Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sarab Episode 16

Sarab by Sara Arooj

ماضی۔۔۔

اُن دونوں کی گاڑی اس وقت اپنی منزل کی جانب روانہ تھی۔روزینہ گاڈی میں بیٹھی قدرت کے ان خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی جبکہ وجدان موبائیل فون میں لگا ہوا تھا۔۔وجدان وہ دیکھیں وہ کتنا پیارا لگ رہا ہے روزی نے اس کی توجہ پہاڑ سے بہتے آبشار کی جانب مبذول کروائی۔۔

یہاں کی ہر چیز بہت دلکش ہے۔۔۔۔وجدان نے کہا۔

ایک سیکنڈ ۔۔۔۔

کیا ہوا۔؟؟؟ وجدان نے پوچھا۔۔

میں اس کی وڈیو بنا کر سیو کر لیتی ہوں۔۔

جب کہ اس کی بات سن کر وہ مسکرادیا۔۔۔

حیا ان بہتی آبشاروں،پہاڑوں وغیرہ کی وڈیو بنانے لگی جبکہ وجدان واپس موبائیل میں مصروف ہو گیا۔

تھوڑی دیر میں ان کی گاڑی مری کے مشہور شرنگیلا ریسورٹ میں رکی جوکی ٹیلوں ،پہاڑوں ،جھیلوں کے بیچ میں بنا ہوا تھا۔۔اسے دیکھ کر بے ساختہ روزی کے منہ سے نکلا۔۔۔

واؤ۔۔۔۔کوئی منظر اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے۔۔۔

چلیں۔۔۔روزی جوکی قدرت کے منظر میں گم تھی وجدان کی آواز سے حوش میں ائی۔۔۔

جی جی چلیں۔۔

وہ دونوں اندر کی جانب چل دیے۔۔۔تم۔ادھر رکو میں ریسیپشن سے روم کی چابی لے کر آتا ہوں۔۔

جی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئے ان نے کمرے کو ستائشی نظروں سے دیکھا وہ کمرے ایک کپل کے حساب سے پیٹ تھا۔پورے کمرے میں ایش گرے پینٹ ہوا تھا ۔کمرے کے بیچ میں ایک خوبصورت سا بیڈ تھا ۔بیڈ کی دائیں جانب فل گلاس وال ونڈو تھی۔جس سے باہر کا منظر بآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ اس پر لال اور

گرے امتیازی رنگ کے فل سائیز پردے لٹکے ہوئے تھے جو اس پر بہت اٹھ رہے تھے۔کمرے کے بائیں جانب نئے طرز پر بنا واشروم تھا۔بیڈ کے ساتھ دو چھوٹے سے صوفے رکھے ہوئے تھے اور اس کے سامنے ایک ٹیبل ۔۔کمرےیں ہر چیز کی آسائش موجود تھی سردی سے بچنے کے لئیے ہیٹر۔۔وغیرہ بھی موجود تھا۔

وجدان یہ لیں آپ فریش ہو جائیں۔روزی نے اس کے ہاتھ میں کپڑے پکڑواتے ہوئے کہا۔۔

ہمم۔۔۔۔وجدان کپڑے لے کر واشروم میں بند ہو گیا ۔۔جب کہ روزی کپڑے نکال کر وارڈروب میں رکھنے لگی جبکہ بالکل کمرے کے کونے میں موجود تھی۔۔

حال۔۔۔

دل میں میرے ہے دردِ ڈیسکو۔۔

دردِ ڈیسکو۔ ۔۔۔۔۔۔ دردِ ڈیسکو۔۔

عون جو کہ لیپٹوپ پر اپنی پسندیدہ کامیڈی مووی دی ماسک اوف دا سن دیکھنے میں محو تھا فون کی آواز سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔

ہیلو بھائی۔۔اسلام وعلیکم

کیسے ہیں اپ؟

میں ٹھیک تم سناو۔؟ کیا کر رہے تھے؟؟

میں بھی ایک دم مست ہوں بھائی۔۔۔کچھ نہیں مووی دیکھ رہا تھا۔۔

آپ بتائیں مزہ آرہا ہے، وہاں کا موسم کیسا ہے،اور کیا کر رہے تھے اپ؟؟

کچھ نہیں ابھی باہر سے آیا تھا،موسم تو اچھا ہی ہے یہاں کا۔۔۔اچھا عون موم ڈیڈ جاگ رہے ہیں تو ان سے بات کرواؤ میری ۔۔۔اوکے بھائی رکیں۔۔

۔۔۔۔۔

مام ڈیڈ بھائی کی کال ہے۔

زارون کی لاؤ بات کرواؤ میری۔جی

یہ لیں۔۔۔عون فون دے کر واپس کمرے میں آہ کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔

اگلا دن۔۔۔۔

حیا۔۔۔؟؟جی مما ۔

بیٹا آج تم یہ والا ڈریس پہن کر ان کے سامنے انا

حیا کی ماں نے ایک خوبصورت سی گولڈن اور اورنج کلر کی فراک حیا کو تھمائی۔۔

اب جلدی سے تیار ہو جاؤ میں نے سب تیاریاں دیکھ لیں ہیں۔وہ پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولئیں۔۔

جی مما۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کیا کرتے ہو بیٹا؟حیا کی ماں نے پوچھا۔۔

جی انٹی وہ فیملی بزنس ہے وہ دیکھتا ہوں۔۔

اوو بہت اچھی بات ہے۔

باجی آپ بیٹی کو بلا دیں۔۔مسسز زمر نے کہا۔۔

جی میں لاتی ہوں۔۔یی کہہ کر وہ حیا کے کمرے کے جانب چلی گئیں۔۔جبکہ سعدیہ آپا لڑکے والوں کے پاس بیٹھی باتوں میں مشغول تھی۔

ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔

روزی جیسے ہی حیا کو لے کر آئیں مسز زمر کے منہ سے بے ساختہ طور پر ماشاءاللہ نکلا تھا۔عہ لگ ہی اتنی پیاری اور معصوم رہی تھی۔۔اس نے آکر ہلکی سی آواز میں سب کو سلام کیا۔۔

جب کہ فیض ( لڑکے) کی نظریں اس پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔

مسسز زمر نے حیا کو اپنے پہلو میں بیٹھایا۔۔

ویسے ہماری بیٹی ہے بہت پیاری۔۔ان نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

کیا کرتیں ہیں آپ بیٹا۔۔

یونی میں سیکنڈ سیمسٹر کی سٹوڈنٹ ہوں اور پارٹ ٹائیم جاب کرتی ہوں۔۔اوو یہ تو اچھی بات ہے۔۔

بہن میری طرف سی یہ رشتہ پکا سمجھیں۔۔

ان نے بیگ سے انگوٹھی نکال کر حیا کی لمبی انگلیوں میں پہنائی۔۔۔۔

میں چاہتی ہوں اس ہفتے ہم نکاح کر دیتے ہیں بچوں کا؟؟

رخصتی مہینے بات کر لیں گے۔۔

دیکھیں آپ برا مت منائیے گا۔۔پر میری بیٹی ابھی پڑھ رہی ہے۔۔

کوئی بات نہیں پڑھنا تو اچھی بات ہے،شادی کے بعد بھی وہ تعلیم جاری رکھ سکتی ہے۔۔

میں اسلیئے کہہ رہی تھی کہ میرے بیٹے نے دو ہفتے بعد ایبورڈ چلے جانا ہے پھر مہینے بعد آئیے گا۔۔۔

اسلیئے چاھ رہی تھی سب جلدی جلدی ہو جائے۔۔

چلیں آپ مجھے تھوڑا وقت دیں میں کل تک آپ کو جواب دیتی ہوں۔۔

جی یہ لیں میرا نمبر لے لیں۔۔اب ہم چلتے ہیں۔۔خدا حافظ۔۔

جبکہ ان سب میں فیض کی نظریں حیا کا طواف کر رہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائیبہ ایک سوال پوچھتی ہوں تم اس کا جواب دینا۔۔

ماہم اور لائیبہ اس وقت یونی کے گارڈن میں موجود کام کرنے میں مصروف تھیں کہ ماہم نے کہا۔۔۔

ہاں پوچھو۔۔۔

یار تم دو منٹ کے لئیے اس کو تو چھوڑو۔۔۔

اس کا اشارہ اسائمنٹ کی جانب تھا۔۔۔

لو چھوڑ دیا اب بولو۔۔۔اس نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔۔میری آنکھوں میں غور سے دیکھو۔۔تمھیں ان میں کیا نظر آتا ہے۔۔۔

اچھھھھاااااا۔۔

زرہ تھوڑا ادھر ہو کر بیٹھنا۔۔اس نے ماہم کا رخ اپنی جانب کیا۔ہم اب اپنی پوری آنکھیں کھولو ۔۔۔

لائیبہ نے ماہم کی آنکھوں میں غور سے دیکھا اور بولی۔۔۔

دو کالے بڑے بڑے ڈیلے👀

ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟ ہاہاہا۔۔۔لائیبہ کا قہقہہ گونجا۔۔لائیبہ کی بچی۔۔تمھیں تو میں ۔۔ ادھر آؤ ذرہ۔۔

لائبیہ بول کر سامان اٹھا کر اپنی کلاس کی جانب بھاگی۔اور اس کے پیچھےماہم۔۔

لندن۔۔۔

زارون ابھی ایک ڈیل فائنل کر کے مارکٹ کی جانب گیا اور وہاں سے کھانے کا سامان لے کر اپنے فلیٹ میں داخل ہوا ۔سامان کیچن میں رکھنے کے بعد فریش ہونے گیا۔۔ابھی فریش ہو کر کیچن کی جانب جا ہی رہا تھا کہ ڈور بیل کی آواز ائی۔۔۔

اوئے کیسا ہے ؟ دانش نے کہا۔۔۔

ٹھیک ہوں تو بتا۔۔۔وہ دونوں اندر سیٹینگ حال کی جانب چل دیے۔۔

اور کیا کر رہا تھا؟ کچھ نہیں آفس سے آیا تھا۔کھانا بنانے جارہا تھا۔۔۔۔

یار تو شادی کیوں نہیں کر لیتا کب تک ایسے رہے گا شادی کر گھر بسا خوش رہ۔۔۔۔

یار ایک دفع کا تجربی کافی ہے میرے لیے۔اوئئے۔۔۔۔

گدھے ضروری نہیں ہر کوئی ایک جیسا ہو۔۔

اچھا یار جب کروں گا پہلا انویٹیشن تجھے دوں گا۔۔

اب تو یہ بتا کافی پیے گا۔۔۔

پلا دے۔۔۔چل ساتھ میں چلتے ہیں بنانے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی۔۔۔۔

سنیں۔۔۔

وجدان جو موبایل میں کام کر رہا تھا روزی کے بلانے سے اس کی جانب دیکھا اس کو شرارت سوجی۔۔

ہم بولو۔۔

ریسورٹ گھومنے چلیں۔۔۔مجھے بہت شوق ہے۔۔۔

اہہہ۔۔۔روزی جو کی بیڈ پر بیٹھی سردی سے بچنے کے لیے لوشن لگا رہی وجدان کے کھینچنے سے بیڈ پر گری۔۔۔

وجدان نے اسے بیڈ پر دھکا دے کر ایک ہاتھ دائیں طرف دوسرا بائیں طرف رکھا۔۔روزی بیچارہ پوری طرح سے اس کے گھیرے میں تھیں۔۔

ہاں اب بولو کہاں جانا ہے؟؟؟کہی کہیں نہ نہیں۔۔۔وہ ہکلا تے ہوئے بولی۔۔

جب کہ روزی کا لال چہرہ اور اوپر سے اس کے ہکلانے پر بہت مشکل سے اس نے اپنی ہنسی دبائی۔۔۔

ہم شام میں چلیں گے۔۔۔ابھی تھوڑا آرام کر لو۔۔

پر۔۔۔

خاموش ۔۔اس نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ آف کیا ۔۔اور وہ جو سایئیڈ پر کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔۔اس کو اپنی جانب کیا اور روزی کا سر اپنے سینے پر رکھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وجدان۔۔۔اٹھیں آپ نے کہا تھا کہ شام میں جائیں گے۔۔

اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا جہاں روزی جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔۔۔اور اس پر جھکی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

لو اٹھ گیا ہوں۔۔۔بس دس منٹ دو نکلتے ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلیں۔۔۔؟؟

حو صلہ رکھو لڑکی چابی اور والٹ تو لینے دو۔۔۔۔

جی۔۔۔۔

اب چلو میری بے صبری بیوی۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اس وقت ریسورٹ کے پل پر موجود تھے۔اور وہاں سے اس چلتے پانی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

یہ لیں میری تصویر لیں۔۔۔اس نے اپنا موبائیل اس کی جانب بڑھایا۔۔۔

اچھا۔۔۔۔اس نے 6 ،7 تصاویر کھینچوائیں۔۔۔۔ائیں اب ہم سیلفی لیتے ہیں۔۔۔

انہوں نے ایک ساتھ مختلف جگہوں پر سیلفی لیں۔۔

وہ دونوں بہت خوش تھے مگر کون جانتا تھا یہ خوشیاں وقتی ہیں۔۔۔

۔۔۔۔۔چلو آج کے لئے اتنا کافی ہے۔۔۔اب واپس چلتے ہیں۔۔۔یہ کہتے ہی وہ لوگ نکلنے لگے۔۔

ابھی وہ جاہی رہے تھے کہ سامنے سے آتی لڑکی سے ٹکرائے۔

۔اوچچچچچ۔۔۔۔۔

ایم سوری آپ کو لگی تو نہیں۔۔۔۔۔

وجدان تم۔۔۔؟؟؟

کیسے ہو؟؟اور یہ کون ہے؟؟

اوو ہانیہ۔۔تم یہاں واٹ آہ پلیزینٹ سرپرائز۔۔

وہ آپس میں گلے ملتے ہوئے بولے۔۔

اور یہ کون ہے؟؟ اس نے روزی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔

اوو یہ ۔۔یہ میری وائف روزینہ۔۔

اوو اچھا تم نے شادی کر لی۔۔۔وہ روزی کو دیکھتے ہوئے بظاہر مسکراتے،مگر اندر سے حسد کی آگ میں جلتے ہوئے بولی۔۔ہم۔ایک ہفتہ ہوا ہے۔۔۔۔

اور ہم ہنی مون ٹریپ پر ہیں۔۔۔۔مبارک ہو تم دونوں کو۔۔۔۔

اور تم یہاں کیسے؟؟

میں اپنی دوستوں کے ساتھ آئی تھی گھومنے۔۔

اب چلتی ہوں۔۔۔تم لوگ انجوائے کرو۔۔

بائے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لڑکی کون تھی؟روزی نے پوچھا۔۔

وہ ۔۔وہ دراصل میرے ساتھ یونی میں پڑھتی تھی۔اور ہم لوگ بہت اچھے دوست بھی ہیں۔۔۔

جی اچھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال۔۔۔

عون بیٹا ادھر آؤ؟زنیرہ نے عون کو اپنے پاس بلایا۔۔

جی مام۔۔بولیں

بیٹا میں نے یہ سوچا ہے کہ تمہاری شادی کر دوں۔۔

ہیں سچی؟؟؟؟وہ خوش ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔

کب مام۔۔۔؟ اور کس سے۔۔؟؟

بیٹا میں نے تو ماہم کے ساتھ سوچا۔۔

کیا وہ مینڈکنی۔۔۔۔۔؟؟؟وہ بظاہر شوکڈ لیکن اندر سے بہت خوش تھا۔۔۔مام کے سامنے ایکٹیگ بھی تو کرنی تھی۔۔۔۔

کیوں کیا ہوا؟ تمھیں پسند نہیں ہے کیا۔۔؟؟ چلو ٹھیک ہے پھر میں زارون کے لئیے بول دیتی ہوں۔۔۔

نہیں نہیں مام اب آپ اتنا کہہ ہی رہی ہیں تو میری طرف سے ہاں ہیں۔۔۔اس نے جب دیکھا دیکھاوا مہنگا پڑھ رہا ہے تو فوراً ہاں کی کہ سچ میں اس کی ماں کہیں زارون کے لئے ہی نہ بول دیں۔۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔

اس کے جانے کے بعد اس کی ماں مسکرانے لگیں اپنے پاگل بیٹے کی ادا کاری پر مسکرانے لگیں۔۔۔ماں تھیں آخر بیٹے کے دل کا حال کیسے نہ جانتیں۔۔۔