Sarab by Sara Arooj NovelR50486 Sarab Episode 6
Rate this Novel
Sarab Episode 6
Sarab by Sara Arooj
حیا یار شوپینگ کر لی ہے اب مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔چلو کچھہ کھانے چلیں۔۔۔
ایک تو تمہیں کتنی بھوک لگتی ہے وفا۔۔
حیا۔۔۔؟؟
کیا یار بس صبح کا ناشتہ کیا ہے۔۔۔
او اچھا ۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے جو چیپس کھائے تھے وہ کیا تھا۔۔؟؟ وہ تو بس ایسے ہی۔
اس سے کون سا کچھہ بننا تھا۔۔یارر۔۔
اب جلدی چلو۔۔ گھر بھی جانا ہے۔۔ہاں چلو۔۔
__________________________________
ہیلو(وقار) ۔۔میں مال کے پاس فوڈ کورنر میں ہوں۔۔جلدی آ جاو۔۔۔
اوکے میڈم۔۔۔۔۔
ابھی انہوں نے فون بات کر کے رکھا تھا کہ۔۔
ان کی نظر اینٹریس سے آ نے والی ہستی پر گئ۔۔
اس کو دیکھ کر ایک پل کے لیے مسسز زنیرہ ٹھٹھکی۔۔
_________________________________________
حیا جو وفا کے ساتھ آ رہی تھی زنیرہ شاہ کی نظروں کا مرکز بنی۔۔
حیا کو دیکھ کر انہیں کسی اپنے کی یاد آئی تھی۔۔
________________________________
میم اوڈر۔۔۔
مسسز زنیرہ جو کہ حیا کو دیکھ کر کسی کی یاد میں کھوئیں تھیں ویٹر کی آواز سے ہوش میں آ ئیں۔۔۔
یںس۔۔۔
میم اور پلیزز۔۔
جی ون اورنج جوس۔۔
اوکے۔۔
__________________________________
حیا تم کیا لو گی۔۔ویٹر کے آنے پر وفا نے پوچھا۔۔
میں تو صرف چوکلیٹ آئسکریم کھاؤں گی۔۔
میری فیورٹ ہے
حیا کی اس بات سے کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔
۔۔۔
اوکے
بھائ ایک چوکلیٹ آئسکریم اور ایک زنگر برگر اینڈ کولڈرنک۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔
_______________________
مسسز زنیرہ حیا کی بات پر مسکراہٹ تھیں۔۔
ایک بھولا بھٹکا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آیا تھا۔۔
میم۔۔۔۔چلیں۔۔؟؟
ابھی کچھ اور سوچتیں کے ڈرائیور کی آواز سے ہوش میں ائیں۔۔
ہممم۔۔
ڈرائیور بھی سامان اٹھا کر ان کے پیچھے ہو لیا۔۔
___________________________
وفا جلدی کرو یار گھر بھی جانا ہے۔۔ہاں بس ۔یہ لاسٹ ہے۔۔
آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے تمہارا یہ برگر ختم نہیں ہو رہا۔۔۔مما کی دسویں کال آہ چکی ہے۔۔۔
اوکے بس ہو گیا۔۔چلو۔۔انہوں نے پیسے ٹیبل پر رکھے اور باہر چلی گئیں۔۔
_____________________________
موم کچھ کھانے کے لیے ہے۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔؟؟؟
زنیرہ جو کچن میں رات کی دعوت کا انتظام کر رہی تھیں۔۔عون کے مخاطب کرنے پر اس کی جانب موڑیں ۔۔۔عون تمھیں کھانے سونے گھومنے کے علاوہ کوئی کام نظر نہیں آ تا کیا۔۔؟؟
جب سے تمہارے ڈیڈ کی طبعیت خراب ہوئی ہے ساری ذمہ داری تمہارے بھائی پر آہ گئی ہے۔۔
دراصل ایک سال پہلے رستم شاہ کو ہارٹ اٹیک ہوا تھ ا (
) جس کی وجہ سے آفس کی تمام ذمہ داری زارون نے لے لی
وہ آفس بھی سنبھالتا ہے اور گھر کو بھی دیکھتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔مام میرا پیٹ بھر گیا۔۔اج کے لیے اتنا کھانا بہت ہے۔۔
عون معصوم سی شکل بنا کر بولا۔۔۔
عون کی بات سن کر زنیرہ نے تاسف میں سر ہلایا۔۔۔
اور بولیں تمہارا کچھہ نہیں ہو سکتا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کام میں لگ گئیں۔۔اور ساتھ ساتھ میڈ کو ہدایت دینے لگئیں۔۔۔
___________________________________
بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
زارون جو کہ اس وقت آفس میل چیک کر رہا تھا۔۔۔عون کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔
آفس ورک کر رہا ہوں۔۔؟؟کیوں کوئی کام تھا کیا۔۔
نہیں بھائی۔۔۔مام تو نہیں تھا۔۔اپ کیا سنڈے کو بھی آفس کا کام کریں گے۔۔؟؟
چلیں نہ کہیں گھومنے چلتے ہیں۔۔
عون ڈیڈ نے کہا تھا کہ ان کے فرینڈ ا رہے ہیں۔۔ایسے میں ہم چکے جائیں گے تو ان کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔
نیکسٹ ٹائیم۔
اوکے۔۔
او۔۔ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا۔۔
وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔۔
کیا۔۔؟؟کہ شام کے لیے ڈریس نکالنی ہے۔۔
آخر امپریشن بھی تو اچھا پڑنا چاہیے۔۔
یہ کہ کر وہ فوراً بھاگ گیا۔۔۔
اور اس کو ایسے جاتا دیکھ زارون مسکرا دیا۔۔۔
______________________________
اسلام وعلیکم مما
وعلیکم السلام۔۔۔
کہاں رہ گئی تھی؟
اتنی دیر لگا دی۔۔
مما بس وہ ٹریفک۔۔اور شاپنگ میں تو ٹائم لگتا ہی ہے۔۔۔
مما آئیں آپ کو شاپنگ دیکھاوں۔۔
شاپنگ بعد میں دیکھتے ھیں پہلے کھانا کھا لو۔۔۔
اوکے مما ۔۔میں یہ رکھ کر آتی ہوں۔۔۔
_________________________________
جلدی کر لیں مسسز ہمیں نکلنا بھی ہے اور یہ ماہم کہاں ہے۔۔؟ ابھی تک نکلی نہیں باہر۔۔۔
ہاں بس ہو گئی تیار
۔۔چلیں۔۔؟
ماہم کو تو بلا لیں۔
ہاں۔۔ابھی بلاتی ہوں آپ جاکر گاڑی میں بیٹھیں۔۔
ماہم جلدی کر لو بیٹا۔تمہارے ڈیڈ غصہ ہو رہے ہیں۔۔
مام۔دیکھیں میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نہ۔۔
ہاں بیٹا۔۔اچھی لگ رہی ہو چلیں۔۔
چلیں۔
جلدی بیٹھیں آپ لوگ کتنی دیر لگا دی ہے۔
جیسے ہی وہ دونوں نیچے آئیں آفندی صاحب نے بولا۔۔
ڈیڈ آپ کو بھی کم از کم دو دن پہلے بتانا چاہیے تھا۔۔
آج صبح بتایا ہے آپ نے۔
وہ تھوڑی روہانسی ہو کر بولی۔۔
دو گھنٹے بھی بہت ہوتے ہیں تیاری کے لیے
پر ڈیڈ
بس چپ آپ دونوں کیسے مقابلے کر رہے ہیں۔
مسسز آفندی کے بولتے ہیں دونوں خاموش ہو گئے۔ماہم موبائل میں لگ گئی
جبکہ آفندی صاحب ڈرائیونگ پر۔
_________________________
ہیلو منال تیار رہنا ایک گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں۔۔
منال جو آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔طلحہ کی فون کال کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
تیار ہی کو رہی ہوں ڈئیر۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔میں پہنچتا ہوں۔۔
____________________________
مما یہ دیکھیں میں آپ کے لئیے لائی تھی یہ سوٹ۔
ماشاءاللہ بہت خوب صورت ہے۔۔
یہ کڑتیاں میں نے اپنے لئیے لی ہیں۔۔کیسی ہیں۔۔
بہت پیاری۔۔
اچھا مما۔۔کل مجھے جلدی اٹھا دینا یونی جانا ہے۔
اچھا۔بیٹا اب سو جاو۔۔
جی مما وہ سامان سمیٹ کر اپنی مما کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
۔۔۔۔مما ایک بات بتائیں۔۔
جب بھی میں آپ سے بابا کے بارے میں پوچھتی ہوں آپ ٹال کیوں دیتی ہیں۔۔؟؟
حیا کی بات پر اس کی مما کے چہرے پر ایک دم کرب بھرے تاثرات نمائیاں ہوئے۔۔
جو کہ حیا کی آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے اس سے مخفی رہے۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے بیٹا وقت آنے پر بتاؤں گی۔۔۔
مما۔۔
حیا رات بہت ہو گئی ہے سو جاو۔۔
اس سے پہلے حیا اپنی بات مکمل کرتی اس کی مما نے اس کی بات کاٹ کر بولیں۔۔اور تھوڑی دیر میں کمرے کی مکمل خاموشی میں حیا کی بھاری سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔
حیا کی ماں نے ایک نظر اسے دیکھا اس کا سر تکیے پر رکھا اور ساتھ لیٹ گئیں۔۔۔
