوکہ بہت دھیمے دھیمے قدم لیے اتر رہی تھی۔۔۔
عون تو اس میں کھو ہی گیا ۔۔۔وہ اتنی پیاری تھی یہ تو وہ جانتا تھا لیکن اس روپ میں وہ اور بھی قیامت ڈھا رہی تھی۔
اوئے منہ بند کر لے مکھی چلی جائے گی۔۔
سعد نے عون کہا جوکہ کب سے ماہم کو دیکھنے میں لگا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہم کو لاکر صوفے پر بیٹھایا گیا۔۔
ایک بڑے صوفے پر ماہم اور اس کے والدین اور دوسرے صوفے پر مولوی صاحب اور عون کی فیملی بیٹھی تھی۔۔
نکاح شروع کریں مولوی صاحب۔۔۔
ِ۔۔۔۔۔ماہم آپ کا نکاح عون شاہ کے نکاح میں دیا جاتا ہے؟
کیا آپ کو قبول ہے؟
الفاظ تھے یا گویا پگلا ہوا سیسہ جو اس کے کانوں میں ڈالا گیا ہو۔۔۔۔
جس شخص کی سیج سجانے کے اس نے سپنے دیکھے تھے اس کے جھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔
اس کا جواب نا پاکر مولوی صاحب نے سوال دوبارا دوہرایا۔۔۔
اس نے ایک نظر اپنے باپ کو دیکھا جنہوں نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
میری بیٹی میرا فخر ہے۔۔۔کہیں ماضی میں اپنے باپ کے کہے الفاظ اس کے کان میں گونجے تھے۔
ق۔قب۔۔قبول ہ۔ہے۔۔۔۔۔
اس نے کانپتی آواز میں کہا۔
دستخط کرتے وقت ایک موتی بے مول ہو کر نکاح نامے پر گرا تھا۔۔۔۔
دونوں طرف سے ایجاب و قبول کے بعد مبارک ہو کا شور اٹھا تھا۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنی ماں کے گلے لگ کر روئی تھی۔۔۔
ارے میری گڑیا روتی تھوڑی ہے۔۔۔۔وہ تو بہت بہادر ہے۔۔اس کے باپ نے کہا۔۔۔
چلو اب جلدی نے آنسو صاف کرو۔
سب موقع کی نزاکت کو سمجھ کر خاموش رہے۔۔۔جبکہ سب یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ دکھ ،یہ آنسو محبوب نہ ملنے کے غم میں ہیں۔۔
جبکہ اس کے بر عکس عون بہت ذیادہ خوش تھا ۔۔
آخر جسے چاہا وہ مل جو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد فوٹو شوٹ کا دور چلا۔۔۔
جس میں عون نے ماہم کو کافی زچ کیا تھا۔۔۔
میم اپ سر کے شولڈر پر ہاتھ رکھیں۔اور سر کی آنکھوں میں دیکھیں۔۔۔۔۔
یہ فوٹو گرافر آدھے گھنٹے سے ان کا دماغ چاٹ رہا تھا ماہم کا دل چاہا کوئی چیز اٹھا کر ان دونوں کے سر پر مار دے۔۔۔۔۔
کب ختم ہو گا یہ ڈراما؟؟ وہ اکتا کر بولی۔۔۔۔
بس یہ لاسٹ پیک لو عون نے کہا اور ماہم کے پیچھے جاکر کھڑا ہوا اور پیچھے سے آکر اس کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیا اور تھوڈی اس کے کندھے پر رکھی جبکہ ماہم ایک دم سٹپٹا گئی۔۔۔مسکراو۔۔۔
اس نے دھیمے سے کہا۔۔۔
ماہم سرخ چہرے کے ساتھ زبردستی کا مسکرادی۔۔اور تصویر کھینچ جانے کے بعد جلدی سے اس سے دور ہوئی۔۔۔
اور لائیبہ کے ساتھ اندر کی جانب چلی گئی۔۔لیکن جاتے جاتے اپنی ہیل عون کو مارنا نہیں بھولی۔۔
