Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 21
Rate this Novel
Sarab Episode 21
Sarab by Sara Arooj
کیا ہوا وجدان ؟
میں نوٹ کر رہی ہوں جب سے تم شادی سے آئے ہو بہت پریشان پریشان لگ رہے ہو۔۔۔
رانیہ تم جانتی ہو میں دنیا کا سب سے بد نصیب باپ ہوں۔
تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟
کیونکہ میرے کئیے کی سزا میری بیٹی کو ملنے والی تھی۔
کیا مطلب ہے آپ کا؟؟؟
وہ بے بسی سے روتے ہوئے بولے۔۔۔
میری بیٹی کا نکاح ہوا اور میں وہاں موجود ہونے کے باوجود اسے پیار بھی نہیں دے سکا۔۔
وہ بالکل خاموش تھی۔کیونکہ اس سب کی وجہ وہ خود تھی۔۔
آپ نے ابھی تک چینج نہیں کیا؟
زارون جو کمرے میں داخل ہوا تھا اس کی نظر روتی حیا پر گئی۔۔جو گھنٹے میں سر دیے رو رہی تھی۔۔
ایک انجانی سی مردانہ آواز سن کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔ایک لمحے کے لئیے وجدان اس پری پیکر میں کھو سا گیا۔۔
پری۔۔۔؟؟
خود کو حیرت سے ۔نکالتا حیا کے پاس آیا۔۔
اور بولا۔۔۔میں جانتا ہوں جو کچھ بھی آپ کے اور میرے ساتھ ہوا ہے۔۔دونوں کو اس رشتے کو سمجھنے کے لئیے کچھ وقت درکار ہے۔۔آپ جتنا وقت چاہیں اس رشتے کو سمجھنے کے لئیے لے سکتیں ہیں۔۔۔
لیکن۔۔وہ جو اس کی بات سر جھکائے غور سے سن رہی تھی اس کے لیکن کہنے پر جلدی سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
لیکن میں چاہتا ہوں۔۔کہ ہم سب کے سامنے نارمل کپل کی طرح ہی بیہیو کریں۔۔۔ہمارے پرسنل ایشوز ہم تک ہی محدود رہیں۔۔میں نہیں چاہتا ہماری وجہ سے ہماری فیملی پریشان ہو۔۔
ٹھیک ہے؟؟؟
جی۔۔۔۔
جائیں اب جا کر چینج کر لیں اور آرام سے سو جائیں۔۔
وہ اس کو ہدایت دیتا خود بیڈ پر دراز ہو گیا۔۔
تھوڑی دیر میں جب وہ کمرے میں آئی تو اس کو بیڈ پر لیٹے دیکھ وہ تھوڑا جھجھکی۔۔
آپ مجھ پر بھروسہ کر کہ بے فکر ہو کر یہاں لیٹ سکتیں ہیں۔۔وہ اپنے سائیڈ کا لیمپ اوف کر چکا تھا۔۔جبکہ حیا بھی بستر کے سائیڈ پر نیم دراز ہو چکی تھی۔
سعد….. کہاں سے آرہے ہو؟
سعد جو اپنی دھن میں ہاتھوں میں چابی گھماتا اندر داخل ہورہا تھا۔۔اپنی مام کے سوال کرنے پر ایک دم اچھلا۔۔
مام۔۔اپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔۔اس نے ایکدم اپنے دل پر ہاتھ رکھے ڈرنے کی اداکارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈرامے نہیں کرو۔۔۔میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔
مام دوست کے ساتھ گیا تھا ڈینر پر۔۔۔
ٹائیم دیکھا ہے تم نے۔۔۔12 بج رہے ہیں۔۔اور اب تم گھر میں داخل ہو رہے ہو۔۔
نیکسٹ ٹائم تم 10 بجے گھر پر ملنے چاہیے ہو۔۔تمہارے ڈیڈ غصہ ہوتے ہیں۔۔پر تمہیں عقل نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔۔
Ok mom.
یہ کہہ کر وہ اوپر کمرے میں چلے گیا۔۔
ماضی۔۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی،سب اپنی اپنی باتوں میں مصروف تھے۔ایسے میں روزی اور زینی حیا کے ساتھ مصروف تھیں۔۔۔زینی تو ننی پری کو دیکھ خوش تھی۔۔۔اس کو ویسے ہی بچوں سے بہت انسیت تھی۔۔
رانیہ نے ایک ویٹر کو کونے میں لے جا کر کچھ کہا۔اور اس کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھمائے۔۔۔
وجدان۔۔۔تمہیں بہت بہت مبارک ہو۔۔!!!
I’m sorry….!!
میں ملنے نہیں آہ سکا۔۔۔بزنس میٹینگ میں مصروف تھا۔۔۔
کوئی بات نہیں یار۔۔۔خیر مبارک ۔تو بھی چاچو بن گیا ہے۔۔۔۔۔
وجدان نے خوش دلی سے کہا۔۔جبکہ آفندی تلخی سے مسکرادیا۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔جوس۔۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ ویٹر کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
اور ایک ایک گلاس جوس کے لئیے۔۔۔۔
جبکہ ویٹر نے آفندی کے جوس لیتے ہی رانیہ کی جانب دیکھ کر انگوٹھے سے ویکٹری کا سائین بنایا ۔۔۔
بائے دا وے۔۔۔۔
تمہیں یہ ڈیل بہت مبارک ہو۔۔۔۔وجدان جوس کا سیپ لیتے ہوئے بولا۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔
زینی تم جارہی ہو۔۔۔واپس کب آؤ گی۔۔؟؟
تقریباً دو سال تو لگ جائیں گے۔۔۔۔وہ حیا کے گالوں پر پیار کرتے ہوئے بولی۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔
یارا تم اداس کیوں ہوتا ہے۔۔۔امم آہ جائے گا۔۔۔۔
اور تمہارے لئیے وہاں کا آچھا سا چاکلیٹ بھی لائے گا ۔۔
زینی شرارت بھرے انداز کے ساتھ پٹھانوں کے لہجے میں بولی۔۔۔
اس کا انداز دیکھ روزی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔۔
کسی نے دل ہی دل میں اس کی ہنسی کی نظر اتاری تھی۔۔۔۔
اوؤ۔۔۔۔
دھیان کہاں ہے تمہارا؟دیکھ کر نہیں چل سکتے۔۔۔۔
ائم سوری میم۔۔۔۔وہ غلطی سے۔۔۔۔
رانیہ جو سائیڈ پر کھڑی اپنی کسی دوست سے بات کر رہی تھی۔۔۔ویٹر کو جاتا دیکھ جان بوجھ کر اپنا پاؤں آگے کیا جس سے سارا جوس روزی کے کپڑوں پر گر گیا۔۔۔۔
زینی رہنے دو۔کیوں ڈانٹ رہی ہو۔۔۔۔؟؟
تم حیا کو سنبھالو میں یہ واش کر کے آتی ہوں۔۔
حال۔۔۔۔
اے اللّٰہ میں تو نہیں جانتی کہ آپ نے میرے لئیے کیا سوچا ہے۔۔۔پر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ جو بھی سوچا ہے ضرور اچھا سوچا ہو گا۔۔۔بس مجھے اس رشتے کو سمجھنے اور اس کو نبھانے کی ہمت دے۔۔کہ میں اپنے شوہر کی وفادار رہوں۔۔۔اس کو کبھی مایوس نہ کروں۔۔۔
میں اپنی زندگی کے تمام فیصلے آپ کے گے رکھتی ہوں۔۔۔
میری مما کے ساتھ ہوئیے گا۔۔۔ان ہیں ہمت اور طاقت عطا فرما۔۔۔۔اسی طرح روتے ہوئے وہ خدا سے دعا کرنے میں مصروف تھی۔۔اس بات سے بے خبر کے کوئی اس کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔۔۔
زارون کی صبح آنکھ کھلی تو اس کی نظر جائے نماز پر بیٹھی حیا پر گئی۔۔جو مکمل طور پر اپنے آپ کو ڈوپٹے سے ڈھک کر خدا کی بارگاہ میں رو کر دعا مانگ رہی تھی۔۔اس کو حیا کی آواز تو نہیں آہ رہی تھی پر آنکھوں سے بہتے اشق اور دعا مانگتے ہوئے ہلتے گلابی ہونٹ اس کی مکمل داستان بیان کر رہے تھے۔۔اس کے چہرے پر ایک الگ ہی نور چھایا تھا۔۔۔۔
یا خدایا!!!!..جیسا اس کا ظاہر ہے ویسا ہی اس کا باطن بھی ہو۔۔۔۔
بے اختیار اس کے منہ سے یہ دعا نکلی تھی۔۔
ماضی۔۔۔۔
کیا ہوا آفندی؟؟؟
کچھ نہیں یار بس چکر آہ رہے ہیں۔۔۔سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔تم رکو میں منہ دھو کر آتا ہوں۔۔۔
ہممم اوکے۔۔۔۔
وہ اوپر اپنے کمرے میں جانے لگا کہ اس کو زور کا چکر آیا۔۔۔وک اوپر جانے کا ارادہ ترک کرتا نیچے گیسٹ روم کے واشروم میں آہ گیا۔۔۔
کوئی ہے۔۔۔۔؟؟؟ دروازہ کھولیں پلیزز۔۔۔۔
کوئی ہے۔۔!!؟؟؟؟؟
وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کو واشروم سے کسی لڑکی کے چلانے کی آواز آئی۔۔۔وہ جلدی سے لڑکھڑاتا ہوا دروازے کی سمت گیا۔۔۔۔
دروازہ کھولنے ہی لگا تھا کہ ایکدم لائیٹس چلے گئی۔۔۔۔۔
سٹ۔۔کیا مصیب ہے۔۔۔۔۔۔۔وک اکتاتے ہوئے بولا۔۔۔
وجدان۔۔۔۔۔۔وجدان۔۔۔۔پلیزز کوئی تو آہ جاو۔۔۔۔
اس نے جلدی سے دروازہ کھولا۔۔۔۔تو وہ روتی ہوئی اس کے سینے سے آہ لگی۔۔۔۔
وج۔۔۔ وجدان۔۔آ۔۔آپ۔۔۔آپ کو پتہ ہ۔۔ہے ن۔ن۔نہ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔
وہ کہلاتے ہوئے پھولی سانسوں کے ساتھ بولی۔۔۔جب ایکدم سے لائیٹس آہ گئی۔۔۔
کسی نے چھپ کر ان کی دو تین تصویریں اس پوز میں لیں تھیں۔۔۔
روزی۔۔۔آفی کے منہ سے نکلا۔۔۔۔
جب کہ روزی کسی انجان شخص کی آواز سن کر ہوش میں آئی اور بجلی کی سی رفتار سے اس سے دور ہوئ۔۔۔
آآپ۔۔پ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
روزی کو اپنی آواز کسی گہری کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
روزی تم جانتی ہو۔۔۔میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔وہ اس کے طرف آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ڈرگس اپنا کام کر چکے تھے۔۔۔
جب بھی تمہیں وجدان کے ساتھ دیکھتا ہوں۔۔۔۔تو دل پر ٹھیس پہنچتی ہے۔۔۔۔۔
روز۔۔۔۔تم۔تم میرے پاس آہ جاو۔۔۔۔وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا۔۔۔
دروازے کے پیچھے چھپا کوئی ۔۔چہرے پر۔شاطر مسکان سجاتے ہوئے تصویر کھینچ رہا تھا۔۔۔۔
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں دور ہٹیں مجھ سے۔۔۔۔اپ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔۔۔۔
تم ہوش میں رہنے کہاں دیتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مزید اس کے قریب جاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
روزی نے جلدی سے اس کو خود سے دور کیا ، کھینچ کر ایک تھپڑ لگایا۔۔۔اور جلدی سے وہاں بھاگ گئی۔۔۔
