375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 17)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

دو دن سے وہ کافی پرسکون محسوس کررہا تھا،

معمول کے مطابق آفیس سے آتا ہوا وہ وقار صاحب کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا ۔

اگر میں غلط نہیں تو آپ وقار انکل ہی ہیں ناں ،،، آفیس سے واپسی پر شاہ میر وقار مرزا کو شفٹنگ کاسامان اتارتے دیکھ کمال کی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا ۔جس پر نا سمجھی میں شاہ میر کو دیکھتے ہوئے وقار صاحب پریشان ہوئے تھے اپنے سامنے کھڑے خوبرو نوجوان کو دیکھ جو پہلی ہی نظر میں انہیں پہچان گیا تھا۔

میں تو وقار مرزا ہوں آپ پتا نہیں کس کی بات کررہے ہیں ، شاہ میر توقع کے مطابق وقار صاحب اسے نہیں پہچان سکے تھے ۔

ارے انکل آپ مجھے کیسے پہچانے گیے بھلا پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہوگیا ہوں ۔

آئی مین ٹو سے پہلے سے بڑا ہوگیا ہوں برییڈ بھی بڑھی ہوئی ہے آج کل ،،شاہ میر کو پہچاننے کی غرض سے اسے دیکھتے ہوئے وقار صاحب شاہ میر کی خود سے خود کی تعریف کرنے مسکرائے تھے، تھا بھی سچ وہ تھا ہی قابل تعریف ،،

ارے انکل آپ کیسے بھول سکتے ہیں مجھے میں تو وہی ہوں جس نے آپ کی کار کا فرنٹ شیشے توڑا تھا ۔۔وقار صاحب کے ذہن پر عکس لہرایا تھا مگر اب وہ پہچان ناسکے تھے ۔

شاہ سلطان ہمدانی آپ کے پرانے پڑوسی وہ سامنے ہمدانی ولا ہمارا ہی تو ہے ،،

میں شاہ میر ہمدانی جہانزیب ہمدانی کا بیٹا ،، شاہ میر کے اس طرح زبردستی یاد کروانے پر بلآخر وقار صاحب کو وہ یاد آہی گیا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی واقع بیٹا آپ تو کافی بدل گئے ہیں ،،، معذرت بیٹا عمر کا تکازہ ہوگیا ہے جس وجہ سے میں آپ کو پہچان نہیں سکا ۔۔ خدا کا صد شکر کرتا شاہ میر وقار صاحب کے شرمندگی سے بھرے لہجے پر ان کے قریب بڑھا تھا ۔

اس میں معذرت والی کیا بات ہے انکل اب اتنے عرصے بعد ملیں گیے تو یہ سب تو ممکن ہے ،،پیشانی پر بکھرے بال جنہیں شاہ میر نے پیچھے کرنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔وقار صاحب کے ہاتھ پر دباؤ دیتا ہوا وہ اپنی ٹائی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا مسکرایا تھا ۔

ٹرانسفر ہوا ہے انکل آپ کا، ،مکمل لاعملی کا ڈرامہ کرتا ہوا شاہ میر سامان دیکھنے لگا تھا ۔

نہیں بیٹا میری تو ریٹائرمنٹ ہوگئی ہے مگر میرے بیٹے مزمل کا ٹرانسفر ہوگیا ہے جب ہی تو یہاں واپس شفٹ ہورہے ہیں ۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے انکل، ، شاہ میر کو مسکراتے دیکھ وقار صاحب گردن ہلاتے ہوئے سامان کی جانب بڑھے تھے جہاں دو لڑکے سامان اٹھا کر گھر کے اندر لے جارہے تھے ۔

انکل آپ یہ سب اکیلے کیوں کررہے ہیں، ، مزمل کو نا پاکر شاہ میر نے فکر سے پوچھا تھا ۔

اکیلا کہاں ہوں بیٹا اندر تمہاری آنٹی لگی ہوئی ہیں اور باہر یہ دونوں میرے ساتھ ،،

اور مزمل کہاں ہے ۔،، وہ ابھی حیدرآباد ہی ہے شام تک لوٹے گا ،،شاہ میر کو جواب دے کر وہ واپس دے سامان کی جانب بڑھے تھے ۔

انکل آپ رہنے دیں میں کروا دیتا ہوں آپ بس مجھے بتا دیں کون سا سامان کہاں رکھوانا ہے ۔۔ شاہ میر کے فکر سے ٹوکنے پر وقار صاحب نے اسے دیکھا تھا جو اشارے سے اپنے ڈرائیور کو بلا رہا تھا ۔

گاڑی میں جو سامان ہے وہ ارحم بابا کے روم میں بھجوا دوں اور اسٹاف کو لے کر یہاں آؤ فورا ،، رئیس پر حکم صادر کرتا وہ وقار صاحب کی جانب موڑا تھا ۔ انکل آپ اندر چلیں میں سامان اٹھواتا ہوں ،،، شاہ میر کو تشکرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ گھر کے اندر گئے تھے ۔

جہاں شائستہ بیگم سب ایک سائیڈ پر رکھواتی ہوئی صوفے پر ڈھے ہوئی تھیں ،

آپ تینوں اندر جائیں اور میڈم کی ہیلپ کریں، ، اور تم ادھر آؤ یہ سامان اٹھا کر میرے پیچھے آؤ ، میڈز کو اندر بھیج کر خود میل اسٹاف ہر حکم صادر کرتا ہوا گھر کی جانب بڑھا تھا ۔

کچھ بھی ناممکن نہیں ہے شاہ میر ہمدانی کے لیے منزہ وقار ،،ابھی گھر میں قدم رکھا ہے پورے استحاق کے ساتھ اگلا قدم تمہاری زندگی میں رکھوں گا ، فاتح مسکراہٹ لبوں پر سجائے شاہ میر نے گھر میں قدم رکھتے ہی دل ہی دل میں سوچ کر مزید مسکرا رہا تھا ۔

*****

ٹھیک ہو آج کل یونی بھی کم آرہے ہو ، جاذب کو دیکھتے ہی منزہ نے استفسار کیا تھا ۔

ہاں وہ ایکچولی میں نے جاب اسٹارٹ کی پے بس اس لیے اب دو دن ہی شکل دیکھا پاؤنگا اپنی ، ( اور آپ کو بھی ہفتے میں صرف دو دن ہی دیکھ سکوں گا ) دل میں سوچتا ہوا نظریں جھکائے ہوئے تھا ۔

اچھا ، شاہ میر کی دھمکی جو منزہ کو پریشان کیے ہوئے تھی وہ اب کم ہوئی تھی ۔

مطلب صرف مجھے ڈرانے کے لیے دھمکی دی گئی تھی ۔ شاہ میر کو سوچتے ہی منزہ کا موڈ بگاڑا تھا ۔

جی ،، منزہ کو کچھ سوچتے دیکھ جاذب اس کی سمت موڑا تھا ۔

آپ یاد کریں گی مجھے ، لہجے میں آس لیے وہ اسے دیکھ رہا تھا جو دماغ میں چلتی شاہ میر کی باتوں میں الجھی ہوئی تھی ۔

منزہ آپ سن رہی ہیں، ہاں کیا ہوا ،،جاذب کے ہاتھ ہلانے پر ہوش میں آتی ہوئی وہ بکھلائی تھی ۔

کچھ کہا تھا تم نے ، نہیں کچھ بھی نہیں، منزہ کے کچھ نا سننے پر جاذب نے افسردگی سے اپنے بات سے مکر گیا تھا ۔

ویسے منیبہ آئی نہیں اب تک ، جاذب کے پوچھنے منزہ پھیکا سا مسکرائی تھی ۔

پتا نہیں میڈم کب تک آئیں گی کہہ کر تو دو دن کا گئی تھی اور چار دن ہوگئے ہیں اب تک واپس بھی نہیں آئی ، منیبہ کی یاد میں افسردہ ہوتی وہ جاذب کے ہم قدم ہوئی تھی ۔

کال آئے تو بتانا میں اس کی کچ کچ مس کررہا ہوں ،

سچ بتاؤں تو مجھے بھی اس کی اور اس کی کچ کچ کی بہت یاد آرہی ہے ۔ جاذب کی بات پر مسکرائی ہوئی پہلی بار جاذب کے سامنے اپنے دل کا حال رکھ گئی تھی ۔

اب مجھے اجازت دیں منزہ مجھے آفیس جانا ہے، دل تو چاہ رہا تھا کچھ وقت مزید منزہ کے ساتھ گزارنے کا مگر آفیس کا سوچتے ہی اجازت طلب کرگیا تھا ۔

ہمہم خدا حافظ اپنا خیال رکھنا ۔ منزہ کا خدا حافظ کرنا جاذب کے دل کو دھلاگیا تھا ۔

آپ بھی ، صدیوں کا بچھڑا ہوا لہجہ جاذب کے دل کی دھڑکنوں کو ہلچل مچا گیا ۔

خدا حافظ ۔ مسکرا کر کہتی ہوئی منزہ جاذب کی پیٹھ دیکھتی رہ گئی تھی ۔

*****

ارے ارے آپ لوگ یہاں ،، میڈز کو دیکھ کر شائستہ بیگم حیرت سے گویا ہوئیں تھیں ۔

ارے آنٹی ذرا سا بھی فار مل ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ، وقار صاحب کے بولنے سے پہلے اندر آتے شاہ میر کی آواز پر شائستہ بیگم اس خوبرو نوجوان کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں جو بڑی ہی شان بے نیازی سے کہتا ہوا ان کے سامنے آکر رکا تھا ۔

وقار صاحب یہ کون ہے ، شاہ میر پر نظر ٹکائے وہ اپنے پیچھے سامان سیٹ کرتے ہوئے وقار صاحب سے پوچھ رہی تھیں ۔

یہ شاہ میر ہے بیگم ہمارا پڑوسی ، شاہ میر مسکرایا تھا ۔

ہم بعد میں بات کرلیں گے پہلے سامان سیٹ کروالیتے ہیں ، کہاں رکھوانا ہے یہ سامان ،، شاہ میر کہہ کر وقار صاحب کے پاس گیا تھا ۔

یہاں پر لے آئیں یہ سامان ،،، شائستہ بیگم کے پیچھے سامان لے کر جاتے ہوئے ملازمین اپنے سر کو کارٹن سے سامان نکال کر وقار صاحب کے ساتھ سیٹ کرتے دیکھ حیرت کا شکار ہوئے تھے ۔

چائے لو گے بیٹا یا کافی آپ ،، شاہ میر کو دو گھنٹے سے مسلسل اپنے ساتھ لگے دیکھ شائستہ بیگم نے بڑی محبت سے پوچھا تھا ۔

جس میں آپ کو آسانی ہو ، شاہ میر کا لہجہ اور اس کی فرمانبرداری کافی تھی شائستہ بیگم کو امپریس کرنے کے لیے ۔

چلو پھر میں چائے بنا کر لاتی ہوں ساتھ بیٹھ کر پیئے گے ہم تینوں۔ ملازمین کے آنے پر ان کا کام کافی حد تک سمیٹ گیا تھا ۔

جی ضرور آنٹی ۔ وقار صاحب کو سامان پکڑاتا ہوا مسکرایا تھا ۔

منزہ کی فریم کردہ فوٹو کو دیوار پر ٹانگنے کی خاطر کیل لگاتے ہوئے وقار صاحب کو دیکھ وہ فورا سے ان کے پاس لپکا تھا ۔

ارے انکل یہ کیل مجھے دیں میں ٹھوک دیتا ہوں ۔ لہجہ ایسا تھا جیسا وہ ماہر ہو ان سب میں ۔

رہنے دو بیٹا میں کر لوں گا ۔ دیں تو سہی ،، منزہ کے روم میں نظریں دوڑاتا ہوا مسکرایا تھا ۔

بیٹا آپ سے نہیں ہوگا ۔ ارے انکل تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا اپنا ہی مزہ ہے ، وقار صاحب اور شائستہ بیگم کی نظروں میں خود کے لیے پسندیدگی دیکھ وہ پرجوشی میں بول گیا تھا ۔

کیا مطلب بیٹا، ، یہ لیں انکل ہوگیا ،، وقار مرزا کے سوال کو اگنور کرتا ہوا وہ بلند آواز میں بولا تھا ۔

آجائیں چائے بن گئی ہے ۔ شاہ میر اور وقار صاحب کو آپس میں مسکراتے دیکھ شائستہ بیگم نے ہانک لگائی تھی ۔

کیا کرتے ہو بیٹا آپ ، شائستہ بیگم کے پوچھنے پر شاہ میر نے وقار صاحب کو مسکرا کر دیکھا تھا ۔

ارے بیگم ہمدانی کنسٹرکشن ان کا ہی ہے ۔ شائستہ بیگم گردن ہلاتی ہوئی مسکرائی تھیں۔کافی دیر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے شاہ میر کو وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا ۔

ریسٹ واچ پر ٹائم دیکھتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔

اب انکل آنٹی مجھے اجازت دیں کافی دیر ہوگئی ہے ۔

تمہارے آنے سے پتا ہی نہیں چلا کیسے گزر گیا ،، کل پھر آنا بیٹا ۔

جی آنٹی، ، شاہ میر کی تو مانو امید بھر آئی تھی ۔

وقار صاحب بچہ اچھا ہے ، شائستہ بیگم کے بولنے پر وقار صاحب مسکرائے تھے ۔

جی بیگم اچھا ہے پر پتا نہیں کنوارا ہے یا پھر شادی شدہ، شائستہ بیگم کی بات سمجھتے ہوئے وہ مسکرائے تھے ۔

جی پتا کرلیں، ، بیگم تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا ،، کہہ کر وہ بک ریکر کی سمت بڑھے تھے ۔

******

آگئے برخوردار، ، دادجی کے روم کے سامنے سے گزرتا ہوا شاہ میر دادجی کی آواز پر ان کے روم میں گیا تھا ۔

جی دادجی ویسے یہ مس ورلڈ کہاں ہیں ، روم میں بی جان کو نا پاکر شاہ میر نے دریافت کیا تھا ۔

اپنے بہو بیٹے کے ساتھ بیٹھی ہونگی ۔ دادجی کے بتانے کے انداز پر شاہ میر مسکرایا تھا ۔

بہت خوش نظر آرہے ہو ۔

جی دادجی، ، بڑے دنوں بعد شاہ میر ہنستے مسکراتے دیکھ دادجی خوش ہوئے تھے ۔

یار دادجی وقار انکل آگئے ہیں واپس ،، دادجی کے برابر میں گرنے کے انداز سے لیٹتا ہوا وہ پرجوشی سے بولا تھا ۔

ہاں اب شاہ میر ہمدانی کی کوشش رائیگاں جانے سے رہی ۔۔

یار دادجی آپ بھی ناں ۔۔ دادجی کی زانوں پر سر رکھتا ہوا شاہ میر زندگی سے بھرپور قہقہ لگا گیا تھا ۔

بس تم یوں ہی ہنستے مسکراتے رہو ،، شاہ میر کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے وہ مسکرائے تھے ۔

بس دادجی چند دن اور پھر سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ خود بخود بند ہوتی شاہ میر کی آنکھیں دیکھ دادجی مسکرا رہے تھے ۔

زندگی میں پہلی بار اتنا کام کرنے کی وجہ سے تھکن سے چور ہوتے شاہ میر کے وجود کو فقط آرام درکار تھا ۔

*****

شاہ میر سے بات کی آپ نے سمرین ۔

نہیں کی اور نا ہی کرنے کا کوئی فائدہ ہے کیونکہ وہ نہیں ماننے والا ہے شاہ میر کبری سے شادی کے لیے ۔ سمرین ہمدانی نے صاف انکار کیا تھا اب اسے مزید فورس کرنے کے لیے ۔

مجھے بھی اب یہ ہی لگتا ہے جہانزیب ۔

اور اب تو تمہارے ابا بھی اب شاہ میر کے ساتھ ہیں ۔بی جان کے کہنے پر جہانزیب ہمدانی پریشان ہوئے تھے ۔

پھر ماں کبری اور بچوں کا کیا ہوگا ،، ہمدانی صاحب کے لہجے میں پریشانی گھلی تھی ۔

کبری کی عمر ہی کیا ہے بچی کی اور ویسے بھی اب ہم خود غرض تو نہیں بن سکتے نا اس لیے بہتر ہے کہ اس کے لیے کوئی اچھا لڑکا ڈھونڈ لو جہانزیب ، بی جان کی بات پر حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے سمرین ہمدانی اور جہانزیب ہمدانی بی جان کی بات شاکڈ ہوئے تھے ۔

ماں، کچھ نہیں سننا مجھے جہانزیب کبری کی شادی کروانے کے بعد ارحم اور پریشے ہمارے پاس رہیں گے جب کبھی کبری کا دل کیا تو وہ آکر ان سے مل سکتی ہے ۔ بی جان کے حتمی فیصلہ سن کر سمرین اور جہانزیب خاموش ہوئے تھے ۔

کبری نہیں مانے گی ۔ سمرین ہمدانی کئ بات پر بی جان نے ہر سوچ انداز میں گردن ہلائی تھی ۔

تھوڑا وقت لگے گا مگر مان جائے گی ۔ بی جان کے کہنے پر جہانزیب ہمدانی گردن جھکا کر بیٹھ گئے تھے ۔

کوئی لڑکا ہے آپ دونوں کی نظر میں ۔بی جان کے پوچھنے پر دونوں نے ہی نفی میں گردن ہلائی تھی ۔

آپ کی نظر میں ہے کیا ، جب وہ سب سوچ چکی تھیں سمرین کو پوچھنا ضروری لگا تھا ۔

ہاں ہے ۔ ماں ،،،، بی جان کی گھوری پر جہانزیب خاموش ہوئے تھے ۔

کون ہے ماں وہ لڑکا ،، سمرین ہمدانی کے پوچھنے پر بی جان مسکرائی تھیں ۔

اپنے شاہ میر کا دوست فرقان ۔جہانزیب ہمدانی نے اپنا سر پکڑا تھا ۔

ماں وہ کنوارا ہے اور نا ہی اسے لڑکیوں کی کمی ہے جبکہ ہماری کبری دو بچوں کی ماں اور سب سے بڑی بات ہمارے شارق کی بیوہ ہے ۔ جہانزیب ہمدانی کو بی جان کو یاد دلانا ضروری سمجھا تھا ۔

ہاں تو شاہ میر بھی تو کنوارا ہے ہمارا ،

ماں شاہ میر کی بات الگ ہے ۔۔ بی جان کو جواب دیتے ہوئے وہ پریشان ہوئے تھے سوچ کر بھی ۔

میں نے دیکھا ہے فرقان کو ہماری کبری کی بہت عزت کرتا ہے وہ ۔

ماں عزت کرنا اور شادی کرنے میں رات دن کا فرق ہوتا ہے ،، بی جان کا مضبوط لہجہ انہیں اکسا رہا تھا بولنے کے لیے ۔

رہنے دو پہلے ہی ناں نا مت کرو بات کرو ۔

پہلے فرقان سےے کوئی بات ہوگی پھر ہی آگے اس بارے میں بات کریں گیے ۔ تم سے بات ہوجائے گی یا میں شاہ میر سے کہون کہ وہ بات کرے اپنے دوست سے ۔ بی جان نے پوچھا تھا ۔

مجھ سے نہیں ہوگا۔ جہانزیب ہمدانی کی بات پر گردنہلاتی ہوئی بی کھڑی ہوئیں تھیں ۔

مین شاہ میر سے خود بات کرلوں گی آپ دونوں بے فکر رہیں ۔بی جان اپنا فیصلہ سنا کر جہانزیب ہمدانی کے روم سے باہر نکلی تھیں ۔

مجھے نہیں پتا ماں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔ پریشانی سے سر پکڑے ہوئے جہانزیب ہمدانی صوفے کی پشت سے سر ٹکا گئے تھے ۔

*****

کب تک واپس آرہی ہو تم کہاں تو تم ویک اینڈ پر گئی تھی اور اگلے ہفتے کے دو دن بھی گزار دیئے ہیں تم نے ، گھبراہٹ میں پوچھتی ہوئی منزہ منیبہ کو حیران کرگئی تھی جو فلم دیکھتی ہوئی پارپ کارن کے مزے لے رہی تھی ۔

کیا ہوگیا ہے تجھے ، آنکھیں چھوٹی کرتی ہوئی وہ فلم کا والیم میوٹ کرگئی تھی ۔

کچھ نہیں یار بس تیری یاد آرہی ہے مجھے ۔ چاہنے کے باوجود بھی بتا نہیں پائی تھی ۔

سچ میں، منیبہ کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔

ہاں، تین دن پہلے ہوئی اپنی شاہ میر کی ملاقات سوچ کر وہ افسردہ ہوئی تھی ۔

اور جاذب کیسا ہے مجھے تو کال بھی نہیں کرتا کمینہ ، منزہ مسکرائی تھی ۔

ٹھیک ہے وہ اسے کیا ہونا ہے پوچھ رہا تھا وہ بھی تمہاری واپس کا ۔ بالوں کو جوڑے کی شکل دیتی ہوئی وہ مسکرا رہی تھی ۔

اور کسی نے نہیں پوچھا ، مطلب ،، منیبہ کے پوچھنے پر وہ فورا سے سوال دھر گئی تھی ۔

کچھ نہیں، آذر کا خیال آتے ہی وہ خاموش ہوئی تھی ۔

منزہ ، ہمہم ،، کچھ ہوا ہے کیا ۔ منزہ کی گہری خاموشی اور کہتے کہتے رک جانا منبیہ کو کھٹکا تھا ۔

تم آجاؤ پھر ،، منزہ کے لہجے میں افسردگی محسوس کرتی ہوئی منبیہ خاموش رہی تھی ۔

منزہ میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں ۔ منیبہ کے اچانک سے بولنے پر منزہ نے فون کان پر ہٹا کر دیکھا تھا ۔

اوکے بابا پھر بات کرتے ہیں، مسکرا کر کال کٹ کرتی ہوئی منزہ سونے کے لیے سیدھی ہوئی تھی ۔

مگر آنے والے پل اس کی آنکھوں سے نیند چھیننے کے لیے بے تاب تھے ۔

*****