Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar Readelle502304 Raah E Yaar (Episode 22) 2nd Last Episode

375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 22) 2nd Last Episode

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

عجیب کیفیت ہے تمہیں پاکر بھی میں خوش نہیں ہوپا رہا

کیا کچھ نہیں کیا میں نے منزہ تمہیں منزہ وقار سے منزہ شاہ میر ہمدانی بنانے کی خاطر ، بنا کوئی تاثر دیئے منزہ اسے حیرت سے دیکھا رہی تھی جو اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا ۔

پہلے پہل میری خوشی اور محبت تھیں تم مگر اس دن تم نے اپنے جذبات کا اظہار کرکے تم نے خود میری محبت کو ضد میں بدل دیا ،، اگر تم صرف میری محبت ہوتی تو شاید میں آج تمہیں پاکر اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان تصور کرتا مگر تم نے میری خوشی چھین لی ،، اور دیکھو تم آج میری ہو کر بھی میری نہیں ہو اور مجھے وہ خوشی وہ سکون نہیں مل رہا جو تمہیں پہلی بار دیکھ کر میرے دل کو ملا تھا ۔ منزہ کی آنکھوں کی نمی مین وہ خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا جس سے وہ نظریں موڑ گیا تھا ۔

کیا کمی ہے مجھ میں ، وہ منزہ کو جھٹکے سے کھڑا کرتا ہوا دھاڑا ۔

وہ جاذب کہاں ہے پتا ہے ،، شاہ میر کے سوال پر وہ اسے بت بنی دیکھ رہی تھی بنا کچھ کہے خاموش تھی ۔

تمہیں کیسے پتا ہوگا میں بتاتا ہوں تمہیں،، منزہ کے چہرے کو دیکھ کر وہ تلخی سے مسکرایا تھا ۔

میرا نو کر ہے تمہارا جاذب ،، منزہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں ۔

تھوڑے سے پیسوں میں بک گیا ،، تمہیں بھول گیا

چچچچچچ ایسی تھی تمہاری محبت جو چند پیسوں کے پیچھے فراموش کیے وہ تمہیں چھوڑ کر چلا گیا ۔ واہ ایسی ہوتی ہے محبت ،، تالی بجاتا ہوا وہ بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹا تھا ۔ جس پر منزہ سمٹی تھی ۔

میں نے اس سے محبت نہیں کی ،، منزہ بیڈ پر اتر کر وہ منمنائی تھی ۔

کچھ بھی کہہ لو مجھے یقین نہیں آئے گا ،، تھکے ہارے لہجے میں کہتا ہوا شاہ میر ڈریسنگ روم میں بند ہوا تھا ۔

مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں مسلسل اپنے کردار کی گواہی دوں ۔ ایک ایک کرکے اپنے تن سے جیولری جدا کرتی ہوئی وہ نم لہجے میں بڑبڑائی تھی ۔

****

ایک ہفتہ گزر گیا تھا شاہ میر اور منزہ کی شادی کو مگر دونوں ایک دوسرے سے لاتعلقی برت رہے تھے ۔

ایک ساتھ تھے مگر ایک دوسرے سے میلوں دور کے فاصلے پر ۔

عشق بھی کرتے ہو پھر اس سے انکاری بھی ہو

تم انسان نہیں ہو فقط پیسوں کے پجاری ہو ،،،

شاہ میر بڑا گہرا طنز کیا تھا ۔

نا میں نے کبھی محبت کی اور رہی بات پیسوں پر مرنے کی تو آپ کے پیسوں پر تھوکتی ہوں ،

جس شخص میں انسانیت ہی نا ہو میں اس کے سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتی ہوں شاہ میر ہمدانی ۔وہ دوبدو بولی تھی جس پر شاہ میر سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔

سایہ ! یہ ہی کہا ناں مسسز تم نے ،، شاہ میر کے پوچھنے پر منزہ نے اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔

خود سے پوچھو کیا میرے سائے کے قابل ہو تم ۔۔ منزہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔

کیا میں کبھی راہ یار پر ہونے کے باوجود بھی تم یعنی اپنے پیار پر یقین کرپاؤ گا بولو منزہ،، تھکے ہارے لہجے میں پوچھتا ہوا شاہ میر منزہ کو جھنجوڑ رہا تھا ۔

میں تم پر یقین کرنا چاہتا ہوں منزہ ،، شانے سے پکڑتا ہوا شاہ میر منزہ کو ساکت دیکھ اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی مس کرگیا تھا ۔

یہ سوال میں پوچھتی ہوں آپ سے جو جو آپ نے کیا کیا میں آپ کبھی آپ پر اعتبار کرپاؤ گی اس رشتے کو نبھاپاؤ گی ۔ شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھ وہ برہم لہجے میں بولی تھی ۔

****

کیا ساری رات یہاں پر گزرنے کا ارادہ ہے تمہارا ، فرقان نے شاہ میر کو آفیس میں بیٹھے دیکھ پوچھا تھا ۔

بہت کٹھن راہ ہے راہ یار جو نہیں ملے تو تڑپ رہتی ہے مل جائے تو کہیں نا کہیں کمی رہتی ہے ۔ آنکھیں موندے شاہ میر کو فرقان نے ناسمجھی میں دیکھا تھا ۔

کیا مطلب ، فرقان نے پوچھا تھا ۔

میں اسے حاصل بھی کرچکا ہوں مگر پھر بھی میں خوش نہیں رہ پارہا

عجیب ہے یہ راہ یار بھی حاصل کے بعد بھی انسان لاحاصل رہتا ہے ۔ منزہ کو سوچ کر سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا ۔

جب اس سے شادی کی تھی جب سوچنا چاہیے تھا تمہیں یہ سب ۔ فرقان کے کہنے پر شاہ میر بے بسی سے مسکرایا تھا ۔

یہ تو میں سمجھ نہیں پارہا ہوں کہ وہ میری ہے اب میرے پاس ہے مگر مجھے خوشی کیوں نہیں ہورہی میں خوش کیوں نہیں ہوپارہا ۔ بے بسی سے کہتا ہوا وہ فرقان کو قابل رحم لگا تھا ۔

غلط طریقے سے کیے گئے کاموں کا انجام اکثر یہ ہی ہوتا ہے شاہ میر ،، بھابھی سے معافی مانگ لے ۔ فرقان کو بغور دیکھتا ہوا شاہ میر دونوں ہاتھوں میں سر گرا گیا تھا ۔

وہ معاف کردے گی کیا ،، کیا میری ایک معافی مانگنے سے جاذب کا وجود ختم ہوجائے گا ہمارے بیچ سے بتا نا فرقان ایسا ہوسکتا ہے تو میں ابھی آیا وقت جاکر منزہ سے اپنے کردہ نا کردہ جرم کی معافی مانگ لوں گا ۔ شاہ میر کا لہجہ بھڑکا ہوا تھا ۔

جس پر فرقان خاموش رہا تھا ۔

چل چھوڑ سن سب فالتو کی باتوں کو کلب چلتے ہیں ڈرنک کرے گا تو ان سب باتوں کو بھول جائے گا تو ،، فرقان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔

اٹھ جا یا تجھے میں گود میں لے کر چلوں ،، فرقان کے کہنے پر شاہ میر تلخی سے مسکراتا ہوا اس کے ساتھ ہوا تھا ۔

یہ اچانک سے لندن جانے کیا خیال کیسے آگیا تجھے ۔ ڈرائیووکرتا فرقان کبری کو سوچ کر افسردگی سے مسکرایا تھا ۔

پاکستان میں بہت کرلیا کام یار اب باہر بھی اپنے نام کے جھنڈے گاڑتے ہیں ۔

اچھا ،، مطلب کبری کو اپنا بنانے کا ارادہ ملتوی کردیا یا خود پر یقین نہیں ہے تمہیں ۔ شاہ میر نے عام سے لہجے میں اسے اکسایا تھا جس پر فرقان نے اس دیکھ کر لب دبائے تھے ۔

میں نہیں چاہتا کہ ہم دونوں ایک ہی راہ کے مسافر بن جائیں راہ یار پر چل کر خالی ہاتھ رہ جائیں ۔ شاہ میر سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا ۔

کبری کا ساتھ مکمل ساتھ ہوگا تمہارے لیے ،، شاہ میر نے اسے دیکھ کر مضبوط لہجے میں کہا تھا ۔

ساتھ مکمل کرنے والی بھی تو مانے نا ۔ فرقان نے لاچارگی سے کہا تھا ۔

اگر مان جائے تو ،، شاہ میر کو حیرت سے دیکھتا ہوا فرقان بریک پر پیر رکھتا ہوا گاڑی روک گیا تھا ۔

میں کچھ سمجھا نہیں ہمدانی ، حیرت زدہ ہوتا فرقان کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا ۔

یہ ہی کہ میں ڈیڈ سے بات کروں گا ت

ہارے اور کبری کے بارے میں ۔ شاہ میر نے حتمی فیصلہ سنایا تھا ۔

کبری جی ہرٹ ہونگی ۔ فرقان کے کہنے پر شاہ میر مسکرایا تھا ۔

وہ نا نہیں کرے گی ،، پر یقین لہجہ تھا ۔

تو تو ایسے بول رہے ہو جیسے تو نے کبری جی سے بات کرلی ہے ۔ فرقان کے انداز پر شاہ میر مسکرایا تھا ۔

تو تو یہ ہی سمجھ لے ،، شاہ میر گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔

اب اپنے گھر جا اور پوری رات اس ہی بارے میں سوچنا ۔ فرقان کو گاڑی سے باہر نکلتے دیکھ شاہ میر اسے باہر آنے سے روکا تھا ۔

شاہ میر ۔فرقان پیچھے سے پکارا تھا ۔

گھر جا ۔۔ شاہ میر بنا مڑے کہتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا ۔

کیا سچ میں کبری جی مان جائیں گی ۔ شاہ میر کو جاتے دیکھ فرقان سوچ کر مسکرایا تھا ۔

*****

ڈور ناب پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ نشے کی زیادتی سے اپنی سرخ و دکھتی آنکھوں کو زور سے میچ کر کھولتا ہوا نیم اندھیرے روم میں داخل ہوا تھا ۔

جہاں اس کی مسسز دنیا جہاں سے غافل سوئی ہوئی تھی ۔

دبے پاؤں چلتا ہوا دائیں کندھے پر اپنے ہاتھ میں پکڑی جیکٹ رکھے ہوئے تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں اپنے شوز پکڑے ہوئے وہ نظریں اپنی سوئی ہوئی مسسز پر ٹکائے ہوئے تھا اس ڈر میں کہیں وہ اٹھ نا جائے ۔

شششش۔۔۔۔لبوں پر انگشت کی انگلی رکھے وہ روم میں بچھی مخملی کارپیٹ کو خاموش کرواتا ہوا لب دبائے مسکرایا تھا ۔

کنگ سائز بیڈ پر سوئی ہوئی مسسز کو دیکھتا ہوا وہ ایک ایک قدم بڑے احتیاط سے چل رہا تھا کہ اچانک ہی کمرے میں چھناکے کی آواز سے وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی ۔

ہاتھ میں پکڑی جیکٹ کاؤچ پر پھینکتا ہوا وہ غصے سے زمین پر کرچی کرچی ہوئے واز کو دیکھ کر اپنی پیشانی پیٹ گیا تھا ۔

اب واپسی ہوئی ہے آپ کی ۔اسے طرح دیکھ وہ روہانسی ہوئی تھی ۔

واپسی نہیں مسسز جانے کی تیاری تھی ۔گردن پر ہاتھ پھیرتا ہوا جھوٹ بول گیا تھا ۔

کہاں ۔اس کے جواب پر اچانک ہی اس کی آنکھوں میں نمی اتر گئی تھی ۔

میں تمہیں جوابدہ نہیں ہوں مسسز ۔لفظوں پر زور دیتا ہوا وہ پل بھر کے لیے اپنے مضبوط قدموں سے لڑکھڑایا تھا ۔

اتنے آرام سے دبے پاؤں جارہا تھا کہ کہیں تم کالی بلی میرا رستہ نا روک لے ۔آنکھوں میں پانی لیے وہ اپنے مجازی خدا کو دیکھ رہی تھی جو نشے میں بھی اس کی عزت افزائی کرنے سے نہیں چوک رہا تھا ۔

مگر ساری کاوشوں پر پانی پھیر دیا اس منحوس واز نے ۔خونخوار نظروں سے کرچی ہوئے واز پر نگاہیں ٹکائے دانت دبائے بول رہا تھا ۔

سائیڈ پر ہو سارا مزہ خراب کردیا اب کہیں جا بھی نہیں سکتا ۔بدک کے پیچھے ہوتی ہوئی سوالیہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

اس کی سوالیہ نظروں کو دیکھ وہ خود سے جواب دے گیا تھا ۔

مذاق ہے کالی بلی نے پیچھے سے ٹوک دیا ہے مجھے کہیں راستے میں کوئی حادثہ پیش آگیا میرے ساتھ تو تمہارے پیچھے سے ٹوکنے پر ۔ آبرو اچکاتا ہوا وہ اس کے حواس باختہ چہرے کو دیکھ کر بول رہا تھا ۔

خومخواہ بھری جوانی میں بیوہ ہوجاؤ گی ۔ایک آنکھ دبائے وہ کہتا ہوا وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں اس کی ہی زانوں پر سر رکھ لیٹ گیا تھا ۔

وہیں وہ اسے نم آنکھوں سے دیکھتی ہوئی لب دبائے اپنی سسکی کا گلا گھونٹ گئی تھی ۔

ایم سوری منزہ ،، نیند میں بڑبڑاتے ہوئے شاہ میر کے منہ کے سامنے کان کیے تھے منزہ نے اسے مزید سننے کی خاطر جو نیند میں مسلسل بول رہا تھا ۔میں نے صرف سوچا تھا مگر سب میں نے خود نہیں کیا ،، وہ بولتا ہوا رکا تھا ۔

ہممم اچھا ،، ہلکی آواز میں منزہ نے اسے پکارا تھا جو نیند میں بھی ماتھے میں بل دیئے ہوئے تھا ۔

وہ نکاح جعلی تھا منزہ،، منزہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں ۔

تم مجھے معاف کردو مجھے خوش رہنا ہے تمہارے ساتھ ،، فرقان کی باتوں کا اثر تھا جو وہ نیند میں بھی اس کی بات پر عمل کررہا تھا ۔

منزہ ایم سوری ، بٹ آئی رئیلی لوو یو ،،، منزہ کی آنکھوں میں نمی ابھری تھی ۔

آئی لوو یو،،، کافی دیر بعد بولتا ہوا شاہ میر منزہ کا ہاتھ پکڑے کروٹ بدل گیا تھا ۔

میں نے تمہیں معاف کیا شاہ میر ہمدانی ۔ شاہ میر کو دیکھتی ہوئی وہ اپنے آنسو ضبط کرگئی تھی ۔

*****

آج تو ہمارے گارڈن میں بہار آگئی تم یہاں کیسے ،، کبری کی چہکتی سن کر منزہ مڑی تھی ۔

کچھ نہیں بھابھی ایسے ہی ،، منزہ کو ہمدانی ہاؤس میں اسے ایک ہفتے سے اوپر ہوگیا تھا اور منزہ ہر وقت کمرے میں رہنے کے سے تنگ آگئی تھی ۔

وہ آج کمرے سے باہر گارڈن میں کھڑی ہوئی تھی لیونگ روم کی گلاس وال سے منزہ کو گارڈن میں کھڑے دیکھ کبری فورا سے اس کے پاس آئی تھی ۔

بہت کم بولتی ہو تم ،، کبری نے منزہ کی خاموشی پر چوٹ کی تھی ۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔ منزہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔

مسکراتی رہا کرو زیادہ پیاری لگتی ہو ،، کبری کے کہنے پر منزہ نے نظریں جھکائی تھیں ۔

ویسے روم سے بہت کم باہر نظر آتی ہو تم شاہ میر نے منع کیا ہے کیا ،، کبری نے سوال کیا تھا ۔

نہین ایسی بات نہیں ہے دل کرتا ہے بھابھی اور ایک دفعہ میں لیونگ روم تک بھی آئی تھی مگر کوئی دِکھا نہیں تو میں پھر سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ انگلیاں چٹخاتی ہوئی وہ شرمندگی سے بولی تھی ۔

اوو ہاں مام تو بوتیک جاتی ہیں میں آفیس جانے لگ گئی ہوں اور بی جان اپنے اپنے روم میں ہی ہوتی ہیں زیادہ تر ۔ منزہ کے جھکے سر کو دیکھتی ہوئی اپنے پیچھے سوال پر خود شرمندگی ہوئی تھی ۔

مام ، ارحم کی آواز پر وہ دونوں ایک مڑی تھیں ۔

یس بے بی ،، ارحم کے پاس جاتی ہوئی کبری نئ اس کی ناک دبائی تھی جس پر ارحم کے چہرے پر ناپسندگی کے تاثرات صاف عیاں تھے ۔

ارحم کے ناراض ناراض سے انداز دیکھ منزہ مسکرائی تھی ۔

مام ابی کہاں ہیں میں ان کا کب سے انتظار کررہا ہوں ۔ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ خفگی سے بول رہا تھا ۔

یہ تو اب آپ اپنی چاچی سے پوچھیں کہ آپ کے ابی اور ہبی کدھر ہیں ، مسکرا کر کہتی ہوئی کبری منزہ کے چہرے کی مسکراہٹ انجانے میں چھین گئی تھی ۔

کاں ہیں آپ کے ہبی،، ارحم کے غصے سے پوچھنے پر منزہ نے کبری کو دیکھا تھا جو جواب میں مسکرا رہی تھی ۔

مجھے کیا دیکھ رہی ہو جواب دو اسے ۔

آپ کے ابی کہاں ہیں یہ تو مجھے بھی نہیں پتا ارحم ، گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی وہ مسکرا کر بولی تھی ۔

آپ کو نہیں پتا ،، معصومیت سے بولتا ہوا ارحم منزہ کے گردن ہلانے پر مڑا تھا مگر اگلے ہی پل وہ واپس سے اس کہ جانب لپکا تھا ۔

آپ میرے سات کھیلے گی،، اس کے پوچھنے پر منزہ مثبت میں گردن ہلاتی ہوئی کھڑی ہوئی تھی ۔

آپ اتنی بری بھی نہیں ہیں جنتی مجھے لگی تھی ۔ منزہ کو حیرت ہوئی تھی ۔

مطلب میں بری ہوں ۔ارحم سے پوچھتی ہوئی وہ افسردہ ہوئی تھی ۔

نا چاچو کو پسند ہوں اب جو گھر لا کر بھول گئے ہیں اور نا ہی بھتیجے کو ،، سوچ کر اداس ہوتی ہوئی وہ ارحم کو دیکھ رہی تھی ۔

اچھی ہیں اب آپ میرے سات کھیلے گی ناں اب آپ میرے ساتھ اس لیے ۔ کبری اور منزہ کا ہاتھ پکڑے وہ مسکرایا تھا ۔

****

کبری کے بارے میں کیا سوچا ہے ڈیڈ آپ لوگوں نے ، شاہ میر بنا کوئی بات بنائے سیدھی سی بات کی تھی ۔

کیا سوچنا ہے، سمرین ہمدانی نے پوچھا تھا ۔

یہ ہی نام کہ کیا وہ ساری زندگی بھائی کے بیوہ بن کر گزارے گی ۔ شاہ میر کا لہجہ سخت ہوا تھا سمرین ہمدانی کے پوچھنے پر ۔

تو اس میں غلط بھی کیا ہے دو بچے ہیں اس کے اس کے بعد دوسری شادی کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا ۔ سمرین ہمدانی کا جواب سن کر دادجی نے تاسف سے گردن ہلائی تھی جبکہ بی جان سمرین ہمدانی خو دیکھتی رہ گئیں تھیں ۔

یہ خیال آپکو جب کیوں نہیں آیا تھا جب آپ میری شادی کروانا چاہ رہی تھیں مام کبری کے ساتھ ۔ شاہ میر کا لہجہ مزید سخت ہوا تھا ۔

وہ اس لیے تاکہ ارحم اور پریشے ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں، ، اگر کبری کی شادی کہیں اور کرتے ہیں تو ہمیں اپنے شارق کی اولاد سے دور ہونا پڑے گا جو میں کبھی ہوتے نہیں دیکھ سکتی ۔ سمرین ہمدانی کا لہجہ نم ہوا تھا جس پر جہانزیب ہمدانی سر جھکائے بیٹھے رہے تھے ۔

صرف یہ بات ہے جو آپ کبری کی دوسری شادی سے انکاری ہیں ۔ شاہ میر نے سب کو دیکھا تھا جس پر جواب گہری خاموشی ملی تھی ۔

دادجی، ، شاہ میر نے امید سے پکارا تھا انہیں ۔

میں تمہارے ساتھ ہوں، ، دادجی اس کی پکار سمجھتے فورا سے بولے تھے ۔

اس کا حل ہے میرے پاس ۔ شاہ میر کے کہنے پر سب نے شاہ میر کو دیکھا تھا ۔

کیسا حل ۔ جہانزیب ہمدانی نے اس سے حیرت سے پوچھا تھا ۔

میری نظر میں ایک قابل اور ہونہار لڑکا ہے ویسے تو وہ ارحم اور پریشے کو باپ کی طرح پیار کرے گا وہ کبری کو ارحم اور پریشے کے ساتھ قبول کرے گا مگر جیسا کہ آپ سب چاہتے تو ارحم اور پریشے کی سر پرستی میں لوں گا انہیں باپ کے نام کے علاوہ ہر وہ آرائش و سکون دوں گا جو ایک باپ دیتا ہے ۔

اور ماں ،،بی جان نے شاہ میر کی بات کاٹی تھی ۔

منزہ انہیں ایک ماں سے زیادہ پیار دے گی ۔ شاہ میر کے مضبوط لہجے پر دادجی مسکرائے تھے ۔

کبری کبھی نہیں مانے گی ۔ سمرین ہمدانی نے اب بھی اپنی ایک ہی کہی تھی ۔

وہ ماں جائے گی آپ بس تیاری کیجئے ۔ شاہ میر اپنی کہہ کر اٹھا تھا ۔

لڑکا کون ہے یہ تو بتا جاؤ ، شاہ میر کو جاتے جہانزیب ہمدانی نے پوچھا تھا ۔

آپ کل مل لیجئے گا اس سے ، یہ کہہ شاہ میر وہاں رکا نہیں تھا سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔

****

ہر دن محبت کا ،ہر رات محبت کی

ہم اہل محبت میں ،ہر بات محبت کی ۔

بنا کوئی شور یا آہٹ کے شاہ میر خاموشی سے منزہ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہوا تاسف سے مسکرا رہا تھا کہ اچانک بجتے فون کی رنگ سے شدید بد مزہ ہوا تھا ۔

اسے فون کی رنگ ٹون سے کسمساتے ہوئے دیکھ وہ فورا سے اپنی جگہ پر سیدھا ہوا تھا ۔

مسلسل بجتے فون کی وجہ سے وہ بالآخر اٹھی تھی ۔

وہیں وہ جو اس کے برابر میں ہی داز اسے سوتے ہوئے نہار رہا تھا فورا سے آنکھیں بند کر کے سونے کی اداکاری کرنے لگا تھا ۔

ہیلو ۔۔نیند سے بھاری آواز سے وہ اپنی نشست سے ذرا برابر بھی نہیں ہلا تھا ۔

جاذب کیا تم ہو ۔جاذب کے نام پر وہ بمشکل خود پر کنڑول کرتا ہوا ہنوز آنکھیں بند کیے ہوئے تھا ۔

کون مرد رات کے دوسرے پہر اپنی بیوی کو کسی نامحرم کے ساتھ بات کرتے برداشت کرسکتا تھا مگر وہ پھر بھی خود پر ضبط کیے لیٹا ہوا تھا ۔

ایک منٹ ۔ برابر میں لیٹے ہوئے اپنے نام نہاد شوہر کو دیکھتی ہوئی وہ بیڈ سے اتر کر روم سے باہر نکل گئی تھی ۔

وہیں وہ بے چین ہوتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا ۔

منزہ کو باہر گئے ہوئے تقریبا بیس منٹ ہونے کو آئے تھے اور ایک ایک سیکنڈ اس کی جان نکال رہا تھا ۔

بیڈ کرؤان سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا اس کے انتظار میں سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا ۔

جب اسے نا آتے دیکھ وہ کبرڈ سے وائن کی بوتل نکال کر اپنے سامنے رکھ کر بیٹھا تھا ۔

کچھ دیر بعد گیٹ کھولنے کی آواز پر وہ سرخ آنکھوں میں نفرت لیے اسے اندر آتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔

جو روم میں موجود سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے ناک پر ہاتھ رکھے ہوئی اسے کاؤچ پر وائن پیتے ہوئے دیکھ چونکی تھی ۔

ہوگئی اپنے عاشق سے پیار بھری باتیں ۔شاہ میر کا لہجہ عام سا تھا مگر اس کے الفاظ کسی خنجر کی طرح اس کے سینے میں چبھے تھے ۔

بنا جواب دیئے وہ مضبوط قدم لیتی ہوئی بیڈ کی سمت بڑھی تھی جب ہی وہ برق رفتاری سے اس کے راستے میں آکھڑا ہوا تھا ۔میرے راستے سے ہٹیں ۔ناک سکڑتی ہوئی رخ موڑ گئی تھی ۔

کیوں ۔تمسخرانہ انداز میں مسکراتا ہوا اس کا رخ واپس سے اپنی سمت موڑ گیا تھا ۔

مجھے آپ کے منہ سے یہ حرام شے کی بو زہر لگ رہی ہے اس وقت ۔وہ خود سے پیچھے ہوئی تھی ۔

یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے مسسز تمہیں میرے منہ سے آتی یہ سمیل نہیں اچھی لگ رہی اور مجھے اس وقت تم ۔بے یقینی سے اسے سن رہی تھی ۔

مجھے آپ کے منہ ہی نہیں لگنا ۔آنکھوں میں نمی لیے وہ غصے سے بولی تھی ۔

مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تمہیں یعنی اس حلال رشتے والی بیوی کو منہ لگانے سے زیادہ میں ان حرام چیزوں کو ترجیح دینا پسند کرتا ہوں مسسز ۔سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا ہوا نفرت سے ہنکارا تھا ۔

وائن کی خوبصورت بوتل پر لب رکھتا ہوا وہ روم کی تمام لائٹس آن کرگیا تھا ۔

مجھے سونا ہے ۔اسے لائٹس آن کرتے دیکھ وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔

تو کس نے روکا ہے سو جاؤ ۔ڈھٹائی سے کہتا ہوا وہ گلاس میں وائن ڈالتا ہوا مسکرا کر بولا تھا ۔

وہ اسے غصے اور بے بسی سے گھورتی ہوئی وہ بیڈ پر بیٹھی تھی ۔

ویسے تم اور یہ شراب بلکل ایک جیسے ہو ،، کڑوے ، تمسخر سے کہتا ہوا وہ اندر جلتی آگ سے سے جھلس رہا تھا ۔

بنا شاہ میر کو جواب دیئے وہ اسے گلاس اور بوتل کے ساتھ کھیلتے دیکھ رہی تھی ۔

جو کبھی گلاس کو دیکھ رہا تھا تو کبھی بوتل پر انگلی پھیرتا ہوا اچانک سے کھڑا ہوا تھا جس پر منزہ کی پیشانی میں بل پڑے تھے ۔

شاہ میر کو اپنی سمت آتے دیکھ وہ ذرا پیچھے کو کھسکی تھی ۔

مجھے اپنے حق لینے بہت اچھے سے آتے ہیں اس لیے گھبراؤ نہیں جب اپنا حق وصول کرنا ہوگا تو تمہیں سانس لینے کی بھی مہلت نہیں دوں گا ۔ سخت گیر لہجے میں بولتا ہوا شاہ میر منزہ کو ساکت چھوڑ روم سے باہر گیا تھا ۔

****