375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 9)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

کبری جی آپ یہاں ! کبری کو آفیس میں دیکھ فرقان کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔

جہانزیب ہمدانی کے کیبن میں جاتی ہوئی کبری رکی تھی فرقان کے پکارنے پر وہ پھیکا سا مسکراتی ہوئی رکی تھی ۔

کیسی ہیں آپ ۔ فرقان کے لہجے میں خوشی عیاں تھی جو کبری کو یہاں دیکھ کر اچانک سے امڈ آئی تھی ۔

الحمداللہ آپ کیسے ہیں ۔ سر پر رکھے ہوئے ڈوپٹے کو سہولتً سیٹ کرتی ہوئی مروتًا فرقان کا حال پوچھ رہی تھی ۔

ٹھیک ۔ مختصر سا جواب دے کر فرقان اپنے لب دبائے کبری کے جھکے سر کو دیکھ کر دل میں اس سے مخاطب ہوا تھا

(اب تک تو ٹھیک تھا مگر آپ نے میرا حال پوچھ کر مجھے اچھا خاصا فٹ اینڈ فائن کردیا )

آپ یہاں مطلب کوئی ضروری کام جہانزیب انکل سے ۔ فرقان نے تحمل سے استفسار کیا تھا ۔

وہ میں نے آج سے آفیس جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انگلیاں چٹکھاتی ہوئی وہ جزبز کا شکار ہوئی تھی فرقان کے سامنے ۔

واٹ آ گریٹ آئیڈیا کبری جی ۔ فرقان کے چہرے اور لہجے سے پھوٹتی ہوئی خوشی دیکھ کبری نا سمجھی میں مسکرائی تھی ۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ انکل کے پاس جارہی تھی ۔

جی ۔ فرقان کے درست اندازے پر وہ سنجیدگی سے جواب دیتی ہوئی بند دروازے کو دیکھنے لگی تھی ۔

پھر تو بہت اچھا ہوا کہ میں صحیح وقت پر آگیا اور آپ سے مل گیا ۔ لہجے میں لچک لیے وہ خود سے مسکرائے جارہا تھا ۔

کیا مطلب ۔ نا سمجھی میں پوچھتی وہ فرقان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر بکھری ہوئی مسکراہٹ کچھ الگ دھن پیش کررہی تھی ۔

وہ میرا مطلب تھا انکل اور میرے ڈیڈ میٹنگ کے لیے آؤٹ آف سٹی گئے ہیں ۔ پوری بات چیت میں فرقان نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔

اوووہہ اور شاہ میر کہاں ہیں ۔ کبری کے سوال پر فرقان نے غصے سے نفی میں گردن ہلائی تھی ۔

وہ کمینہ مجھے اٹھا کر اووو ایم سوری ، کبری کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی فرقان اپنی پھسلی ہوئی زبان پر بروقت قابو پاگیا تھا ۔

اٹس اوکے میں جانتی ہوں آپ دونوں بچپن کے فرینڈز ہیں تو یہ سب تو نارمل ہے ۔ فرقان کو شرمندہ دیکھ کہتی ہوئی کبری مبہم سا مسکرائی تھی ۔

جی ۔

اب تک شاہ میر نہیں آیا ہے آفیس مجھے فون کیا تھا کہ وہ مجھے پک کرنے آرہا ہے مگر نہیں آیا ۔ فرقان کندھے اچکاتا ہوا شاہ میر کی حرکت پر غصے سے بھرا ہوا تھا ۔

یا تو اسے میٹنگ کرنی تھی اسے اتنی جلدی نیند سے بیدار بھی کیا اور اب خود نجانے کہاں غائب تھا ۔

نہیں آئے ۔ کبری پریشان ہوئی تھی ۔

آپ پریشان نا ہوں کبری جی ۔

ہمدانی آتا ہی ہوگا بس ۔فرقان بات پر لب دبائے گردن ہلاتی ہوئی اپنے ارداردگرد نظریں دوڑانے لگی تھی جہاں سارا ہی اسٹاف اپنے اپنے کام میں مصروف تھا ۔

آئیں جب تک ہمدانی آتا ہے تب تک آپ مجھے بریک فاسٹ پر جوائن کرلیں ۔

سوری میں اپنا بریک فاسٹ کرکے آئی ہوں ۔ فرقان کی نیچر سے کبری اچھے واقف تھی مگر پھر اس کے ساتھ زیادہ بات چیت سے وہ اجتناب برتی ہوئی ہاتھوں کو آپس میں مسل رہی تھی ۔

کوئی بات نہیں میں بریک فاسٹ کرلوں گا آپ کافی لے لیجئے گا مگر انکار مت کریں کیونکہ میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔

ورنہ ہمدانی نے میری خوب کلاس لگانی ہے ۔ خود کو کمپوز کرگیا تھا ۔

ٹھیک ہے ۔ ہامی بھرتی ہوئی کبری فرقان کے ہمراہ ہوئی تھی ۔

کبری کو اپنی ہمراہ میں دیکھ فرقان کی سیاہ آنکھیں پل بھر کے لیے نم ہوئیں تھیں ۔

کیبن کے ڈور پر بڑے بڑے حرفوں میں لکھا ہوا فرقان کاظمی کی نیم پلیٹ دیکھ کبری رکی تھی ۔

آئیے کبری جی ۔ فرقان کی نظریں اور لہجے سے کنفیوز ہوتی ہوئی کبری اندر داخل ہوئی تھی ۔

وہیں شور مچاتی دل کی دنیا میں ہوئی آٹھ سال پہلے کبری کی موجودگی کی وجہ سے آج بھی دل اسے اپنے قریب دیکھ کر جشن منا رہا تھا اور فرقان کو کنفیوز ۔

خود کی حالت پر قابو پاتا ہوا وہ طویل سانس بھر کر اندر داخل ہوا تھا ۔

زندگی خاک کی مسند ہے ٹھکانہ تیرا

کوئ رشتہ ہے اذیت سے پرانا تیرا

زندگی تجھ سا اداکار بھی شاید ہوگا

زندگی ہم سے سنے کوئی فسانہ تیرا

تیری صورت نے کئی سادہ طبعیت لوٹے

تیری آنکھوں نے لٹایا ہے خزانہ تیرا

تو نہ آئے گا یقیناً یہ خبر ہے مجھ کو

آزماؤں گا مسلسل میں بہانہ تیرا

سوختہ دل کی یہ آشفتہ مزاجی ہاۓ

ٹھیک سینے پہ لیا خود ہی نشانہ تیرا

چند لمحوں کی ملاقات میں جانا ہم نے

ہم سے دیکھا تو نہ جاۓ گا یہ جانا تیرا

چاہنے کے باوجود بھی وہ کبری پر اپنی محبت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

ایک طرف عزت تھی کبری کی اس کی نظروں میں اور دوسری طرف اس کا ڈر کہ کہیں وہ اپنے دل کی بات اسے بتا کر ہمیشہ کے لیے خود سے دور نا کردے ۔

لب دبائے مسکراتا ہوا کیبن میں رکھے صوفے پر کبری کو بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہوا خود بھی بیٹھ گیا تھا ۔

کافی ۔سینٹر ٹیبل پر پہلے سے رکھا ہوا ناشتہ دیکھ کبری نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔

آپ سے ملنے سے پہلے ہی میں نے بریک فاسٹ کا کہہ دیا تھا ۔ کبری کی سوالیہ نظروں کو دیکھ وہ فورا سے صفائی دیتا ہوا بریک فاسٹ کرنے لگا ۔

******

خود پر اٹھی غلاظت بھری نظروں سے خائف ہوتی ہوئی وہ شاہ میر کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جس کی نظروں میں اسے غلاظت کا شائبہ تک نا دیکھا تھا ۔

یہ ہی وجہ تھی جو لمحے بھر میں فیصلہ کرگئی تھی ۔

رکیں سر ،

منزہ کے پکارنے پر آنکھیں میچے شاہ میر نے آسمان کی طرف منہ کرکے تشکر سے مسکرایا تھا ۔

کوئی بھی شخص کوئی بھی دعا اب تمہیں میرا اور صرف میرا یعنی شاہ میر ہمدانی کا ہونے سے نہیں روک سکتے منزہ وقار ۔ دل میں عہد کرتا ہوا وہ ایڑھیوں کے بل گھومتا ہوا منزہ کی جانب آنکھوں میں سوال لیے مڑا تھا ۔

آپ نے مجھے پکارا محترمہ ۔ کمال کی اداکاری کرتا ہوا وہ منزہ کی جانب بڑھا تھا ۔

جی سر ۔ طویل سانس بھرتی ہوئی وہ کہہ کر خاموش ہوئی تھی ۔

کیا آپ مجھے میری یونی تک ڈراپ کردیں گے پلیز ۔ منزہ کی بات پر شاہ میر نے اس بغور دیکھا تھا ۔

آپ کو اعتبار ہے مجھ پر ۔ پینٹ کی جیب میں ہاتھ دیے وہ منزہ کے بے تاثر چہرے کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا ۔

جی ۔

وجہ ۔

آپ کی شہرت ،

مطلب میں یہ سمجھوں کہ آپ میری شہرت و دولت کو دیکھ کر میرے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوئی ہیں ۔ کیا منزہ شہرت و دولت کے لالچ میں کسی کے بھی ساتھ ۔ یہ سوچ کر بھی شاہ میر کا دل مٹھی میں آیا تھا ۔

ہرگز نہیں سر اگر آپ میرے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کا سوچیں گے تو میری ہی عزت نہیں ساتھ میں آپ کی بھی عزت دغدار ہوگی ۔

اور ویسے بھی میں نے آپ کا آئی ڈی کارڈ دیکھا ہے ۔

تو اس کا مطلب ہے آپ فراڈ نہیں ہیں ۔ عام سے لہجے میں بولتی ہوئی وہ شاہ میر کو حیران کرگئی تھی ۔

منزہ کی بات وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔

مجھے کچھ غلط کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کے ساتھ ۔

آجائیں اور بے فکر رہیں محترمہ میرے لیے آپ کی عزت میری عزت کے برابر ہے ۔ جذب کے عالم میں بولتا ہوا وہ منزہ کو حیران کرتا اسے اپنے پیچھے آنے کا کہہ گیا تھا ۔

کیا مطلب ۔سوچتی ہوئی وہ شاہ میر کے پیچھے چلی تھی ۔

مطلب یہ کبھی کبھی انجان شخص ہمسفر بن جاتے ہیں ۔ کندھے اچکا کر چلتا ہوا وہ دھیمی آواز میں بولا تھا ۔

رئیس گاڑی آن لاک کرو ۔ گاڑی کے باہر کھڑے ڈرائیور کو دیکھ شاہ میر نے ڈرائیور پر حکم صادر کیا تھا ۔

جی سر ۔ شاہ میر کے پیچھے آتی منزہ کو دیکھ رئیس چونکا تھا ۔

ارے بھائی آپ ۔ منزہ جو دل ہی دل میں پریشان تھی اس انجان شخص کے ساتھ جانے کے لیے ڈرائیور کو دیکھ کر تھوڑی پرسکون ہوئی تھی ۔

آپ جانتی ہے رئیس کو ۔ اور تم کیسے جانتے ہو انہیں ۔جان کر بھی انجان بننے کی اداکاری وہ خوب کرگیا تھا ۔

سر کل میں نے بتایا تھا نا کہ میں نے میڈم کو لفٹ دی تھی یہ وہیں ہیں ۔ وہ بھی شاہ میر ہمدانی کا پڑھایا ہوا طوطا تھا ۔

اب تو آپ ریلکس ہوجائیں مجھ پر نا سہی اس رئیس پر تو یقین کر ہی سکتی ہیں آپ ۔ پہلی بار اپنے سر کو کسی کے کار کا ڈور کھولتے دیکھ رئیس نے حیرت میں لب تر کئے تھے ۔

بنا کوئی جواب دیئے منزہ کار میں بیٹھی تھی ڈور بند کرتا ہوا دوسری سائیڈ سے اس کے برابر میں بیٹھتا ہوا اپنے چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری کیے ہوئے تھا جو اس وقت شاہ میر کے لیے کافی مشکل امر تھا ۔

آپ آگے نہیں بیٹھیں گے کیا سر ۔شاہ میر کو اپنے برابر میں بیٹھتے دیکھ وہ چونکی تھی ۔

میں اپنے ڈرائیورز کے ساتھ نہیں بیٹھتا ۔ بوسیدہ سا بہانا بتاتا ہوا آنکھیں موندے ہوئے تھا ۔

کیسی ہیں میڈم آپ ۔ رئیس کی پوچھنے پر شاہ میر کی بھنویں سیکڑی تھی ۔

بلکل ٹھیک بھائی ، منزہ کا اس طرح سے ڈرائیور سے بات کرنا شاہ میر کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔

کار اسٹارٹ کرو رئیس ، چبا کر کہتا ہوا وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گیا تھا ۔

کار میں موجود فسوں خیز خاموشی کے ساتھ شاہ میر کے کلون کی سحر انگیز مہک منزہ کو کنفیوز کررہی تھی ۔

مزید شاہ میر سے دور سرکتی ہوئی وہ بلکل کار کے ڈور کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی ۔

میرا نام تو آپ جان گئی ہیں مگر آپ کا نام تو آپ نے بتایا ہی نہیں محترمہ ۔ بلآخر شاہ میر نے خاموشی توڑی تھی ۔

منزہ وقار ۔ بنا اسے دیکھے جواب دیتی ہوئی وہ شاہ میر کو مسکرانے پر اکسا گئی تھی ۔

نائس نیم ۔ منزہ کو دیکھتا ہوا وہ خاموش ہوا تھا ۔

ویسے کہاں سے ہیں آپ ۔ شاہ میر کو خاموشی خل رہی تھی ۔

دنیا سے ۔ بے تکا جواب منزہ سے پاکر وہ لب دبا گیا تھا ۔

میرے پوچھنے کا مطلب تھا کدھر سے ہیں آپ ۔ شاہ میر جو سب جاننے کے باوجود بھی منزہ سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔

پاکستان سے ، وہ اب بھی الٹا جواب دے گئی تھی ۔شاہ میر مسکرایا تھا ۔

کس جگہ سے ہیں آپ ۔ شاہ میر بھی ڈھیٹ واقع ہوا تھا اس معاملے میں ۔

گھر سے ۔ وہ پھر الٹا جواب دے کر اسے لاجواب کرگئی تھی ۔

گھر سے تو سب ہی ہوتے ہیں آپ کہاں سے ہیں ۔ منزہ کا لاجواب کرنا اس کے ضبط کو آزما رہا تھا ۔

میرے پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کس سٹی کا شہر سے ہیں ۔ خود پر ضبط کرتا ہوا شاہ میر بظاہر کر مسکرا کر پوچھ رہا تھا ۔

آپ کیا کریں گے جان کر سر ۔ شاہ میر کو سخت لہجے میں جواب دیتی ہوئی وہ ساتھ سوال کرگئی تھی ۔

منزل کے سوال پر وہ کھجلت کر شکار ہوا تھا ۔

جی کے کے لیے ۔ شاہ میر کو مسکراتے دیکھ وہ واپس سے رخ موڑ گئی تھی ۔

اففف شاہ میر تیری چوائس ۔ شانے آچکا کر وہ سر جھکائے مسکرایا تھا ۔

عجیب انسان ہے کوئی نارمل انسان کسی سے اس کے شہر کے بارے میں جی کے کے لیے بھی پوچھتے ہیں کیا۔ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی ترچھی نظر سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے شاہ میر پر ڈالتی ہوئی الجھن کا شکار ہوتی رخ موڑ گئی تھی ۔

خاموش رہے شاہ میر اب مزید خود کو کوئی سوال کرنے سے باز ہی رکھ تو بہتر ہے تیرے لیے ۔ خاموشی میں عافیت جانتا ہوا وہ زبان پر لگام کَس گیا تھا ۔

******

اوفووو آنکھیں نہیں ہیں کیا ، اپنی دھن میں چلتی ہوئی منیبہ کسی پہاڑ جیسی جسمات کے شخص سے ٹکراتی ہوئی اپنی پیشانی مسلتی ہوئی چلائی تھی ۔

جبکہ مقابل کھڑا شخص اس نازک سی لڑکی کی غلطی ہونے کے باوجود بھی خاموش رہا تھا ۔

تم سب جاؤ میں آتا ہوں ،اپنے فرینڈز کو جانے کا کہتا ہوا وہ اس لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔

اب آگے سے ہٹو بھی اندھے انسان ۔ منیبہ نے ہاتھ سے اس شخص کو ہٹانے کی کوشش کی تھی مگر وہ ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا ۔

پہلے آپ میری آنکھیں تو دیں جائیں تاکہ میں دیکھ سکوں پھر ہی راستے سے ہٹوں گا ۔ مقابل کی نرم آواز پر منیبہ نے غصے سے اسے دیکھا تھا ۔

دیکھیں میرے ساتھ زیادہ ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح منیبہ اس پر دھاڑی تھی ۔

آپ سب سے ایسے ہی بات کرتی ہیں یا صرف میرے ساتھ اس طرح بات کررہی ہیں ۔ شکوہ کرتا ہوا وہ منیبہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو شاید غصے سے سرخ ہورہا تھا ۔وہ صرف اتنا ہی اندازہ لگا سکا تھا ۔

یا پھر یہ بات ہے کہ آپ مجھ پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہیں کہ آپ پر میری ڈیشنگ پرسنلٹی کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ منیبہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں اس شخص کی بات پر ۔

اس غلط فہمی میں کس نے مبتلا کیا ہے آپ کو کہ آپ کی پرسنلٹی ڈیشنگ ہے ۔

توبہ توبہ کوئی ازلی دشمن ہی ہوگا آپ کا جس نے بھی یہ جھوٹ کہا آپ سے ۔

تھا تو وہ شخص قابل تعریف مگر حد درجہ اپنی پرسنلٹی پر مغرور بن رہا تھا اس کا غرور توڑنا بھی تو منیبہ صفدر پر لازم ہوگیا تھا ۔

ہمہم یہ تو بلکل صیحح کہہ رہی ہیں آپ !

اس شخص کو بیچارگی سے بولتے دیکھ منیبہ کے دل میں ٹھنڈی پھوار پڑی تھی ۔

میرے سارے فرینڈز تو میرے دشمن نکلے آج تک مجھ سے جھوٹ بولتے رہے کہ ہینڈسم ہوں ۔

تھینک یو سو مچ کہ آپ نے میری اس غلط فہمی دور کردیا ورنہ میں تو ساری زندگی اس ہی خوش فہمی میں گزار دیتا ۔

منیبہ کے مسکراتے چہرے کو بغور دیکھ وہ اپنی ناک کھجاتا ہوا نظریں جھکائے بولتا ہوا اپنی مسکراہٹ ضبط کررہا تھا ۔

ارے ارے اب اتنے بھی برے نہیں ہیں آپ ۔ منیبہ اس کے چہرے پر بیچارگی کے تاثرات دیکھ فورا سے پہلے بولی تھی ۔

اچھا چلیں پھر تو آپ ہی میری بیسٹ فرینڈ بن جائیں اور ایسی فرینڈ جو مجھے حقیقت کا آئینہ دیکھائے ۔ وہ اپنی بات پر آیا تھا جو منیبہ کے معصوم چہرے کو دیکھ کر اس کے دل میں خیال آیا تھا ۔

کیاااااا ۔۔ منیبہ چونکی تھی ۔

یہ ہی آپ میری بیسٹ والی فرینڈ بن جائیں ۔ منیبہ کے شاکڈ فیس کو وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھا گیا تھا ۔

آذر ۔۔۔آذر ہمدانی ۔ منیبہ کی جانب ہاتھ بڑھائے وہ اپنے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے ہوئے منیبہ کو دیکھ رہا تھا جو کبھی اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ رہی تھی تو کبھی آذر کے اپنی جانب بڑھائے ہوئے ہاتھ کو ۔

بنے گیں آپ میری دوست ۔ ہیزل براؤن آنکھوں میں امید کا چراغ جلائے آذر اس چھوٹی سی معصوم لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو بت بنی کھڑی تھی ۔

سن رہی ہیں ناں آپ ۔

جی ۔ لب کاٹتی ہوئی وہ آذر کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام گئی تھی ۔

یور نیم ۔ منیبہ کے ملام ہاتھوں پر گرفت مضبوط کرتا ہوا پوچھ رہا تھا ۔

منیبہ صفدر ۔

منیبہ صفدر ۔ آذر نے اس کا اس کا نام زیر لب دہرایا تھا ۔

کون سے ڈیپارٹمنٹ سے ہیں آپ ۔ بی اے سیکنڈ سیمسٹر ۔ منیبہ کا ہاتھ اب بھی آخر کی گرفت میں تھا ۔

اووو جونئیر ۔ منیبہ کے بتانے ہر آذر نے اپنے دانتوں کی بھرپور نمائش کی تھی ۔

جی ۔اپنے ہاتھ کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی کنفیوز ہورہی تھی ۔

آپ سے نہیں ! تم سے ملاقات ہوتی رہے گی آفٹر آل تم میری بیسٹ والی فرینڈ ہو ۔منیبہ کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ دیتا ہوا بلآخر اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت سے آزاد کرگیا تھا ۔

ہمہم ۔ منیبہ گردن ہلاتی ہوئی فورا سے وہاں سے بھاگنے کے انداز میں گئی تھی ۔

منیبہ صفدر ۔ اسے بنا مڑے جاتے دیکھ وہ نام دہراتا ہوا مسکرایا تھا ۔

******

ٹیک کیئر مس منزہ وقار ۔ گاڑی کا شیشہ نیچے کرتا ہوا مسکرا کر بولا تھا ۔

تھینک یو سر ۔ شاہ میر کی مسکراہٹ کو اگنور کرتی ہوئی منزہ یونی کی جانب بڑھی تھی ۔

ٹھرکی انسان ۔ اب بھی شاہ میر کو خود کو دیکھتے پاکر منزہ بڑبڑائی تھی ۔

منزہ ۔ کسی شخص کی آواز پر شاہ میر کے کان کھڑے ہوئے تھے ۔

اپنے نام کی پکار پر منزہ یونی کے مین گیٹ پر کھڑے جاذب کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔

جاذب تم ۔ منزہ اس دیکھ کر مسکراتی ہوئی جاذب کی سمت بڑھی تھی ۔

وہیں کار میں بیٹھا ہوا بے چین شاہ میر اس لڑکے کے چہرے کو دیکھنے سے قاصر تھا ۔

کون ہے یہ لڑکا ۔ گاڑی سے اترتا ہوا شاہ میر غصے سے بھرا ہوا اپنے بجتے فون کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔

کوئی وعدہ نہیں پھر بھی

انتظار تھا تیرا‏‎,,,‎‏

دور ھونے _______پر بھی

اعتبار تھا تیرا‎,,,‎

نا جانے کیوں بے رخی کی

تم نے ھم سے‎,,,‎

کیا کوئی ھم سے زیادہ بھی

طلبگار تھا تیرا‎!!!..

فرقان کالنگ دیکھ کر کال پک کرتا ہوا وہ کار سے اترا تھا جب تک منزہ اس شخص کے ساتھ مین گیٹ عبور کرگئی تھی ۔

*******