375.1K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Yaar (Episode 1)

Raah E Yaar By Mehwish Ghaffar

سر آج آپ سنگنگ نہیں کریں، منیجر کو دیکھتا ہواوہ مسکرایا تھا ۔

آج موڈ نہیں ہے ۔وہ تو تھا ہی اذل سے موڈی انسان ۔

پر سر آپ تو رونق ہیں ہمارے کلب کی ۔منیجر نے اسے منانا چاہا تھا ۔جو نہایت مشکل امر تھا ۔

کہہ دیا ناں یار آج موڈ نہیں ہے ۔ دوستانہ لہجہ اپناتا ہوا وہ اپنے ساتھ بیٹھے دوست کی سمت رخ موڑ گیا تھا ۔

مطلب اب اس مینجر کا وہاں پر کھڑے رہنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا تھا ۔

ڈی جے کو سونگز پلے کرنے کا اشارہ کرتا ہوا مینجر اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا تھا ۔

جاگی جاگی سوئی نا میں ساری رات تیرے لیے

بھیگی بھیگی پلکیں میری اداس تیرے لیے

فل والیم میں چلتے ہوئے سونگ کو انجوائے کرنوجوانوں میں توانائی بھر دی تھی ۔

یہ ایک نائیٹ کلب کا منظر تھا ۔پنک، پرپل اور لائٹ بلیو کلر کی لائٹس میں جگمگاتا کلب اپنی خوبصورتی کا منہ بوتا ثبوت تھا ۔

چاروں اطراف رکھے گئے وائیٹ کلر کے جدید ڈیزائن کے خوبصورت کنگ اسٹائل صوفے، جہان نشے سے چور ڈھلکتے وجود بے سود ڈھے ہوئے تھے ۔

کلب کے رائیٹ سائیڈ پر بنا وائن بار جہان ہر فلیور کی وائنز کسی قیمتی جواہرات کی طرح سجائی ہوئی تھیں ۔

چند لڑکے جو کچھ دیر پہلے ہی اپنے آئی ڈی کارڈز دیکھا کر کلب میں انٹر ہوئے وہ سب بار ٹیبل پر اپنی پسند کی وائن کے مزے اڑا رہے تھے ۔

کلب کے سب سے عالیشان دیوان جو خاص لوگوں کے لیے خاص طور پر رکھے گئے تھے ۔

ان پر براجمان گرے کلر کے سوٹ میں ملبوس شاہ میر ہمدانی ریلکس سا بیٹھا ہوا سب کو دیکھنے کے ساتھ اپنی وائن سے بھرے گلاس کو منہ لگاتا ہوا دلفریب مسکراہٹ اپنے عنابی لبوں پر سجائے ہوئے تھا ۔

لیفٹ سائیڈ پر میوزک سسٹم ہینڈل کرتا ہوا ڈی جے جو خود بھی نشے میں چور خود با خود جھول رہا تھا ۔

کلب کے بیجوں بیچ وائیٹ پنک اور بلیک کلر کے شیشے سے بنا ہوا ڈانس فلور اس پورے کلب کی شان تھا ۔

جہاں امیر ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولادوں کے ساتھ ان کی گرل فرینڈز جو نشے کی حالت میں ڈانس فلور پر ایک دوسرے کی بانہوں میں جھول رہے تھے ۔

ڈانس فلور کے رنگ برنگی ہیڈ لائٹس میں جھلتا ہوا نازک وجود جو اس وقت بلیو کلر کی نیٹ کی تنگ میکسی پہنے ہوئے تھی جس میں اس لڑکی کے جسم کا ہر اعضاء ظاہر ہوتا ہوا بے ہودگی کا مناظر پیش کررہا تھا ۔

جسے ریڈ وائن پیتے ہوئے اس نائیٹ کلب کی پر رونق و شان شاہ میر ہمدانی نے بڑی ہی ناگواریت کے ساتھ اپنی نگاہیں اس کے قیامت خیز سراپے سے ہٹائی تھی ۔

اکھیاں بچھائی میں نے تیرے لیے

دنیا بھولائی میں نے تیرے لیے

اپنے رنگے ہوئے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی وہ ایک ایک قدم کھوئے ہوئے انداز میں شاہ میر ہمدانی کی جانب بڑھ رہی تھی ۔

جو شان بے نیازی سے اپنے جگری یار کے ساتھ محو گفتگو تھا ۔

ہوووووووووو تیرے لیے

اب بس یار مجھ سے نہیں بیٹھا جارہا یہاں ایسے بیٹھے بیٹھے اکتا گیا ہوں ۔فرقان جو اس لڑکی کو اپنی جانب آتے دیکھ بے صبری سے بولا تھا نشہ جیسے سر چڑھ دوڑا تھا اس کے ۔

روکا کس نے ہے تجھے جا اور انجوائے کر ۔فرقان فورا سے اپنی جگہ سے اٹھی کھڑا ہوا تھا نشے میں بھی شاہ میر خود پر کنڑول کیے ہوئے مسکرایا تھا فرقان کی بے صبری پر ۔

جھوموں دیوانہ بن کے تیرے لیے ،،،

وعدہ ہے میرا میں ہوں تیرے لیے، ،،،

ہونا کبھی تو جداااااااااااااا ،،،،،،،

جارہا ہے ناں تو ایک بات میری سنتا جا اگر تھوڑی دیر ویٹ کرلے گا ناں تو وہ خود سے آئے گی تیرے پاس ۔

تو سچ کہہ رہا ہے ناں ہمدانی ۔

تیری ایکس کی قسم ، ایک آنکھ دبائے سونگ انجوائے کرتا ساتھ کو گردن ہلاتا شاہ میر رقص کرتے نوجوانوں کو دیکھ کر تمسخرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا ۔

وہیں فرقان فورا سے پہلے واپس سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا ۔

ہائے ،تیز والیم کے باعث وہ شاہ میر پر جھک کر بولی تھی ۔

آئبرو ریس کرتا ہوا شاہ میر فرقان کو دیکھ رہا تھا جو اس لڑکی کے ہوش روبہ حسن سے گھائل ہوگیا تھا ۔

ایم نینا اینڈ یو ہینڈسم، شاہ میر کے کالر کے ساتھ حرکت کرتی ہوئی وہ بڑے ہی دلفریب لہجے میں بولتی ہوئی مسکرائی تھی ۔

شاہ میر ہمدانی،میاں کے کالر پکڑنے پر اس کی کشادہ پیشانی پر ناگواریت کے بل پڑے تھے ۔

اپنے کالر سے حرکت کرتے اس کے نرم ملائم ہاتھ کو پکڑ کر وہ اپنا کالر اس کی نازک گرفت سے آزاد کروا گیا تھا ۔

بھیگی بھیگی رات میں لے

کر کے تجھ کو ساتھ میں

مدہوش ہوجائیں ہم آ فاصلے کرنے دے کم ،،،،

کیا میں ادھر کس کرسکتی ہوں ۔

شاہ میر کے قریب آتی ہوئی وہ اس کے عنابی لبوں پر انگلی رکھ کر ڈھٹائی سے مسکرائی تھی ۔اس کے لہجے اور حرکتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی ڈرنک کرچکی تھی ۔

جب ہی تو وہ شاہ میر کے اتنے قریب کھڑی ہوئی تھی ورنہ کسی شخص میں اتنی تاب کہاں تھی کہ شاہ میر ہمدانی کے عین سامنے آکھڑا ہو اور اس طرح کی حرکتیں کرسکے ۔

میرے خیال سے محترمہ آپ ڈرنک ہیں سو پلیز دور رہیں مجھ سے ۔اپنی عادت کے برخلاف کو بہت نارمل انداز میں مخاطب ہوا تھا ۔

کیا کر رہا ہے ہمدانی ایک کس ہی تو کرنا چاہ رہی ہے ،

سب سے بڑی بات وہ خود سے آئی ہے تیرے پاس کرنے میں کیا برائی ہے ۔شاہ میر کی خونخوار نظروں سے فرقان خاموش ہوا تھا ۔

پلیز دور رہیں محترمہ ۔۔وہ پہلے سے سخت لہجے میں بولا تھا ۔

اوہووووو کوئی بڑی ڈیمانڈ تھوڑی کر رہی ہوں بس ایک کس ہی تو کرنی ہے یاررررر ،جھکتی ہوئی وہ شاہ میر کا ضبط آزما گئی تھی ۔

ایک بار کا کہا سنائی نہیں دیتا دور رہو ۔۔۔۔

اس کو پیچھے نا ہٹتے دیکھ شاہ میر نے غصے سے اسے خود سے پیچھے دھکیلا تھا ۔

جس پر نشے میں ہونے کی باعث اوندھے منہ وہ فرش پر جا گری تھی ۔

او تیری،،فرقان جسے ذرا حیرانگی نہیں ہوئی تھی شاہ میر کے عمل پر ۔

نینا کو فرش پر گرتے دیکھ سب ہی ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے ،

تم جیسی عورتوں کو منہ لگانے کے لیے نہیں آتا ہوں یہاں ۔ناگواریت سے فرش پر گری ہوئی نینا کو دیکھتا ہوا وہ غصے سے چبا کر غرلایا تھا ۔

اس کے پیچھے کھڑا فرقان شاہ میر کے کڑے تاثرات دیکھتا ہوا خاموشی سے اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی کا اپنا ایک اسٹینڈر ہے جہاں تم جیسی لڑکیاں پوری نہیں اترتی ۔وہ کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا ۔

آئی لائک یور اسٹائل ہینڈسم پر کیا بہت غلط ہے تم نے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔شاہ میر کے جاتے ہی سب واپس سے مدہوش ہوئے تھے ۔صوفے پر بیٹھ تھی جہان تھوڑی دیر پہلے شاہ میر بڑی شان سے براجمان تھا ۔

وائن آرڈر کرتی ہوئی افسردگی سے سرخ لپ اسٹک سے سجے اپنے گداز لب لٹکاتی ہوئی خود سے بڑبڑائی تھی ۔

******

یہ کیا تھا ہمدانی ،فرقان جو اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آیا تھا آتے ہی فورا سے پوچھ رہا تھا ۔

جو تو نے دیکھا ۔۔وہ الٹا چبا کر بولا تھا ۔

یار یہ کس کرنا تو عام سی بات ہے خومخواہ بات کو تول دی تو نے ۔دونوں ہاتھ کمر پر رکھے فرقان چالاک عورتوں کی طرح بول رہا تھا ۔

اچھا عام بات ہے تو تو کر لیتا ۔جلے بھونے انداز میں بولتا ہوا پارکنگ ایریا میں کھڑی اپنی کار کی جانب بڑھا تھا ۔

اگر مجھے کہتی تو جب ناں ،،فرقان کے لہجےمیں دکھ صاف عیاں ہورہا تھا ۔

جسے محسوس کرتا ہوا شاہ میر پیچھے گردن موڑ کر اسے دیکھتا ہوا تاسف سے مسکرایا تھا ۔

لعنت ہے ویسے کمینے تجھ پر کسی لڑکی کو تو بخش دے ،کار ان لاک کرتا ہوا شاہ میر اس کی آئے دن کی گرل فرینڈز کا حوالہ دیتا ہوا بولا تھا ۔

تو کسی کو چھوڑے جب ناں ،مجھے تو جلن ہوتی ہے یار ۔فرقان کے لٹکے ہوئے چہرے کو دیکھ شاہ میر نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہ ضبط کیا تھا ۔

ان لڑکیوں کو میرے ساتھ دیکھ کر ہوتی ہے یا پھر انہیں میرے پاس آتے ہوئے دیکھ ہوتی ہے ۔مزہ لیتا ہوا شاہ میر چہرے پر مضنوئی سنجیدگی سجائے ہوئے تھا ۔

دونوں ۔کار سے ٹیک لگاتا ہوا فرقان افسردگی سے بولا تھا ۔

ہائےےےےےے کمینے میری جلی ہوئی کالی بیوی ۔اپنی ہی بات پر شاہ میر قہقہ لگا گیا تھا ۔

دیکھ لے اتنی پیار کرنے والی بیوی تجھے چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملے گی ۔معصومیت سے کہتا ہوا فرقان کچھ دیر پہلے والا شاہ میر کا غصہ غائب کرگیا تھا اپنی بے تکی باتوں سے ۔

بکواس بند کر داجی کی کال آرہی ہے ۔ہنستا ہوا شاہ میر اپنی پاکٹ میں بجتے ہوئے کو باہر نکالتا ہوا فرقان کو خاموش رہنےکا کہتا ہوا وہ کال ریسوو کرگیا تھا جبکہ فرقان خاموشی سے اپنے لبوں پر انگلی رکھ گیا تھا ۔

داجی یہ کوئی ٹائم ہے آپ کا مجھے کال کرنے کا ، بنا سلام دعا کے وہ شرارت سے سوال کرگیا تھا داجی سے ۔

کیا ٹائم ہورہا ہے برخوردار، یہ تو ہم ینگ جینریشن کے جاگنے کا ٹائم ہے ۔وہ بھی اس کے داجی تھے اس سے آٹھ قدم آگے ۔

اوو اچھا ، ان کی بات پر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔

بی جان کو پتا ہے ناں کہ آپ جاگ رہے ہیں ۔شاہ میر کے سوال پر داجی نے بڑا سا منہ بنایا تھا ۔

ارے وہ بڈھیا تو سوئی ہوئی ہے اور تو اس کا ذکر کرکے میار موڈ خراب نا کر ، ہمیشہ کی طرح دوستانہ لہجے میں بولتا تھے ۔

باتوں میں لگا دیا جس لیے فون کیا تھا وہ تو میں بھول ہی گیا ۔شاہ میر مبہم سا مسکرایاتھا ۔

کیا ہوا داجی ۔سوال کرتا ہوا فرقان کی طرف متوجہ ہوا تھا جو کمر پر ہاتھ رکھے واک کرنے لگ گیا تھا ۔

کب آرہے ہو تم گھر ،

آرہا ہوں بس آپ کی کال آنے سے پہلے ہی گھر آنے کے لیے نکل رہا تھا ۔فرقان کو آنے کا اشارہ کرتا ہوا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا ۔

ویسے یار داجی بارہ بجے والے جن کی طرح مجھے کال کرنا کب بند کریں گے آپ ، داجی مسکرائے تھے اس کی بات پر ۔

بارہ بجتے نہیں ہیں کہ آپ کی کال آنے لگ جاتی ہے ۔

اب مجھے لگتا ہے بی جان کو کہنا پڑے گا کہ اپنے بوڑھے شوہر کی لگامیں کس لیں اور ان کا فون چھپا کر اپنے پاس رکھ لیں تاکہ یہ بڈھاپے میں بگڑے نا ۔وہ اب اپنے لاڈلے ہوتے کی بات پر مسکرا رہے تھے ۔

بہت ہنس لیے برخوردار تھوڑی پریشانی دینی بھی بنتی ہے ۔دل میں سوچتے ہوئے وہ خود با خود شعارت سے مسکرائے تھے ۔

تیرا باپ سویا نہیں ہے تیرے انتظار میں ۔اچانک سے عام سے انداز میں بولتے ہوئے وہ شاہ میر کی مسکراہٹ چھین گئے تھے ۔

یقینا آپ نے ہی کوئی شوشہ چھوڑا ہوگا ،وہ فورا سے بھڑک اٹھا تھا ۔

نہیں میں نے کچھ بھی نہیں بتایا تیرے باپ کو ،رازدانہ انداز اپناتا ہوئے وہ اپنی ہی بات سے ڈگمگا رہے تھے ۔

ہو ہی نہیں سکتا داجی کہ آپ کی زبان نا پھسلی ہو ۔میں نے غلطی کی جو آپ کو بتایا کہ میں فرقان کے ساتھ کلب جاتا ہوں ۔وہ بڑی طرح پچھتایا تھا اس دن کو سوچ کر جب وہ داجی کی ایموشنل بلیک میلنگ میں آگیا تھا ۔

نشہ وشہ اتار کر آنا برخوردار کیونکہ تھانےدار صاحب گیٹ پر ہی کھڑے ہیں ۔شرارت سے کہتے ہوئے وہ قہقہ لگا گئے تھے ۔جو اس وقت شاہ میر کو زہر لگا تھا ۔اتنا تو اسے یقین تھا داجی نے اس سے کسی بات کا بدلہ لیا ہے پر کس بات کا ۔

نشے کی وجہ سے دکھتے سر پر دباؤ نا دیتا ہوا وہ گاڑی سائیڈ پر روک گیا تھا ۔

اور ہاں برخوردار تمہارا دیوانہ اب تک سویا نہیں ہے ۔ارحم کا خیال آتے ہی داجی مسکرائے تھے اس کی اور شاہ میر کی محبت پر ۔

کبری نے سلایا نہیں اسے کیا ۔شاہ میر نے فکرمندانہ لہجے میں پوچھا تھا ۔

جب تک تم آکر اسے اسٹوریز نہیں سناؤ گے وہ نہیں سوئے گا یہ تم اچھے سے جانتے ہو ،اس لیے وعدہ کرنے سے پہلے سو بار سوچا کرو کہ تم اسے پورا کر پاؤ گے یا نہیں شاہ میر ہمدانی اب جلدی سے گھر آؤ ورنہ میرا پرپوتا یوں ہی جاگتا رہے گا ۔آخر میں نصیحت کرتے ہوئے داجی کال کٹ کر گئے تھے ۔

شٹ یار ۔۔گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتا ہوا سرحد کے بارے میں سوچ کر پریشان ہورہا تھا ۔

جبکہ برابر میں بیٹھے فرقان نیند میں اونگنے لگا تھا ۔

*****